منفی 60 درجہ حرارت میں گزرتی جوانی

 

15 سالہ ایال اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں اور وہ اب بھی اپنی والدہ کے ہمراہ مشرقی روس کے ایک چھوٹے سے گاؤں ویرخویانسک میں رہتے ہیں۔

آئندہ چند ماہ میں وہ بھی اپنے دیگر چار بہن بھائیوں کی طرح اپنے آبائی قصبے سے چھ سو کلو میٹر دور یاقوتسک شہر میں پڑھائی کی غرض سے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ویرخویانسک میں تھری جی اینٹینا لگا ہوا ہے جس کے باعث وہاں کے نوجوان انسٹاگرام پر دنیا کو اپنی زندگی کے بارے میں بتا سکتے ہیں اور باہر کی دنیا کے بارے میں باآسانی جان سکتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ان کا وہاں سے دوسرے بڑے شہروں کا رخ کرنا عام بات بنتی جا رہی ہے۔

فوٹوگرافر بریس پورٹو لانو نے ایال کی زندگی، اپنے گاؤں میں تنہا چہل قدمی کرنے، سکول اور کمپیوٹر کے لیے اپنا وقت مختص کرنے اور اس علاقے سے جانے کے انتظار کو تصویری کہانی میں ڈھالا ہے۔
 

 
 


ایال کی والدہ نے طلاق کے بعد اپنے پانچوں بچوں کی کی تنہا پرورش کی۔

گھر کے فرش پر ایال کی پسندیدہ خوراکوں میں سے ایک پڑی ہے۔ یہ ایک مقامی نفیس کھانا ہے جسے ستروگینینا کہتے ہیں۔ یہ ایک جمی ہوئی مچھلی کا باریک کٹا ہوا ٹکڑا ہے۔ اسے پھر اِشتہا آور کے طور پر نمک اور مرچ کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

ویرخویانسک اور اویمیاکن کے درمیان مقابلہ رہتا ہے کہ ان میں سے کون سا علاقہ دنیا کا سرد ترین ہے۔

تاہم ویرخویانسک زمین پر مختلف درجہ حرارت رکھنے پر گینیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہے۔ یہ ریکارڈ سردیوں میں منفی 67.8 سینٹی گریڈ اور گرمیوں میں 37.8 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر بنا۔
 

 
 


دریاؤں سے برف کے ٹکڑے کاٹ کر ان سے گاؤں کے رہائشیوں کو پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ ہر مکان کے پاس پانی جمع کرنے کے لیے اپنی جگہ ہے۔ برف کے ان ٹکڑوں کو گھروں کے اندر ہی پگھلایا جاتا ہے۔

پائپ میں بہتا ہوا پانی چونکہ اونچے درجہ حرارت کی وجہ سے نہیں جمتا اس لیے وہ پینے کے قابل ہوتا ہے۔

اس علاقے میں درجۂ حرارت اتنا کم ہوتا ہے کہ اکثر روز مرہ کے کام متاثر ہوتے ہیں:

بیٹریاں صرف چند منٹ تک ہی کام کرتی ہیں
لکھنے سے قبل ہی قلم کی سیاہی جم جاتی ہے
دھات کی عینک پہننا خطرناک ہوتا ہے

مقامی افراد کو اپنی گاڑیاں پورا پورا دن چلانی پڑتی ہیں، کیونکہ انھیں ڈر ہوتا ہے کہ یہ دوبارہ موسم بہار تک دوبارہ سٹارٹ نہیں ہو سکیں گی۔

دوسری طرف موٹے کپڑوں میں ملبوس گھوڑے اور کتے اسی جما دینے والے درجۂ حرارت میں موسم سرما باہر ہی گزارتے ہیں۔

یاکوت گھوڑا چھوٹا ہوتا ہے اور سرد موسم کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نسل کے گھوڑے کو بنیادی طور پر گوشت کے لیے پالا جاتا ہے۔
 

 
 


ایال اکثر اپنے ہی خیالات میں گم گاؤں کی گلیوں میں چہل قدمی کرتا رہتا ہے۔

وہ تنہا یا پھر پڑوس کے کتے، جن کے ساتھ اس کی دوستی ہو چکی ہے، گھومتے ہوئے وہ یہ سوچتا رہتا ہے کہ یہاں سے جانے کے بعد اس کی زندگی کیسی ہو گی۔

وہ بڑا ہو کر اداکار یا مصنف بننا چاہتا ہے۔

ایال خالی عمارتوں کو بھی دیکھتا رہتا ہے جیسا کہ نیچے تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ یہ عمارت کبھی کسی انشورنس کمپنی کے پاس ہوا کرتی تھی۔

اب اس سمیت یہاں بہت سی عمارتیں خالی پڑی ہیں۔

اس وقت ویرخویانسک گاؤں میں 1131 افراد رہتے ہیں، یہ تعداد اس کا نصف ہے جو آج سے 15 برس قبل یہاں رہتی تھی۔
 

 
 


فارغ وقت میں ایال اور اس کے پڑوسی ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں۔

انھیں ’انڈر ٹیل‘ نامی گیم بہت پسند ہے۔ یہ گیم ایک ایسے بچے پر مبنی ہے جو زیر زمین گر چلا جاتا ہے۔

ایال کے بہن بھائی سال میں ایک بار گرمیوں میں اس سے ملاقات کرنے آتے ہیں۔

اس علاقے میں ہوائی جہاز کی ٹکٹ کافی مہنگی ہوتی ہیں۔

سوویت دور کے اینتونوو اے این -24 جہاز اب بھی ویرخویانسک کو یاقوتسک سے ملانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

مشکل ماحولیاتی صورتحال کے باعث اکثر اوقات نیویگیشن خطرناک ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں 2003 سے اب تک چھ فضائی حادثے پیش آ چکے ہیں۔
 

 

 

 

Partner Content: BBC URDU

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
14 Nov, 2017 Total Views: 1682 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Fifteen-year-old Ayal is the last of his siblings still living with his mother in the small village of Verkhoyansk, in the east of Russia. In a few months, he plans to follow his four brothers and sisters to study in the city of Yakutsk, more than 600km (373 miles) away from his hometown.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB