Health Articles

Health Articles - Health is wealth. If you want to live healthy life then you have work out for its, Eat healthy, Drink Healthy and live healthy, by focusing on this point we thought to provide your h.. Read more

Health Articles - Health is wealth. If you want to live healthy life then you have work out for its, Eat healthy, Drink Healthy and live healthy, by focusing on this point we thought to provide your health articles in English and Urdu for your Health. Maintain your health because a healthy man life healthy life. Many People like to read true stories, true stories has meaning full morals. Learn from other stories by reading numbers of articles based on true events and stories in Urdu and English Language.

LATEST REVIEWS

Informative Info Regarding Bone Marrow Transplant
Mr shahzad shameem plz give me your conact number i want more information
By: shakeel, gujrat on Feb, 23 2017

دماغی صحت اور یادداشت کو بہتر بنائیں
PAKISTANI BRAIN WILL FIND OUT, WHOW TO MAKE MONEY ILLEGAL MONEY .THEY WILL HAVE THE IDEA, EVEN IDEA COULD BE RELENTLESS. BUT THE MONEY IS THE MAIN OBJECTIVE.NOW BRAIN HAS BECOME ENSLAVED TO HIS OR HER INNER ENGINEERING.NOW THE BRAIN S ARE STUCK TO THESE SCHEMES.IF THE BRAIN IS ALLOWED LEGALLY, IT WILL SPIT OUT GOOD SCHEMES. THE LIFE IS OPEN BOOK, THAT BOOK SHOULD BE CONSULT PROPERLY./????????????????
By: IFTIKHAR AHMED KHAN, CALGARY ALBERTA CANADA on Feb, 18 2017

اردو اصطلاحات ومحاورات
مظفریات
ڈاکٹر شیخ ولی خان المظفر
فکر ونظر میں تبدیلی
تین چار سال قبل انتخابات میں بطور خاص عمران خان او رعام طور پر تمام سیاسی رہنماؤں نے تبدیلی کا نعرہ لگایاتھا، عالم عربی میں بھی پچھلے چار پانچ برس سے تبدیلی کے نام پر کئی ملکوں میں حکومتیں تبدیل ہوئیں ، بعض میں تاحال اس حوالے سے خونریز جد وجہد جاری ہے، اور بعض دیگر میں سیاسی قیادتیں اس کے لئے پر تول رہی ہیں ۔۔۔ امریکہ ،روس ،چین ، فرانس اور ایران کے انقلابات تاریخ میں بہت مشہور ہوئے، لیکن حقیقی تبدیلی یاانقلاب حکومتوں کی برخاستگیوں سے نہیں آیا کرتے ،اگرچہ کچھ عرصہ تک کے لئے چہرے اورنعرے بدل جاتے ہیں ،مگرمعاشروں میں ظلم ، انتہا پسندی ، رشوت، سفارش ، غربت وغیرہ کی بیماریوں کا علاج نہیں ہوپاتا، اس لئے وہی انقلابی عوام اور تبدیلی چاہنے والے نوجوان ایک قلیل مدت کے بعد پھر سے مایوسی کے عالم میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ، اور شعلہ بداماں بن کر حکومتی ایوانوں کو جلادینے، بھسم کرنے اور خاک وخون میں ملادینے کے لئے سر بکف نکل پڑتے ہیں ، عوام کے غیظ وغضب سے بدحواس ہوکر نظام ہائے حکومت پھرسے گربھی جاتے ہیں ،نئے چہرے اور مہرے تختِ اقتدار پر برا جمان بھی ہوجاتے ہیں ،مگر حقیقی تبدیلی پھر بھی نہیں آتی، آخروجہ کیاہے؟

اگر بنظر غائر دیکھا جائے ،توبڑی آسانی سے معلوم ہوگاکہ تبدیلیاں جوکائنات میں آتی ہیں، وہ خالق کائنات کی پیدا کر دہ فطری نظام کا حصہ ہیں،انسان اپنی طبیعت میں جدت پسند اور عجلت پسند واقع ہواہے ،کسی بھی معاشرے میں جب زمان ومکان کی جدت اور تغیرکے باوجود تبدیلی کے بجائے جمود آجاتاہے ، وہاں گھٹن پیدا ہوجاتی ہے، عام طور پر یہی گھٹن انسانی سوسائٹی میں انقلاب کا سبب بنتی ہے ، اگر انقلاب اسی گھٹن کے رد عمل میں آیاہے، تو اس سے ترقی کہنا ہماری کم فہمی ہوتی ہے، ہاں اس سے اتناضرور ہوجاتاہے کہ تنگی اور حبس کے بجائے آبادیوں میں ارتعاش آجاتاہے،جویک گونہ تفریح طبع ،اور سکون کا ’’بادل چھٹنے تک‘‘ باعث بنجاتاہے، اسکے بعد وہی تاریکی ،ظلم وظلمت ، ناانصافی ، حقوق کی پامالی ،تکبر ،عناد ، لاقانونیت اور خون ریزی ۔

حقیقی تبدیلی ایک مثبت عمل ہے ،رد عمل نہیں ، جو انسان کے اندر فکر ونظر کی تبدیلی سے آتی ہے، جب تک قلب وجگر اور سوچ ودماغ میں انقلاب نہیں آئے گا، زبانی جمع خرچ سے اس کی توقع رکھنا عبث اور بے کار ہے، خالق کائنات نے اسی راز کو طشت ازبام کرنے کے لئے فرمایا:’’ کہ اﷲ تعالی کسی قوم میں تبدیلی اس وقت تک نہیں لاتے جب تک وہ خوددل ودماغ کے اعتبار سے متبدل ومتغیر ہونانہیں چاہتی ہو‘‘ ،اس نکتہ کو جورہنما سمجھے اور اپنے اندر انسانیت کی فلاح وبہبود کے لئے سوچ کا انقلاب برپا کردے ،وہ اس لائق ہے کہ اپنی عوام سے ببانگ دھل کہہ د ے، میں نے خود کو یوں بدلاہے، تم لوگ بھی اسی طرح اپنے آپ کو بدلو۔

پیغمبر وں کی سیرتیں اپنی اقوام کے لئے آخر کیوں نمونہ ، اسوہ ، اور قدوہ ہوتی ہیں ، کہ انہوں نے سب سے پہلے تبدیلی کا آغاز اپنی مبارک ذات سے کیاہوتاہے، چناں چہ یہ ایک پیمانہ ہے،اب تبدیلی چاہنے والے اپنے آپ او راپنے زعماء کو اس کسوٹی پر پرکھیں ، اگروہ اس پر پورا اترتے ہوں ، تب تو وہ نئے پن کے نعرے لگائیں ، ورنہ دھوکہ کھائینگے ۔

موجودہ دنیامیں جہاں جہاں ترقی ہے، اسے ہمارے یہاں کے نوجوان دیکھ کر اور سن کر اسی طرح کی ترقی وارتقاء کیلئے آپے سے باہر ہوجاتے ہیں ،انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ بنیادی چیز فکرونظر اور آئیڈیاز ہیں، عمل اور انتظام وانصرام اس کے ثمرات ہیں ،فکر ونظر میں پختگی کے لئے ملکوں ،خطوں اور معاشروں کو بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ، اور طویل جدوجہد کرنی ہوتی ہے،اسی لئے کہا ہے:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتاہے چمن میں دیدہ ور پیدا
فن لینڈ کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں ہوتا ہے۔ اس ملک کا نظام تعلیم دنیا بھر میں بہترین تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم یہاںتعلیم کو مزید بہتر بنانے کیلئے اکیسویں صدی کے جدید تقاضوں کے مطابق انقلابی تبدیلیاں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق فن لینڈ میں اب سکولوں کے نصاب میں مضامین ہی سرے سے شامل نہیں ہونگے۔ اب کسی بھی کلاس میں ریاضی، فزکس، لٹریچر،ادب، ہسٹری جیوگرافی کے مضمون ہی شامل نہیں ہونگے۔ یہ نیا تعلیمی نظام 16 سال کے سینئر طلبہ کیلئے متعارف کروایا جائے گا۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ مارجو کائیلونن کا اس انقلابی تبدیلی کے بارے میں کہنا ہے کہ ہمارے سکولوں میں اب بھی بیسویں صدی کا نصاب ہی پڑھایا جا رہا ہے ،جو دور جدید کے تقاضوں سے کسی طرح بھی ہم آہنگ نہیں ہے۔ ہم 2020ء تک فن لینڈ کا پورا نظام تبدیل ہی بدل کر رکھ دیں گے۔ مثال کے طور پر ہم اپنے طلبہ کو دوسری جنگ عظیم کے بارے میں بتائیں گے تو ضرور لیکن اس کو جغرافیہ، تاریخ اور ریاضی کے زاویے سے پڑھایا جائے گا۔ اب ہمارے طلبہ انگریزی زبان، معاشیات اور رابطے کی مہارت سیکھیں گے۔

اس نئے نظام کے تحت اب طلبہ اپنے رجحان اور صلاحییت کو دیکھتے ہوئے اپنی تعلیم کا فیصلہ خود کریں گے۔ طلبہ کو کلاس رومز میں بیٹھنا لازمی نہیں ہوگا۔ اس نئے تعلیمی نظام میں استاد اور شاگرد کا روایتی تعلق ہی ختم کر دیا جائے گا۔ اس کے بجائے وہ مسائل حل کرنے کے لیے چھوٹے گروپوں میں مل جل کر کام کریں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلسنکی کے 70 فیصد اساتذہ نئے نظام پر اپنی تیاریاں مکمل کر چکے ہیں، اب آپ اپنے یہاں عصری ودینی اداروں کے نصاب ونظامہائے تعلیم پر نگاہ ڈالیئے،اندازہ ہاوجائے گا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔
ہمارے یہاں آپ کومسجد کے ممبر ومحراب سے لے کر پرنٹ والیکڑانک میڈیا تک میں کہاں فکری استحکام نظر آتاہے، ہمارے سیاستدانوں میں مفکرین کتنے ہیں، تھنک ٹینک ،سکول آف تھاٹ اور مکتبۂ فکر وغیرہ کا تو نام ہی ہمارے یہاں اجنبی ہے، لہذا جب تک ہم میں سے ہر فرد ،فیملی ، ادارہ ، محکمہ ، اتھارٹی ، جماعت، فرقہ، محلہ ، علاقہ ، ضلع، صوبہ اور پورا ملک اندر سے حقیقی تبدیلی کی کوشش نہیں کرینگے ،صرف حکومتوں کی تبدیلیوں یاخالی خولی نعروں سے انقلاب لائینگے ،تو ایں خیال است ومحال است وجنوں۔
تیرے ضمیر پر جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشاہے رازی نہ صاحب ِکشاف
By: Dr shaikh wali khan almuzaffar, Karachi on Feb, 18 2017

کچرا جلانے پر پابندی عائد کی جائے۔
May Allah bless you as you highlighted such an issue of which most of the population is ignorant. The only problem of pakistanis is illiteracy which has then given birth to many other problems
By: Sadia waheed, Karachi on Feb, 17 2017

عرق گلاب سے شوگر کا علاج
Dear Dr Sahib
Kindly let me know if this Ma alwardul Irani available in Karachi or Hyderabad ?
Regards
Pelenka
By: Pelenka, Lahore on Feb, 14 2017

ان 'صحت مند' غذاؤں سے دور رہنا زیادہ فائدہ مند
pani agaya muum me biscuits dekh kr..
By: zai,, karachi, on Feb, 12 2017

Dry Fruits & Their Health Benefits
Dry fruits are known for their calorific esteem and their game plan of insusceptibility against fighting various ailments. Benefits of dry fruits in winter season increases in light of their hot nature. To know more on focal points of Dry fruits,
By: vaibhav, delhi on Feb, 11 2017

Psychological problems in Pakistan
Great efforts will do more more for the awarness of govt nd to facilitate the nation..
By: Rizwankhan, Peshawer on Feb, 02 2017

شیرخوار بچوں کی زبان آپ بھی سمجھیں
v informative artical :)
By: Zeena, Lahore on Jan, 30 2017

سیانے حکیم کے چونکا دینے والے واقعات
hakeeem sahab bare kam hai :)
By: Zeena, Lahore on Jan, 30 2017

MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB