Education Articles

Educational Articles - Education is important for everyone. The Nation cannot be civilized until its educated one. By following this concept we are trying to provide Articles on Education. We would fe.. Read more

Educational Articles - Education is important for everyone. The Nation cannot be civilized until its educated one. By following this concept we are trying to provide Articles on Education. We would feel proud and satisfied if any of you get availed by our Articles. Here you can read Articles on many topics that will help you in your studies, projects and assignments.

LATEST REVIEWS

تعلیم نقد اور تربیت ادھار
Great article. We need this guidance and information as a wake up call.
By: Muhammad Khan, Toronto on Apr, 08 2017

اگر آپ کو وزیراعظم بنا دیا جائے تو----
Mubarik ho sb ko
By: Alina, Islamabad on Apr, 03 2017

اپنی شخصیت کو اُجاگر کرنے کے لئے خود اعتمادی سے کام لیں
this is an excellent article. please share this article on facebook and google as well so more people read it. well done and keep it up.
Mehr Pawar
By: Mehr Parwar , Rawalpindi on Apr, 03 2017

Taleem Sab K Liye
Na tu urdu likh sakta h na English teri taleem ka kia faida hua?
By: Mani, Lahore on Mar, 29 2017

Education System in Pakistan
artical ky author ka name bata dn plzz as soon as possible
By: irsa shoaib , Rawalpindi on Mar, 23 2017

مدارس اور پاکستان کے لیے خطرات
مدارس اور تقاضے‎
(Dr Shaikh Wali Khan Almuzaffar, Karachi)

دینی مدارس جہاں اسلام کے قلعے ، ہدایت کے سر چشمے، دین کی پنا ہ گا ہیں ، اور اشا عت دین کا بہت بڑ ا ذریعہ ہیں وہاں یہ دنیا کی سب سے بڑی حقیقی طور پر ’’این جی اوز‘‘بھی ہیں،مدارس دينيہ نے ایسے ماہر اورمتدین علماء وفضلاء کو تیار کیا ہے، جنہوں نے رجعت پسندی ، شدت پسندی ، تنگ نظری غرض ہر قسم کے طعنوں کے باوجود علوم نبوت کی حفاظت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر رکھی ہیں اور مغربی آزاد خیالی اور تہذیب وتمدن کا بھر پور مقابلہ کیا ہے ، خدا ایسے سرمستوں کو تا قیامت آباد رکھے، لیکن اس کے باوجود اس بات سے اتفاق کرنا پڑے گا کہ نصاب تعلیم چاہے کوئی بھی ہو اس میں مثبت اصلاح وتبدیلی کی گنجائش موجود رہتی ہے اور ہاں ایسی اصلاح وتبدیلی جو اس تعلیم کی روح کو متاثر نہ کرے،مثلاً جامع الازہر کی بنیاد 2 اپریل 970ء کو رکھی گئی، اس مسجد میں ایک مدرسہ قائم کیا گیا، جو کچھ مدت بعد دینی اور دنیوی تعلیم کا سب سے بڑا مرکز بن گیا،چونکہ یہاں دور دور سے طلبہ آتے تھے، اس لیے اس کی حیثیت اقامتی درس گاہ کی ہوگئی، آج بھی نصف سے زیادہ لڑکے یہاں اقامت گاہوں میں رہتے ہیں، شروع میں یہاں صرف دینی تعلیم دی جاتی تھی۔ 1930ء میں باقاعدہ اصلاحات کی ضرورت محسوس کی گئی، پرائمری ، ثانوی، ڈگری ، عالم ایم۔ اے اور پی ایح ڈی کے مراحل قائم ہوئے۔ يہ اسلام كى قديم ترين درسگاه ہے، اصلاحات کے بعد اس ادارے کی افادیت میں سینکڑوں گنا اضافہ ہوگیا، آن لائن تعلیم کا چرچا ہونے لگا تو ازہر نے اپنی پوری تعلیم آن لائن بھی کردی،ہمارے یہاں دینی مدارس وجامعات میں اگر معاصر اصلاحات کی جائیں،انہیں آن لائن کیاجائے،اِن کی ویب سائٹس فعال کردی جائیں، سوشل میڈیا میں ان کا کردار نمایاں ہو،تو یہ مدارس اپنی عددی قوت کے بدولت چہار دانگِ عالم کو اپنی دعوت کی لپیٹ میں لے لینگے،ان کی افادیت ونفوذ میں بے تحاشا اثر ہوگا،آج کی دنیا ڈیوائسس کی دنیا ہے،اس دنیا میں ان کو کچھ کرکے دکھانا ہوگا، افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ ٹیکسی،رکشہ اور موٹر سائیکل تک اوبر اور کریم نے آن لائن کردی ہیں اور دینی مدرسہ جو ایک آفاقی مذہب کا عَلم بردار ہے،آن لائن ہونے میں نہ صرف پس وپیش کا شکار ہے، بلکہ آن لائن نظامِ تعلیم پر قد غن لگاتاہے۔

مفید علوم جدیدہ کو اپنے نصاب کا حصہ بنانا ہوگا، نظم وضبط میں بھی نیا پن اور نکھراپن اختیار کرنا پڑے گا،ٹا ئم ٹیبل میں بھی تبدیلی لانی ہوگی،مختلف زبانوں کو بھی تدریس کا جزوِ لاینفک قرار دینا ہوگا،تاکہ اِ ن کی دعوتی اور تبلیغی سرگرمیوں میں جان پڑ جائے،چنانچہ اس حوالے سے علامہ شبلی رحمہ اللہ رقم طراز ہے:
"علماء کو اس بات کا مطلق خوف نہیں کرنا چاہیے، کہ علوم جدیدہ، مذہب اسلام کے برخلاف ہیں، اور ان کی تعلیم سے عقائد مذہبی میں خلل آجاتا ہے ، کیونکہ جب امام غزالی (م:1111ء) کی طرح وہ ان علوم کو خود حاصل کریں گے ، تو ان کو وہ مسائل معلوم ہوجائیں گے، جن میں مذہبی مخالفت کا احتمال پیدا ہوسکتا ہے، اس صورت حال میں وہ ان مسائل کی تردید یا اسلام سے ان کی مطابقت بخوبی کرسکیں گے، اور جدید تعلیم یافتوں کو مذہبی شکوک وشبہات سے محفوظ رکھ سکیں گے، صاف ظاہر یہ ہے کہ جب تک ہماری قوم کے علماء جدید فلسفہ اور جدید علوم کو بذات خود حاصل نہ کریں ، ناممکن ہے کہ وہ ان اعتراضات کا جواب دے سکیں ، جو یورپ کے ملاحدہ، مذہب اسلام پر کرتے ہیں، او رجن کا اثر ہماری قوم کے جدید تعلیم یافتوں پر پڑتا ہے"۔ (رسائل شبلی: 90)

مولانا شبلی رحمہ اللہ کی اس دل سوزی کے بعدمفتی محمد تقی عثمانی کی رائے بھی ملاحظہ فرمائیں:
" یہ تقریبا وہی صورت حال ہے جو عباسی خلافت میں یونانی فلسفہ کے رواج عام سے پیدا ہوئی تھی، جس طرز پر یونانی نظریات کی یلغار کے مقابلے میں متکلمین اسلام نے کارنامہ انجام دیا تھا، یہ کام علمائے امت کے ذمہ ایک قرض ہے، مغرب کے مستشرقین نے عربی اور اسلام علوم پر "تحقیق" کے نام سے ایسے زہریلے لٹریچر کا انبار تیار کرایا ہے، جس کا مقصد دین کے بنیادی مسلمات کو مشکوک بنانا ہے، یہ لٹریچر جدید ذہن کی نفسیات کے مطابق اور اس اسلوب میں تیار کیا گیا ہے، جو آج کے ذہن کو اپیل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے، عالم اسلام اس کے زہریلے اثرات سے خالی نہیں، اس زہر کا تریاق فراہم کرنا علماء کی ذمہ داری ہے، اور اس کے لیے انگریزی زبان ا ور ان عصری علوم کی تحصیل لازمی ہے، اس وقت مسلمانوں کی بڑی تعداد یورپ، امریکہ، افریقہ، آسٹریلیا اور مشرق بعید میں آباد ہے، ان لوگوں کو خاص طور پر نئی نسلوں کو اسلام پہنچانے کا کوئی راستہ انگریزی زبان کے بغیر ممکن نہیں "۔ (ہمارا تعلیمی نظام: 100، 101)

ان اقتباسات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ نصاب تعلیم آسمان سے کوئی منزل شدہ نظام یا ترتیب نہیں جس میں اصلاح وترمیم کی گنجائش نہ ہو، لہذا ہمیں چاہیے کہ بیرونی دباؤ کے بغیر ہم اپنے نصاب تعلیم کا بخوبی جائزہ لیں اور کم از کم علامہ محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کی تجویز کی حد تک تو اس پر عمل کریں حضرت بنوری رحمہ اللہ نصاب میں تین طرح کی تبدیلوں کے قائل تھے،
1: تخفیف :یعنی بھاری بھر کم نصاب کو کچھ ہلکا کرکے، ایک ہی فن کی درجنوں کتابیں پڑھانے کے بجائے تین چار اہم اور مفید کتب کی تعلیم دی جائے۔
2: تیسیر: یعنی مشکل پسندی کا طریقہ ترک کردیا جائے۔
3: اثبات وترمیم: یعنی غیر ضروری فنون کو حذف کرکے جدید اور مفید علوم کو شامل کیا جائے۔ٖ[مفتي محمد عمران نے یہ تین اقتباسات ارسال کئے]

ہمارا ایک مسئلہ یہ ہےکہ اگر کوئی اخلاص کے ساتھ ہمیں مشورہ دیتاہے ،تب بھی ہم اسے اغیار کا ایجنٹ قرار دے کر ان کی رائے رد کر دیتے ہیں،اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ لوگ دینی مدارس پر تنقید اسلام اور مدرسہ دشمنی کی بنیاد پر کررہے ہیں، لیکن اپنے اور پرائے میں فرق کرکے آگے کی طرف چلنا ہوگا، اپنے اداروں کو مستحکم اور سماج کے لئے مفید تر بنانا ہوگا،تاکہ ہمارے بزرگوں کے ہاتھوں لگائے ہوئے پودے خوب پھلے اور پھولیں۔

By: Dr shaikh wali khan almuzaffar, Karachi on Mar, 22 2017

دینی مدارس اور تقاضے‎
مدارس اور پاکستان کے لیے خطرات
(Shaikh Wali Khan Almuzaffar, Karachi)

کچھ دنوں سے پیس اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے خطرناک اور نظریہٗ پاکستان دشمن عزائم کے حوالے سے میڈیا میں ردّ وقدح اور شدید تنقید جاری ہے،سیف اﷲ خالد،انصار عباسی اور خالد محشر نے اس پر کماحقہ گفتگو کی ہے،اس این جی او کے ساتھ کچھ دینی حضرات نے ’’میثاقِ انسانیت‘‘ پر بھی دستخط کئے ہیں،نیز ان ہی حضرات نے ریڈکراس کے ساتھ تمام دینی مدارس کے بلڈ ٹیسٹ کے بھی معاہدے کئے ہیں،فنڈنگ اور نصابِ تعلیم میں تبدیلیوں کے بھی کھسر پھسر ہوئی ہے،ستم ظریفی یہ کہ مذکورہ این جی او کی سفار شات نہ صرف اسلام دشمنی ،ملک وملت دشمنی پر مبنی ہیں بلکہ دشمن پرستی اور دشمن نوازی بھی اس سے عیاں ہیں،پی ڈی ایٖف کی صورت میں ان کا کتابچہ میرے پاس موجود ہے، اسے پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ یا اﷲ اس حد تک بھی کوئی این جی او اس ملک میں متحرک رہ سکتی ہے،پھرتعجب بالائے تعجب اس پر بھی کہ مذہبی طبقے کے کچھ اساطین ان کے ساتھ دانستہ یانادانستہ اشتراک عمل کے عہد وپیمان کر چکے ہیں ،ان کے کتابچوں پر تقریظیں لکھی جارہی ہیں، ان کے پروگرام اپنے اداروں میں منعقد کرائے جا رہے ہیں اور فائیو سٹار ہوٹلوں میں اندرون وبیرون ملک ان کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آتے ہیں،موضوع کی نزاکت وحساسیت کے پیشِ نظر شیخ الحدیث مولانا سلیم اﷲ خان صاحب نے پیرانہ سالی اور کثرتِ اشغال کے باوجود اس پر بذاتِ خود قلم اٹھایا اور بہت تفصیل سے ’’پیس اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی رپورٹ۲۰۱۶ء کا ایک جائزہ‘‘ کے عنوان سے مندرجہ ذیل تحریر تیار کی،جو ہمیں بھی ارسال کی گئی،افادہء عام کے لئے ہم اسے یہاں اپنے قارئین کی نذر کرتے ہیں:

’’ نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم!
۲۰۰۱ء میں نائن الیون کے بعد امریکا عالم اسلام پر ایک بپھرے ہوئے ریچھ کی طرح حملہ آور ہوا۔ اس نے یکے بعد دیگر ے مسلم خطوں میں بالواسطہ اوربلاواسطہ حملوں کا آغاز کیا۔ افغانستان، عراق، لیبیا اورشام وغیرہ اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ یہ عسکری حملے تھے اوران کی وجہ سے عالم اسلام کا بہت بڑا خطہ متاثر ہوا۔ ایک طرف تو یہ ہوا؛دوسری طرف امریکی پالیسی سازوں نے پاکستان جیسے ملکوں کے لیے بھی منصوبہ تیار کیا۔ اس پلان کا مرکزی نکتہ مسلم دانش وروں، مذہبی رہنماؤں اورمسلم معاشروں کے دل و دماغ کی تبدیلی کا کام تھا۔ اس نے براہ راست لیکن ذرا محتاط اَنداز میں مسلمانوں کے عقائد و نظریات میں نقب لگانے کے لیے ’’انٹرفیتھ ڈائیلاگ‘‘ (مکالمہ بین المذاہب )کا آغاز کیا۔ ’’ہیومن رائٹس‘‘ (انسانی حقوق )کو میٹھی گولی میں سموکر پیش کیا۔ عدم تشدد، برداشت، رَواداری، آزادی، مساوات اور ترقی جیسے بظاہربے ضررنظریات کو باقاعدہ ایک’’ نصاب‘‘ کے طور پر متعارف کرایا۔پاکستانی جامعات میں مخصوص موضوعات پر پی ایچ ڈی مقالات لکھوائے گئے۔ پاکستان سے مرحلہ وار دانش وروں، اسکالروں، مذہبی رہنماؤں کو امریکا ،جرمنی اور ناروے بلاکر کانفرنسیں منعقد کی گئیں، ان کانفرنسوں کا مقصد غیر محسوس طریقے سے اسلامی نظریات والے اذہان،مزاج اورسوچ کی تبدیلی تھی؛ نیزاس ذریعے سے اپنے مطلب کے افراد کی تلاش بھی تھی جو ان کے عزائم کی تکمیل میں معاون ثابت ہوسکیں۔
اس کے بعد اگلے مرحلے میں بیرونی امدادسے قائم ہونے والی این جی اوز پاکستان وارد ہوئیں۔ یہاں انہوں نے مقامی ایجنٹوں / افراد کے ذریعے اسکولوں اور دینی مدارس کے ماحول، نصاب اورنظام تعلیم پر کام شروع کیا۔ اپنے ایجنٹ افراد کے ذریعے ایسی ورک شاپس منعقد کی گئیں جہاں اسلامی عقائد و نظریات پر شکوک وشبہات اوردینی مسلمات پر سوالات اٹھائے گئے ،پاکستان کے آئین میں موجود اسلامی شقوں کو ایک تسلسل سے ہدف ِ تنقید بنایاگیا،یوں پورے اسلامی عقائدواقدار پرشک وشبہے کی گرد بٹھا نے کا بھر پور اہتمام کیا گیا۔
گزشتہ پندرہ برس کے دوران این جی اوز کی یہ محنت کس مرحلے تک پہنچ چکی ہے، اس کا اندازہ امریکا کے ’’کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی‘‘ کے تعاون سے’’پیس اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن اسلام آباد‘‘کی حال ہی میں جاری کردہ رپورٹ برائے سال ۲۰۱۶ء سے ہوتا ہے ،جس کا عنوان ہے :
TEACHING INTOLERANCE IN PAKISTAN
’’پاکستان میں عدم برداشت کی تدریس‘‘
’’پیس اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن‘‘ کی جاری کردہ رپورٹ www.uscirf.gov پر انگریزی متن اورغیرمعیاری اردو ترجمے کے ساتھ دستیاب ہے۔ پوری رپورٹ چشم کشا ہے اور اس کے مندرجات کا جائزہ لینے کے لیے الگ سے مضمون کی ضرورت ہے۔اس رپورٹ میں سرکاری نصاب تعلیم میں پائے جانے والے عدم برداشت پر مبنی اسباق کا صوبے وار جائزہ لیا گیا ہے اور اس سلسلے میں اپنی سفارشات اور تجاویزمرتب کرکے پیش کی گئی ہیں۔ اس رپورٹ کا دیباچہ پڑھے جانے کے لائق ہے۔ دیباچے کے مطابق:
۱…… ’’پیس اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن‘‘ (PEF) پاکستان میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم ہے۔
۲…… اس کے مقاصد میں :(الف) ’’امن‘‘ اور’’رواداری‘‘ کوفروغ دینے کے لیے سول سوسائٹی کی صلاحیت کی تعمیر، مذہبی رہنماؤں کو ’’بااختیار‘‘ بنانا ۔(ب) پُر تشدد انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا۔ (ج) مذہب کے نامناسب استعمال سے حاصل ہونے والے عدم برداشت اورتشدد کے روک تھام وغیرہ شامل ہیں۔
’’پی ای ایف ‘‘کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ فاؤنڈیشن نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اب تک گیارہ ہزار (11,000) مذہبی رہنماؤں کو اپنے پروگرام میں شامل کیا اورانہیں تربیت دی ہے، ان رہنماؤں میں مدارس کے اساتذہ، علماء، مساجد کے ائمہ اورایسے مذہبی افراد شامل ہیں جو معاشرے پر کسی بھی انداز میں اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ’’پی ای ایف ‘‘کی ورک شاپ کے فارغ التحصیل افراد نے اپنے علاقوں میں ’’انتہا پسند روایات‘‘ کو پھیلنے سے روکنے، ’’امن‘‘ اور ’’رَواداری‘‘ کی تعمیر کے مختلف پروگرام تیار کرنے، ’’تعلیمی‘‘ اقدامات بڑھانے کی سہل کاری میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
’’پی ای ایف ‘‘رپورٹ کے مطابق مذہبی رہنماؤں کے بے مثال تعاون کا یہ نتیجہ نکلا کہ ان کے اسٹریٹجک اورجدید پروگراموں کی پاکستانی معاشرے کی ہر سطح پر پذیرائی ہوئی۔ پیس اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ان فارغ التحصیل مذہبی رہنماؤں کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے، پاکستان کے مدارس اپنے نصاب کو بڑھانے، اپنے طالب علموں کو تعمیر امن کی تدریس دینے، تنقیدی سوچ اور رواداری کی تعلیم دینے اور منظم طریقے سے اپنے اداروں اور تدریسی طریقوں کو ’’جدید‘‘ کرنے کے راستے پر گامزن ہیں۔
’’پی ای ایف ‘‘کی رپورٹ نہایت فخر سے بتاتی ہے کہ ’’پیس اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن‘‘ کا پروگرام سب سے زیادہ قدامت پسند اورمشکل ترین رسائی والے دینی مدارس میں معیار، پہنچ، اثر اورپائیداری میں نئے معیار قائم کررہا ہے۔
ہمیں اس رپورٹ کے ان مندرجات سے انکار کی گنجائش اس لیے نہیں ہے کہ گزشتہ پندرہ برس کے دوران ایسے مذہبی افراد اور ادارے(بلاتفریق مسلک) ہمارے مشاہدے میں رہے ہیں جنہوں نے مذکورہ بالا مقاصد کی تکمیل کے لیے اپنی خدمات پیش کیں اوراپنے اداروں کو مذکورہ سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ پرانی بات نہیں تھوڑا عرصہ قبل جنوبی پنجاب کے ایک دینی ادارے میں جرمنی کی ایک (بظاہر) غیر سرکاری تنظیم کے اشتراک سے ورک شاپ منعقد کی گئی؛ جس میں مدرسہ کے ذہین طلبہ کو شامل کیا گیا اوران کے سامنے جس قسم کے مباحث رکھے گئے ان کا خلاصہ مغربی نظریات کی پذیرائی ،پاکستان کے آئین میں شامل قادیانیوں/ اقلیتوں سے متعلق قوانین کے خاتمے؛اوردینی مدارس میں جدیدیت کے نفوذ کے لیے ذہن سازی کے سوا کچھ نہ تھا۔
اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ غیر سرکاری تنظیمیں کس حد تک ہمارے اداروں میں اپنا اثر و نفوذ بڑھاچکی ہیں اورکس تیز رفتاری کے ساتھ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے گامزن ہیں۔
یہ رپورٹ جس کا عنوان ’’پاکستان میں عدم برداشت کی تدریس‘‘ ہے، بجائے خود عدم برداشت، دینی مسلمات اوراسلام سے شدید نفرت اورمنفی خیالات سے عبارت ہے۔’’پی ای ایف‘‘ کی رپورٹ نظریہ پاکستان، مسلمانوں کے جداگانہ تشخص، ہندو، سکھ، عیسائی، قادیانی اوریہودیوں کے الگ قوم ہونے کو منفی اوردقیانوسی تصورات قرار دیتی ہے۔ یہ صرف ایک مقام پر نہیں بلکہ رپورٹ کے مختلف مقامات پرمتعدد بار اپنے تخیلات کے علی الرغم نظریات کو منفی / دَقیانوسی قرار دیا ہے۔ اس رپورٹ کے تیار کرنے والے افراد کواعتراض ہے کہ سرکاری نصاب تعلیم میں:
۱) نظریۂ پاکستان کیوں پڑھایا جاتا ہے؟(ص:۶،۲۸)
۲) نصاب میں اسلام کو پاکستان کی کلیدی خصوصیت اور پاکستانی شناخت کے طور پرپیش کیاجاتا ہے۔(ص:۷)
۳) پبلک اسکولوں میں پڑھائی جانے والی کتب میں صرف اسلام کو ہی واحد، جائز اورمنطقی مذہب کیوں قرار دیا گیا ہے؟(ص:۵)
۴) اسکول کے بچوں کو یہ کیوں پڑھایا جاتا ہے کہ ’’اسلامی مذہب، ثقافت اور سماجی نظام غیر مسلموں سے مختلف ہیں۔‘‘(ص:۱)
۵)اس بات پر شدید قلق کا اظہار کیا گیاہے کہ غازی علم دین شہیدکا تذکرہ نصابی کتب میں کیوں موجود ہے؟(ص:۳۰)
۶) رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محمد بن قاسم اور محمود غزنوی کا تذکرہ طالب علموں کو تشدد پر ابھارتا ہے۔(دیکھیے عنوان’’جنگ اور تشددکی ستائش‘‘ص:۷)
۷) یہ رپورٹ اس بات پر بھی اپنی خفگی کا اظہار کرتی ہے کہ نصابی کتابوں میں عیسائیوں، قادیانیوں اور ہندؤوں کے متعلق تعصب کا اظہار کیا گیاہے۔(ص:۵)
۸) ’’پی ای ایف‘‘ کی رپورٹ میں اس بات پر بھی شدید اعتراض کیا گیا ہے کہ انگریز کے برصغیر پر تسلط، عیسائی پادریوں اور مشنریوں کی سرگرمیوں کو نصابی کتب میں منفی طور پر کیوں پیش کیا گیا ہے۔(ص:۸،۳۲)
۹)رپورٹ میں جگہ جگہ بھارت کی نہ صرف بے جاحمایت کی گئی ہے بلکہ بھارت کے متعلق پاکستان کے دیرینہ موقف کو تعصب اور جہالت پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔(دیکھیے ص:۵،۶،۷،۹،۲۷)
۱۰)’’نصاب کی تیاری کے لیے تجاویز‘‘کے عنوان سے ’’پی ای ایف ‘‘نے جو ہدایات بعنوان ’’تجاویز‘‘ (ص:۱۰)دی ہیں وہ کچھ یوں ہیں:
٭……تمام پاکستانیوں کو فراہم کی گئی مذہبی آزادی کی آئینی ضمانتیں درسی کتابوں میں ظاہر کرنی چاہییں۔
٭……طالب علموں کو ایسا مواد بالکل نہیں پڑھانا چاہیے جو کسی ایک مذہب کو دوسرے مذہب پر برتر ثابت کرے۔
(یعنی اسلام کو عیسائیت، یہودیت، ہندومت اور قادیانیت پر فوقیت نہیں دی جانی چاہیے)
٭……اسلام کا بطور واحدصحیح ایمان ہونے کو درسی کتابوں سے ختم کیا جانا چاہیے۔
(یعنی خاکم بدہن اسلام واحد سچائی نہیں بلکہ دیگر مذاہب بھی حق ہیں،اس کا واضح مطلب ایمان سے محرومی ہے)
٭……’’منفی تلقین ‘‘ختم ہونی چاہیے۔(نہی عن المنکر کا خاتمہ)
٭……پاکستان میں پرامن بقائے باہمی اور مذہبی تنوع کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔(وحدت ادیان/تقارب ادیان کا پرچار)
٭……درسی کتب میں اقلیتی گروپوں کے نامور افراد کی مثالیں بھی شامل کی جانی چاہییں۔(ص:۱۰)
غرض پوری رپورٹ اس قسم کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔اب ہم چند معروضات اپنے الفاظ میں بیان کریں گے:
(الف): پی ای ایف رپورٹ میں نوٹ کرنے کی بات اس کا بے باک اور دو ٹوک لہجہ ہے۔ اس رپورٹ میں بہت سی باتیں کُھلے طورپر کہہ دی گئی ہیں جو قبل ازیں الفاظ کے پیچ و خم میں چھپاکر کہی جاتی تھیں۔ پاکستان میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کا ایجنڈا یہ ہے کہ اسلام اورمسلمانوں کو دوسرے مذاہب اوران کے پیر کاروں میں کچھ اس طرح گڈ مڈ اور تحلیل کردیا جائے کہ حق اورباطل کا امتیاز ہی ختم ہوجائے۔
(ب): ’’برداشت‘‘ اور ’’مساوات‘‘ کا تقاضا ہے کہ پاکستانی معاشرہ اسلام کی حقانیت ،برتری ،واحد سچائی کے عقیدے سے دست بردار ہوجائے۔ اس بات کو تسلیم کرلے کہ جس طرح اسلام ایک مذہب ہے اسی طرح عیسائیت، یہودیت، قادیانیت، ہندو مت بھی مذاہب ہیں اورمذہب ہونے میں سب برابر ہیں۔ چنانچہ اہل اسلام اپنے’’ حق‘‘ پر قائم ہونے اور دیگر مذاہب کو’’ باطل‘‘ سمجھنا چھوڑ دیں…… بالفاظ دیگر اپنے علاوہ دوسرے اہل مذہب کو ’’کافر‘‘ نہ کہیں۔ دیگر مذاہب کی تعلیم، تبلیغ، تشہیر اور ترویج کا حق ویسا ہی خیال کریں جیسا اپنے تئیں باور کرتے ہیں۔
(ج): اس رپورٹ کے تیار کنندگان کے خیال میں دینی مسلّمات کے حوالے سے عمومی طور پر (ٹی وی چینلز، این جی اوز کی ورک شاپس اورانٹر فیتھ ڈائیلاگ کے ذریعے) اتنی گرد اڑائی جاچکی ہے کہ اب ان کے لیے یہ مطالبہ کرنا بہت آسان لگ رہا ہے کہ اسلام کے واحد ’’الحق‘‘ اور’’الدین‘‘ ہونے کے تصور کو نصابی کتابوں سے نکال دیا جائے، مگر اس کے علی الرغم انہیں ہیومن رائٹس اور مذہبی آزادی کے حق کی آفاقیت پر بھی اصرار ہے۔
(د): حیرت، اَفسوس اور دُکھ کی بات یہ ہے کہ اس قدر شرمناک عزائم رکھنے والی این جی او نہایت واشگاف الفاظ میں مذہبی شخصیات اور اداروں کے ’’بے مثال تعاون ‘‘کااظہار کرنا بھی ضروری خیال کرتی ہے اور اسے اس بات پر فخر ہے کہ’’ قد امت پسند ‘‘اور’’مشکل ترین رَسائی‘‘ والے دینی مدارس میں بھی ان کا پیغام نہ صرف پہنچ رہا ہے بلکہ اثر پذیر بھی ہے۔ اس بات پر یقین کرلینے کی وجہ گزشتہ پندرہ برس کا مشاہدہ ہے۔ نامور مذہبی شخصیات کے جرمنی، ناورے، امریکا اور کینیڈا کے دورے، وہاں کُھلے ماحول کی کانفرنسوں میں شرکت اور معذرت خواہانہ بیانات مذکورہ رپورٹ کے مشمولات کی تصدیق کرتے ہیں۔
حالیہ دور جو عالم اسلام کے لیے نہایت کٹھن دورہے۔ ایک طرف عالم کفر کی عسکری یلغار ہے تو دوسری طرف فکر و نظر کی سطح پر غیر سرکاری تنظیمیں اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ حملہ آور ہیں، ان کی جرأ ت یہاں تک بڑھ چکی ہے کہ وہ ایک مسلم ملک کے کارپردازان اور پورے مسلم معاشرے کوایمان و اسلام سے ہی دَست بردار ہوجانے کی تجاویز دے رہی ہیں۔آج اسلام اور جاہلیت جدیدہ میں ویسا ہی ٹکراؤ ہے جیسا دوسری صدی ہجری میں یونانی فلسفے اور اسلام میں ہوا تھا۔اس عرصہ ء پیکار میں چاہیے تو یہ تھا کہ ہمارے ذہین اَفراد اسلام کی حقانیت، آفاقیت اور’’واحد حق‘‘ ہونے کو دلائل و براہین کے ساتھ ثابت کرتے اور جدید مغربی نظریات کے فلسفے کولایعنی،ازکاررفتہ اور نامعقول ہونا بتلاتے ، اپنے اَکابر و اَسلاف کی روش پر چلتے ہوئے مغرب کی تہذیبی، فکری اورنظریاتی یلغار کے سامنے ڈٹ جاتے …… الٹا یہ ہوا کہ ہماری ہی صفوں کے بعض اَفراد دوسری طرف جاکھڑے ہوئے اوردانستہ ونادانستہ غیروں کی ہاں میں ہاں ملانے لگے، فیا اسفیٰ علی مافرطتم فی جنب اللّٰہ!
رفتی بہ بزم غیر، نکو نامی تو رفت
ناموس صد قبیلہ بہ یک خامی تورفت
اب ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اس تفصیل کے بعد مغرب پرست این جی اوزکی مدارس دشمنی سمجھ آجانی چاہیے۔ اہل مغرب کے خیال میں ان کے شرمناک عزائم کی تکمیل میں سب سے بڑی رکاوٹ دینی مدارس ہیں؛اس لیے کہ علماء اور مدارس ہی اس امت کے دین ودنیا کے محافظ ہیں۔جب تک حق گو علماء اور دینی مدارس موجود ہیں حفاظت دین کے فرائض انجام دیتے رہیں گے،یہی وجہ ہے کہ علماء ومدارس کو مختلف انداز میں ہدف بنایا جاتا ہے۔ دینی مدارس کے نصاب میں تبدیلی، نظام تعلیم میں تبدیلی، مغرب کے جدیدنامعقول نظریات اور مغربی اطوارکی مدارس میں ترویج، یکساں نصاب رائج کرنے کی خواہش،معاشرے میں مدارس کے کردار کوحد درجہ محدود کرنے کی منصوبہ بندی ،مختلف حیلوں سے مدارس کو ہراساں اور تنگ کرنے کی روش، مدارس پر اقتصادی اور حکومتی بندشیں…… یہ سب اہل نظر سے چھپی ہوئی باتیں نہیں…… جس دن مدارس کے خلاف اہل مغرب کی یورش کامیاب ہوگئی پھر پاکستان کو ’’اسپین‘‘ بننے میں دیر نہیں لگے گی۔
یہ حالات تقاضا کرتے ہیں کہ تمسک بالسنۃ،استقامت علیٰ الدین کو اختیار کیاجائے، اپنے عقائد ونظریات ،تشخص، انفرادیت اور اپنے اسلاف کے کرداروعمل پر غیر متزلزل یقین و اعتماد رکھتے ہوئے گرد و پیش پر کڑی نگاہ رکھی جائے۔ کسی بھی خیرہ کن نظریے کو محض اس وجہ سے قبول نہ کیا جائے کہ وہ چاندی کے ورق میں لپٹا ہوا ہے۔حمیّت دینی کامظاہرہ کرتے ہوئے مغربی این جی اوز کے ساتھ عدم تعاون کارویہ اپنایاجائے ۔اس ارشاد ِربانی کویاد رکھیے:
یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْالَا تَتَّخِذُوْاالَّذِینَ اتَّخَذُوْادِیْنَکُمْ ھُزُواًوَّلَعِباً مِّنَ الَّذِینَ اُوْتُواالْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَالْکُفَّارَ اَوْلِیَاءَ وَاتَّقُوااللّٰہَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤمِنِیْنo
ہم یہ بھی عرض کریں گے کہ علماء امت اور داعیان دین اپنے اسلاف کی روِش پر چلتے ہوئے مغربی نظریات اور مغربی تہذیب کی تفہیم حاصل کرکے اس کے بطلان اور بے سند ہونے کو طلبہ کرام اور عوام کے سامنے خوب واضح کریں۔نیز گزشتہ سطور میں ہم نے جو مندرجات پیش کیے ہیں انہیں ملحوظ رکھتے ہوئے جمعہ کے خطابات میں عامۃ الناس کو آئندہ خطرات سے آگاہ فرمائیں ۔وماعلینا الاالبلاغ المبین۔
سلیم اﷲ خاں
صدر اتحاد تنظیماتِ مدارس دینیہ پاکستان
رئیس وِفاق المدارس العربیہ پاکستان
شیخ الحدیث ومہتمم جامعہ فاروقیہ کراچی
By: Dr shaikh wali khan almuzaffar, Karachi on Mar, 22 2017

عمدہ مضمون نگاری- کیسے؟
تصویر کے دونوں رخ دیکھ کر کم سے کم مجھے لکھنے کی عادت ہے،اگر آپ تمام مضامین دیکھیں گے تو آپ کو کم سے کم غیر جانبداری ضرور دیکھنے کو ملے گی بہرحال آپ کے تبصرے کے لئے مشکور ہوں۔
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Mar, 18 2017

حجاب اور طالبات
محض چند افراد کے نظریہ کو پھیلاکر پورے معاشرے پر تھوپنے سے مسائل کا حل نہیں نکلے گا، یہ ایک اہم مسئلہ ہے اور اسکو جبرا کسی پر نافذ کرنا مناسب نہیں ہے، اسلام میانہ روی کا درس دیتا ہے اس حوالے سے باریک بینی سے مطالعہ کے بعد کوئی حکمت عملی طے پانی چاہیے
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Mar, 17 2017

اپنی شخصیت کو اُجاگر کرنے کے لئے خود اعتمادی سے کام لیں
آپ کے آرٹیکل نے شخصیت کے بنیادی پہلوؤں پر توجہ دینے پر آمادہ کیا ھے جس پر عمل کر کے خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتا ہوں
By: Muneer Abbad, Jhang on Mar, 15 2017

MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB