Interviews Conducted by Hamariweb.com

چہرے اور جلد کی خوبصورتی اور چمک شخصیت میں نکھار اور اعتماد پیدا کرتی ہے لیکن اگر بدقسمتی سے چہرے پر داغ٬ دانے یا مہاسے موجود ہوں تو یہی شخصیت بے رونق اور عدم اعتماد کا شکار ہوجاتی

ہمارے ہاں اگر کسی کو الٹی سیدھی باتیں٬ حرکتیں یا ہر بات میں شک کرتے دیکھا جائے تو فوراً کہہ دیا جاتا ہے کہ اس شخص پر جنات کا سایہ ہے یا اسے کسی نے قابو میں کر رکھا ہے اور اسی وجہ سے یہ ایسی

آج ہمیں اپنے اردگرد لوگوں کی ایک بڑی تعداد کسی نہ کسی حد تک ڈپریشن کا شکار نظر آتی ہے- تاہم یہ ڈپریشن کتنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے؟ اس بارے میں لوگوں کو بہت کم علم حاصل ہے- جی ہاں اگر ڈپریشن

آج ہمارے معاشرے میں آرٹس کے مضامین کے حوالے سے ایک سوچ جو تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے وہ یہ ہے کہ ان مضامین کو پڑھ کر حصولِ زر کے معاملے میں تیزی اور ترقی حاصل نہیں کی جاسکتی اور یہی

بچے کی پیدائش کے بعد جہاں ایک جانب ماں کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے وہیں دوسری طرف اس کی اپنی صحت اور وزن پر توجہ ہٹتی چلی جاتی ہے۔ اور جب تک ماں کو ان تمام باتوں کا احساس ہوتا

ہمارے مُلک پاکستان میں نفسیاتی مسائل بہت زیادہ ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں۔ تاہم نفسیاتی مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنا بھی کوئی مشکل کام نہیں ہے بس ضرورت اس بات کی ہمارے درمیان درست آگہی

ٹی بی یا تپِ دق کی متعدد اقسام ایسی ہیں جن سے بیشتر دنیا ناواقف ہے- اور اسی لاعلمی کے باعث اکثر افراد ٹی بی مختلف اقسام کا نہ صرف شکار بن رہے ہیں بلکہ موت کے منہ میں بھی جارہے ہیں- بچوں میں

تپِ دِق جسے عام طور پر ٹی بی بھی کہا جاتا ہے ایک ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے ماضی میں متعدد اموات واقع ہوچکی ہیں- تاہم جب اس بیماری کا علاج اور اس کی ویکسینیشن دریافت کر لی گئی تو یہ

اچھے انجینئیر بہترین معیشت اور ملک کے مضبوط بنیادی ڈھانچے کے ضامن ہوتے ہیں- انجینئرنگ کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں اور اس شعبے کو اپنی زندگی مقصد بنانے والوں کو پہلے روز سے ہی ہر قدم پر نمایاں

بچے پھول کی مانند ہوتے ہیں جن کی صحیح دیکھ بھال نہ کی جائے تو وہ مرجھا جاتے ہیں- اگر ہم اپنے ارگرد کا بغور جائزہ لیں تو ہمیں دکھائی دے گا کہ بچوں میں بہت سی بیماریاں عام ہورہی ہیں جس کی ایک

سو سال قبل کی دنیا کے مقابلے میں آج کی دنیا بڑی حد تک تبدیلی ہوچکی ہے- آج جو جدت اور ترقی ہمیں اپنے اردگرد دکھائی دیتی ہے اس کی کوئی مثال ہمیں ایک صدی قبل نہیں دکھائی دیتی- لیکن یہ تمام کامیابیاں

ویکسینیشن یا حفاظتی ٹیکوں کے حوالے سے والدین میں بہت کم آگہی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے اکثر وہ ان حفاظتی ٹیکوں کے حوالے سے ایک الجھن کا شکار نظر آتے ہیں کہ آیا انہیں لگوانے کا کوئی فائدہ

ویکسینیشن یا حفاظتی ٹیکوں کے حوالے سے لوگوں میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں٬ بعض لوگوں کے نزدیک حفاظتی ٹیکوں کا لگوانا انتہائی اہم ہوتا ہے جبکہ بعض لوگوں میں اس حوالے سے آگہی نہ ہونے کی

ہمیں اپنے ارگرد متعدد افراد ایسے دکھائی دیں گے جنہیں رات بھر نیند نہیں آتی یا بعض ایسے ہوں گے جنہیں رات بھر سونے کے باوجود دن میں بھی نیند کا سامنا ہوتا ہے- درحقیقت یہ نیند کی کمی یا زیادتی کئی

موسمِ سرما اپنے اختتام کی جانب تیزی سے گامزن ہے اور موسمِ گرما کی ابتدا ہونے والی ہے- یہ موسم کی تبدیلی انسانی جسم پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے- اگر انسان آنے والے موسم سے قبل خود کو تیار

رات کو دیر تک جاگنا اور صبح دیر سے بیدار ہونے کی عادت ہمارے طرزِ زندگی کا ایک عام سا حصہ بن چکی ہے- اور ہم کبھی یہ جاننے کی زحمت بھی نہیں کرتے کہ یہ بری عادت ہمیں کیا طبی نقصانات پہنچا رہی ہے؟ یا پھر

ماضی میں کہا جاتا تھا کہ “ دمہ دم لے کر ہی جاتا ہے“٬ لیکن الحمدﷲ آج کے دور میں نہ صرف اس مرض کی تشخیص ممکن ہے بلکہ اس کا مکمل علاج بھی کیا جاسکتا ہے- لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ درست

عالمی سطح پر پاکستان ان ممالک میں تیسرے نمبر پر ہے جہاں نمونیہ انتہائی تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے- ویسے تو یہ مرض سارا سال ہی پایا جاتا ہے لیکن موسم سرما میں یہ بیماری زیادہ سے زیادہ پھیلتی ہے

کان بھی دیگر اعضاء کی مانند ہمارے جسم کا ایک اہم اور نازک حصہ ہوتا ہے اور اﷲ تعالیٰ کی عطا کردہ اس عظیم نعمت کی حفاظت بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ دوسرے اعضاﺀ کی- کان کا درد شدید نوعیت کا

قبض کو بیماریوں کی ماں کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اپنے ساتھ کئی اور بیماریاں بھی لے آتی ہے- قبض کی بیماری کا سامنا بڑوں کے علاوہ اکثر بچوں کو بھی کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف بچے تکلیف میں

دانت کا درد انتہائی شدید اور ناقابلِ برداشت ہوتا ہے- عام طور پر اس درد کی وجہ دانتوں میں پیدا ہونے والا خلا، دانت کا ہلنا، مسوڑھوں کا انفیکشن ہوتا ہے۔ حیران کن طور پر دانتوں کے درد کا شکار اکثر ایسے افراد

آج ہمارے معاشرے میں آرٹس کے مضامین کے حوالے سے جو سوچ تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے وہ یہ ہے کہ ان مضامین کو پڑھ کر حصولِ زر کے معاملے میں تیزی اور ترقی حاصل نہیں کی جاسکتی اور یہی

ایک موقع پر قائد اعظم نے نوجوان طلبا سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’میں آج آپ سے سربراہ مملکت کی حیثیت سے نہیں بلکہ ذاتی دوست کی حیثیت سے مخاطب ہوں۔ میرے دل میں نوجوانوں خصوصاً طالب

بچے ہمیشہ اپنے والدین کے نام سے جانے جاتے ہیں لیکن زندگی چند مواقع ایسے بھی آتے ہیں جب والدین اپنے بچوں کے نام جانے جاتے ہیں- انہی مواقعوں میں سے ایک موقع وہ ہوتا جب کوئی بچہ

میڈیکل کے تمام شعبہ جات کو دنیا بھر میں انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ اس کا تعلق براہ راست انسانی زندگیوں سے ہوتا ہے- میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنا انتہائی مشکل اور ایک محنت

آج کل ہمیں ہر عمر کا فرد کمر درد کا شکار دکھائی دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہورہے ہوتے ہیں- کمر کے درد کے شکار افراد نہ درست انداز کھڑے ہوسکتے ہیں اور نہ ہی

عام طور پر اکثر لوگ نزلہ اور چھینکوں کی وجہ موسم کی تبدیلی کو قرار دیتے ہوئے نظر انداز کردیتے ہیں اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کا کوئی طریقہ اختیار نہیں کرتے- لیکن یہ طرزِ عمل درست نہیں ہے کیونکہ

عالمی شہرت یافتہ پاکستانی کرکٹر اور قومی ٹیم کے سابق کپتان حنیف محمد گزشتہ روز 81 سال کی عمر میں انتقال کر گئے- حنیف محمد پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا وہ درخشاں باب ہے جس کے بغیر پاکستان کرکٹ کی تاریخ ادھوری ہے-

اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے محنت کرنا کوئی خاص بات نہیں لیکن محنت کر کے اپنے مقصد کو حاصل کرلینا واقعی ایک بہت بڑی کامیابی ہوتی ہے- اپنے مقاصد حصول کے لیے ایسی ہی محنت کی تھی چند

ایک موقع پر قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اﷲ علیہ نے نوجوان طلبا سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’میں آج آپ سے سربراہ مملکت کی حیثیت سے نہیں بلکہ ذاتی دوست کی حیثیت سے مخاطب ہوں۔

MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB