کوٹ مومن کی اسسٹنٹ کمشنر اوراساتذہ آمنے سامنے

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

کوٹ مومن کی اسسٹنٹ کمشنر اوراساتذہ آمنے سامنے
امتحانی مرکز گورنمنٹ کالج کوٹ مومن کے انچارچ نے شناخت کرانے کو کیوں کہا
عفو و درگز سے کام لیتے ہوئے معاملے کو حل کر نا مناسب ہے
*
ڈاکٹر رئیس صمدانی
کوٹ مومن ، سرگودھا کا ایک نواحی قصبہ ہے ۔ سرگودھا کی سرزمین بڑی زرخیز ہے ۔یہ شہر کینوؤ ں کا شہر بھی کہلاتا ہے، اسے شاہینوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے، یہ سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والوں کا شہر بھی ہے،سب سے بڑھ کر علم اور ادب سے محبت اور عقیدت رکھنے والوں کا مرکز ہے۔ اس نے بڑے بڑے ادیب ، دانشور، شاعر ،سیاست داں پیدا کیے، یہاں ایسے سیاست داں بھی پیدا ہوئے جنہوں نے سیاست کے افق پر نام کمایا۔ ناصر کاظمی نے اس شہر کے حوالے سے کہا تھا ؂
زندہ دلوں کا گہوارہ ہے سرگودھا میرا شہر
سب کی آنکھوں کا تارہ ہے سرگودھا میرا شہر

علم و ادب تو گویا سرگودھا کی مٹی کی میراث ہے ۔ ڈاکٹر وزیر آغا علم و ادب کی قد آور شخصیت ایک درخشندہ ستارہ، شخصیت نہیں بلکہ ایک انجمن ، سرگودھا اسکول کے بانی، آج بھی ان کے پرستار ان کے مشن پر عمل پیرا ہیں۔ ڈاکٹر انور سدید ، ڈاکٹر وزیر آغا کے مداحین میں سے تھے، احمد ندیم قاسمی جیسا بلند پائے کے ادیب و شاعر نے سرگودھا کی مٹی سے جنم لیا۔ وہ خوشاب کے گاؤں ’انگہ‘ میں پیدا ہوئے۔ لمحہ موجود کے نو جوان اور مقبول شاعروصی شاہ سرگودھوی ہی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی شخصیت ملک فیروز خان نون کا تعلق سرگودھا سے تھا وہ تحصیل بھلوال کے گاؤں ’ہموکہ‘ میں پیدا ہوئے تھے،مشرقی پاکستان کے گورنر ر، مغربی پنجاب کے تیسرے وزیراعلیٰ، وزیر خارجہ جیسے اہم عہدوں پر فائز رہے، 1957 میں پاکستان کے وزیر اعظم بنے۔ ان کے حوالے سے یہ بات بہت اہم ہے کہ کراچی کی بندرگاہ ’گوادر‘ ملک فیروز خان نون کی سیاسی بصیرت کے باعث ہی پاکستان کا حصہ بنی ہے۔ نام گنوا ئے جائیں تو بات بہت طول پکڑ جائے گی۔ میرا تعلق سرگودھا کی مٹی سے بہت مختصررہا لیکن وہ میری زندگی کا نہ بھلانے والادور ہے ، میں نے کچھ عرصہ جامعہ سرگودھا میں تدریس کے فرائض انجام دیے ۔ میرا تجربہ و تجزیہ یہ رہا کہ سرگودھا کے لوگوں کی اکثریت اعلیٰ صفات کی حامل ہیں،یہاں کے لوگ محبت کرنے والے ہیں، مہذب وشائستہ ہیں۔ بھولنا یا کسی کو بھلا دینا ان کے خمیر کا حصہ نہیں۔ تمہید کچھ زیادہ ہی طول پکڑ گئی یہاں میں اس واقعہ پر اظہار خیال کرنا چاہتا تھا جو گزشتہ دنوں ٹی وی، سوشل میڈیا اور اخبارات کی زینت بنا۔ دیکھ کر اور پڑھ کر بہت دکھ ہوا۔ یقین نہیں آرہا تھا کہ سرگودھا کا کوئی بھی استاد کسی خاتون اسسٹنٹ کمشنر کے ساتھ بد زبانی، بیہودہ گفتگو یا گالم گلوچ کرسکتا ہے۔

واقعہ کچھ اس طرح پیش آیا کہ 11مئی کی صبح سرگودھا کے قصبہ کوٹ مومن کی اسسٹنٹ کمشنر عفت النساء امتحانی سینٹر گورنمنٹ کالج چک نمبر09جنوبی تحصیل کوٹ مومن پہنچیں ۔ اسسٹنٹ کمشنر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے علاقے میں جہاں چاہے ، جب چاہیے دورہ کرسکتا ہے۔ وہ مالک ہوتا ہے اپنے علاقے کا۔کوٹ مومن کی خاتون اسسٹنٹ کمشنر اس امتحانی مرکز کی چیکنگ کو پہنچیں۔ کالج کے دروازے پرامتحانی مرکز کے انچارچ اظہرعلی شاہ جو کہ اس کالج میں لیکچرر ہیں نے خاتون اسسٹنٹ کمشنر سے دیافت کیا کہ آپ کون ہیں ، اپنی شناخت کرائیں اور بقول عفت النساء کہ اس نے ان سے کہا کہ آپ کس اختیار کے تحت سینڑ چیک کرنے آئی ہیں، آپ سینٹر چیک کرنے کا اختیار ہی نہیں رکھتی، آپ گریڈ 17کی آفیسرہیں جب کہ ہم لوگ گریڈ 19اور20کے افسران ہیں لہٰذا آپ کسی قانون کے تحت بھی ہمیں چیک نہیں کرسکتی ، یہ جملے عفت النسا ء کی اس’ انسی ڈینٹ رپورٹ ‘ کے ہیں جو انہوں نے واقعہ رونما ہوجانے کے بعد اپنے اعلیٰ افسران کو بھیجی۔ آگے لکھتی ہیں کہ زیردستخطی کالج کے پرنسپل صاحب سے بات کرنے کے لیے دفتر گئی تو معلوم ہوا پرنسپل صاحب کالج ہی نہیں آئے، بلکہ غیر حاضر ہیں، لکھتی ہیں کہ انہوں نے صورت حال سے فون پر پرنسپل صاحب کو آگاہ کیاتو اظہر علی شاہ لیکچرر طیش میں آگیا اور اپنے ساتھی اساتذہ بلوا کر زیر دستخطی کا گھیراؤ کر لیا اور زیر دستخطی کے ساتھ اونچی اونچی آواز میں بد تمیزی شروع کردی۔ جس پر اپنے دفاع کے لیے زیر دستخطی کو پولس طلب کرنا پڑی۔ یہ بیان موصوفہ عفت النسا ء کا ہے جو انہوں نے لکھ کر دیا۔ پہلے اس بیانِ حلفی پر بات کرلیں ، بات بہت گھمبیر نہ تھی، امتحانی مرکز میں کسی غیر فرد خواہ مرد ہو یا عورت کو اندر آنے سے روکنا اور شناخت پوچھنا امتحانی مرکز کی انتظامیہ کا فرض بنتا ہے، پرنسپل ضروری نہیں امتحانی مرکز میں موجود ہو وہ کسی کو بھی امتحانی مرکز کا سربراہ بنا سکتا ہے۔ اس لیے پرنسپل کے لیے یہ کہنا کہ وہ غیر حاضر تھے مناسب نہیں ، البتہ ایک اسسٹنٹ کمشنر سے اونچی آواز میں بات کرنا اس کے منصب کی توہین ہے، ہم تو ایک پولیس والے کے سامنے بہ آواز بلند بات نہیں کرسکتے وہ تو اسسٹنٹ کمشنر تھیں ، بھلاوہ یہ کیسی برداشت کرسکتی تھیں۔ پھر اساتذہ کے احتجاج کا ذکر ہے ، انہوں نے کچہری کوٹ مومن اور خاتون کے گھر پر احتجاج کیا بقول عفت النساء ان کے گیٹ کو ٹھڈے مارے ،زور زور سے آوازیں دیتے رہے ، یہ بھی کہا کہ باہر نکلو آج ہم تم سے نمٹ لیں گے، بقول ان کے گالیاں بھی دیں، اگر اساتذہ نے ایسا کیا تو کسی صورت بھی مناسب نہیں کیا، یہ ان کے منصب کے خلاف ہے کہ وہ گری ہوئی زبان بھی استعمال کریں، احتجاج کا حق تو قانون انہیں ہی نہیں ہر شہری کو دیتا ہے ، آگے عفت النساء کا اپنی’ انسی ڈینت رپورٹ‘ میں کہنا ہے کہ’ طارق کلیم اسسٹنٹ پروفیسر جوسب سے زیادہ مشتعل تھا، نے زیر دستخطی کے گیٹ کو بار بار ٹھڈے مارے اور گالیاں بکتا رہا اور طرح طرح کے نازیبا الفاظ استعمال کرتا رہا‘۔ یہاں عفت النساء صاحبہ نے تحقیق کیے بغیر اپنے کسی اردلی یا پولس والے کے کہنے پر یہ سب کچھ سمجھ لیا، اس لیے کہ دورانِ احتجاج وہ تو سامنے تھیں نہیں ، جو کچھ باہر ہوا اس کی رپورٹنگ ان کے ماتحت عملے یا پولیس نے کی ہوگی، اس میں بہت سی باتیں نمک مرچ لگا کر بیان کردی گئیں اور عفت النسا ء صاحبہ نے سچ سمجھ لیا اور غصے میں آگئیں ۔

طارق کلیم کو میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں، اس سے کئی بار ملا ہوں، اس کے مزاج سے واقف ہوں، پڑھا لکھا انسان ہے، استاد ہے اسسٹنٹ پروفیسر کے مرتبے پر یوں ہی نہیں پہنچ گیا،پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہے، لکھاری ہے، صحافت کے پیشے سے وابستہ رہ چکا ہے، سرگودھا کے پڑھے لکھے شعر و ادب سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان اٹھتا بیٹھتا ہے۔ ڈاکٹر طاہر تونسوی اور ڈاکٹر خالد ندیم جیسے پائے کے اساتذہ کا شاگرد اور تربیت یافتہ ہے۔ میں وثوق اور یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ احتجاج ضرور ہوا ہوگا، شور ضرور مچا ہوگا، عفت النساء کے خلاف نعرے لگے ہوں گے لیکن جہاں تک گالم گلوچ کا تعلق ہے ایسا ہرگز نہیں ہوا ہوگا، عفت النساء کے ماتحت عملے نے اس مسئلہ کو خراب کیا، بگاڑا، نمک مصالہ لگا کر رپورٹنگ کی، جس سے خاتون اسسٹنٹ کمشنر غصہ میں آگئیں اور انہوں نے کسی استاد کو اٹھوا بھی لیا، ایس ایچ او اور اسسٹنٹ کمشنر اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔ ان کے اختیار میں یہی کچھ ہے کہ جس کو چاہیں اٹھوا لیں اور بند کردیں۔کیا یہ عفت النساء نے سمجھ داری کی بات کی؟ نہیں ہر گز نہیں انہیں ایک عام آدمی اور استاد میں فرق کرنا چاہیے تھا۔ ایک ڈنڈے سے سب کوہانکنا مناسب نہیں۔خاتون نے یہ الزام نہیں لگایا کہ امتحانی مرکز میں نقل ہورہی تھی، شور غل ہورہا تھا، کلاسوں میں اساتذہ نہیں تھے۔ آپ سے آپ کی شناخت چاہی اس میں کوئی بری بات نہیں، آپ کسی کے گھر میں یوں ہی منہ اٹھا کر گھس جائیں گے،کبھی عفت النساء یہ برداشت کرسکتی ہیں کہ ان کے آفس میں کوئی بلا اجازت داخل ہوجائے، پرندہ پر نہیں مارسکتا ان صاحبان کے آفسوں کے سامنے۔ڈگری کالج کا پرنسپل20 گریڈ کا ہوتا ہے اس کا آفس ہر ایک لیے کھلا ہوتا ، ایک ادنیٰ طالب علم اس کے آفس میں جا سکتا ہے، لیکن اسسٹنٹ کمشنر کے آفس کیا اس عمارت میں کوئی بلااجازت داخل نہیں ہوسکتا۔یہ ہر ایک کا حق ہے کہ وہ سامنے والے سے معلوم تو کرے کہ تم کون ہو۔ آپ کو کالج کے گیٹ پر جانے سے قبل کالج کے پرنسپل یا سینٹر انچارچ سے بات کرنا چاہیے تھی، کہ آپ سینٹر کا دورہ کرنا چاہتی ہیں، اس سے آپ کی شان میں کمی نہیں آجاتی، اساتذہ عزت کے ساتھ آپ کا استقبال کرتے اور آپ سینٹر کا دورہ کر کے واپس چلی جاتیں۔ جہاں تک اختیار کا تعلق ہے اختیار تو آپ رکھتی ہیں لیکن کسی کسی جگہ قانون اور اختیار ات سے بڑھ کا اخلاقیات کو ترجیح دیناپڑتی ہے۔ یہ بات مناسب نہیں تھی کہ آپ پرنسپل کی کرسی پر جا بیٹھیں اور ان کی حاضریاں چیک کریں کہ کون آیا کون نہیں آیا۔عفت النساء کا تعلق فیصل آباد سے ہے ، یقیناًمیرٹ پر ان کا انتخاب ہوا ہوگا، معاملے کو مزید بگاڑنے کے بجائے افہام و تفہیم سے کام لیں، عفت النساء کی فیس بک میں جو کورتصویر ہے اس میں وہ ڈینگی کے خلاف جلوس میں شریک نظر آرہی ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے ، گویا وہ اس قسم کی ایکٹیوٹی میں حصہ لیتی رہی ہیں۔ اگران کے خلاف اساتذہ نے جلوس نکال ، احتجاج بھی کیا تو اُسے خندہ پیشانی سے برداشت کرتیں ، گفت و شنید کی راہ اختیار کی جاتی ۔ استاد بہت بڑے دل کا مالک ہوتا ہے ، وہ تو اپنے بچوں کو در گزرکا سبق دیتا ہے، آپ بھی جس منصب پر پہنچی ہیں وہ اساتذہ کا ہی مرہون منت ہے۔ استاد ہر صورت میں استاد ہوتا ہے اس کی عزت و تکریم ہونی جاہیے۔

ہماری بد قسمتی ہے کہ طبقہ اشرافیہ کے حاکموں اوربیوروکریٹس ،سپاہی اور تھانیدار سے اعلیٰ افسر تک سب اس سوچ میں ڈوب جاتے ہیں کہ وہ اعلیٰ و عرفا مخلوق ہیں، انہیں حکمرانی کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے، یہ ایک مائینڈ سیٹ ہے جو عرصہ دراز سے چلا آرہا ہے۔کبھی کوئی اسسٹنٹ کمشنر ، علاقہ مجسٹریٹ تنہا کسی جگہ دیکھا گیا ہے ، پروٹوکول کے بغیر یہ حضرات ایک قدم چل نہیں سکتے۔ ان کے آگے پیچھے بندوق تانے سپاہی نہ ہوں تو گویا یہ ان کی شان کے خلاف ہوتا ہے۔ ایک تصویر میں کوٹ مومن کی اسسٹنٹ کمشنر صاحبہ کو پرنسپل کی کرسی پر بیٹھے ہوئے دکھا یا گیا ہے۔ یہ کوئی خاص بات نہیں ، اس عہدے اور اس مرتبے کی مخلوق کا یہی حال ہے کہ یہ جس جگہ موجود ہوں ، انہیں سب سے آگے ہونا چاہیے۔ ایک واقعہ یاد آرہا ہے یہاں بیان کرنا مناسب لگتا ہے۔ میں ایک زمانے (1974 (1997-میں حاجی عبداللہ ہارون گورنمنٹ کالج میں ہوا کرتا تھا۔ یہ وہی کالج ہے جس کے بانی پرنسپل فیض احمد فیضؔ تھے۔ وہ 1962سے 1972تک کالج کے پرنسپل رہے۔ فیض ؔ صاحب کے زمانے میں مَیں اس کالج کا طالب علم تھا۔ کراچی میں یہ وہ دور تھا جب ہڑتالیں ، شہر بند ہونا روز کا معمول بن گیا تھا۔ سیاسی جماعت ہڑتال کی کال دیا کرتی، انتظامیہ جواب میں اعلان کرتی خبر دار سب کچھ کھلا رہے گا، انتظامیہ کا کسی اورپر تو بس چلتا نہیں تھابیچارے اسکولوں اور کالجوں پر انتظامیہ کے احکامات پر عمل کرانا آسان ہوتا تھا۔ میرا کالج اولڈ کراچی یعنی کھڈا مارکیٹ میں تھا اب بھی ہے۔ تمام ٹیچر دور دور سے آیاکرتے تھے، سب کے پاس موٹر سائیکل بھی نہیں تھی، اب کالج پہنچیں تو کیسے، بسیں چلانا، رکشہ ٹیکسی چلوانا انتظامیہ کے بس سے باہر ہوتا تھا۔ اس زمانے میں ایک اسسٹنٹ کمشنر صاحب جن کانام یاد نہیں اس علاقے کے حاکم اعلیٰ تھے۔ جب بھی پڑتال کا اعلان ہوتا وہ صبح صبح اپنے پروٹوکول کے ساتھ کالج میں آموجود ہوتے اور اِسی طرح پرنسپل کی کرسی پربراجمان ہو کر حاضری رجسٹر منگوالیا کرتے اور جو ٹیچر موجود نہ ہوتا حتیٰ کہ پرنسپل بھی اس کے سامنے کراس کا نشان لگا دیا کرتے۔ گویا انہیں اپنی حیثیت میں پرنسپل کے اختیارات بھی حاصل تھے۔ میں اس زمانے میں موٹر سائیکل استعمال کیا کرتا تھا، میرا ایک دوست اسدمرحوم میرے گھر کے پاس ہی رہا کرتا تھا ۔ جب ہڑتال کا اعلان ہوتا ہم اس اسسٹنٹ کمشنر کے ڈر و خوف سے اپنی اپنی موٹر بائیک پر دستگیر سوسائیٹی اور گلشن سے ہوتے ہوئے چھپتے چھپاتے، گلیوں ، کوچوں سے ہوتے ہوئے بہ مشکل تمام کالج پہنچا کرتے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ انتظامیہ کے اس طبقے کا مزاج ہی ایسا تشکیل دیا جاتا ہے کہ تمہیں ہر ایک پر برتری اور سبقت حاصل ہے۔ یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ تم نے بھی اسکولوں اور کالجوں اور جامعات میں پڑھا ہے، تمہارے بھی اساتذہ نے تمہیں علم سے بہرہ مند کیا ہے۔ عہدے کا غرہ، اختیارات کا زعم ،غرور ، گھمنڈ، برتری کا غمار،حبِ ذات ، خود ستائی اور خود پرستی میں یہ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ ماں ، ماں ہوتی ہے، ہماری نہیں تو کسی کی تو ماں ہے، باپ ہمارا نہیں کسی کا تو ہے، استاد جسے باب کا درجہ دیا گیا اگر ہمارا نہیں تو کسی کا استادتو ہے، بہت ممکن ہے کہ آپ استاد سے بھی زیادہ قابل ہو گئے ہوں،ڈگری ، عہدے، مرتبے ، علم و ادب میں آگے نکل گئے ہوں اور ایسا ہوتا بھی ہے ، کیا ہمارے سب استادوں نے پی ایچ ڈی کیا تھا ؟ نہیں ، ہم نے کر لیا، بہت سے استاد اسکول ٹیچر کی حیثیت سے ریٹا ئر ہوگئے اور ہم کالج اور یونیورسٹی میں پروفیسر چیئر مین کے عہدے تک پہنچ گئے تو کیا ہمارا رتبہ اور ہمارامرتبہ ہمارے استاد سے بلند ہوگیا، ہر گز بلند و بالا نہیں ہوسکتا۔ استاد چاہے کوئی بھی ہو وہ قابل احترام ہے۔ ایک سرکاری تقریب میں صدر پاکستان ایوب خان صاحب اسٹیج پر بیٹھے تھے اچانک ان کی نظر سامنے سامعین میں بیٹھے ایک شخص پر پڑی ، جب انہیں یہ یقین ہوگیا کہ یہ تو ان کے استاد ہیں ، تو تقریب کی کاروائی کے دوران ایوب خان صاحب اپنی کرسی سے اٹھے اور سامعین میں جاکر اپنے استاد کے گلے لگ گئے۔ یہ ہے استاد کا مقام اور مرتبہ۔ انہوں نے اپنی کرسی پر بیٹھے بیٹھے حکم نہیں دیا کہ فلاں شخص کو میرے پاس لے آو۔ استاد کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ یہ معاملاجہاں تک بڑھ چکا اسے اسی جگہ روک دینا چاہیے، عفت النساء صاحبہ صبر و تحمل سے کام لیں، اساتذہ بھی خاتون اسسٹنٹ کمشنر کو معاف کردیں اور درگزر سے کام لیتے ہوئے صلح کر لیں۔ اسی میں ہر ایک کی بھلائی اور عافیت ہے۔ (15مئی2017)
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
14 May, 2017 Total Views: 270 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Dr Rais Ahmed Samdani

Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Read More Articles by Dr Rais Ahmed Samdani: 408 Articles with 183762 views »
Reviews & Comments
صاحبِ مضمون نے غیرمعمولی طوالت اختیار کی اور اصل مقصد بیان کرنے کی بجائے کچھ اپنی اور دیگر لوگوں کی ثنا خوانی کردی ۔ نونے اور دولتانے و دیگر جاگیرداروں کے بارے کون نہیں جانتا کہ یہ سارے پودے انگریز سرکار نے لگائے۔ ایسے لوگوں کی وجہ سے پاکستان ستر سال بعد بھی ترقی پذیر ہے۔ خیر مسئلہ تھا کوٹ مومن کے کسی امتحانی مرکز میں داخلے کا سو چند امور پر غور کرلیں۔ میں تعلیمی بورڈ کا ممبر رہ چکا ہوں مجھے قواعد و ضوابط کا علم ہے ۔ امتحانی عمل بورڈ مقرر کرتا ہے اور ناظم کو میجسٹریٹ کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ ۔ مقامی تعلیمی ادارے کے سربراہ کو ریذیڈنٹ انسپکٹر مقرر کیا جاتا ہے جاسکا اسے یومیہ اداکیا جاتاہے۔ وہ از خود اپنی جگہ کسی کو مقرر نہیں کرسکتا۔ معائنہ کرنے والے اشخاص کو کنٹرولر امتحانات اتھارٹی لیٹ جاری کرتا ہے اور جب وہ کسی سنٹر پر جاتے ہیں تو ناظم سنٹر ان سے شناخت طلب کرتا ہے پھر سنٹر کے معائنہ کے لیئے وہ اندر جاتے ہیں۔ اتھارٹی لیٹر کے بغیر ملک کا وزیراعظم یا صدر پاکستان بھی امتحانی مرکز میں داخل نہیں ہوسکتے۔ میرے اپنے تعلیمی ادارے میں امتحانی مرکز تھا اور ایک میجسٹریٹ صاحب تشریف لائے کہ میں سنٹر کا معائنہ کرونگا ۔ میں نے ان اتھارٹی لیٹر مانگا تو انہوں نے کہا کہ میں میجسٹریٹ ہوں ۔ میں نے کہا کہ جناب آپ باہر ماحول کو درست کرسکتے ہیں لیکن امتحانی مرکز کے اندر آپ نہیں جاسکتے جب تک کنٹرولر کا اتھارٹی لیٹر آپکے پاس نہ۔ہو۔ وہ کچھ سیخ پا تو ہوئے مگر چلے گئے۔ ایک امتحانی مرکز میں میرے سکول کی معلمہ ناظمہ لگی ہوئی تھیں ۔ اس مرکز میں ایک کمشنر صاحب کی بیٹی امتحان دے رہی تھی ، کمشنر صاحب کی بیگم صاحبہ سنٹر میں داخل ہوئیں تو ناظمہ نے شناخت طلب کی انہوں نے بیگم کمشنر کہ کر شناخت کرائی تو ناظمہ نے انہیں باہر نکال دیا۔ ۔ بیگم عفت النسا اسسٹنٹ کمشنر کو قانون کی پابندی کرنی چاہیئے ۔ کنٹرولر امتحانات سے بات کرتیں اور ان سے اتھارٹی لیٹر لے کر جاتیں اگر وہ دیتے۔ قانون اور ضابطوں کی پابندی کرنے سے قد کاٹھ میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ میں کہیں ایسی جگہ جاتا ہوں جہاں سیکرٹی والے چیک کرتے ہیں تو میں ہاتھ اوپر کرلیتا ہوں اور وہ چیک کرتے ہیں کچھ ہاتھ ملا لیتے ہیں۔ یہ میں صرف دوسروں کو قانون کی پابندی کا درس دینے کے لیئے کرتا ہوں۔خاتون افسر نے اپنی سبکی تصور کرتے ہوئے برا منایا۔ عورتوں کو افسر ی دینا ایسا ہی ہے کہ آ بیل مجھے مار۔ ان کا کام فطرتا گھر آباد کرنا بچوں کی تعلیمی و تربیت ، خاوند کے حقوق پورے کرنا ہے اب یہ اور جھنجھالوں پڑگئی تو نئی نسل کی تربیت کون کرے گا۔

اب رہا استاد کے احترام کا معاملہ تو استاد مرتے دم تک استاد ہی رہتا ہے۔ شاگرد تو حکمران اور بڑے بڑے افسر بن جاتے ہیں۔ ۔ میرے کئی شاگرد پاک فوج میں اعلیٰ عہدوں پر بھی ہیں، سول افسران بھی ہیں، وکلائ بھی ہیں بیرونِ ملک نوکریاں کرنے والے بھی ہیں بڑے مالدار ہیں۔

کچھ روزی کے لیئے ٹیکسیاں بھی چلاتے ہیں۔ میں اس وقت انتہائی خوش ہوتا ہوں جب میں پیدل جارہاہوتا ہوں کہ اچانک ایک بڑی قیمتی گاڑی میرے پاس آکر رکتی ہے اور بڑی عجلت کے ساتھ ایک نوجوان باہر آکر میرے آگے جھک کر مجھے سلام کرتا ہے ۔ میں اسے بیٹا کہ کر گلے لگا لیتا ہوں حال احوال پوچھنے پر اسے دعائیں دیتا ہوں پھر وہ چلا جاتا ہے اور میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ علم واقعی بڑی دولت ہے کہ میرے پاس تو کوئی سواری نہیں مگر لوگ میری عزت و احترام اس علم کی وجہ سے کرتے ہیں۔ میں اپنےاستاد ملک محمد شفیع صاحب کے سامنے کرسی پر ایسے بیٹھتا تھا جیسے نوکر آقا کے سامنے۔ اللہ سب کو اپنے اساتذہ کے ادب کی توفیق دے۔ اور افسرقن کو اساتذہ کے آداب کا خیال رکھنا چاہیئے خواہ ان سے پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو۔ کسی نے بتایا کہ کسی ملک میں اگر استاد عدالت میں چلا جائے تو جج صاحب کھڑے ہوجاتے ہیں اور استاد کو کرسی دی جاتی ہے۔
By: اکبر حسین ھاشمی, rawalpindi on May, 25 2017
Reply Reply
0 Like
استاد نے اپنی تکریم بنائی یہ ایک الگ موضوع ہے اس پت بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اچھے برے ہر جگہ ہوتے ہیں
By: Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi on May, 18 2017
Reply Reply
0 Like
بحوالہ === استاد ہر صورت میں استاد ہوتا ہے اس کی عزت و تکریم ہونی جاہیے۔ ===
کیا اساتذہ نے کوشش کی ہے کہ انکی عزت و تکریم برقرار رہے
میں دوسری جماعت کا طالبعلم تھا - یوم پاکستان کے لئے اسکول میں ایک تقریب کا اہتمام بھی کیا گیا تھا -اس میں بچوں کی مینڈک ریس لگوائی گئی - میں بھی اس ریس میں شامل تھا
میدان کو خصوصی طور پر صاف کیا گیا تھا -اس پر سفید چونے کی لکیریں ہمارے ذہنوں کو نہایت بھلی معلوم ہو رہی تھیں - اوپر سیاہ اسمان اور ان پر دھیرے دھیرے اڑتے ہوئے پرندے ماحول کو نہایت خوشگوار بنا رہے تھے - مینڈک دور شروع ہوئی - میں نہ جانے کہاں پیچھے رہ گیا تھا - بچے آگے پھدک پھدک کر نکلے جارہے تھے
اچانک پی ٹی ماسٹر کی اواز آئی “اوئے سیدھا چلو“ ایک سیکنڈ میں میں نے آواز سنی اور اپنا پھدک پھدک کر آگے بڑھنا جاری رکھا
پی ٹی ماسٹر نے کسے کہا تھا پتہ نہیں چلا
ریس ختم ہو گئی --میں نہ جانے کونسے نمبر پر آیا تھا --بالکل پیچھے تھا
اول دوئم سوئم کا اعلان ہوا مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ کون تھے وہ
تقریب کے اختتام پر ایک بچہ کہہ رہا تھا “یار ہم جیت جاتا - اس کے والد نے بولا تم سیدھا چلو --ہم رہ گیا“ میں اس بچے کو دیکھنے لگا --وہ بروہی ٹوپی پہنے ہوئے تھا -

گھر آگئے - گھر میں تبصرہ شروع ہوا - میں تو بہت ہی پیچھے رہ گیا تھا -اچانک ایک لڑکے نے جو کہ ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا کہا “پی ٹی ماسٹر کا بچہ شاید ہار جاتا نیاز وہ دوسرا اللہ بخش جیت جاتا - اس کو پی ٹی ماسٹر نے اللہ بخش کو ایسے ہی غلط ٹوکا تھا

میرے سامنے دوبارہ شکوہ کرتا ہوا اللہ بخش کا ہیولہ سا اگیا اور یہ آتا رہتا ہے -اس وقت جب کی بورڈ کے بٹن دبا رہا ہوں تب بھی سامنے اس کا ہیولہ ہے
کاش یہ اساتذہ اخلاقی پہلو بھی درست رکھتے

استاد کی عزت پہ کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا
کیا استادوں نے اپنی عزت بنائی
By: Munir Bin Bashir, Karachi on May, 18 2017
Reply Reply
0 Like
بھارتی کمانڈر انچیف اپنی کتاب میں اس کا اردو ترجمہ پاکستان میں ہوا لکھتےہیں - صفحہ 203 -بھارت وزیر دفاع نے جنگ کے دوران ایک جنرل کو اپنے ساتھ کہیں چلنے کو کہا - اس جنرل نے انکار کر دیا اور کہا کہ

میں جنگ کے دوران اپنے افسران بالا کی اجازت کے بغیر اپنا ہیڈ کوارٹر نہیں چھوڑ سکتا "
--------------------------------------
کچھ مقامات ہوتے ہیں جہاں آپ کی وزارت یا صدارت کی حدود ختم ہو جاتی ہیں -

-وہ ہوتے ہیں ٹکنیکل معاملات

پاکستان اسٹیل مل
ایک کرین جو کہ اسی ٹن اٹھا سکتی تھی سے ایسا وزن اٹھانا تھا جو کہ اس کی طاقت سے زیادہ تھا

اس کے لئے خصوصی طور پر انتظامات کئے گئے تھے اور خصوصی سرٹیفکٹ جاری ہوا تھا جس کی معیاد شام پانچ بجے ختم ہو گئی تھی - اتفاق ایسا ہوا کہ جس ڈیپارٹمنٹ کا سامان اٹھانا تھا وہ اپنی تیاریاں مکمل نہیں کر سکا -اور سوا پانچ بج گئے -

سوا پانچ بجے جب اٹھانے لگے تو روسی ماہر نے اس سامان کو اٹھانے سے روک دیا - اس سامان کی قیمت بھی ڈھائی تین کروڑ روپے کے قریب تھی -

روسی ماہر کا کہنا تھا کہ اس اجازت نامہ کو فلاں آفیسر یا اس کا نامزد کردہ آفیسر ہی دے سکتا ہے ان افسران نے اس کی خصوصی تربیت حاصل کی ہے - -

اس لئے اسے یا اس کے نامزد کردہ افسر کو بلایا جائے اور وہ نیا سرٹیفکٹ جاری کرے -

چیف انجینئر الیکٹریکل - چیف انجینئر مکینیکل کھڑے منہ دیکھتے ہی رہ گئے -

چیف انجیئر سے کہا گیا "بلاشبہ آپ میکینیکل کے چیف ہیں لیکن اس قسم کی خصوصی تربیت آپ نے نہیں حاصل کی اس لئے آپ کا اجاز نامہ نہیں چل سکتا "

کیا انتظامی معاملات ( ٹکنیکل نہیں ) میں اس قسم کی گنجائش ہے میں نہیں کہہ سکتا
By: Munir Bin Bashir, Karachi on May, 18 2017
Reply Reply
0 Like
بحوالہ
<<امتحانی مرکز کے انچارچ اظہرعلی شاہ جو کہ اس کالج میں لیکچرر ہیں نے خاتون اسسٹنٹ کمشنر سے دریافت کیا کہ آپ کون ہیں ، اپنی شناخت کرائیں اور بقول عفت النساء کہ اس نے ان سے کہا کہ آپ کس اختیار کے تحت سینڑ چیک کرنے آئی ہیں، آپ سینٹر چیک کرنے کا اختیار ہی نہیں رکھتی، آپ گریڈ 17کی آفیسرہیں جب کہ ہم لوگ گریڈ 19اور20کے افسران ہیں لہٰذا آپ کسی قانون کے تحت بھی ہمیں چیک نہیں کرسکتی>>

فوجی چھاؤنیوں میں جائیں تو مختلف مقامات پر سیکیورٹی کی چیکنگ کے لئے مقامات بنائے گئے ہوتے ہیں - یہ میں بچپن سے دیکھتا چلا اآہاہوں یعنی 1958 سے ان مقامات پر ایک نوجون جو افسر نہیں ہوتا وہ فوجیوں کے شناختی کارڈ چیک کرکے چھوڑتا ہے حالانکہ جس کا کارڈ وہ چیک کر رہا ہوتا ہے وہ لبفٹیننٹ کرنل کے عہدے کا فرد بھی ہو سکتا ہے اور اس نے یونی فارم بھی پہنی رکھی ہوتی ہے - چیک پوسٹ پر یہ ہدایت بڑے بڑے بورڈ پر بڑے بڑے الفاظ میں لکھی ہوتی ہے کہ شناختی کارڈ چیک کرائیں -اور تصویر بھی بنی ہوتی ہے کہ ایک افسر اپنا شناختی کارڈ اس غیر افسر نوجوان کو دکھا رہا ہوتا ہے
By: Munir Bin Bashir, Karachi on May, 18 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB