|
|
حافظ صاحب، آپ نے جتنی بھی روایات ٢٧ رجب کے حوالے سے بیان کی ہیں اور اس رات میں عبادت کا تذکرہ کیا ہے تو محترم ان روایات کا حوالہ تو مکمل نقل فرماتے میرے علم کے مطابق ٢٧ رجب کے عبادات کے حوالے سے جتنی روایات ملتی ہیں وہ تمام پائے سند کو نہیں پہنچتی ہیں اس لیے ان سے عبادات کے بارے میں کچھ اخذ کرنا درست نہیں ہے اگر آپ حوالاجات مکمل عنائت کردیں تو میں چیک کر سکوں کہ آیا یہ روایات پائے سند کو پہنچتی ہیں جس سے آپ استدلال لے رہے ہیں نوازش ہوگی مکمل حوالاجات عنائت کریں۔ جزاک اللہ |
|
|
By:
tariq mehmood,
Karachi
on
Jun, 10 2012
|
|
|
|
|
|
|
| کیا کسی بھی درجے میں یہ بات سوچی جا سکتی ہے کہ العیاذ باللہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو نبی اکرم ﷺ سے عشق و محبت نہ تھی، یا اُن کو اس رات میں نبی اکرم ﷺ کو ملنے والے اتنے بڑے اعزاز کی خوشی نہیں ہوئی،ہر گز نہیں ! اُن سے بڑا عاشقِ رسول کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا ،لیکن اُن کا عشق حقیقی تھا، جس کی بنا پر اُن سے کوئی ایسا فعل سرزد ہو ہی نہیں سکتا تھا ،جو سرکارِ دو عالم ﷺ کی منشأ کے خلاف ہوتا،وہ تو خیر کے کاموں کی طرف بہت تیزی سے لپکنے والے تھے،لہذا اگر اس رات میں کوئی مخصوص عبادت ہوتی تو وہ ضرور اسے سرانجام دیتے اور اسے امت تک بھی پہنچاتے،لیکن ایسا کوئی بھی اقدام صحابہ رضوان اللہ اجمعین کی تاریخ میں نہیں ملتا،تو جب کوئی خیر کا کام ان کو نہیں سُوجھا تو وہ ”خیر “ہو ہی نہیں سکتا بلکہ وہ بدعت ہو گا، جیسا کہ علامہ شاطبی نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے :”کلُّ عبادةٍ لم یَتَعبَّدْھا أصحابُ رسولِ اللّٰہ ﷺ فلا تَعْبُدُوھا“(الاعتصام للشاطبي،باب فی فرق البدع و المصالح المرسلة: ۱/۴۱۱، دارالمعرفة) ترجمہ:”ہر وہ عبادت جسے صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے نہیں کیا ،سو تم بھی اسے مت کرو“۔ |
|
|
By:
Asad,
Karachi
on
Jun, 08 2012
|
|
|
|
|
|
|
حافظ صاحب بہت ہی عمدہ تحریر آپ جیسے لوگوں کی موجودگی با عث اطمنان ہے اللہ آپکا حامی و ناصر ہو |
|
|
By:
Abu Hanzalah M.Arshad Madani,
Karachi
on
Jun, 07 2012
|
|
|
|
|