شخصیت پرستی۔۔۔ایک بھیا نک بیماری ہے!قسط نمبر 5

(Shafqat Ullah, )

ہم اﷲ وحدہٗ لا شریک پر ایمان رکھنے والے، نبی کریم ﷺ کے امتیوں نے بڑی بھیانک کمزوری پال لی ہے۔ ہم شخصیات کی محبت اور عقیدت میں پرستش کی حد تک آگے چلے جاتے ہیں ہمیں محبت کا سلیقہ ہی نہیں ،ہم نہیں سمجھتے کہ ہر انسان میں کمزوریاں اور خامیاں ہوتیں ہیں اس کے ساتھ نفس بھی لگا ہوتا ہے، ان میں اخلاقی کمزوریاں بھی ہوتی ہیں کوئی انسان کامل انسان نہیں ہوتا۔ نعروں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے سیاسی جماعتیں نعرے بناتی اور عوام کو دیتی ہیں اور جتنی بلند آواز میں اور جتنے بڑے مجمع میں وہ نعرہ لگتا ہے وہ اس کی سیاسی جماعت کی مقبولیت کا پیمانہ ہوتا ہے ۔۔مسلم لیگ کے ابتدائی نعرے ۔۔۔۔ لے کے رہیں گے پاکستان ۔۔۔۔اور پاکستان کا مطلب کیا ، لا الہٰ الا اﷲ ۔۔۔۔۔تھے ۔یہ نظریات کی عکاسی کرتے ہیں پھر ’’پاکستان زندہ آباد ‘‘آیا۔ یہ پاکستان سے محبت کا اظہار تھا ۔پھر قائد اعظم زندہ آباد آیا ،یہاں سے شخصیت پرستی شروع ہوگئی۔ نعروں سے بہت کچھ سمجھا جا سکتا ہے ۔۔۔پیپلز پارٹی نے جو نعرہ دیا ۔۔’’جئیے بھٹو‘‘ ۔۔!! اور اس نعرے کی مقبولیت بتاتی ہے کہ ہماری اجتماعی اور قومی بیماری بڑھ گئی ہے ۔پھر ضیا ء الحق ،نواز شریف ،بے نظیر بھٹو اور پرویز مشرف کیلئے بھی یہی نعرے بلند ہوئے اور حالیہ دور حکومت میں جب میاں محمد نواز شریف کو عدالت ِ عالیہ کی جانب سے نا اہل قرار دیا گیا تو نعرہ دیا گیا ہے کہ ’’میرے دل کا وزیر اعظم نواز شریف‘‘ جو اس بیماری کے خطرناک پہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔قائد اعظم کیلئے جو نعرے لگے ،ان کے پیچھے پاکستان کی محبت کار فرما تھی ، پاکستان کا حوالہ تھا، ایک نظریہ تھا۔ لیکن جئیے بھٹو ، جئے ضیا ء الحق ،جئے نواز شریف ،جئے پرویز مشرف اور میرے دل کا وزیر اعظم نواز شریف کے پیچھے کوئی نظریہ نہیں اس کے پیچھے پاکستان کی محبت بھی نہیں حد یہ ہے کہ اس کے پیچھے پیپلز پارٹی ،ن لیگ اور کوئی جماعت بھی نہیں گویا اہمیت نہ سیاسی پارٹی کی ہے اور نہ پاکستان کی صرف ایک شخص اہم ہے ۔شخصیت پرستی اس حد تک بڑھ جائے تو جمہوریت کہاں پنپ سکتی ہے؟؟ ایسے میں تو شخصی آمریت جنم لیتی ہے اور ہم آج اسی کا مزہ بھی لے رہے ہیں ۔یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا شخصی آمریت میں سیاسی استحکام ہو سکتا ہے ؟ جو ملک کے لئے فائدہ مند اور ترقی کا ضامن ثابت ہو سکتاہو؟ ہاں ہو سکتاہے ! اگر امور مملکت اہل ترین لوگوں کو سونپے جائیں ،تاکہ ملک ترقی کرے اور خوشحالی ہو اس کے بر عکس ہوگا تو عوام میں بے چینی پیدا ہو گی پھر بات شورش تک پہنچے گی بد امنی ہو گی تو یا تو خونی انقلاب آئے گا یا فوجی انقلاب اسی لئے آمریہ اہتمام کرتے ہیں اصل میں سسٹم یہ ہے کہ حکومت کے پاس قوتِ عمل اور وسائل ہوتے ہیں لیکن سمت نہیں ہوتی اپنے اپنے شعبے کے ماہر سوچنے والے دانش ور لوگ سمت فراہم کرتے ہیں وہ حکومت کی کامیابی کی ضمانت ہوتے ہیں اور حکومت وہ کامیاب ہوتی ہے جو عوام کو خوش اور مطمئن رکھ سکے ۔انہیں روزگا،ر با عزت زندگی اور ضروریات فراہم کر سکے ۔یہ کام بھٹو ، نواز شریف اور دیگر سیاسی جماتیں بھی کر سکتیں تھیں اور دیگر جمہوری حکومتیں بھی لیکن جس طرح وہ بیوروکریسی اور فوج پر حملہ آور ہوئے اس سے ایسا نہیں لگتا ۔طویل اقتدار کیلئے درست راستے کو چھوڑ کر غلط راستے پر چل نکلے ہیں۔ اہلیت رکھنے والوں کو بھٹو دور میں بے عزت کر کے فارغ کر دیا گیا اور نا اہل اور خوشامدی لوگوں سے آج تک جان نہیں چھوٹ پائی ہے۔جب میرٹ کو خیر باد کہا جاتا ہے تو ایک نہیں کئی بیماریاں جنم لیتی ہیں اور وہ بھی دقیق ۔ایسے میں خوشامدی اور نا اہل لوگوں کے ہاتھ میں فیصلے کا اختیار چلا جاتا ہے اور وہ غلط فیصلے کرتے ہیں چاہے خلوص کے ساتھ کریں اور ان فیصلوں کے نتائج پھیلتے ہوئے دور تک جاتے ہیں پھر وسائل ان کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور نا اہلی کی وجہ سے ان کا ضیاع ہوتا ہے جس کے نتیجے میں معیشت کمزور ہوتی ہے دوسری طرف اہل لوگوں کو سائیڈ لائن لگا کر ان کی راہ نماء صلاحیتوں سے ملک و قوم کو محروم کرتے ہیں تو معاشرہ زوال پذیر ہوتا ہے جس کی مثال عصرِ حاضر کا پاکستانی معاشرہ ہے میرٹ چھوڑتے ہی کرپشن کا آغاز ہوتا ہے اور کرپشن کتنی جلد پھیلنے والی چیز ہے اس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا، اقربا ء پروری کو فروغ ملتا ہے با صلاحیت لوگ اپنی صلاحیتوں سے مایوس ہو کر حوصلہ ہار بیٹھتے ہیں خوشامد ،سفارش اور رشوت کو فروغ ہوتا ہے سچ بولنے اور سننے کی خوُ دم توڑ نے لگتی ہے یہ سب کچھ قوموں کیلئے زوال کا سفر ہوتا ہے ۔شخصیت پرستی کی سب سے بڑی مثال سامنے آئی ہے ،تا حیات نا اہل ہونے والے شخص کو انتخابی اصلاحات میں ترمیم کر کے اور تحفظ ناموس رسالت کی آئینی شق حذف کر کے بچانے کیلئے پارٹی صدر منتخب کر دیا گیا ہے ،پاکستان کے ایک نامور سیاستدان نے میاں نواز شریف کو چی گویرا سے لے کر بھٹو تک سب بنا دیا ،نام نہادنے جمہوریوں نے پاکستان کو اسلامی جمہوری سے جمہوری لبریہ میں بدل کر رکھ دیا ہے اور یہ اس دور میں شخصیت پرستی کی سب سے بد ترین مثال ہے ۔اﷲ ہم پر رحم فرمائے ۔۔۔جاری ہے۔۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
07 Oct, 2017 Total Views: 206 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 120 Articles with 24436 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB