پروفیسر کا غرور اور کسان کی عقلمندی٬ سبق آموز کہانی

(Khawaja Mussadiq Rafiq, Karachi)

ایک مرتبہ ایک پروفیسر اور کسان ایک ساتھ ریلوے سے سفر کررہے تھے۔ سفر کی بوریت دور کرنے کیلئے اور کچھ رقم بٹورنے کیلئے پروفیسر نے کسان سے کہا کہ چلو ہم ایک کھیل کھیلتے ہیں۔

ہم دونوں ایک دوسرے سے سوال پوچھیں گے۔ جس کو سوال کا جواب معلوم نہ ہوگا۔(وہ ہزار روپیہ دے گا۔ )پروفیسر کو یقین تھا کہ یہ بیچارہ کسان میرے مقابلے میں کیا جانتا ہوگا۔ کسان نے کہا ٹھیک ہے لیکن میری گزارش ہے کہ آپ پروفیسر ہیں۔ بہت کچھ جانتے ہیں میں غریب کسان ہوں اگر آپ کو کسی سوال کا جواب نہ آتا ہوا تو آپ ہزار روپے دیں گے اور اگر مجھے کسی سوال کا جواب نہ آتا ہوا تو میں پانچ سو روپے دوں گا۔ پروفیسر نے منظور کر لیا۔

پہلا سوال کسان نے کیا کہ وہ کون سی چیز ہے جو زمین پر چلتی ہے تو دوٹانگ پر۔ اور ہوا میں اڑتی ہے تو اس کے تین پیر ہوجاتے ہیں۔ پروفیسر نے بہت سوچا انٹرنیٹ پر تلاش کیا لیکن جواب نہ ملا اور اس کے بعد خاموشی سے ایک ہزار روپیہ کسان کی طرف بڑھا دیا اور کہا کہ مجھے جواب نہیں آتا کسان نے ہزار روپیہ لے کر رکھ لیا، پروفیسر نے کہا کہ اب تم تو جواب بتاؤ،کسان نے پانچ سو روپے پروفیسر کی طرف بڑھا دیئے اور کہا کہ اس سوال کا جواب مجھے بھی نہیں آتا۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
09 Sep, 2017 Total Views: 1531 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB