میں سلمان ہوں(٦٨)

(Hukhan, karachi)

کس قدر جلتا ہوں
جیتا ہوں نہ ہی مرتا ہوں

مجھے معلوم ہے کہ ماں کے بعد اب میں نہ کسی کا لال ہوں نہ چاند ہوں‘‘،،،کیونکہ پچھلے کسی برسوں سے میں‘‘،،
بہت سے وارث ہونے کے باوجود بھی لاوارث ہوں‘‘،،،اگر میں کسی کا چاند ہوتا تو تنہا اک پل بھی نہ رہتا‘‘،،،کیونکہ‘‘
چاند کبھی بھی تنہا نہیں رہتا‘‘،،،ستاروں کے جھرمٹ میں جھلملاتا رہتا ہے‘‘،،،اپنی روشنی نہ ہونے کے باوجود بھی‘‘
ستاروں اور بہت سے کہکشاؤں کی محفل نے اسے ناختم ہونے والی چاندنی دے رکھی ہے‘‘،،،قدرت نے اسے تنہائی‘‘
سے بچارکھا ہے‘‘،،،اداسی سے کوسوں میل دور رکھا ہے‘‘،،،وہ آسمان کا چاند ہے اکلوتا‘‘،،تنہا‘‘،،،نا ختم ہونے والی‘‘،،،
چاندنی نے اسے سب سے منفرد بنارکھا ہے‘‘،،،وہ محبت‘‘،،،عشق،،،خوبصورتی کاایسا نشان ہے‘‘،،،جسے‘‘
صدیاں بھی نہ مٹاسکیں‘‘،،،آج بھی جب سمندر‘‘،،،صحرا‘‘،،،جنگل میں مسافربھٹک جائیں‘‘،،تو وہ رہنما بھی بن جاتا‘‘
ہے‘‘،،،اور جب عشق،،پیار،،رہنمائی کرنے لگے‘‘،،تو اس سے بڑھ کے اورکیا خوش بختی ہوگی‘‘،،،
روزی خاموشی سے سلمان کو دیکھتی رہی‘‘،،،وہ سن رہی تھی مگر حال سے بے تعلق تھی‘‘،،،بس اک آواز اس کے ‘‘،،
کانوں سے مستقل ٹکرا رہی تھی‘‘،،،سلمان خاموش ہوگیا‘‘،،،
روزی کی نظریں اپنے چہرے پرجمی ہوئی دیکھ کے اس ٹھنڈ میں بھی اسے پسینے آنے لگے‘‘،،،روزی اپنی نظریں‘‘
اس کے چہرے پرچھوڑ کر کہیں اور ہی گم ہو گئی تھی‘‘،،،
میری آنکھوں کو تیرے چہرے کی عادت نہ ہو جائے
کہیں یہ عادت دعاؤں میں نہ بدل جائے
کمرے میں صرف خاموشی کی حکمرانی تھی‘‘،،،روزی نے سلمان کو دیکھا‘‘،،،سلمان ‘‘کس نے کہا ہے کہ تم‘‘،،
تنہا رہو‘‘،،،روزی نے اپنی نظریں اس کے چہرے سے ہٹالی‘‘،،،مگراس کی آنکھیں شاید ابھی تھکی نہ تھی‘‘،،،
سلمان اس کے سوال پرمسکرا دیا‘‘،،،اطمینان سے بولا‘‘،،،ہمیں کوئی بتاتا یاکہتا نہیں‘‘،،،ہمیں خود سے پڑھنا پڑتا ہے
سلمان نے اپنے ہاتھوں کی ہتھیلی کو دیکھا‘‘،،،بولا سب لکیریں پڑھنا آنا چاہیے‘‘،،،جو خود بے سہارا ہوتے ہیں‘‘،
وہ کسی کا سہارا یا طاقت نہیں بناکرتے‘‘،،،بس اس تماشائی کی طرح ہوتے ہیں‘‘،،،جو سٹیڈیم میں صرف مقابلہ یا لڑائی کو دیکھ سکتا ہے‘‘،،،یا تو جیت کی تالی‘‘،،یا ہار کاافسوس کرسکتا‘‘،،،مگرمجھ سے لوگ کھیل کا حصہ نہیں بناکرتے‘‘،،،،(جاری)
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
10 Aug, 2017 Total Views: 204 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 607 Articles with 204958 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
nice brother
By: sohail memon, karachi on Aug, 11 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Aug, 12 2017
0 Like
Very nice episode...
By: Mini, Mandi bhauddin on Aug, 11 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Aug, 12 2017
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB