سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا روزانہ غائب ہونا

(Khawaja Mussadiq Rafiq, Karachi)

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزانہ صبح کی نماز کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غائب پاتے‘وہ دیکھ رہے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز کی ادائیگی کیلئے تو باقاعدگی سے مسجد میں آتے ہیں مگر جونہی نماز ختم ہوئی وہ چپکے سے مدینہ کے مضافاتی علاقوں میں ایک دیہات کی طرف نکل جاتے ہیں۔کئی بار ارادہ بھی کیا کہ سبب پوچھ لیں مگر ایسا نہ کر سکے۔

ایک بار وہ چپکے سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے چل دیئے‘سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ دیہات میں جا کر ایک خیمے کے اندر چلے گئے۔کافی دیر کے بعد جب وہ باہر نکل کر واپس مدینے کی طرف لوٹ چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس خیمے میں داخل ہوئے،کیا دیکھتے ہیں کہ خیمے میں ایک اندھی بڑھیا دو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بڑھیا سے پوچھا‘اے اللہ کی بندی!تم کون ہو؟ بڑھیا نے جواب دیا‘ میں ایک نابینا اور مفلس و نادار عورت ہوں‘ہمارے والدین ہمیں اس حال میں چھوڑ کر فوت ہو گئے ہیں کہ میرا اور ان دو لڑکیوں کا اللہ کے سوا کوئی اور آسرا نہیں ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر سوال کیا‘ یہ شیخ کون ہے جو تمہارا گھر میں آتا ہے؟ بوڑھی عورت (جو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اصلیت نہیں جانتی تھی) نے جواب دیا کہ میں اس شیخ کو جانتی تو نہیں مگر یہ روزانہ ہمارے گھر میں آکر جھاڑو دیتا ہے‘ہمارے لئے کھانا بناتا ہے اور ہماری بکریوں کا دودھ دوہ کر ہمارے لئے رکھتا اور چلا جاتا ہے۔

حضرت عمر یہ سن کر رو پڑے اور کہا‘ اے ابو بکر! آپ نے اپنے بعد کے آنے والے حکمرانوں کیلئے ایک تھکا دینے والا امتحان کھڑا کر کے رکھ دیا ہے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
18 Jul, 2017 Total Views: 3679 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB