دسواں حصہ اور بیٹوں کی روش

(Khawaja Mussadiq Rafiq, Karachi)

امام جلال الدین رومی ؒ ایک حکایت میں تحریر کرتے ہیں کہ یمن کے علاقے میں ایک مردِ صالح رہتا تھا۔ وہ سخی مرد تھا اور سخاوت کی حقیقت کو سمجھتا تھا۔

وہ فصل کی پیداوار کے وقت دسواں حصہ خیرات کرتا۔ پھر گندم کی پسائی پر دسواں حصہ خیرات کرتا ، پھر آٹا گوندھنے پر دسواں حصہ خیرات کرتا اور پھر روٹی پکنے پر دسواں حصہ خیرات کرتا۔ یہ اُس کا طریقہ تھا۔ اور اس کی وجہ سے اُس کی گلی فقیروں کا قبلہ وکعبہ تھی۔ اُس کے دروازے پر مساکین کا ہجوم رہتا اور اُس کے اس عمل کی وجہ سے اُس کی فصل ، پیداوار ، کھیتی اور کاروبار میں برکت تھی۔

وہ اس سخا کے نتائج اور برکت سے واقف تھا۔ اور اِس پر یقینِ کامل رکھتا تھا۔ اُس نے مرنے سے پہلے اپنے بیٹوں کو بھی اس روش اور طریق کو اپنانے کی نصیحت کی۔

مگر بیٹوں نے جب دیکھا کہ اس طرح زیادہ حصہ پیداوار تو فقیروں اور مسکینوں کو چلا جاتا ہے۔ اُنہوں نے بوجہ حسد اور بخل اس روش کو ترک کر دیا اور سخا کی برکے سے محروم ہو گئے۔ اُن کے کاروبار ، کھیتی اور پیداوار میں کمی واقع ہو گئی۔ کیونکہ پہلے وہ کھیتی بے شمار لوگوں کی پرورش کی ضمانت تھی۔

جب اُنہوں نے اسے روک دیا تو صرف چند لوگ اس سے استفادہ کرنے لگے اور قدرت کے فیاض ہاتھوں نے بھی اضافی پیداوار بند کر دی۔ امام رومیؒ اس حکایت کے سبق میں لکھتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں مال و دولت خرچ کرنے میں کمی نہیں ہوتی بلکہ اس میں برکت اور اضافہ ہوتا ہے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
16 Mar, 2017 Total Views: 920 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
یہ بھی کیا عجب بات ہے کہ سود میں ہمارے پاس پیسہ آرہا ہے لیکن اللہ نے اسے منع کیا ہے اور لوگ کہتے ہین کہ اس مین برکت نہیں
اور
یہ بھی کیا عجب بات ہے کہ کہ صدقہ خیرات اور زکواہ میں ہمارے پاس سے پیسہ جارہا ہے لیکن اللہ اس کی تلقین کر رہا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ اس میں برکت ہے
کچھ چیزیں ہم ظاہری نگاہوں سے دیکھتے ہیں -سود کی کمائی یا خیرات صدقہ اور زکواہ سے پیسے کی کمی کو بھی ہم ظاہری نگاہ سے دیکھتے ہیں - لیکن اگر ہم ہم خیرات سدقہ اور زکواہ کے روحانی فیوض کی جانب نگاہ ڈالیں جو کہ ہماری نطر سے پوشیدہ ہیں تو پتہ چلے گا کہ ان کے سبب کتنے فائدے ہورہے ہیں -یا ہم کتنے فائدے اٹھا رہے ہیں - کئی حادثات جو ہماری زندگی میں آنے ہوتے ہیں وہ تل جاتے ہیں اس کا ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا -
اوپر کی کہانی میں بھی یہی تزکرہ کیا گیا ہے وہ یہی ہے کہ پہلے صدقہ خیرات زکواہ ڈھال بن کر کھڑی ہوئی تھی اور کئی مشکلات کو روکے ہوئے تھی - یہ مشکلات فسل میں کیڑوں کے حملہ آور ہونے کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے - یہ پانی کی کمی کی شکل میں بھی ہو سکتی ہے - یہ کھاد کی کمی یا زیادتی کی صورت میں میں بھی ہو سکتی ہے - یہ کام کے وقت کسانوں کو نیند کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے - صدقہ خیرات زکوات دیتی رہنی چاہیئے -
اگر آپ نہیں دے سکتے تو کم از کم ایسے اداروں کے لئے تعاون ہی کردیں جو یہ کام کر رہے ہیں - “علم و عمل “ ایک ایسا ہی ادارہ ہے جو غریبوں کی مدد کر رہا ہے - اس کے تعاون سے میں مستحق افراد کی مدد کر رہا ہوں -
اسی ہماری ویب میں میرا ایک کالم ملاحظہ فرمائیں
http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=68193
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Mar, 20 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB