انسانی گوشت کھانے والے گمشدہ شہر کی دریافت

 

آپ نے اب تک کئی قسم کے گمشدہ شہروں اور ان کی تہذیبوں کے بارے میں سنا ہوگا- لیکن آج ہم آپ کو ایک ایسے گمشدہ پراسرار شہر کی دریافت کے بارے میں بتائیں گے جہاں جانے کے بعد انسان اپنے گوشت سے محروم ہوسکتا ہے-
 


جی ہاں ہنڈراس کے Mosquitia نامی آبی جنگلات میں ایک ایسا گمشدہ شہر دریافت ہوا ہے جہاں پایا جانے والا ایک کیڑا انسان کو اگر کاٹ لے تو اس کا گوشت گلنا سڑنا شروع ہوجاتا ہے اور اس بیماری کے ڈر کی وجہ سے ہی اس شہر کے کھنڈرات بھی لوگوں سے محفوظ رہے-

اس شہر کو سب سے پہلے ایک ایڈونچرر Theodore Morde نے 1930 میں دریافت کیا تھا اور اس کا نام 'The Lost City of the Monkey God' رکھا گیا کیونکہ مقامی قبیلوں کا کہنا ہے کہ یہاں آباد قوم بندر کی پوجا کیا کرتی تھی-

یہ شہر ایک گرم علاقے میں دریافت ہوا ہے اور یہاں ایک ایسا اڑنے والا کیڑا پایا جاتا ہے جو اگر انسان کو کاٹ لے تو وہ Mucocutaneous leishmaniasis نامی بیماری کا شکار بن جاتا ہے- اس بیماری میں انسان کا گوشت گلنے سڑنے لگتا ہے- اس کیڑے کو phlebotomine sandfly کے نام سے جانا جاتا ہے-
 


گھنے جنگل اور پہاڑی علاقے میں واقع اس گمشدہ شہر میں پائے جانے والے اس خطرناک کیڑے سے حفاظت بھی ممکن نہیں- اسی وجہ سے اس پر زیادہ تحقیق بھی نہیں کی جاسکی-

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
08 Mar, 2017 Total Views: 4243 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
The ruins of a mysterious jungle city protected from outsiders by a deadly flesh-eating disease may sound like the plot of an Indiana Jones film. But after centuries of local legends and fruitless jungles treks, the incredible ancient site - untouched for more than 600 years - was found to be real by a group of intrepid explorers.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB