پاکستان کا موجودہ سیاسی اتار چڑھاؤ (قسط نمبر1)

(Shafqat Ullah, )

سال2013ء ضمنی انتخابات میں ن لیگ بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد پاکستان پر حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی جس میں میاں محمد نواز شریف نے وزیر اعظم کا منصب سنبھالا ۔2013ء کے ضمنی انتخابات سے پہلے پی ایم ایل این نے یہ منشور دیا کہ وہ دو سال میں پاکستان کو بجلی ،صحت ،تعلیم ،گیس اور دیگر بحرانوں سے نجات دلائے گی لیکن2013ء کے انتخابات گزرنے کے بعدیہ سال انتخابی تھکاوٹ اور مبارکبادیوں میں گزر گیا۔ اسی سال اپوزیشن جماعتوں خاص طور پر تحریک انصاف نے الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے عدالت اورالیکشن کمیشن سے رجوع کیا۔ادھر بھارت میں بھی انہی دنوں میں ضمنی انتخابات ہوئے جس میں نریندرا مودی کی جماعت حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔نئے سال 2014ء کے شروع میں وہاں اقتدار میں آتے ہی نریندرا مودی نے ظلم و بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں پر بے شمار مظالم ڈھائے اور یہاں پاکستان میں ن لیگ کی حکومت نے آتے ہی بادشاہت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سانحہ ماڈل ٹاؤن کروایا جس میں درجنوں بے گناہ شہری ہلا ک ہوئے ۔دونوں ممالک میں ان واقعات سے جو پیغام دیا گیا وہ جمہوریت کے منہ پر طمانچہ تھا ۔سانحہ ماڈل ٹاؤن کی وجہ سے 2014ء کے تحریک انصاف کے دھرنے میں پاکستان عوامی تحریک بھی شامل ہو گئی اور گو نواز گو کا نعرہ لگایا۔اسی سال جب دھرنا ختم کروانے کی ہر حکومتی کوشش ناکام رہی تو اچانک سیلاب آگیا جس نے بہت زیادہ تباہی مچاہی لیکن اس کے باوجود دھرنا ختم نہیں ہوااور دھرنا جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ۔اسی سال کے اختتام میں اچانک پشاور میں ایک روح سوز واقعہ ہوا جس نے تاریخ کے اوراق پر دل دہلا دینے والے الفاظ رقم کئے سانحہ پشاور میں130سے زائد بچے شہید ہوئے جس کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا۔دھرنا ختم ہوتے ہی ن لیگ اور دیگر اتحادی جماعتوں کی سانس بحال ہوئی۔لیکن ن لیگ کو اول دن سے پیش آنے والے چیلنجز کا سامنا ہر لمحہ جوں کا توں ہے ۔2014ء اور 2015ء میں خارجی تعلقات خاصے اچھے رہے لیکن 2015ء کے آخر تک ن لیگ کسی بھی چیلنج چاہے غربت ہو یا صحت،بجلی ہو یا گیس،تعلیم ہو یا مہنگائی وغیرہ سے نبرد آزما ہونے میں ناکام رہی اور کوئی ٹھوس یا واضح پالیسیاں مرتب نہ کر سکی سوائے پاکستان کے اداروں کی نجکاری کرنے اور بھاری قرض اٹھا کر ملک میں میٹرو ٹرینوں،میٹرو بسوں ،سڑکوں اور قائد اعظم سولر پارک جیسے ناکام منصوبوں کی تعمیر کی۔2014ء میں شروع ہونے والے آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے پاکستان سے دہشتگردی کے خاتمے میں کافی حدتک مدد ملی جس میں مختلف اندرون ملک آپریشن سے بہت سارے سہولت کار بھی پکڑ میں آئے خاص طور پر عزیر خان بلوچ جو نہ صرف بلوچ گروپ اور پیپلز پارٹی کا سرغنہ تھا بلکہ ٹارگٹ کلر ،بھتہ مافیااور تخریب کاری کا ماسٹر مائنڈ کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم کے بڑے عہدے دار ہتھے چڑھ گئے جس کی وجہ سے ن لیگ کی حکومت پر بھاری مرحلہ آیا جب اس کی اتحادی جماعتوں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم بھی اس کے خلاف ہو گئی۔جس کی وجہ سے میاں صاحب کچھ کچھ فوجی قیادت سے ناراض نظر آنے لگے اور اس طرح سیاست اور عسکریت کے درمیان ٹھن گئی۔مختلف پروگرام اور کئی جگہوں پر جہاں بھی سیاسی قیادتوں کو موقع ملتا وہ سندھ میں آرمی رینجرز آپریشن کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے اور انصاف کا رونا روتے نظر آتے۔ضرب عضب آپریشن اور نیشنل ایکشن پلان کے شروع ہوتے ہی آصف علی زرداری ملک چھوڑ کر دبئی چلے گئے اور پارٹی کے بڑے بڑے فیصلے دبئی کے بڑے بڑے ہوٹلوں اور تفریح گاہوں میں ہونے لگے جبکہ بلاول بھٹو کو پارٹی کا چیئرمین بنا کر ان کا سیاسی تعارف کروایا گیا۔اس پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے میاں صاحب نے بھی سیاست کو اپنی وراثت میں پہنچانے کیلئے مریم نواز کو متعارف کروایا اور حکومت میں کسی بھی عہدے کے نہ ہوتے ہوئے جماعت کے تمام پارلیمینٹرین مریم نواز کو جواب دیتے اور ان سے آڈر لیتے جو کہ میاں صاحب کے جماعت پرسیاسی اثر کو ختم کرنے کے مترادف تھا۔2015میں یوں لگا کہ حکومتی جماعت تمام کام چھوڑ کر صرف اپنا آستین بچانے کے چکروں میں ہے یہاں سے وہاں بھاگ رہی ہے لیکن بارہا عوام کو یہ بھی باور کروایا گیا کہ پاکستان میں جمہوریت نہیں بلکہ آمریت کا دور دورہ ہے اگر ہمارے خلاف کوئی آواز اٹھائی گئی تو تمہیں کہیں بم دھماکے میں اڑا دیا جائے گا یا گولیوں سے تمہارا سینہ چھلنی کر دیا جائے گا کہیں سیلاب سے تباہی کا سامنا کرناپڑے گا یا پھر تمہارے بچے اٹھا لئے جائیں گے۔اگر اس سے بھی باز نہیں آئے تو تمہاری معیشت کو اس طرح تباہ کر دیں گے کہ پھر آئندہ کبھی سر نہیں اٹھا پاؤ گے۔جب میاں صاحب اور دیگر اتحادی جماعتوں کی ان معاملات سے جان چھوٹ گئی تو 2015ء کے اختتام پر ملک کیلئے بہت بڑے معاشی استحکام کے منصوبے کا مغربی روٹ ژوب پر افتتاح کیا گیا۔2015ء میں بھی پاکستان میں حکومت کو درپیش چیلنج حل نہ ہوسکے۔2016ء کے شروع ہوتے ہی پاکستان اقتصادی راہ داری منصوبے کے ذریعے معاشی طور پر مستحکم ہونے کی طرف گامزن ہوا جس کیلئے پاک فوج نے ایک اہم کردار ادا کیا۔اور ملک مخالف دشمنوں اور سہولت کاروں کو پکڑ کر جیل کی ہوا کھلائی جبکہ بیشتر کو منطقی انجام تک بھی پہنچایا۔ویسے تو اول دن سے ہی میاں صاحب کے دور حکومت کے رواں دورانیہ میں اپنی جان بچانے کے لالے پڑے رہے لیکن سب سے بڑی امتحان کی گھڑی اس وقت آئی جب2016کے آغاز میں پانامہ لیکس کا شورو غل نے پوری دنیا کی سیاست میں تہلکہ مچا دیا۔کئی کاروباری طبقہ سیاست دان اور ادا کار ان پانامہ پیپرز کی زد میں آئے جنہوں نے اربو ں روپیہ ٹیکس چوری کرکے بیرون ملک آف شور کمپنیاں کھول رکھی ہیں۔انہیں میں پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کی فیملی بھی شامل تھی۔اس پنڈورا باکس کے کھلنے کے بعد تمام اپوزیشن پارٹیاں متحرک ہو گئیں اور انہوں نے نوازشریف سے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔شروع میں تو اسے میاں صاحب نے زیادہ سنجیدہ نہیں لیا اور دو بار قوم سے خطاب میں آمریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن بنائی جائے گی۔اس کے علاوہ میں کسی کو جواب دہ نہیں ہوں! جس عوام نے انہیں اس منصب تک پہنچایا اسی کے سامنے میاں صاحب نے جواب دینے سے انکار کر دیا۔میاں صاحب کے اس عمل نے عوام میں ایک احتساب کے دیو کو جنم دیااور پاکستانی عوام دہشتگردی سمیت تمام بحرانوں کو بھول کر اس دیو کو دیکھنے کیلئے مضطرب ہو گئی لیکن دوست وہی ہوتا ہے جو مصیبت میں کام آئے۔ویسے تو میاں صاحب اور ہمسایہ ملک کے وزیر اعظم نریندرا مودی کے درمیان خاصے اچھے تعلقات ہیں اور کافی حد تک بہترین کاروباری مراسم بھی لیکن اقتصادی راہ داری منصوبہ جو پورے خطے کیلئے مفید تھا ہمسایہ ملک کے گلے کی ہڈی بن گیا۔اس سے پہلے نریندرا مودی کا اچانک پاکستان میں ایک شادی کی تقریب میں شریک ہونا اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ دوبارہ سے مذاکرات بحال کرکے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو ختم کرکے نئی راہیں ہموار ہو سکیں گی جو دوں ممالک کی بقاء اور استحکام کیلئے ایک امید کی روشنی تھی لیکن حیف کہ اسی اثنا میں پٹھان کوٹ میں بھارتی ایئر بیس پردھماکہ ہو گیا جس کا الزام بھارتی حکومت نے بغیر وقت ضائع کئے پاکستان پر لگا دیا۔اب چونکہ ہم اچھے دوست ہیں تو پاکستانی وزیر اعظم نے بھارت کی طرف سے اس الزام کا خیر مقدم کرتے ہوئے تحقیقات کروانے کا ذمہ لے لیاحالانکہ اس معمہ میں پاکستان دور دور تک کہیں ملوث نہ پایا گیا پھر بھی ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔قبل ازیں بلوچستان سے ایران کے راستے پاکستان آتے ایک بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ایجنڈ کرنل کل بھوشن یادیو پکڑا گیا جس نے نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ پورے خطے کی عوام میں بھارت کا اصلی درندہ صفت چہرہ بے نقاب کیا اور قبول کیا کہ بھارت پورے خطے میں امن و استحکام کا دشمن ہے بھارت کی اس بھونڈی حرکت سے جب پردہ فاش ہوا تو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی عوام تلملا اٹھی اور بھارت کی اس پالیسی کی بھرپور مذمت کی یہاں تک کہ ترک صدر نے بھی اس پر اقوام متحدہ سے گہرے رنج کا اظہار کیا۔بھارت اس حد تک پاکستان میں مداخلت کرے صرف اسی صورت ممکن ہوسکتا تھا کہ جب گھر کا بھیدی بھی ساتھ دے۔یہی وجہ تھی کہ اس کے بعد کئی بھارتی را ایجنٹ پکڑے گئے جن کے نہ صرف پاسپورٹ پاکستانی تھے بلکہ شناختی کارڈ بھی پاکستانی تھے اور سب سے بڑی بات یہ کہ کچھ لوگ میاں صاحب کی شوگر مل میں ملازمت کرتے ہوئے پکڑے گئے جوکہ میاں صاحب کی سیاست اور کردار دونوں پر ایک سوالیہ نشان ہے۔اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود پاکستان کی حکومتی جماعت میں سے مجال ہے کہ کسی نے مذمتی بیان دیا ہو اس کے برعکس صرف اپوزیشن کی ٹوپیاں اچھالتے رہے۔مذمت کرتے بھی تو کیسے کاروبار جو سب کو عزیز ہوتا ہے۔لیکن کل بھوشن یادیو کے پکڑے جانے سے نہ صرف بھارت کا غلیظ چہرہ فاش ہوا بلکہ میر جعفر ،میر صادق کے کردار اور پاکستان میں استحکام کے دشمن بھی بے نقاب ہو گئے۔انہیں دنوں میں ایران اور سعودی عرب کے مابین کشیدگی بڑھ گئی کہ جب ایک ایرانی مذہبی سکالر کو سعودیہ میں پھانسی دی گئی جس کی وجہ سے ایران نے عالمی برادری کے سامنے بہت سے احتجاج ریکارڈ کروائے رفتہ رفتہ حالات بگڑنے سے ایران اور سعودیہ کے درمیان جنگ کا خدشہ بڑھ گیاجن کے درمیان صلح کروانے کیلئے ثالثی کی پیشکش کی بات ابھی پاکستان کے منہ میں ہی تھی کہ پاکستان میں موجود منی ایران جاگ گیا۔اچانک میڈیا دفاتر پر حملے ہوئے اور توجہ افغانستان کی طرف دلائی گئی۔پٹھان کوٹ ائیربیس پر دھماکہ ہوا جس کی تحقیقات کیلئے بھارت جانے والی پاکستانی ٹیم کے سامنے شرط رکھی گئی کہ جب بھارتی ٹیم پاکستان آئے تو انہیں کل بھوشن یادیو تک رسائی دی جائے اور پرویز رشید کا بیان کہ اگر پاکستان ثالثی میں حصہ لے گا تو خانہ جنگی ہونے کا خطرہ ہے اس کے بعد جن خبروں اور باتوں کی تردید وزیر داخلہ چودھری نثار کی جانب سے بار ہاکی گئی وہی خبر ایک نجی ٹی وی چینل پر چلی کہ پاکستان میں داعش موجودہے جسے پاکستان میں کالعدم تنظیمیں تعاون کررہی ہیں۔کل بھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد پاکستان دشمن عناصر بے نقاب ہوئے اور ہم نے اپنے ہی آستینوں سے سانپ نکلتے ہوئے دیکھے۔افغانستان کی ہٹ دھرمیوں اور ایران کی ہرزہ سرائی نے بھارتی عزائم کو پختہ کیااور ساتھ ہی امریکہ کی جانب سے چاہ بہار پورٹ میں ایران اور بھارت کی مدد اور ایران سے تمام قسم کی پابندیاں اٹھا لی گئیں بلکہ اسے ترقی کیلئے سالانہ امداد بھی امریکہ کی جانب سے مختص کر دی گئی۔اسی طرح افغانی صدر کے بھارت میں دورے کے وقت بھارت کی جانب سے ہر طرح کے تعاون اور ترقیاتی فنڈ بھی افغانستان کیلئے مختص کر دیے لیکن بھارت کا یہ لالی پاپ افغانستان کے گلے کی ہڈی بن جائے گا کیونکہ افغانستان اچھی طرح سمجھتا ہے کہ جب تک بھارت افغانستان میں موجود ہے نہ تو کبھی پاکستان دہشتگردی سے بچ سکتا ہے اور ایران بھی سکھ کا سانس نہیں لے گااور ان دونوں اسلامی ممالک کی دشمنی افغانستان کیلئے آئندہ وقتوں میں گلے کا پھندہ بن جائے گی گلگت بلتستان میں مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے ایک ریلی نکالی جاتی ہے جس میں ایک مبہم سے مطالبے پر یہ دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر ہمارا مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو یہ اقتصادی راہداری منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے یہ واقعہ عین اس وقت پیش آتا ہے جب سندھ میں ڈاکٹر عاصم جو کہ پیپلز پارٹی کے رہنماء ہیں کو رینجر گرفتا ر کر لیتی ہے اور اس سے بھی پہلے آصف زرادری کی خاص اور چہیتی ایان علی سر عام منی لانڈرنگ کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتا ر ہوتی ہے ابھی آصف علی زرداری اور اس کے سینئیر رہنماؤں کی وجہ سے 2014 میں دھرنوں سے میاں صاحب کی جان چھوٹتی ہے اور اب اسی آصف علی زرداری کی گردن میں پھندہ نظر آنے لگتا ہے جس میں افسوس کے ساتھ کہ میاں صاحب کچھ نہیں کر پاتے ساتھ ہی(جاری ہے)
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
30 Dec, 2016 Total Views: 234 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 98 Articles with 18367 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB