بچے کو انسان بنانے میں ماں باپ اور استاد کا کردار

(Ashraf Tubbsum, )

تحریر:۔شیخ معراج خالد
بچے پرندے اور پودے فطری توانائی کا محرک ہیں زندگی کی خوبصورتی معصومیت وسادگی اُن کے اردگرد رقص کرتی ہے ،فطری پن زندگی مصنوعیت کو توازن عطا کرتا ہے ،مصنوعیت زندگی کا تھکادیتی ہے مگر بچوں کی زندگی میں تھکن کا نام ونشان نہیں ملتا کیونکہ بچے حال میں موجود ہوتے ہیں وہ بڑوں کی طرح ماضی اور ہر حال میں تقسیم نہیں ہوتے لمحہ حاضر سے تحریک لیتے محترم قارئین !بچے جب دنیا میں آتے ہیں تو آسمانی روشنی کے عکس سے اُن کے زہین منور ہوتے ہیں پھر ماں بہن بھائی استاد ماحول ومعاشرہ اُن سے معصومیت اور فطری خوشی چھین لیتا ہے اور بڑے ہو کر وہ عام زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں بچپن کے خوبصورت دن انسان کی زندگی کا قیمتی سرمایا ہوتے ہیں یہ بچپن والدین اُساتذہ اور معاشرے سے محبت توجہ اور سچائی کا مضبوط حصار مانگتا ہے جو اگر نہ ملے تو بچپن کے دن بے یقینی ومایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں جسکی وجہ سے جوانی ہی میں انسان کے بال سفید ہو جاتے ہیں جسکا شکار میں خود بھی ہوں ،ریفریشر کورس کے دوران ایک ماہر تعلیم نے بتایا کہ بچے کی 54فیصد شخضیت 3سال کی عمر میں تشکیل پاتی ہے گویا 54فیصد بچے کی سوچ میں ماں کا بنیادی حصہ شامل ہوتا ہے۔اور11سال کی عمر میں 86فیصد شخضیت کا حصہ مکمل ہو جاتا ہے بچے کی سمجھ اور محسوس کرنے کا عمل پیدائش کے دن سے شروع ہو جاتا ہے اور تین سال کی عمر تک وہ ماں باپ کے مزاج جو ماحول سے آشناہو جاتا ہے اور جب بچہ چار سال کی عمر میں داخل ہو تا ہے تو چار سال سے لیکر گیارہ سال کی عمر تک وہ استاد کے مزاج ماحول سے آشنائی حاصل کر کے اپنے اندر وہ تمام اوصاف وکردار اپنانے کی کوشش کرتا ہے جو اُس کے باپ اور استاد میں موجود ہوتے ہیں بچے والدین اور استاد کے رویے نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں میری بحیثیت پرائمری ٹیچرذاتی وتجرباتی سوچ کے مطابق مائیں دودھ پلاتے وقت جو سوچ رہی ہوتی ہیں اور اُستاد پڑھاتے وقت جو رویہ اپناتا ہے تو وہ سوچ وفکر بچے کے مزاج کا حصہ بن جاتی ہے اور وہ ماں اور اُستاد کی مشترکہ فکر اور سوچ کے مطابق نظریہ اپنا لیتا ہے کیونکہ بچہ زندگی کا خاموش نقاد ہے بچے کی ا بتدائی تربیت میں ماں کے لمس اور اُستاد کا رویہ بچے کے مزاج پر اثر انداز ہوتا ہے یہ لمس اُستاد کا رویہ باپ کی قربت بچے کی صلاحتوں کو نکھرانے اور اُس کی شخصیت کو اعتماد عطا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں والدین کے موجود نہ ہونے اُستاد کی عدم توجہ اور ماں کے لمس سے محروم بچے جسم کا مدافعتی نظام کمزور ہونے کے باعث آئے روز بیماریوں کا شکار رہتے ہیں اس جدید دور میں ملازمت پیشہ مائیں اپن بچوں کو دائیوں کے حوالے کردیتی ہیں یا پڑوسن ،دادی ،پھوپھی ،چچی ،خالد ،نانی ،کے حوالے کر دیتی ہیں یہ وہ دور ہے جب ماں بچے کو اپنے ہاتھ سے کھانا کہلاتی ہے تو محبت کا رشتہ اور مضبوط ہونے لگتا ہے اور بچہ خود کو محفوظ سمجھنے لگتا ہے والدین بچے کو اپنی سوچ کے زوایہ سے پرکتھے ہیں لیکن اُن کے اپنے وقت اور موجودہ دور میں واضح فرق ہوتا ہے اگر وہ اپنے دور سے باہر نکل کر دیکھیں تو دنیا بدل چکی ہے والدین کو بھی وقت کیساتھ ساتھ تبدیل ہونے کی کوشش کرنی چاہیے ،بڑے مثال قائم کرتے ہیں بچے اُن کی تقلیدکرتے ہیں اچھے والدین بننا ایک فن ہے اچھا اُستاد بننا ضرورت ہے اس لیے جموں وکشمیر انجمن اساتذہ پاکستان حکومت سے مطالبہ کرتی رہتی ہے کہ مثالی معاشرے کے قیام کے لیے اور تحریک نظام مصطفی کو کامیاب بنانے کیلئے استاد کو معاشی لحاظ سے مضبوط بنانا ہو گا ایک پریشان حال استاد لاغر معاشرہ بیدار کرنے کا موجب بنتا ہے ماحول اور پروش کا اندازہ انسان کے اخلاقی وجذباتی حقدار کا تعین کرتے ہیں قطع نظر وارثت کے بہت سے عوامل رویے عادات بچے کو ورثے میں منتقل ہوتی ہیں مگر استاد کا کردار اور رویہ اُس کی سیرت ومزاج کا تعین کرتا ہے اکثر ذاتی تجربے کی صلاحیت کے فقدان کے باعث انسان خود احتسابی کے عمل سے گزر نہیں پاتا اور اُسکی زندگی بے خبری کے جہنم میں جل کر راکھ ہو جاتی ہے اگر 10سال کی عمر تک بچے کیساتھ والدین کار ویہ پریشان کن رہا ہے اور اُس کی شخضیت میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی رہی ہے تو اس حوالے سے ماہرین نفسیات کا خیا ل ہے کہ گیارہ سال سے بارہ سال تک مثبت رویے کے زریعے اپنی غلطیوں کا ازالہ کر سکتے ہیں ۔اگر وہ یہ چند سال بچے کی شخضیت پر مکمل توجہ دیں تو بچوں کے رویے میں بہتری آسکتی ہے بصورت دیگر والدین کو ناقابل تلافی نقصان اُٹھانے پڑتے ہیں راقم کے ذاتی مشاہد کے مطابق اس عرصے میں باپ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے بچے والد سے عملی سو چ اور حقیقت پسندانہ لہجہ لیتے ہیں۔اس عرصہ لڑکیاں جب باپ کے قریب ہوتی ہیں تو وہ شادی کے بعد شوہر کو اچھی طرح سے سمجھ سکتی ہیں اسی دوران ذمہ داری ماں سے باپ کی طرف منتقل ہوتی ہے دیکھا گیا ہے کہ اُن سات آٹھ سالوں میں والدین کی توجہ اور بچوں کیساتھ اُن کے دوستانہ مراسم نئی نسل کی کامیابی کے لیے نئے راستے کھول دیتا ہے بچے ماں سے زیادہ کھل کر بات کر سکتے ہیں ماں باپ اور بچوں کے درمیان مصالحت آمیز کردار ادا کرتی ہے لیکن اگر یہ باتیں براہ راست بچے باپ سے کرینگے تو اُنکی خود اعتمادی میں اضافہ ہو گا دوسری طرف والدین کے آپس میں جھگڑوں میں کمی آئے گی جو بچوں کی وجہ سے ہوتے ہیں ماں کی جذباتی سوچ بچے کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے جبکہ والد حقیقت پسندانہ انداز میں بچوں کو لیکر چلنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ استاد بچے کی اندرونی صلاحتوں کو نکھرنے کی کوشش کرتا ہے ۔والد چونکہ باہر کی سفر کرتے ہیں لہذا گر وہ بچے کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں تو بہت سارے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے جب تک بچہ ماں کے اثر میں ہوتا ہے وہ محفوظ ہوتا ہے لیکن جیسے ہی وہ باہر سکول کی دنیا میں داخل ہوتا ہے وہ استاد کے آغوش میں آتا ہے تو یہاں سے اُستاد کی ذمہ داری شروع ہو جاتی ہے اور استاد اُس کے مستقبل کا کردار کا سیرت کا اُس کی زندگی بنانے بگاڑنے کا ذمہ دار ہوتا ہے ماں کی زمہ داری یہ ہے کہ وہ گھراور خاندان میں مصالحتی رویہ اختیار کرتے ہوئے بچوں کی بہتر ماحول میں تربیت کرنے کی کوشش کرے ۔زیادہ بچے کی خوشحالی ازواجی جھگڑوں وخاندانی تضادات کی نذر ہوجاتی ہے ماں کو اگر جائز حقوق حاصل نہیں وہ دکھی اور نا آسودہ ہے تو بچوں کی شخضیت کی تعمیر کا سلسلہ ذہنی طورپر رک جاتا ہے گھر سکول سے زیادہ اہم ادارہ ہے جو بچے کی پہلی پناہ گاہ ہے ایک مضبوط گھر سے منظم معاشرہ تشکیل پاتا ہے جبکہ والدین بچے کی سیرت وکردار اور تعلیمی حالت کی ذمہ داری صرف استاد پر ڈال کر خود بری الزمہ ہونے کی دلیل پر دلیل دیتے نظر آتے جو کہ انصافی اور انتہائی غلط بات ہے بچہ صرف چھ گھنٹے استاد کے پا س ہوتا ہے اٹھارہ گھنٹے وہ والدین اور معاشرے کی ذمہ دار میں پروش پاتا ہے ایک خوبصورت گھرسے ہی بچہ خوبصورت انسان بنتاہے ایک مضبوط گھر سے ہی منظم معاشرہ تشکیل پاتا ہے پیسے کی لاگت سے فقط خوبصورت گھر اور سکول تو بنائے جاسکتے ہیں لیکن خوبصورت ماں اور باکردار ومومن صفت والد استاد نہیں بنایا جاسکتا ۔خوبصورت اور فعال ذہین کی تعمیر کے لیے پاک سیرت وکردار والد روحانی استاد چاہیے جو شریعت محمدی ﷺکے عین مطابق اپنی نسل نو کی تربیت وپرورش کرسکے قارئین محترم :۔جو ماں اور جو استاد اپنے بچوں کی زندگی میں وقت پر پاک سیرت وکردار کی انویسمنٹ نہیں کرسکتے وہ کبھی بھی اپنی اولاد اور شاگردوں کومعاشرے کا باوقار بامقصد شہری نہیں بنا سکتے،بچہ نوعمری سے لیکر جوانی تک مختلف ذہنی جسمانی روحانی وجذباتی مراحل سے گزرتا ہے آغاز جوانی میں بچوں کے رویے غیر متوازن ہوتے ہیں اس دور کو عضوان شباب کہا ہے چڑچڑ ا پن غصہ ضدپڑھائی میں عدم دلچسپی اور آئے دن کی شکایات والدین کو خرچ کر رکھ دیتی ہے اس نازک مرحلے میں اگر ماں باپ اور استاد اگر سمجھ داری سے کام نہ لیں تو بچوں کے رویے میں مزید بگاڑپیدا ہونے کا استعمال ہوتا ہے اس عمر کے بچوں کو جس کام سے روکا جائے وہ ضد کی بناء پر اُسی کام کو کرنا اپنی انا کا مسئلہ سمجھتے ہیں سخت سزاؤں کے بعد وہ مزید جھوٹ بولنے لگتے ہیں بچوں کی عمر کے اس نازک دور میں والدین سے زیادہ اساتذہ نے انسانی سمجھ داری بربادی احتیاط وسوجھ بوجھ سے کام لینا ہوتا بچے ہے بچپن سے عفوان شباب اور جوانی تک مختلف کھیتوں کے زیر اثر رہتے ہیں جن میں بے یقینی خوف شک احساس کمتری اور احساس جرم وندامت وغیر ہ شامل ہیں نوجوانی کے آداب میں اُن بچوں کو ذات کی شناخت کے مسائل درپیش رہتے ہیں اُن بچوں کو محبت پیار ہمدردی یقین اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے جو ماں باپ اور استادہی فراہم کر سکتا ہے ۔یاد رکھیں بچپن کے زخم جوانی میں اُن کے ذہن روح پر بدنماداغ بن کر انہیں بدترین ماضی کی یاد دلاتے رہتے ہیں آجکل والدین بچوں کی تربیت کی تمام تر ذمہ داری اساتذہ کو سونپ کر خود بری الزمہ ہو جاتے ہیں حالانکہ بچے صرف چھ گھنٹے استاد کے سپر دہوتا ہے اور اٹھارہ گھنٹے والدین کے پاس ہو تا ہے لہذا بچوں کو معاشرہ کا باوقار شہری بنانے میں ماں باپ اور استاد کو اپنے اپنے حصہ کا فرض ادا کرنا چاہیے تاکہ ہمارا معاشرہ اُمت مسلمہ کی رہنما ئی کے قابل افرادپیدا کرسکے۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
30 Dec, 2016 Total Views: 151 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Ashraf Tubbsum


Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB