سنت نبوی ﷺ اور جدید سائنس

(Dur Re Sadaf Eemaan, )

مکمل ہو گئی انسانیت نورِ پیمبر سے
کھلے اسرار عبودیت فقط محبوبِ داور سے
دعویٰ ہے یہ میرا حق
آج کی جدید سائنس حبیب خدا ﷺ کی ادا ہے
سنت: سنتِ نبی کا لفظ جہاں آتا ہے یہ موضوع اتنا طویل ہو جاتا ہے کہ جس پر جتنی بھی کتابیں لکھ لی جائیں کم، جتنا بھی کہا جائے نا مکمل ہے۔ آج جو بات سائنس جدید تحقیقات کر کے ہمیں بتا رہی ہے وہ محبوب کائنات ﷺ نے آج سے 1400 سال قبل بیان فرما کر ہمیں سنت کا درس بھی دے دیا اور اپنی حیاتِ مبارکہ اس طریقے پر گذار کر ہمیں عملی طور پر نمونۂ حیات آسانی کا طریقہ بھی بتا دیا: اگر ہم اپنی موجودہ زندگی کو سرکار آقا ﷺ کے درس مبارک کے روشنی میں غزاریں اور سنت پر عمل کر کے غذاریں تو میرا دعویٰ ہے کہ اس کی زندگی میں پرایشانیاں ، بیماریاں ، الجھنیں نہ ہونے کے برابر رہ جائیں گی۔ سکون کیا ہوتا ہے اس سے ہم واقف ہو جائیں گے۔ اگر ہم اپنی زندگی پر غور کریں تو ہمیں معلوم ہو گا جو کام ہم ڈاکٹرز اور سائنسی تحقیق کے طور پر عمل کرتے ہیں وہ طریقہ وہ تعلیم ہمیں ، ہمارے نبی ﷺ نے صدیوں پہلے ارشاد فرما دیا اور تعلیم کا درس دے دیا۔ ہماری زندگی کو دشواریوں سے بچانے کا طریقہ بھی بتا دیا۔

اور اگر لفظوں سے ہٹ کر تقابلی طور پر سنت اور جدید سائنسی ٹیکنا لوجی پر غور کیا جائے تو ہماری زندگی سنتوں میں گھری ہوئی ہے جو بات سائنس ہمیں آج تحقیقات کے بعد بتا رہی ہے وہی بات آقا ﷺ نے حقیقتاً نا صرف بیان فرما دیا بلکہ عمل کر کے بھی دکھا دیا: مثال کے طور پر ایک ٹوتھ پیسٹ ہی لے لیں ، آج پیسٹ کے بارے میں سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ ٹوتھ پیسٹ میں نقصان دہ عوامل موجود ہوتے ہیں اور مسواک میں کوئی سائیڈ افیکٹ موجود نہیں۔ مسواک کرنے سے نا صرف منہ کو فائدہ پہنچتا ہے بلکہ اس سے دماغی قوت بھی حاصل ہوتی ہے۔ سائنس صبح کے وقت ہلکی پھلکی ورزش بتاتی ہے ، میرے آقا ﷺ نے تہجد ادا کی۔فرض نماز فجر کا حکم دیا۔ 4 رکعت نماز فجر ادا کر کے جائے نماز پر بیٹھے رہ کر درود پاک پڑھنا قبلہ رو ہونا اور پھر اشراق و چاشت ادا کرنا یہ ایک بہترین ورزش ہے ۔،مردو عورت دونوں کے لیے۔ پارکوں میں گراؤنڈ میں جا کر واک کرنے سے بہتر ہے بلا شبہ یہ عبادت ہے ثواب کا ثواب اور صحت کی صحت۔ اسی طرح کھانے کے بعد واک سائنس بیان کرتی ہے، اگر کھانا کھانے کے بعد عشاء کی مکمل نماز ادا کر لی جائے جس طرح حضور پاک ﷺ نے بیان فرمائی اس طرح تو واک کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔ آج سائنس بیان کرتی ہے صاف ستھرا رہا جائے، ماحول صاف رکھا جائے۔ یہی بات حضور پاک ﷺ نے فقط ایک جملے میں ارشاد فرما دی کہ: ’’ صفائی نصف ایمان ہے‘‘ نفسیاتی ڈاکٹرز پاگل اور نفسیاتی مریضوں کے علاج میں گردن کی پشت پر انجیکشن یا پانی کا استعمال کرتے ہیں اور اگر ہم کامل وضو کریں تو اس میں سر کے مسح سے گردن کی پشت پر ہاتھ جاتا ہے جو ہمیں ڈپریس ہونے سے روکتا ہے دوسرے لفظوں میں ہمیں نفسیاتی امراض سے بچانے میں معاون ثابت ہوتا ہے: یوگا کا ایک لیسن ہے جس میں پاوءں، رانوں اور پنڈلیوں کو سمیت کر زمین پر جھکا جاتا ہے (عورتوں کے لیے سجدہ ہے) یہ وہ طریقہ ہے جس کی وجہ سے خواتین کے حسن و جمال ، بالوں کی نشوونما میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

پانی بیٹھ کر پینے کو آج ڈاکٹرز حضرات تجویز کرتے ہیں۔ بلکہ تحقیقات نے ثابت کیا کہ کھڑے ہو کر پانی پینے سے جوڑوں کے درد کا عارضہ لاحق ہو جاتا ہے۔ خصوصاً گھٹنوں میں درد کی شکایت لاحق ہوی ہے ۔ غرض آج جو بات سائنسی تحقیقات جدید ریسرچ کے بعد بتا رہی ہے وہ سب جدید صرف اس نقطہ سے ہو سکتا ہے کہ انکے سامنے یہ بات آج آئی ، ورنہ بیان تو یہ سب پہلے ہی ہو چکا تھا۔ بس سمجھنے اور غور کرنے کی بات ہے۔ اور کیوں نہ ہو کیا جس مبارک ذات ﷺ کے لیے کائنات بنائی گئی، جن کی امت کو تمام امتوں پر فضیلت دی گئی۔ جس امت کے لیے سب سے افضل کتاب قرآن نازل کی گئی۔ اس امت کے لیے نمونۂ حیات، ضابطۂ حیات، درس حیات، تدبیر حیات، تدبر حیات ، تصورِ حیات، یہ سب کچھ حضور اکرم ﷺ کے ذریعے ہم تک پہنچ گیا: قرآن پاک میں درس سنت میں عمل مل گیا، پھر خود سوچیں کہ ہمیں ضابطۂ حیات، نمونۂ حیات پر عمل کرنا چاہیے یا سائنس کی بتائی گئی Perfect Life پر غور کرنا ہمارا کام ہے۔

ہم اپنی زندگی کو اسلام، سنت اور شریعت محمدی ﷺ کے مطابق زندگی گذاریں تو اس کے آگے سائنس کو میں فیل اور ناکام قرار دیتی ہوں۔ کیونکہ سنت سے سائنس ہے ، سائنس سے سنت نہیں۔ اگر یقین نہیں آئے تو خود سنت نبوی ﷺ اور سائنس کا تقابلی جائزہ لیں۔ سائنس آج چاند پر لوگوں کو پہنچا رہی ہے اور حضور اکرم ﷺ جب جھولے (پالنے ) میں تھے تو آپ کا کھلونا چاند تھا ۔ آپ ﷺ جدھر انگلی مبارک کا اشارہ فرماتے چاند ادھر جھک جاتا ۔ کیا خوب ارشادِ رضا ہے:
؂ چاند جھک جاتا جدھر انگلی اٹھاتے مہد میں
کیا یہی چلتا تھا اشاروں پہ کھلونا نو ر کا

سنت رسول ﷺ ہمیں مشقت میں نہیں ڈالتی بلکہ ہماری آسانی ہوتی ہے۔ نہ صرف عورتوں کے لیے بلکہ مرد حضرات کی زندگی کو آسان سے آسان تر بناتی ہے۔ داڑھی رکھنا حضور اکرم ﷺ کی بہت پیاری سنت ہے۔ ایسا نہیں جو آج کل رائج ہے جس میں فرنچ اور اسٹائلش ہے ، داڑھی کے ذمہ نہیں آتی بلکہ سنت کے مطابق داڑھی ہونی چاہیے۔ اس میں مردوں کیلئے بہت سے فوائد ہیں۔ خاص کر مردانہ طاقت و وجاہت کا بھی سبب بنتی ہے۔ غرض کوئی بھی سنت بلا وجہ یا بغیر حکمت کے نہیں ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سنت پر عمل کا ثواب سو شہیدوں کے ثواب کے برابر قرار پاتا ہے۔

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں سنتوں پر عمل کرنے کی ہدایت دے، سنتوں کا عامل بنائے اور سنتوں کی حفاظت کرنے میں ہماری مدد کرے!
آمین ثمہ آمین!
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
10 Oct, 2016 Total Views: 1081 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Dur Re Sadaf Eemaan

Read More Articles by Dur Re Sadaf Eemaan: 32 Articles with 7118 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
God Bless You
By: Muhammad Rashid, Karachi on Mar, 08 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB