ترکی کی کمپنی نے ٹرانسفارمرز کو حقیقت کا روپ دے دیا

 

لگ بھگ تیس سال بعد مشہور معروف کارٹون کردار ٹرانسفارمرز (Transformers) کو انقرہ میں واقع ایک ترک کمپنی نے حقیقت کا روپ دے دیا ہے-
 


حال ہی میں R&D-focused نامی کمپنی کی جانب سے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں انہوں نے پروٹو ٹائپ گاڑی کو ٹرانسفارمنگ روبوٹ میں تبدیل ہوتے دکھایا ہے-

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک بی ایم ڈبلیو کار کو ریموٹ کی مدد سے چلا کر کیمرے کے سامنے لایا گیا اور پھر اسے روبوٹ میں تبدیل کردیا گیا-
 


اگرچہ گاڑی کے روبوٹ میں تبدیل ہونے کا یہ عمل کچھ سست روی کا شکار دکھائی دیتا ہے لیکن یہ منظر انتہائی دلچسپ ہوتا ہے-

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ روبوٹ اپنا سر اور ہاتھ ہلا سکتا ہے جبکہ پاؤں کو حرکت دینے سے محروم ہے- کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اگر انہیں نئی تحقیق اور ڈویلپمنٹ کے لیے فنڈ مہیا کیے جائیں تو وہ اس روبوٹ کا چلنا بھی ممکن بنا دیں گے-
 


کمپنی کا کہنا ہے کہ “ ہم نے یہ تجربہ حقیقی بی ایم ڈبلیو کار پر کیا ہے لیکن اسے صرف ریموٹ کی مدد سے چلایا جاسکتا ہے- تاہم ہم منصوبہ بنا رہے ہیں کہ ایسی ٹیکنالوجی لائی جائے کہ ٹرانسفارمرز روبوٹ میں تبدیل ہوجانے والی اس کار کو خود چلایا بھی جاسکے“-
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
28 Sep, 2016 Total Views: 5495 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Actually, Turkey was the main country to rebuild whole west Germany.Turkish people are the very hard worker and honest people. They are determined and innovative, good planners.They must be extraordinary to guard the country against military rule.MY REQUEST IS,GOVERNMENT OF TURKEY SHOULD TAKE CARE THOSE PEOPLE WHO ARE CREATING WONDERS.YOUR GOVERNMENT WILL BE NATIONAL GOVERNMENT.///???/ INSHALLAH/
By: IFTIKHAR AHMED KHAN, CALGARY ALBERTA CANADA on Oct, 01 2016
Reply Reply
0 Like
bogus time wasted article,,,,,,,,,,,,,,................
By: azeem, paklahore on Oct, 01 2016
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Thirty-some years after making their debut as cartoon characters, vehicle-morphing Transformers have finally become a reality, thanks to the efforts of a Turkish company out of Ankara.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB