ملیریا کی علامات٬ وجوہات اور علاج٬ ڈاکٹر مبینہ آگبٹوالہ

 

ملیریا کی بیماری پاکستان میں عام پائی جاتی ہے- بظاہر ملیریا کا عام سے بخار بعض اوقات خطرناک اور جان لیوا بھی ثابت ہوجاتا ہے- پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ملیریا سال بھر رہتا ہے- گزشتہ سال پاکستان میں ملیریا کے 3.1 ملین کیسز ریکارڈ ہوئے- ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستانی عوام کو ملیریا کے حوالے سے درست آگہی فراہم کی جائے- آج چونکہ دنیا بھر میں ملیریا کا عالمی دن منایا جارہا ہے تو اسی دن کی مناسبت سے ہماری ویب کی ٹیم نے معروف چائلڈ اسپیشسلٹ ڈاکٹر مبینہ آگبٹوالہ سے خصوصی معلومات حاصل کیں-ملیریا کے حوالے سے ڈاکٹر مبینہ سے حاصل ہونے والی اہم معلومات یہاں ہماری ویب کے قارئین کی آگہی میں اضافے کے لیے پیش کی جارہی ہیں:

ڈاکٹر مبینہ کے مطابق “ پاکستان میں ملیریا کا بخار عام ہے اور سال 2015 میں ملیریا کے 3.1 ملین کیسز ریکارڈ ہوئے- ملیریا بچوں اور بڑوں میں تیز بخار کی ایک عام وجہ ہے- ملیریا دنیا بھر میں پایا جاتا ہے“-
 


“ ملیریا بعض علاقوں میں صرف خاص موسم میں پایا جاتا ہے لیکن افریقی اور ایشیائی ممالک میں یہ بیماری سال بھر رہتی ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے- اس سال بھی ہمیشہ کی طرح 25 اپریل کو ملیریا ڈے منایا جارہا ہے- اور اس سال یہ دن "End malaria for good” یعنی “ ملیریا کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ “ کے نام سے منایا جارہا ہے“-

ڈاکٹر مبینہ کا کہنا ہے کہ “ملیریا مچھر کے کاٹنے کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس کے جراثیم کو پلازموڈیم کہا جاتا ہے- اس جراثیم کی 4 اقسام ہوتی ہیں جس میں سب سے عام قسم پلازموڈیم وائی ویکس (Plasmodium vivax) ہوتی ہے جبکہ سب سے خطرناک قسم پلازموڈیم فیلسی پیرم (Plasmodium falciparum) ہے-

“ ملیریا کی علامات میں بچے کو تیز بخار چڑھنا٬ سردی یا کپکپی طاری ہونا اور بچے کا بخار کی وجہ سے نڈھال ہونا شامل ہے- عام طور پر یہ بخار انتہا کو پہنچ کر 2 سے 4 گھنٹے میں اتر جاتا ہے- عموماً یہ بخار ایک دن چھوڑ کر ہوتا ہے لیکن آج کل کئی بخار ایسے بھی ہیں جو روزانہ ہوتے ہیں“-
 


“ اس بخار میں الٹیاں بھی ہوسکتی ہیں٬ جسم میں درد بھی ہوسکتا ہے اور انسان بالکل نڈھال بھی ہوسکتا ہے“-

ڈاکٹر مبینہ کا کہنا تھا کہ “ ملیریا کے جراثیم خون کے لال خلیوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور یوں انسان میں ہیموگلوبین کی سطح کم ہونے لگتی ہے اور بعض اوقات یہ سطح بہت تیزی سے کم ہوتی ہے“-

“ ملیریا کے جراثیم تِلی میں بھی بیٹھ جاتے ہیں جس سے تِلی بڑھ جاتی ہے“-

“ ویسے تو ملیریا کے جراثیم دواؤں سے ختم ہوجاتے ہیں لیکن بعض اوقات یہ صرف وقتی طور پر ختم ہوتے ہیں جبکہ جسم میں موجود ہوتے ہیں جسے ہم کرونک ملیریا کہتے ہیں“-

“ ایسی صورت میں بچے کو ہر 3 سے 4 ماہ بعد بخار چڑھتا ہے جبکہ اس کی تِلی بڑھی ہوئی ہوتی ہے- اس کے علاوہ تِلی میں خون کی کمی بھی واقع ہوجاتی ہے“-

ڈاکٹر مبینہ کہتی ہیں کہ “ ملیریا عموماً صرف بخار کی صورت میں ہوتا ہے لیکن بعض اوقات اس میں کئی سنجیدہ نوعیت کی پیچیدگیاں بھی سامنے آتی ہیں جو کہ پلازموڈیم فیلسی پیرم کی وجہ سے ہوتی ہیں“-
 


“ یہ ایک خطرناک صورت ہوتی ہے اور اس میں بچہ بےہوش ہوجاتا ہے٬ اسے جھٹکے لگنے لگتے ہیں٬ معذور بھی ہوسکتا ہے اور بعض اوقات کومہ میں بھی چلا جاتا ہے“-

“ اس کے علاوہ ملیریا گردوں پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے اور ایسے میں گردے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں یہ بھی ایک خطرناک صورتحال ہوتی ہے“-

“ ملیریا کے جراثیم جگر میں بھی جاسکتے ہیں اور اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں جس کی وجہ سے مریض کو یرقان٬ پیٹ میں درد اور الٹیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے“-

ڈاکٹر مبینہ بتاتی ہیں کہ “ ملیریا کی ایک خطرناک پیچیدگی بلیک واٹر فیفر بھی ہے- اس میں ملیریا گردوں پر اثر کرتا ہے- گردے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور پیشاب کے ساتھ خون آنے لگتا ہے جبکہ ہیموگلوبین تیزی سے کم ہونے لگتا ہے- بچوں میں یہ پیچدگی عام ہوتی ہے“-

“ اگرچہ یہ پیچیدگی ہر بچے میں نہیں پائی جاتی لیکن اس کے لاحق ہونے کے خطرات ضرور موجود ہیں“-
 


“ آج کل ملیریا کی تشخیص آسان ہے اور مارکیٹ میں ایسی دوائیاں بھی موجود ہیں جن کے استعمال سے ملیریا کے جراثیم جسم سے ختم ہوجاتے ہیں“-

ڈاکٹر مبینہ کا چند باتوں پر زور دیتے ہوئے کہنا تھا کہ “ یاد رکھیں احتیاط علاج سے بہتر ہے-اس لیے ایسی احتیاط کی جائیں کہ ملیریا نہ ہو“-

“ ضروری ہے کہ گندگی کے ڈھیر نہ لگائیں تاکہ مچھر پیدا ہی نہ ہو٬ حکومت کو چاہیے کہ گندے پانی کے تالاب پر آئل اسپرے کرے- گھر کے آس پاس بھی گندگی اور پانی نہ کھڑا ہونے دیں“-

“ رات کے اوقات میں باہر جاتے وقت جسم کو مکمل ڈھانپ لیں بالخصوص بچوں کے لیے یہ احتیاط انتہائی ضروری ہے- مچھر دانی کا استعمال ضرور کریں کیونکہ یہ مچھر سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہوتی ہیں“-
 


“ آجکل بازار میں ایسی مچھر دانیاں بھی موجود ہیں جن پر پہلے سے ہی کیڑے مار ادویات کا چھڑکاؤ کیا ہوا ہوتا  ہے اور یوں جب مچھر ان کے قریب آتا ہے تو مر جاتا ہے“-

“ آپ کو چاہیے کہ رات کے وقت اپنے گھر اور کمروں میں کیڑے مار ادویات کا استعمال ضرور کریں“-

“اگر ہر شخص اپنے گھر اور محلے میں صفائی ستھرائی رکھے گا تو مچھر پیدا ہی نہیں ہوں گے- ہم سب کی کوششوں سے ہی ملیریا کا خاتمہ ممکن ہے- ملیریا خطرناک تو نہیں ہے لیکن اس سے بچہ کمزور ضرور ہوسکتا ہے- ملیریا کی تشخیص ہونے کے بعد اس کا مکمل علاج ضرور کروائیں“-
Disclaimer: All information is provided here only for general health education. Please consult your health physician regarding any treatment of health issues.
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
25 Apr, 2016 Total Views: 4221 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
end main kia pori mari hai maleria khatarnak to nahi hai........bhayya yeh intahai khatrnaak bemari hai,dengi maleria khas toar par...........article is too good by the way.
By: azeem, paklahore on Apr, 25 2016
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Malaria is a common disease in Pakistan. The nation is a main victim of Malaria where 3.1 million patients are recorded last year. It is essential to provide knowledge and awareness to Pakistanis about this disease. HamariWeb team visited famous Child Specialist Dr. Mubina Agboatwalla to discuss about this disease in detail.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB