پاکستانی ساحل کے قریب موجود آبی بگولہ٬ کتنا خطرناک؟

بلوچستان کے ساحل سکونی کے قریب گزشتہ روز ماہی گیر نے ایک ایسا حیرت انگیز منظر دیکھا جو یقیناً پاکستان کی تاریخ میں اس سے قبل کبھی کسی سے نے نہیں دیکھا ہوگا- جی ہاں مچھلیاں پکڑنے کی غرض سے جانے والے ماہی گیر نے سکونی ساحل کے نزدیک ایک آبی بگولہ دیکھا جو کہ آسمان سے کی جانب اٹھ رہا تھا-
 

image


ماہی گیر مہر گل کے مطابق وہ اس سمندر میں مچھلیاں پکڑنے گیا تھا جہاں اسے آبی بگولہ (Waterspout) دکھائی دیا اور اس نے اس پورے منظر کی اپنے موبائل کیمرے سے ویڈیو بھی بنا لی-

اس بگولے کو آبی بگولہ کے نام تو دیا جاتا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پانی سے ہرگز بھرپور نہیں ہوتا بلکہ اس بگولے میں سمندر کی سطح پر موجود ہوائیں تیز رفتاری کے ساتھ گردش کر رہی ہوتی ہیں-

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تکنیکی مشیر محمد معظم خان کا کہنا ہے کہ “ان بگولوں میں گردش کرتی ہواؤں کی رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی جبکہ ان کی چوڑائی 50 میٹر تک ہوسکتی ہے“-
 

image


“ تاہم یہ آبی بگولے دیکھنے میں تو پرکشش معلوم ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں انتہائی خطرناک ہوتے ہیں اور اپنی زد میں آنے والی کشتیوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں“-

YOU MAY ALSO LIKE:

A fisherman recorded an amazing view of water-spout formed deep in the Arabian Sea, viewed by World Wildlife Fund (WWF) as a sign of climate change, but Director General Metrological Department explained it as a rainstorm.