الطاف حیسن نے قومی پرچم جلایا تھا

(Saleem Ullah Shaikh , Karachi)

یہ بھی ایک سابق اعلیٰ فوجی افسر کے انکشافات ہیں۔ اور جو کہ صرف امت میں نہیں بلکہ جیو نیوز، روزنامہ ایکسپریس، روزنامہ جنگ، روزنامہ جسارت اور دیگر قومی اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ “آزاد میڈیا“ کے پروانوں کی خواہش پوری کی جائے۔ قارئین حق کے سفر میں جس کے پاس حق ہو اس کے ساتھ رہئے گا۔

سابق ڈی جی پاکستان رینجرز میجر جنرل (ر) صفدر علی خان نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی آپریشن کے دوران جناح پور کے نقشے برآمد ہوئے تھے لیکن سیاسی قیادت کے دباﺅ پر اس کی تردید کی گئی۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں کہا کہ کراچی میں آپریشن کسی پارٹی یا طبقے کیخلاف نہیں تھا بلکہ کراچی کو جرائم پیشہ افراد اور ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے کیا گیا تھا اور اس مقصد کے لیے ایم کیو ایم حقیقی کو بھی اس میں استعمال کیا گیا کیونکہ وہی جانتے تھے کہ کراچی میں کس جگہ ٹارچر سیل اور کس کس گھر میں اسلحہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن اس لیے روکنا پڑا کہ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نہیں چاہتے تھے کہ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور جے یو پی کے مقابلے میں کمزور ہو اس لیے وہ نرم گوشہ رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے 15 ہزار ہلاکتوں کی خبر درست نہیں۔ اس آپریشن میں بہت کم ہلاکتیں ہوئیں اور وہی لوگ مارے گئے جنہوں نے آپریشن کیخلاف ہتھیار اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران جناح پور کے نقشے برآمد ہوئے تھے تاہم اس بیان کو سیاسی قیادت کے دباﺅ پر واپس لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 1987ء میں جب وہ جے او سی حیدر آباد تھے اس وقت الطاف حسین نے ایک جلسہ کیا اور اس میں قومی پرچم کونذر آتش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو تسلیم کرنا سب سے بڑی غلطی تھی ( ویسے یہ بات محترم الطاف حسین کئی بار کہہ چکے ہیں یہاں تک کہ یہ بات انہوں نے بھارت کے دورہ میں بھی کہی تھی۔ اسی سے انکی حب الوطنی ثابت ہوجاتی ہے ) جس پر اس وقت میں نے کمشنر کو ان کے خلاف کارروائی کرنے اور گرفتار کرنے کو کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ صدر جنرل ضیاءالحق کا حکم ہے کہ انہیں ہاتھ نہ لگایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت آپریشن کامیاب ہوجاتا تو آج کراچی میں امن ہوتا اور کراچی بدامنی کا شکار نہ ہوتا۔

یہاں زرا غور کریں کہ سابق صدر مرحوم غلام اسحاق خان ایک طاقتور بیور کریٹ تھے اور سابق صدر جنرل ضیاء الحق ایک مطلق العنان آمر، اور ان دونوں نے ایم کیو ایم اور الطاف حسین کی حمایت کی، اور ان کے خلاف کسی کاروائی سے گریز کیا۔ اس سے یہ بات صریح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ ایم کیو ایم آمریت کی پیدا وار اور اسٹیبلشمنٹ کی آلہ کار ہے اور متحدہ کا یہ دعویٰ کہ وہ اٹھانوے فیصد غریب عوام کی نمائندہ ہے جھوٹا ثابت ہوجاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اس وقت جبکہ تقریباً تمام ہی پارٹیاں سابق صدر جنرل مشرف کے ٹرائل کا مطالبہ کررہی ہیں اور پی پی پی کی حکومت بھی اس سے واضح انکار نہیں کررہی ہے پورے ملک میں واحد متحدہ قومی موومنٹ ہی وہ جماعت ہے جو کھل کر سابق آمر کی حمایت کررہی ہے اور اس کے ٹرائل کی مخالفت کررہی ہے۔ اس سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ ان کی سیاست محض نعروں کی سیاست ہے۔ دوسروں کو آمروں کی گود میں بیٹھنے کا طعنہ دینے والے خود ایک آمر کی گود میں نو سال تک بیٹھے رہے اور اب بھی جب کہ پوری قوم اس کے جارحانہ اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کررہی ہے تو یہ گروہ اس کی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے۔

اب ملاحظہ کریں یہ خبر: یہ خبر جنگ، ایکسپریس، جسارت، سمیت کئی قومی روزناموں میں شائع ہوئی ہے، یہ دراصل جیو ٹی وی کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں آئی ایس پی آر کے سابق ڈائریکٹر بریگیڈیئر (ر) صولت رضا نے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ واضح رہے کہ یہ بھی پاکستان آرمی کے ایک “ چوٹی کے ذمہ دار“ ہیں اور پاکستان آرمی کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر رہے ہیں۔ جس طرح کچھ لوگوں کے نزدیک بریگیڈئر امتیاز کی باتوں کی اہمیت ہے تو وہ ان افسران کی باتوں کو کیا کہیں گے۔ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ کچھ بھائیوں کو یہ شکایت ہے کہ ہم صرف امت اخبار سے اپنے مطلب کی خبریں لاتے ہیں تو خبر روزنامہ جنگ کراچی اور وزنامہ ایکسپریس کی یکم ستمبر کی اشاعت میں صفحہ اول پر شائع ہوئیں۔ اگرچہ اس خبر میں مسلم لیگ ن کے آصف ہارون اور متحدہ کے حیدر عباس رضوی صاحب کی گفتگو بھی شامل تھی لیکن ہم نے اپنا فوکس صرف سابق فوجی افسران کے انکشافات پر ہی رکھا ہے اس لئے کہ چاہے مسلم لیگ ہو، جماعت اسلامی ہو یا متحدہ ہو یا پی پی پی انکا کوئی بھی فرد اپنے موقف کی بات کرے گا۔

آئی ایس پی آر کے سابق ڈائریکٹر بریگیڈیئر (ر) صولت رضا کا کہنا تھا کہ 19/جون کو فوج، رینجرز اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں نے اپنی کارروائی شروع کی تو ایک دفتر جسے ایم کیو ایم کا مرکز کہا جاتا تھا وہاں سے نقشے، جھنڈا، پمفلٹ اور دیگر چیزوں برآمد ہوئیں جسے اگلے روز بریگیڈیئر آصف ہارون نے صحافیوں سے بات چیت میں بریف کیا، 92 کا آپریشن شروع کرا کے سیاسی جماعت پیچھے ہٹ گئی، ایک تاثر یہ تھا کہ فوج کو بریگیڈیئر امتیاز کی جانب سے وزیر اعظم کو دی جانیوالی رپورٹس پر تحفظات تھے، جنرل آصف نواز نے ہمیشہ بریگیڈیئر امتیاز کو ایک فاصلے پر رکھا۔۔ تفصیلات کے مطابق صولت مرزا نے بتایا کہ جونہی یہ بات ایم کیو ایم کے سینئر رہنماؤں الطاف حسین اور اشتیاق اظہر تک پہنچی کہ اس معاملے میں ایم کیو ایم کو ملوث کیا جارہا ہے تو ایم کیو ایم کے سینئر رہنماؤں نے براہ راست کور ہیڈ کوارٹر میں رابطہ کیا اور متعلقہ فوجی افسران کو واضح کردیا کہ اِن نقشوں سے ایم کیو ایم کا کوئی تعلق نہیں ہے اُنہوں نے کہا کہ بریگیڈیئر امتیاز میرے سینئر ہیں لیکن ایک تاثر یہ تھا کہ بریگیڈیئر امتیاز وزیر اعظم پاکستان کو کچھ ایسی رپورٹس دے رہے ہیں جن کے بارے میں فوج کے تحفظات ہیں۔ فوج کی وہ بریفنگ جو وزیراعظم یا صدرِ پاکستان کیلئے ہوتی وہاں اگر بریگیڈیئر امتیاز موجود ہوتے تو اس کے اثرات لوکل کمانڈرز محسوس کرتے تھے کہ ہماری باتیں اور مووز ڈسکلوز ہو جاتے ہیں۔ اُنہوں نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ جو فوجی افسر ریٹائر ہو جاتا ہے خواہ وہ کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو اُسے حساس اداروں کی سربراہی نہیں دینی چاہئے۔

دوسری طرف آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ( ر) حمید گل نے کہا ہے کہ انہوں نے آئی جے آئی ضرور بنوائی تھی لیکن کسی سیاستدان کو کوئی پیسہ نہیں دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے کہا کہ انہوں نے کسی بھی سیاستدان کو کوئی پیسہ نہیں دیا لہٰذا مجھ پر سیاستدانوں کو پیسے دینے کا الزام محض بہتان ہے جس میں کوئی حقیقت نہیں، آئی جے آئی کی تشکیل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آئی جے آئی بنوانے کا میں ذمہ دار ہوں لیکن یہ ملک و قوم کے مفاد میں کیا اور امریکی اچر و نفوذ سے نجات پانے کے لئے یہ ضروری تھا۔ انکا کہنا تھا کہ میرے پاس ایسا کوئی تھا اور نہ ہی مجھے ایسی کوئی ذمہ داری سونپی گئی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک منصوبے کے تحت مشرف کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے بے سروپا الزامات کا ڈرامہ رچایا جارہا ہے اور بیان بازی شروع کی گئی ہے جس کا مقصد ملک کے موجودہ سیاسی نظام کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔( روزنامہ ایکسپریس لاہور بدھ یکم ستمبر ٢٠٠٩ )

قارئین کرام یہ بھی فوج کے ایک سابق چوٹی کے ذمہ دار کی گفتگو ہے اور یہ خبر بھی ہم نے امت اخبار یا جسارت اخبار سے نہیں لی ہے بلکہ روزنامہ ایکسپریس سے لی ہے۔ اس لئے ہم پر یہ الزام نہیں لگایا جاسکتا کہ ہم صرف اپنے مطلب کے اخبارات سے خبروں کا حوالہ دیتے ہیں۔ جو واقعی حق کے پرستار ہیں وہ تو شائد کچھ پشیمان بھی ہوں لیکن جو حق کی پرستش کا صرف دعویٰ کرتے ہیں ان کے لئے یہ سب باتیں بیکار ہیں اور وہ صرف ایک نکاتی ایجنڈے پر عمل کرتے ہیں کہ کسی کی کوئی بھی بات خواہ کتنی ہی مستند ہو نہیں ماننی ہے بلکہ صرف اپنی ہی بات کرنی ہے اس لئے یہ تمام باتیں اور حوالہ جات عوام کے لئے ہیں، حق کی پرستش کے جھوٹے دعویٰ داروں کے لئے نہیں ہیں
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
01 Sep, 2009 Total Views: 4249 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Saleem Ullah Shaikh

سادہ انسان ، سادہ سوچ، سادہ مشن
رب کی دھرتی پر رب کا نظام
.. View More

Read More Articles by Saleem Ullah Shaikh: 481 Articles with 708267 views »
Reviews & Comments
میں تمام تبصرہ کرنے والے حضرات سے گزارش کرونگا کہ براہ مہربانی تبصرہ کرتے ہوئے اخلاقیات کا خیال رکھیں ۔ اختلاف اپنی جگہ ہے لیکن اختلاف رائے کا اظہار بھی سلیقے سے کیا جائے۔شکریہ
By: Saleem Ullah Shaikh, Karachi on Mar, 22 2011
Reply Reply
1 Like
الطاف حسین زندہ باد ِ زرد صحافت مردہ بادِ

By: M.N.Khalid, Islamabad on Mar, 21 2011
Reply Reply
2 Like
اسلام وعلیکم
ارشاد منگی کے نام سے لکھنے والے ایک صاحب نے ایم کیو ایم کے کارکنان کی لاشوں کا تذکرہ کیا ہے۔ انہوں نے البدر اور الشمس کا تذکرہ بھی کیا۔ محترم میں آپ سے یہ کہنا چاہوں گا کہ، ایم کیو ایم کا تاسیسی مقصد پاکستان کو توڑنا ہے خواہ یہ کام جلد ہو یا دیر سے یقین نہیں آتا تو قائد تحریک کے ایم کیو ایم کے قیام سے لے کر مشرف کے دور سے پہلے تک کے بیانات پڑھ لیں۔ اور البدر کا تاسیسی مقصد مشرقی پاکستان کو بچانا تھا یہ وہ واضح فرق ہے جو ان دونوں گروپ میں ہیں۔ ایم کیو ایم کے کارکنان کو ظالم حکومت کے حوالے کر کے ایم کیو ایم کی ہائی کمانڈ برطانیہ کیوں مفرور ہے؟ کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں کے ذمہ دار ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین صاحب ہیں۔ وہ جب بھی پاکستان آئیں گے ان کو خون کا حساب دینا پڑے کا جو انہوں نے کراچی کی گلیوں میں گرایا ہے۔ نوجوانوں کے ہاتھ سے قلم لے کر اسلحہ دینے والے الطاف صاحب آئیں اور مقدمات کا سامنا کریں۔
By: Rashid Hasan, Karachi on Mar, 21 2011
Reply Reply
0 Like
ڈیئر ارشاد منگی۔ بیٹا ایسی باتیں نہیں کرتے جن کا سر پیر ہی کوئی نہ ہو۔ بچہ کس ڈاکو کے پتر کی سپورٹ کررہے ہو۔
By: Miyan Allah Diwaya, Multan on Mar, 21 2011
Reply Reply
1 Like
یار فرقان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بندہ کبھی تو سچ بھی بول لے۔ ارے بھائی بھلا قبر میں الطاف تھوڑی کام آئے گا۔ٹھیک ہے مودودی یا اس کی جماعت میں خامیاں ہیں مگر الطاف اور اس کے ساتھی تو اس ملک کے سب سے بڑے ×××× ہیں یار اور تم ان کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
By: Chaudhary Moula Bakhsh, Lahore on Mar, 21 2011
Reply Reply
0 Like
سوری تبصرے میں نام غلط چلا گیا ہے اسد منگی نہیں بلکہ ارشاد منگی صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ جوابِ جاہلاں باشد خاموشی اور السلام علیکم
By: Saleem Ullah Shaikh, Karachi on Mar, 21 2011
Reply Reply
0 Like
جناب اسد منگی صاحب کی خدمت میں صرف یہی کہونگا کہ جوابِ جاہلاں باشد خاموشی اور السلام علیکم
By: Saleem Ullah Shaikh, Karachi on Mar, 21 2011
Reply Reply
2 Like
Altaf he hi bad person...os ne karachi walo ka jina haram kar dia hai...saleem ap ese tarha likte rahe or logo kp jagate rahe..
By: rayyan khan, karachi on Mar, 20 2011
Reply Reply
0 Like
altaf ha he galat banda.wo khud apne bando ko marwata he.pore karachi ko jahanom bana diya he ALLAHA is ko ghark kare.saleem bahi great
By: masooma, karachi on Mar, 20 2011
Reply Reply
0 Like
ظالم،بدمعاش، ڈھیٹ اور دبشت گرد کہے جانے پر فخر اور سینہ چوڑا کرنے والی صرف ایک ہی نسل ہے اور اس کا نام ہے ایم کیو ایم۔ اگر ذرا سے بھی شعور اور معمولی دانش سے بھی کام لیکر کوئی غور کرے تو ‘‘ اس صدی کے سب سے بڑے ××× کا نام ہے الطاف حسین ‘‘۔
By: Asad Chaudhry, Khanewal on Mar, 20 2011
Reply Reply
0 Like
ستاسی میں سہراب گوٹھ پر ایم کیو ایم کے کارکنان کی لاشیں جھنڈوں میں لپٹی سڑک کے کناروں پر پڑی تھیں بسوں پر لوگوں پر فائرنگ کی گئی۔ ایسے لوگ آج بھی موجود ہیں جو اپنے وجود میں ان گولیوں کو لئے پھر رہے ہیں یہ وہی قافلہ تھا جو حیدر آباد جا رہا تھا۔ جن کے ساتھیوں کو گولیاں ماری گئیں تھیں۔ مشرقی پاکستان والی کہانی دھرانے سے اجتناب کریں ۔ یہ اس قافلے کے ساتھ ہوا تھا جو قوم کے حقوق کے لئے اٹھ رہے تھے۔ اگر یہ فوج کے حمایت یافتہ تھے تو فوج نے انہیں کے خلاف کیوں ایکشن کیا۔ اور اس تحریک کا اس ملک میں سب سے زیادہ جانی نقصان کیوں ہوا۔ اس تحریک سے منسلک لوگوں کے گھروں سے جنازے ٹھائے گئے ہیں۔ اگر یہ ایجنسیوں کی پیداوار تھے تو ان کے خلاف کیوں آپریشن ہوا تھا۔ جماعتی پیڈ ملازم اس کے خلاف پروپیگینڈا مسلسل کر رہے ہیں اور مودودی کو ایک عالم جس کے پاس کوئی سند نہیں پیش کرنے پر کمر بستہ ہیں۔
دراصل کراچی میں انکا ووٹ بینک کو نقصان متحدہ سے ہوا ایم کیو ایم سے مسلحہ جھگڑے جمیعت سے ہوئے۔ دونوں طرف اسلحہ کا استعمال جماعت کو معصوم ثابت کرتا ہے۔ صرف نام کا لبادہ تار لیں۔ جماعت ہمیشہ ڈکٹیٹر اور مارشل لاء کی بی ٹیم رہی۔ یحییٰ خان کے ساتھی رہے الشمس البدر نے بنگالی پروفیسرز اور لیکچررز کا منظم قتل عام کیا۔ جس سے محب وطن بنگالی عوام میں مخالف جذبات کا فروغ ہوا۔ ضیاءالحق سے خصوصی تعلقات اور اسکی مکمل حمایت۔ اقتدار کی مضبوطی میی کلیدی کردار۔ اور اس کا حصہ رہے۔ اسی دور میں کراچی پر مئیر شپ رہی۔ ضیاء لحق کے بعد آئی ایس آئی کی تشکیل کردہ آئی جے آئی کا حصہ بنے۔ اقتدار کے مزے بھی لوٹے۔ کشمیری جہاد کے نام پر کروڑوں روپے نواز شریف سے وصول کئے۔ مساجد میں کراچی بھر میں چندے وصول کئے۔

پرویز مشرف کو مکمل سپورٹ دے کر حکومت مضبوط کی اور اسمبلی میں رہے اور اسکے اقدام کو جائز قرار دے کر پانچ سال اسمبلی سے اخراجات کی مد میں پیسے وصولی کرتے رہے۔ بائی پاس بھی انگلینڈ جا کر کراتے ہیں۔ ملک کے ہسپتال انکے علاج کے لئے موزوں نہیں ہیں۔ یا ان پر بھروسہ نہیں ۔ قاف لیگ کے دور میں خاندان ے فراد کو اسمبلیوں میں لائے۔
سیاست پچھلے دروازوں سے کر کے اقتدار تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ آئی آیس آئس آئی سے طویل مدتی تعلق انکے اپنے کردر کا آئینہ دار ہے۔
دوسروں پر الزامات لگانے سے پہلے پنا جائزہ لے لیں۔ نہ سیاسی کردار موزوں نہ مذہبی کردار صحیح ہے۔ الزامات اور مخالفت کی سیاست چھوڑیں۔ اس ڈرامے سے فائدہ نہیں ہو سکتا۔ جہ ہماری ویب پر آپ غلبہ پانے کی جدوجہد جماعت کا ووٹ بینک بڑھانے کے حربے استعمال میں لا رہے ہیں۔ یہ فورم پیڈ ملازمین کے لئے ہے نہ دوسروں کے ایجنٹ ثابت کرنے کے لئے ہے۔

اپنی صفائی میں بوگس دلائل اور مفروضوں پر لا حاصل بحث بیکار ہے۔ ڈکٹیٹروں کے دور میں فروغ پانے والے متحرک ہیں کہ س بار اس حکومت کے جانے کے بعد آئی ایس آئی کی ہدایت پر ایوانوں میں ڈکٹیٹروں کو مضبوطی فراہم کریں۔ جس کے امکانات نزدیک ہیں۔ عمران خان کے ساتھ ساتھ ہیں۔ اور قاضی صاحب یوسف رضا گیلانی کس ساتھ نظر آتے ہیں۔ ہے نہ منافقت۔
By: Irshad mangi, Karachi on Mar, 20 2011
Reply Reply
0 Like
JANAB sOOBA SARHAD K KUCH EILAQON MAIN AAJ TAK PAKISTANI ARMY KO JANE KI IJAZAT NAHI HAI WO LOG TO QAYAM-E-PAKISTAN SAY LEKAR AAJ TAK APNY AAP KO PAKISTAN KA HISSA TASLIM NAHI KARTY OR FATA K KUCH ELAQON MAIN PAKISTAN KA QANOON BHI NAHI CHALTA WAHA KA APNA QANOON HAI WO LOG BIJLI KA BILL BHI ADA NAHI KARTY ISKA YE MATLAB HUWA K RIYASAT K ANDAR EK OR RIYASAT OR BALOCHISTAN K SCHOOLON MAIN GAE BHENS PAALI JATI HAIN PUNJAB KI SIYASI PARTY MUSLIM LEAGE (N) K SUB SAY ZIYADA UMIDWAR JAALI DEGREE K SATH PAKRAY JATE HAIN OR PHIR DUBARA JAB ELECTION HUWE TO UNHI KA BETA BETI BHATIJA YA PHIR KOI DUSRA RISHTEDAR ELECT HOGAYA KISI KO KOI FARQ NAHI PARA USKA ZIKAR KISI AKHBAR MAIN NAHI ATA KOI NEWS CHANNEL NAHI KARTA AAJ AP KARACHI KI BAT KARTE HAIN TO PURANA KOI SA BHI AKHBAR APNI MARZI K MUTABIQ UTHA KAR DEKHLEN TO USME YE HE LIKHA HUWA HAI K PAKISTAN KI TARIKH MAIN 63 SAL MAIN JITNE TARAQIYATI KAM MQM KI HUKOMAT MAIN HUWE HAIN IS SAY PEHLE KABHI NAHI HUWE AAJ TAK KOI JALI DEGREE WALA NAHI PAKRA GAYA OR NA HE MQM K KISI ELIAQAY MAIN KISI SCHOOL MAIN BHENS GAEN PAALI JATI HAIN PARVEZ MUSHARRAF K DOR MAIN PAKISTAN NE JITNI TARAQQI KARI ITNI TARAQQI KABHI NAHI KARI USKE DOR-E-HUKOMAT MAIN AWAM KO FAYDA POHNCHA AGAR KISI KO NUQSAN HUWA TO WO UN SIYSATDANO HUWA JO AWAM MAIN NASLI TASSAUB KA BIJ BO RAHE THE OR AAJ JAB PUNJAB MAIN MUSLIMLEAG KI HUKOMAT HAI OR SADAR ZARDARI MULK K SADAR HAIN TO AAJ MULK TABAHI KI TARAF KYUN JARAHA HAI? PUJAB GOVERNMENT NE REMEND KO ITNI JALDI KESE JANE KI IJAZAT DEDI? JAB REMEND REHA HUWA TO US WAQT SHAREEF BRIDRAN LONDON KYUN CHALE GAE? AAP LOG APNE ANDAR SAY TASSUB KHATAM KARLENGE TO AP KO KHUD HE MQM K ACHE KAM BHI NAZAR ANA SHRU HOJAENGE JO AKHBAR MAIN AATE HAIN OR KUCH NAHI AATE WO BHI AAP KO NAZAR AENGE LEKEIN US KE LIE APKO APNE ANDAR SAY TASSUB KA KHATMA KARNA PAREGA. BEST OF LUCK PAKISTAN YAHAN KOI PAKISTANI NAHI HAI SUB SINDI BALOCHI PUNJABI MAHAJIR PATHAN HAIN OR SUB APNE MUFAD K LIE JIRAHE HAIN.
By: Salman Ali, Karachi on Mar, 19 2011
Reply Reply
0 Like
There are videos of what altaf has spoken in his adress in India, then why we are going to deefend such a person. Will He bring revolution which is against the creation of Pakistan and Who has military wing in his party. According to latest reports of ISI, MI, FIA and other intelligence agencies, MQM is responsible for target in Karachi
By: RAFAQAT ALI, ISLAMABAD on Mar, 19 2011
Reply Reply
0 Like
Assalamu Alaiykum,
Muhtram Saleem Sb, Aap ney article may jitny bhi ilzam MQM par lagay hain woh sab Adaalato say clear ho chuky hain aap kis dunia or konway may reh rahy hain bhai, ya sirf MQM Fobia or Altaf Fobia ho gaya hay.
By: Muhammad Arshad Sidiki, Karachi. on Sep, 06 2010
Reply Reply
1 Like
Yes, I agree with you, altaf hussain is a very bad person....
By: M.Irfan Chohan, sargodha on Jul, 23 2010
Reply Reply
0 Like
Dear saleem, Nice,I have spent my 16 yrs in Karachi,like some others,Altaf Hussain is one the bad pakistani politician.He is the major reason of disaster of Muhajer nation.He knows how to get sympathy of his innocent nation,otherwise he is a Big Liar who always makes a new dramma.Pakistani agencies have always used him against govt opponents like PPP.Poor muhajer families are forced to follow or join MQM in past untill now.Majority of people from all races who are living in karachi since long time know the character of this person
very well. I request the writer to highlight the malfunctions of bad character politicians including Altaf Hussain continuously in future. thanks
By: Muhammad Tariq javed , Dammam Saudi Arabia on Jul, 22 2010
Reply Reply
0 Like
pakistan ki kismat par qabiz ye log kese bardasht kar saktey hein k 40,80,120., gaz ke 2 do 3 teen kamtron k gharon main rehney waley buson main dhakkey kahney waley log is mulk ki qayadat sanmbhaley ..1988,1990 k election main dono martabah jub sindh assembly ki 27 or qumi ki 14 nashiston par bhari aksariyat sey kamyabi hasil ki tu jageer dar or sarmaya dar ney apni noton se bahri boriyon ko aag laga kar is k dhuwein se mqm ki kamyabi ko dhundlaya .... 25 december 1989 ko liyaqat bagh main combind opposition ke zer e ahtemam honey waley jalsey main altaf hussain ki taqreer ne hazreen ko mashoor kardiayh or 23 march 1990 k tareekhi din lahore minare pakistan k saye taley punjab bhar se aaye huwey 1 lakh se zaid logon ke samney altaf hussain ki awami taqreer main ghareeb awam ki asli qayadat k falsafa ki bat kai din tak awam main zeeer mozu rahi punjab k is dorah k saath hi zabardast taqatein zeere daston k khilaf munazam ho gai or phir intihai ghari mehsoos tareeqey se sindh or sarhad main mqm k khilaf lasani bunyad par punjab main hasbe mamool baharat key agent sabit karney ki nafrat angeez muhim shuru kerdi gai or punjab ko is ka markaz bana kar aisi aisi khoofnak kahaniyan ghari gai takey punjabiyon ko mqm or lataf hussain k naam se muntafir kar diyah jye or woh is mazmmom sazish main kamyab ho gye .. is mulk ki bad qismati yeh hey k awam ki aksaryiat naroon k peeche bhagtey huwey 1 lamhey k liyeh yeh bhi nahi souchti k woh in logon k peecehey kiu bhag rahi hey jo munh main sooney k chamchey ley kar paidah huwey hein jinhon ney kabhi garmi sardi main bason weganon k sath latak kar safer nahi kiya ... kya aj tak pakistan ki kisi 1 bhi jamat ka sarbarah aisa hey jis ka gher sirf 120 gaz ka ho or jahan woh apney maan bap or 5 behen bhaiyon k saath raha ho jis k pas land cruser nahi thi dus kinal ka gher nahi tha is ki das hazar aker zameen nahi thi woh agrah se hijrat kar k pakistan aney waley 1 ghareeb nazeer hussin ka beta tha jo 14 sal ki umer main baap ki sahfqat se mehreeom ho gaya tha jis ney din rat tution parha kar apni ibtidai taleem hasil ki .. buson main latak kar safer karne wala altaf hussain kharab pati jageer daron or sarmaya daron ko kesey qabool ho sakta hey jo kisi barey gher k nonihal k bajye 1 telephone opretor ko karachi ka samo politon ka mear banata hey or jis k 2 arkan ko punjab police ney data darbar se sirf isi liyeh griftar kar liya tha k woh khud ko sindh assembley ka member bata rahey they .. punjab police k jawan bhi sachey they , kiu k lundey ki maili patloon or ghissey huwey sliper pehney kubrey ho kar wegon se uterney waley member qumi or subai assembley inhon ney kabhi tasawer main bhi nhi dekhey they .
By: muhammad owais , karachi on Jul, 22 2010
Reply Reply
0 Like
THE GREAT ALTAF HUSSAIN WAS RIGHT, ALWAYS RIGHT AND NOW RIGHT. WHEN YOU FIX THE QUATA SYSTEM IN GOVT SERVICES, INDUCT THE NON-LOCAL PERSONS IN KARACHI POLICE WHAT WOULD BE THE RESULT.
By: ASHRAF, karachi. on Jul, 21 2010
Reply Reply
0 Like
@ Rashid from Karachi: aap ko sharm aani chahiye keh Altaf ko defend kar rehey ho. us ne jo kuch India mein kaha..uss ke apney munh se sari dunia ne suna tha.. mein tumharey liye phir quote kar deta hoon..ager kaho to video poori ki poori bhijwa doon uss ne kaha tha.." The creation of Pakistan is the biggest blunder of mankind". ab ager tum ko zara bhi english aati hai to iss ka matlab samjh lo ya kisi educated aadmi ke paas chaley jao, wo matlab samjha de ga. chalo maan bhi lia jaye keh ye wakehi blunder tha..lakin phir bhi aik ghairat mand shakhs ko dushman mulk ja kar apnay ap ko expose nahi karna chahye...
By: Mubashar, kuwait on Apr, 28 2010
Reply Reply
0 Like
متحدہ صرف اور صرف امریکہ کی پیداوار ہے اور شروع دن سے آج تک اسی کے لیے کام کر رہی ہے۔
By: Altaf Khan, Karachi, on Apr, 28 2010
Reply Reply
0 Like
Displaying results 1-20 (of 38)
Page:1 - 2First « Back · Next » Last
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB