خدا حافظ پاکستان

(Najeeb Ur Rehman, Lahore)

ہم اس وقت کھانا کھاتے ہیں جب ہمیں بھوک کی اشتباہ ہو، اس وقت پانی پیتے ہیں جب پیاس کی طلب ہو، اس وقت بن سنور کر نہا دھو کر نکلتے ہیں جب کسی فنکشن یا دفتر وغیرہ جانا ہو، اس وقت ہنستے ہیں جب کوئی مزاحیہ بات یا ڈایئلاگ سننے پڑھنے کو ملے، اس وقت روتے ہیں جب کسی غم سے پالا پڑ جائے- گویا کھانا، پانی پینا، بن سنور کر نکلنا، ہنسنا اور غم میں مبتلا ہونے کے پیچھے کوئی عمل یا عوامل کارفرما ہوتے ہیں جو ہمیں کھانے، پینے، ہنسنے پر اُکساتے ہیں- اسی طرح ہر کام، عمل یا واقعے کے پیچھے بھی اس کا کوئی نا کوئی محرک ہوتا ہے، وہ واقعہ کسی اور واقعہ کی وجہ سے برآمد ہوتا ہے- کوئی بھی واقعہ یا عمل یا کام بذاتِ خود محرک نہیں ہوتا بلکہ اس کے وقوع پذیر ہونے کے پیچھے کوئی چیز، کوئی خیال، کوئی واقعہ، زمینی حقائق وغیرہ پوشیدہ ہوتے ہیں جو محرک کہلاتے ہیں-

ان دنوں صوبہ سرحد کے شورش زدہ علاقوں میں پاکستان آرمی نے ‘شدت پسندوں‘ اور ‘طالبانوں‘ کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کیا ہوا ہے اور اسی بابت وزیراعظم پاکستان نے اپنے قوم سے خطاب میں واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان کو ‘شدت پسندوں‘ سے پاک کرکے دم لیں گے- اب سوال یہ ہے کہ سوات میں اچانک بڑے پیمانے پر فوجی کاروائی جسے ‘جنگ‘ کہنا بے جا نہ ہوگا، کی کیونکر ضرورت پیش آئی؟ اس کا محرک کیا ہے؟ نیز وزیراعظم پاکستان کو اچانک ‘قوم سے خطاب‘ کرنے کی ضرورت کیوں آن پڑی؟ اسکا محرک کیا ہو سکتا ہے؟

صدر ِپاکستان کے دورہ امریکہ کے دوران امریکی سول و ملٹری انتظامیہ کے پاکستان بارے عجیب و غریب بیانات، کبھی تولہ اور کبھی ماشہ جیسا کردار، پاکستان میں جمہوریت کی حمایت اور جمہوری حکومت کو پاک فوج پر دباؤ بڑھانے کے بیانات، پاک فوج پر عدم اعتماد کا سا تاثر، فوجی حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت وغیرہ جیسے امریکہ کے تازہ ترین بیانات و تاثرات کو سامنے رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہی وہ محرکات ہیں جس سے وزیرِاعظم پاکستان کو ‘قوم سے خطاب‘ کرنا پڑا اور سرحد میں ‘شدت پسندوں‘ کے خلاف پاک فوج کے آپریشن میں یکدم تیزی آئی- اب ہم یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ کیا سوات میں فوجی آپریشن یا ‘نظام عدل معاہدہ‘ کا بے وقعت ہوجانا پاکستان کے مفاد میں ہے یا یہ سب اندرونی و بیرونی دباؤ ہی کے نتیجے میں کیا گیا ہے؟

اس سوال کے جواب کے حصول کے لیے ہمیں پہلے تو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آخر ‘استعمار‘ ہماری پاک فوج یا ‘آئی ایس آئی‘ کو ‘مشکوک‘ کیوں سمجھتا ہے اور اور بار بار اس پر دباؤ ڈالنے کا واویلا کیوں کرتا ہے؟ بمطابق راقم، ‘استعمار‘ ملک میں شدت پسندوں کے خلاف پاک فوج کی کاروائیوں سے اس لیے مطمئین نہیں ہے، اس لیئے ‘آئی ایس آئی‘ کو طالبانوں سے خلط ملط کیا جاتا ہے تاکہ وہ خود پاک دھرتی میں قدم رنجہ فرما سکے، ‘عالمی سامراج‘ کا پاکستان کی ‘شدت پسندی‘ کے خلاف نبٹنے کی تمام کوششوں، تمام معاہدوں، تمام آپریشنز کو شک کی نظروں سے دیکھنا یہ ثابت کر دیتا ہے کہ اسکے ہاتھوں کو ‘خارش‘ ہو رہی ہے، اب اس سے مزید ‘صبر‘ نہیں ہوسکتا، اب وہ دہشتگردی کی آڑ میں ‘خیمے‘ (جنوبی ایشیا) میں ‘مزید جگہ‘ (پاکستان میں در کرکے) گھیرنا چاہتا ہے- لیکن کیسے؟ اسے کوئی جواز ملے گا تو ہی در کرے گا؟

آفرین ہے کہ ہماری جمہوری حکومت بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ‘عالمی استعمار‘ کی ایک نہیں چلنے دے رہی اور اس کی ہر سازش کو دوراندیشی سے بھانپ کر اس سازش کا بروقت توڑ کر رہی ہے- اسی طرح ہماری پاک فوج جو کہ عین ضیاالحقی فوج کی ضد ہے، پاکستان کی سلامتی کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہے اور ہمارے سپاہی وطن کی حفاظت کے لیے، پاکستان کو ‘استعمار‘ کے ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے لیئے قربانیاں دے رہے ہیں- صوبہ سرحد میں فوج کے آپریشن میں جنگی بنیادوں پر اچانک کاروائی کا آغاز بھی پاکستان کی سالمیت کی برقراری کی ہی طرف ایک قدم ہے، اس اپریشن کا بینادی مقصد جہاں ‘طالبانائزیشن‘ سے آہنی ہاتھوں نبٹنا ہے وہیں پر اتحادیوں کے پاک فوج کے خلاف پراپیگنڈہ کا بھرپور جواب دینا ہے کہ پاک فوج ‘طالبانائزیشن‘ کو در پردہ ‘سپورٹ‘ نہیں کر رہی اور ساتھ ہی اسکا بنیادی مقصد ‘استعمار‘ کو ‘اِن ایکشن‘ ہونے سے روکنا ہے یعنی پرے پرے ہی افغانستان تک محدود رکھنا ہے- پاک فوج تجھے سلام-

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں موجود تمام شدت پسند و دہشتگرد ‘غیرملکی‘ ہیں، یا کرائے کے قاتل ہیں- ان میں کوئی بھی پاکستانی شامل نہیں ہوسکتا- کوئی اپنے ہی گھر کو کیونکر ‘غیروں‘ کے ہاتھوں دے سکتا ہے؟ ہاں یہ ممکن تب ہے جب ‘آستین کے سانپ‘ موجود ہوں، جب کالی بھیڑیں پائی جاتی ہوں، لیکن سوال یہ ہے کہ ان کالی بھیڑوں کی اتنی تعداد کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ پاکستان کی مسلح فوج کے سامنے ‘ڈٹ‘ جائے؟ یہ بات ثابت کر دیتی ہے کہ ‘طالبانائزیشن‘ ملکی مسئلہ نہیں بلکہ اسکو ملکی مسئلہ بنانے کے لیئے باقاعدہ ایک ‘لانگ ٹرم‘ منصوبہ بندی کی گئی ہے، پاکستان کو پھنسانے میں ملک میں موجود ‘غیرملکی‘، بھارت و افغانستان سرحدوں سے ‘دراندازی‘ اور ڈالروں کے عوض بکنے والے بےضمیر لوگ اور سیاستدان پیش پیش ہیں-

ذرا بغور جائزہ لے کر دیکھا جائے تو ‘طالبانائزیشن‘ کے خودکش دھماکوں، اسکی ‘شریعت‘، اسکا سکولوں کی تباہی کرنا، لڑکیوں کی تعلیم کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑنا، اغوا برائے تاوان کی کاروائیاں کرنا، گلے کاٹنا، کان کاٹنا، کوڑے مارنا وغیرہ جیسے واقعات کی سرزنش و مذمت کرنے کے لئے سیمینارز منعقد کرنا، علما کانفرنسوں کا انعقاد کرنا، طالبانوں کی ان غیر انسانی و سنگدلانہ کاروائیوں کو ‘اسلام‘ کے ساتھ نتھی کر کے ‘اسلام‘ کا دفاع کرنا، ‘ٹیلیفونک خطابوں‘ کی سیریز برپا کرنا اور انکو سماعت فرمانے کے لیے خواتین کو گھیر گھار کر یا کچھ دے دلا کر اکٹھا کر کے ‘حقوقِ نسواں‘ کا علمبردار بننے کی کوشش کر کے سیاست چمکانا، یہ سب اعمال، یہ سب باتیں، یہ سب سیاست، یہ سب فلسفہ بلواسطہ طور پر ‘استعمار‘ کے اسلام، پاکستان اور پاک آرمی کے خلاف کیئے جانے والے پراپیگنڈہ کو سپورٹ کرتا ہے کہ ملک کو ملکی ہی تباہ کر رہے ہیں، ان کے پیچھے کوئی بھی ‘غیرملکی‘ کام نہیں کرتا، ہمارا مذہب ‘اسلام‘ اسکی اجازت نہیں دیتا، دہشتگردی کے خلاف جنگ واقع ہی دہشتگردی کے خلاف ہے، امریکہ سچا ہے، وہ ‘انسانیت‘ کا داعی و مبلغ ہے- حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے- ایسے طریقے سے سیاست چمکانے والے لوگ کیونکر پاکستان سے مخلص ہوسکتے ہیں جو ‘عالمی استعمار‘ کو در کروانے کے لئے دیدہ یا نادیدہ طور پر راہ بنا رہے ہوں؟ ایسے لوگوں کو سیاستدان کیسے کہا جا سکتا ہے؟ ان کے لیے تو ‘آستین کا سانپ‘ لفظ ہی صحیح فِٹ بیٹھتا ہے-

اس وقت سوات میں جاری فوجی اپریشن میں متاثرہ افراد کی محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی اور پناہ گزیں کیمپوں میں پناہ لینے کا سلسلہ جاری ہے اور بعض متاثرہ افراد بڑے شہروں بالخصوص کراچی میں جا رہے ہیں- لیکن افسوس صد افسوس، کہ کراچی پر ‘حکومت‘ کرنے والا ایک چھوٹا سا لسانی گروہ ان متاثرہ افراد کی آمد کو کراچی میں ‘طالبانائزیشن‘ کی آمد گردان کر چیخ و پکار کر رہا ہے اور پورے پاکستان کو ‘دہشتگردی‘ کی آڑ میں دیدہ یا نادیدہ ‘تورا بورا‘ بنانے کے عمل میں ‘استعمار‘ کی خواہش کو عملی جامعہ پہنا رہا ہے- کیا ایسی حرکت کوئی پاکستانی کر سکتا ہے؟ کیا ایسی حرکت کا مرتکب گروہ پاکستانی کہلا سکتا ہے؟ قطعاً نہیں- یہی وجہ ہے کہ راقم، ‘کراچی‘ پر بزور ووٹ کی بجائے بزورِ دہشت قابض ٹولہ کو ‘غیرملکی‘ کہتا ہے اور یہی حقیقت بھی ہے- اگر کسی نے اس حقیقت کو دیکھنا ہو تو وہ ضیاالحق کے دورِآمریت اور اس نے اپنی آمریت کو طول دینے اور اپنے مخالفین مثلاً پاکستان پیپلز پارٹی کو ختم کرنے یا اس کا اثر کم کرنے کے لیئے جو جو سیاہ کارنامے سر انجام دیئے تھے، کا مطالعہ فرما لے- دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ الگ ہو جائے گا-

سرحد کے شورش زدہ علاقوں میں جاری آپریشن کے بارے میں پاکستان فوج کے ترجمان اپنی بریفنگ میں بتاتے ہیں کہ آپریشن میں متعدد شدت پسندوں کی ہلاکت واقع ہوئی ہے- لیکن ‘میڈیا‘ بالخصوص ‘غیرملکی میڈیا‘ ان ہلاکتوں کو پاکستانی فوج کا ‘دعویٰ‘ قرار دے کر ایک بار پھر ہماری فوج کی دہشتگردوں کے خلاف جاری جنگ کو ایک ‘ڈرامہ‘ قرار دلوانے کے لیے سرگرم ہو چکا ہے تاکہ ‘افغانستان‘ کو ‘پاکستان‘ میں لانے کی راہ ہموار کی جائے- اب سوال یہ ہے کہ آخر وہ کونسا طریقہ باقی بچتا ہے کہ جس سے پاکستان کو جس طرح ہمارے فوج، ہماری حکومت نے نو سال سے آکسیجن کا سلنڈر لگائے رکھا ہے، اس میں آکسیجن ختم نہ ہو؟ کیسے پاکستان کو بھنور سے نکالا جا سکتا ہے؟ جہاں تک فدوی کا خیال ہے، اس کا ایک ہی حل ہے کہ ‘سارک‘ تنظیم کے ممالک حرکت میں آئیں اور بسمہ اللہ پڑھ کر ‘افغانستان‘ کو ‘آزاد‘ کروا لیں- بصورت دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کو یاد رکھنا چاہیے کہ ‘دہشتگردی‘ کی آڑ میں لڑی جانے والی مغرب کی جنگ ایک ‘چھوت کی بیماری‘ ہے جو ان ممالک کو بھی آج نہیں تو کل لگ ہی جائے گی- کیوں؟ کیونکہ جس طرح آندھی آنے کے آثار پہلے ہی نظر آ جاتے ہیں اسی طرح موجودہ حالات بھی آنے والے حالات کا اتہ پتہ دے ہی دیتے ہیں- اگر ہمسایہ ممالک مسئلہ کی نزاکت وسنجیدگی کو نہیں سمجھتے اور پاکستان کا بھرپور ساتھ بالخصوص پاکستان کے حق میں ‘میڈیا وار‘ نہیں چلاتے تو شاید جلد یا بدیر: ‘خدا حافظ پاکستان !‘-

‘اشارہ کُوچ کا تو ہو چکا ہے دیر سے مگر
بچھا رکھی ہے زندگی نے گھات درمیان میں‘ 
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
08 May, 2009 Total Views: 2228 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Najeeb Ur Rehman

Read More Articles by Najeeb Ur Rehman: 28 Articles with 31792 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
LONG LIVE PAKISTAN. AGAR ACHI BAAT NAHIN KAR SAKTE TO APNI KAALI ZUBAAN BAND RAKHA KAREIN.
By: SADIA, N.Y on Jun, 04 2009
Reply Reply
0 Like
مشرف کے دور میں طالبان کے خلاف آپریشن شروع کیے گئے جو کہ امریکن پالیسی تھی اور اس آپریشن کو شروع کرنے میں پاکستان پر امریکہ کا پریشر تھا۔ دوسری طرف پاکستان کو ہمیشہ کی طرح بیرونی امداد بھی درکار تھی لہٰذا دورِ آمریت میں امریکہ نے پاکستان کو طالبان کی خلاف کھل کر امداد دی لیکن پاکستان میں طالبان کی خلاف ڈرامائی انداز میں آپریشن کیے گئے (سانپ بھی نہ مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے (its creat my-self) یعنی طالبان کے خلاف آپریشن بھی جاری رہے اور پاکستان کو بیرونی امداد بھی ملتی رہے۔ مشرف حکومت کھل کر طالبان کے خلاف آپریشن سے گھبراتی تھی کہ کہیں ملک میں خانہ جنگی کی سی صورت حال پیدا نہ ہو جائے تمام بڑی سیاسی جماعتیں بھی اس آپریشن کی خلاف تھیں۔ لیکن امریکہ اس بات کو بھانپ چکا تھا کہ جو امداد پاکستان کو طالبان کے خلاف استعمال کرنے کے لئے دی جا رہی ہے وہ استعمال ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی۔اسی وجہ سے امریکہ افواج پاکستان پر یہ الزام تراشی کرتا نظر آتا ہے کہ پاکستانی افواج میں طالبان کے خلاف لڑنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ چند ہفتوں سے طالبان کے خلاف افواج پاکستان کی طرف سے سخت آپریشن شروع ہو چکا ہے کیونکہ زیادہ تر سیاسی جماعتیں اور عوام اس آپریشن کے حق میں ہو چکی ہیں اور اسی وجہ سے امریکی بیان پاکستان کے حق میں آنا شروع ہو چکے ہیں اور جہاںتک افواج پاکستان کی بات ہے تو الحمدللہ افواج پاکستان کے جوان ہر قسم کی جارحیت کی خلاف لڑنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔اے این پی نے پاکستان بنانے میں بہت سی قربانیاںدی ہیں اور یہ لوگ آج بھی اپنے حقوق کی لیے لڑ رہے ہیں۔ ایم کیو ایم (مہاجر قومی موومنٹ جسکا نام تبدیل کر کے متحدہ قومی موومنٹ رکھ دیا گیا ہے)ان کو اس بات سے خوف محسوس ہوتا ہے کہ کہیں کراچی میں اے این پی ان کی مقابلے کی جماعت نہ بن جائےاس وجہ سےایم کیو ایم نے کراچی میں طالبان کا واویلہ مچا رکھا ہے۔ ایم کیو ایم جو خود کو ایک قومی پارٹی تصور کرتی ہے بھلا مہاجرین کے نام پر وجود میں آنے والی پارٹی کیونکر قومی پارٹی ہو سکتی ہے؟۔
By: Nadeem Chaudhry, Sharjah@UAE on May, 12 2009
Reply Reply
0 Like
نجیب صاحب آپ نے سوات اور کراچی کی صورت حال کو بہت اچھی طرح بیان کیا ہے- لیکن میں تو سمجھتا ہوں اے این پی اور ایم کیو ایم دونوں ہی پاکستان سے مخلص نہیں ہیں- پاکستان ميں لسانيت کو فروغ دے کر ملکی وحدت پر ضرب لگانے کی بھارتی کوششوں ميں مددگار لسانی جماعتيں ہيں- ايم کيو ايم اور اے اين پی کی بھارت ياترا کسی سے ڈھکی چھپی نہيں ہے- متحدہ کی موشگافياں بين الااقوامی ميڈيا کی زينت بن چکی ہيں اور اپنے ناپاک عزائم کے لیے جيسے ہندو دہشت گردوں نے ممبئی کے معصوم شہريوں ميں موت بانٹی اُسی ايجنڈے کے تحت يہ ’لسانی دہشت گرد‘ کراچی کے شہريوں کو آگ اور خون ميں نہلانا چاہتے ہيں۔ اس مسئلے کا ايک حل تو يہ ہے کہ يا تو اردو بولنے والے پشتو سيکھ ليں يا پشتو بولنے والے اردو، يا سبھی انگلش سيکھ ليں تو اور اچھا۔ دوسرا حل یہ ہے کہ نصیر اللہ بابر کو کراچی کی کمانڈ سونپ دی جائے
By: Javed Akhter Ansari, Lahore on May, 10 2009
Reply Reply
0 Like
ہمارے فوج کے سپاہیوں کی شہادت رائیگاں نہیں جائیں گی- دشمن ناکام واپس لوٹے گا- پاک فوج کو عوام سے لڑوانے کی سازش ناکام ہوگی- شہیدوں کا لہو ایک دن ضرور رنگ لائے گا-انشاﺀ اللہ- پاک فوج زندہ آباد- پاکستان پائندہ آباد
By: Abdul Khaliq, Rawalpindi on May, 10 2009
Reply Reply
0 Like
MEDIA APNI AZAADI K NEECHEY PAKISTAN KO NUKSAN POOHNCHA RAHA HEY. MEDIA KO HAKOOMAT K DAIRY K ANDER RAKHANA HO GA Q K MEDIA APNA MUFAAD DAIKHTA HEY ISS KO MULK K MUFAAD SEY KOI MATLAB NAHIN HEY. MQM KO BHI HOOSH K NAKHUN LAINEY CHAHIEN AUR JAAN KI HIFAAZAT K LYE SWAAT SEY AANEY WALEY AWAAM KO TALBAN KEH KR KHOON KARHAABA KI RAAAH HAMWAAR NAHIN KARNI CHAHYE. IMRAN KHAN K K SINDH MEIN DAAKHLAY PUR PAABANDI NAHIN LAGANAI CHAHIYE. AGAR IMRAN KHAN MQM K LEADER ALTAF HUSSAIN K KHILAAF 12 MAY WAQYAAT KI WAJA SEY MUKADAMA KARNA CHAHTEY HEIN TU MQM KO INN MUQADAMAAT KA ADALAT MEIN SAMNA KARNA CHAHYE IMRAN KHAN KO DRAANA DHAMKANA BUND KRANA CHAHYE. JUB CHIEF JUSTICE KO MQM WALOUN NEIN KARACHI JAANEY SEY ROOK DYA THA TU IMRAN KHAN KIYA CHEEZ HEY. MEIN SAMJHTI HOUN MQM PAKISTAN KI BARI PARTY BUN SAKTI HEY AGAR YEH DAASHAT GARDANA SAYAAST CHOOR DEY. AY ALLAH HUM SAB KO MUTAHID HOONEY KI TAUFEEQ ATA FARMA AUR HAMAREY PAKISTAN KI HIFAZAT FARMA. AAMEEN.
By: SHAISTA KHOKHAR, LYARI, KARACHI on May, 10 2009
Reply Reply
0 Like
بڑا افسوس کا مقام ہے کہ آپ جیسے لوگ بھی اتنے تعصب کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ایم کیو ایم ایک سیاسی تنظیم ہے اور اس کو بدنام کرنے والے بہت سے بے چارے لوگوں کو پتا ہی نہیں ہے کہ وہ مظلوموں کے لیے کام کر رہی ہے اور مخالفت کرنے والے لوگ دراصل خوش حال اور جاگیردار اور صنعت کار طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور کیونکہ وہ استحصالی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اسلیے ایک عام آدمی کی بات کرنے والا شخص اور پارٹی آپ جیسے لوگوں کی آنکھ میں تو کھٹکے گی۔ کل فیصل آباد میں ایک اسکول ٹیچر کو پولیس مقابلے میں مروا دیا گیا جئے پنجاب حکومت۔ کل شیخوپورہ میں ایک کونسلر کو جانوروں کی طرح باندھ کر رکھا گیا اور ٹی وی کے مختلف چینلز نے معاملے کو جس طرح بے نقاب کیا اس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ کون ہے جو پنجاب کے بلدیاتی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتا ہے جی ہاں کوئی اور نہیں نواز اینڈ برادر۔ ہاں اب بلدیاتی الیکشن اگر ہوئے تو یقینًا ن لیگ کے منتخب نمائندے بڑی تعداد میں منتخب ہونگے اور پھر یہ بلدیاتی نظام ن لیگ اور ان جیسے دوسرے ظالموں کے لیے ناصرف قابل قبول ہو گا بلکہ اس کے گن بھی گائے جائیں گے۔ اور پنڈ کے رہنے اور نقل مکانی کرنے والوں کو خبردار ہوجانا چاہیے کہ ایم کیو ایم نامی ایک زبردست انقلابی سیاسی جماعت و قوت اب ہمارے پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی عوام کی حمایت حاصل کرتی جارہی ہے اور انشاﺀ اللہ وہ دن دور نہیں جب پورے ملک پر ایم کیو ایم کی حکومت ہو گی۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ اس تبصرے کے بعد آپ اور آپ کے حواریوں کا کیا حشر ہو گا وہ آپکے اگلے کالم میں نظر آجائے گا۔ میرے دوست کہتے ہیں یار کالم پڑھنے سے مطلب رکھ تبصرہ نا لکھ لیکن میں نے کہا کہ بھائی کرائے کے اور جعلی طریقے سے اپنی رینکنگ تبصروں میں ایکسیلینٹ کروالینا کیا مسئلہ ہے بس بہت سارے آدمیوں کو ایکسیلنٹ کروانے پر لگوادو یا خود ہی کرتے رہو۔ اس سے اندازہ لگائے لوگوں کی بے ایمانی اور بے ضمیری کا شرم تم کو مگر نہیں آتی۔ تعصب کا مظاہرہ کرنے والے مجیب کا جو حشر ہوا تھا نجیب ہو یا مجیب تقدیر ان جیسے ناموں والوں کے ساتھ ایسا ہی کچھ کیا کرتی ہے۔ پاکستان کو خدا حافظ کہنے والوں پر خدا کی لعنت و مار۔ پاکستان زندہ باد پائندہ باد
By: Sikandar Ali, Lahore on May, 10 2009
Reply Reply
0 Like
میں نے اس کالم کو بغور پڑھا اور اس کو لکھنے والے کے ذہنی سطح کا بھی اندازہ ہو گیا ابھی تھوڑا عرصھ قبل جب جنرل پرویز مشرف ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کر رہے تھے تب ان جیسے لوگوں نے دھائیاں دیں کہ پرویزمشرف ان نام نہاد بے گناہ اور معصوم پاکستانیوں پر بمباری کر رہا ہے اور اس محب وطن سپاہی میں کیڑے تلاش کر رہے تھے وہ شخص جس کی قیادت میں پاکستان نے ریکارڈ ترقی کی ہے اس کی ہر کس و ناکس نے تذلیل اور توہین کی اور اسے گالیاں دینا ایک فیشن بن گیا مگر اس نے ایک طویل عرصہ تک انتہائی احسن طریقے سے حکومت کو چلایا اور ملک کو بڑے بحرانوں سے بچاتا ہوا یہاں تک لے آیا اور موصوف نے جو عنوان اپنے کالم کے لئے منتخب کیا ہے وہ ہی بحیثیت صدرجنرل پرویز کے آخری الفاظ تھے کہ پاکستان کا اللہ حافظ اور دوسری اہم بات یہ کہ پاکستان کی سب سے منظم ملک کی تیسری سب سے بڑی اور صوبہ سندھ کی دوسری سب سے بڑی سیاسی جماعت اور صحیح معنوں میں عوامی پارٹی جو کہ ٩٨فیصد عوام کی حقیقی نمائندگی کرتی ہے، ایم کیو ایم کے بارے میں غلط سلط باتیں کرنے اور لکھنے والے اس بات کو اپنے دما غ میں اچھی طرح گھسا لیں کہ ایم کیو ایم بانیان پاکستان کی اولادوں کی جماعت ہے ہمارے اسلاف نے ٨٠ کروڑ ہندو بنیوں اور انگریز سامراج سے لڑ کے پاکستان بنایا نہیں بلکہ چھینا ہے اور جب تک ایم کیو ایم کا وجود ہے کوئی پاکستان کا دشمن پاکستان کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، تاریخ ، جغرافیہ، اور سیاسیات سے نابلد ان نام نہاد کالم نگاروں کی کم علمی اور کم عقلی پر ماتم کرنے کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے اور متحدہ قومی موومنٹ اور اس کے عظیم قائد الطاف حسین کے بارے میں جس تعصب اور تنگ نظری کا مظاہرہ کیا ہے اس نے مجھے مجبور کردیا کہ میں ان کی اس ہرزہ سرائی کا جواب دوں خدا سے دعا ہے کہ وہ سب کو سچ بولنے اور لکھنے کی توفیق عنایت کرے اور حق پرستی کی راہ پر استقامت عطا فرمائے آمین
By: Kaleem Ahemed, DHA, Karachi. on May, 09 2009
Reply Reply
0 Like
پاکستان کے سیاسی حالات پر محترم نجیب الرحمٰن صاحب کے اس کالم سے بہتر تجزیہ میری نظروں میں آج تک نہیں آیا- امریکہ ہمارے پیارے وطن کی فوج کے خلاف جو زہر اگل رہا ہے وہ پاکستان کے خلاف سازش ہے- امریکہ ہماری فوج کو ہماری عوام کی آنکھوں میں گرانا چاہتا ہے- میڈیا کا رویہ بھی بہت افسوسناک ہے- میں اپنے تمام پاکستانی بہن بھائیوں سے درخواست کرتی ہوں وہ سوات میں پاک فوج کے حوصلے بلند کرنے کے لیئے دعا کریں- ان کے حق میں ریلیاں نکالیں- تاکہ امریکہ جو پاکستان اور اسلام کا دشمن ہے کی آنکھیں کھل جائیں- میری رائے میں جب تک پاکستان فوج کے ساتھ عوام ہیں کوئی ہمیں میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا- آئیے عہد کریں ہم ہر قدم پر اپنی فوج کے شانہ بشانہ رہیں گے اور میڈیا کو بھی ہم پیٹھ پیچھے وار کرنے والا دشمن سمجھ کر اس کی باتوں کو نظر انداز کریں گے- نجیب الرحمٰن صاحب کو بہتریں کالم لکھنے پر اور ان کے خیالوں کی بےمثال پرواز کو میرا سلام
By: Fahmeda Bano, Multan on May, 09 2009
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB