کراچی میں ‘طالبانائزیشن‘ ڈھول

(Najeeb Ur Rehman, Lahore)

ایم کیو ایم کے علاوہ سب چھوٹی بڑی پارٹیوں نے ‘نظامِ عدل ریگولیشن‘ کو نہ صرف سراہا ہے بلکہ اس کی افادیت کو سمجھتے ہوئے اسکی منظوری بھی دے دی ہے- دیکھا جائے تو یہ معاہدہ صحیح معنوں میں جمہوریت کی طرف ایک عملی قدم ٹھرتا ہے کہ اس کا منشا و مدعا لوکل سطح پر مسائل کا حل تلاش کرنا ہے کہ یہ معاہدہ سوات کے مقامی باشندوں کی آواز تھی- اس معاہدہ کا نفاذ حکومت کا ملک کی ’سلامتی‘ کی طرف ایک بہت بڑا قدم ہے اور اس کی بڑے پیمانے پر منظوری سے عیاں ہے کہ ہمارے سیاستدان ’عالمی استعمار‘ کی ‘استعماریت‘ سے بخوبی آگاہ ہیں اور پاکستان کو بچانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ نظامِ عدل کے باوجود اگر پھر بھی علاقہ میں امن نہ ہوا تو اس سے یہی ثابت و اخذ و عیاں ہوگا کہ ملک میں غير ملکی یعنی’افغانی، بھارتی طالبان‘ اور عالمی سامراج کے ‘مقامی ایجنٹ‘ جو کہ ‘ڈالروں‘ کے عوض کاروائیاں کرتے ہیں، ملک کے خلاف سرگرم ہیں اور استعماری ایجنڈا میں مدد دے رہے ہیں- ہمارے سیاستدانوں کے لیے اس معاہدہ کی منظوری ایسی ہے جیسے:
’کر دیتی ہے جو ساری عمر کی تاریخ کو روشن
حیاتِ مختصر میں ایک گھڑی ایسی بھی ہوتی ہے‘

لڑکی کو کوڑے مارنے کی وڈیو ہو، یا گلے کاٹنے کی وڈیو ہو، کاروکاری ہو یا لڑکیوں کے سکولوں کا جلانا ہو، یا اور کوئی انفرادی یا مقامی نوعیت کا واقعہ ہو، ایسے واقعات کو ‘شہہ سرخی‘ بنانا ملک سے زیادہ غیر ملکی مفاد کو عزیز رکھنے کے مترادف ہے- لڑکی کو کوڑے مارنے کی سزا پر واويلا کرنيوالے چڑھتے سورج کے پجاري ہیں، سب اپنے اپنے نمبر بنا رہے ہیں اور محض اپنی سیاست چمکا رہے ہیں جس سے ان کے مفاد پرست ہونا ثابت ہو جاتا ہے- يہ درست کہ سرعام سزا دينا صحيح نہیں ہے کہ اس سے مجرم کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے- ليکن ان لوگوں نے سرعام کوڑے مارنے کو ’بال کی کھال اتارنے‘، ’بانس کو شہتير دکھانے‘ کےمصداق حد سے زيادہ بڑھا چڑھا کر ایسے پيش کيا ہے کہ جس سے بذاتِ خود ’طالبان‘ معصوم نظر آنے لگتے ہیں- ایم کیو ایم کو دیکھیں، ایسے واقعات پر فورا جلسہ کر ڈالتی ہے، ٹیلی فونک خطابوں کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے یا پھر ریلی نکالتی ہے کہ دیکھو ‘سارے جہاں کا درد ہے، ہمارے جگر میں‘- یہی بات اگر کراچی کے باشندوں سے ویری فائی کی جائے تو جواب ملتا ہے،‘ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور‘- اين جی اووز، حقوق نسواں کی علمبردار تنظیمیں اليکٹرانک و پرنٹ ميڈيا، موقع تاکنے والے سياستدان، خود ساختہ جلاوطنی اختیار کئے ہوئے لیڈر اور ملک میں ’پڑھے لکھے ان پڑھ‘ کوڑے مارنے کے واقعہ کو ايسے بڑھا چڑھا کر پيش کر رہے ہیں جيسے دکھ درد کو محسوس کرنے والا دنيا میں ان سے بڑا کوئی اور ہے ہی نہیں- حالانکہ دیکھا جائے تو يہ سب حرکتیں، یہ سب ریلیاں، یہ سب ٹیلی فونک تبلیغ و واعظ، صرف اسلام کے خلاف ’استعمار‘ کا پراپيگنڈہ ہے اور کچھ نہیں-

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ‘آوازِ خلق کو نقارہ خدا سمجھو‘ کے مصداق جب سب نے عدل معاہدہ کی تائید کی ہے تو آخر کیا وجہ ہے کہ بیس سال سے بارہ پندرہ سیٹوں تک محدود ایم کیوایم اس کی مخالفت کا ڈھول بجائی جا رہی ہے کہ تھکنے ہی میں نہیں آتی؟ کیا اس نظام عدل کے نفاذ سے ایم کیو ایم کو سیاسی، مالی، یا جانی خطرہ ہے؟ یا کیا مہاجر قومی موومنٹ اس معاہدہ کی مخالفت محض خود کو ‘روشن خیال‘ ظاہر کرنے کے لیئے کر رہی ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو کیا سیاسی عمل کے بغیر روشن خیالی ممکن ہے؟ اور کیا ایسا کرنا ملک و عوام کے مفاد میں ہے؟ کیا کہیں ایم کیو ایم، کراچی میں ‘طالبانزیشن‘ کا ڈھنڈورا پیٹ کر اپنی لسانییت پسندی کی پیاس کو بجھا تو نہیں رہی کہ وہاں پر ‘پٹھان‘ آباد ہو رہے ہیں؟ کیا یہ علاقائی گروہ، ‘طالبانائزیشن‘ کو پٹھانوں کے لیئے بحثیت تشبیہ استعمال کرکے کراچی پر اپنا ‘حقِ ملکیت‘ جتا رہی ہے؟ کیا کراچی کسی کی جاگیر ہے؟ سب سے اہم بات یہ کہ ایم کیو ایم کس منہ سے شریعت، عدل معاہدہ، طالبانزیشن، ملائیت، مذہبی انتہاپسندی، فرقہ واریت کو ناپسند کرتی ہے، اس کی آڑ میں خود کو ‘جدیدیت پسند‘ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ یہ تو بذاتِ خود بیک وقت ملائیت، آمریت، لسانیت، ‘شریعت‘، طالبانزیشن، اسلامائزیشن، کی پیدوار ہے یعنی ‘ضیائی ‘باقیات ہے؟؟

بات معمولی ہے کہ ملک میں موجود ‘غیر ملکی ایجنٹ‘ ہوں، یا ملکی طالبان ہوں، یا ‘عالمي استعمار‘ ہو، یہ لوگ پاکستان ميں دہشتگردي کو روکنے کی تمام کوششوں، امن معاہدوں، آپريشنز، مذاکرات وغيرہ کسی کو بھی پھلتا پھولتا ديکھنا پسند نہيں کرتے کيونکہ اس سے اس کے اپنے ’عزائم‘ ميں رکاوٹ پڑتی ہے۔ اگر امريکہ اور ایم کیو ایم واقع ہی امن وامان کے خواستگار ہیں تو انہیں’سوات امن معاہدے‘ کی افاديت کو سمجھتے ہوئے اسی طرز کو افغانستان ميں بھی لاگو کرنے پر ضرور سنجيدگی سے سوچنا چاہئیے تھا-

حاصل بحث، ’آٹا گوندھتی ہلتی کيوں ہو‘ کےمصداق ‘طالبان‘ ايک بہانہ ہیں کسی ملک پر چڑھائی کرنے کا، ‘ریاست کے اندر ریاست‘ کو قائم رکھنے کا- علاوہ ازیں طالبانوں سےاسلام مخالف حرکتیں پيسے کے عوض کروائی جاتی ہیں تاکہ ڈرونزز حملوں کو اخلاقی سپورٹ مل سکے- حیرانگی ہے کہ جب ساری دنيا ايک ہوکر نخيف سے شخص اسامہ کو نہ ڈھونڈ سکی تو کيونکر یہ لوگ طالبان پر قابو پاسکیں گے؟ القاعدہ کے تب تک ختم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جب تک کہ ورلڈ بالخصوص مسلم ورلڈ ميں ’استعمار‘ در نہیں آتا- یہ مذہبی جنگ نہیں ہے بلکہ یہ وسائل پر قبضہ کی جنگ ہے، یہ سرمایہ دار کی بقا کی جنگ ہے، نو آبادیاں بنانے کی سازش ہے جو اسلام کی آڑ میں صیہونی لڑ رہا ہے-

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
21 Apr, 2009 Total Views: 2259 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Najeeb Ur Rehman

Read More Articles by Najeeb Ur Rehman: 28 Articles with 31793 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
اسلام علیکم آج ہم اﷲ کی نا فرمانی میں لگے ہیں جس کی وجہ سے ہم پر آج یہ تمام حالات آرہے ہیں ہمیں اﷲ سے اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرنی ہوگی تو انشاﺀ اﷲ یہ ظالم ختم ہو جائیں گے اور حالات بدل جائیں گے
By: shahzad, karachi on May, 12 2009
Reply Reply
0 Like
سلام عزیزم- میرے خیال میں قابلِ احترام نجیب الرحمان صاحب نے بڑی تحقیقی اور حقیقی باتیں تحریر فرمائی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ ایم کیو ایم ایک لسانی اور علاقائی گروہ ہے، ایم کیو ایم کو سیاسی جماعت کہنا سیاسی جماعتوں کی توہین اور پوری قوم کے ساتھ زیادتی ہوگی- گزارش صرف اتنی ہی ہے کہ کسی اسلام مخالف کے اسلام کو بدنام کرنے کے عمل کو ہمارے پورے معاشرے سے جوڑنے سے پہلے ایم کیو ایم کو زیادہ نہیں تو کم سے کم تھوڑا سا سوچنا چاہیے، عمل کی مخالفت تو جائز ہے لیکن دشمن اسلام کے اشاروں پر یا قیمت وصول کر کے اپنے پیارے دین کے خلاف استعمال ہونا بلکل غلط اور ناقابل معافی جرم بھی ہے، بقول نجیب الرحمان صاحب کے، ایم کیو ایم کے ورکرز کو یہ سوچنا چاہیے کہ وہ کیوں اسلام کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں یا دشمن عناصر کے اہلکار بن کر ان کی خدمت کر رہے ہیں؟ جیسے یہ گروہ برائی کو اسلام کے ساتھ جوڑ کر اسلام کے خلاف آواز اٹھا کر اسلام دشمن کا اہلکار بن جاتا ہے، کیا کبھی اسلام اور اسلامی روایات کے لیے بھی اتنی کوشش اور تکلیف کی ہے انہوں نے؟ ہم نجیب الرحمان صاحب کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے ایم کیو ایم کا اصل چہرہ عوام کو بھرپور انداز میں دکھایا ہے-
By: Mehmood Safi Khan, Islamabad on Apr, 30 2009
Reply Reply
0 Like
اسلام علیکم- میری نظر میں نجیب صاحب نے بہت حقیقت پسندانہ کالم لکھا ہے اور بہت خوبصورتی سے مہاجر قومی موومنٹ کی چھپی ہوتی حقیقت کو آشکار کیا ہے اور اپنی ہر بات منطقی طور پر ثابت بھی کر دی ہے- مدلل کالم لکھنے پر میں نجیب بھائی کو مبارک باد پیش کرتی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ وہ آئندہ بھی اسی دلیل پسندی کے ساتھ اپنے کالم لکھتے رہیں گے- چند لوگوں کے تبصرے نظروں میں بھی گزرے ہیں جن میں میاں نواز شریف کا بھی طالبان معاہدہ کو ناپسند کرنے کا تاثر دے کر ایم کیو ایم کو مومن ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے- ان صاحبان سے گزارش ہے کہ میاں صاحب کی ن لیگ نے بھی قومی اسمبلی میں اس معاہدہ کی منظوری دی تھی- اب اگر ان کی نظر میں سوات معاہدہ کی وقعت نہیں رہی تو یہ بے معنی ہے یا کسی بلیک میلنگ کی وجہ سے ہوا ہے- میں تو سمجھتی ہوں ایم کیو ایم کی طرح ن لیگ بھی چونکہ ضیاالحق نے متعارف کروائی تھی اس لئے اس کا بھی سوات معاہدہ کو قبول کرنا یا نہ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا-
By: Fahmeda Bano, Multan on Apr, 23 2009
Reply Reply
0 Like
بابو میرے بھائی تم کو بھی کیا ایم کیو ایم فوبیا ہو گیا ہے۔ لڑکی کو کوڑے مارنے، گلے کٹنے کی ویڈیو، کاروکاری، لڑکیوں کے اسکولوں کا جلایا جانا یہ سارے واقعات جو روز روشن کی طرح عیاں ہیں اور گھناؤنی سوچوں اور رویوں کی نشاندہی کرتے ہیں آپ کی نظر میں سارے ڈرامے ہیں جو دنیا دیکھ رہی ہے۔ اور جو اس پر احتجاج کرے وہ چڑھتے سورج کے پچاری اور نمبر بڑھا رہا ہے ارے میرے بھائی کچھ تو خدا کا خوف کرو کیا اللہ کو جواب نہیں دینا مرنے کے بعد۔ اور ایم کیو ایم اگر ہر مسئلے پر جس جس پر اس کو موقع ملتا ہے اگر آواز اٹھا رہی ہے تو آپ کو اتنا برا لگ رہا ہے کیا غلط کر رہی ہے ایم کیو ایم حالانکہ حکومت میں شامل ہے پھر بھی اس بل کی مخالفت کرنے کی جرات کی اس بات سے قطع نظر کہ حکومت ناراض ہو گئی تو چند وزارتیں بھی ہاتھ سے جانے کا خدشہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے آپ اور آپ جیسے کچھ لوگ تعصب کی عینک جب تک نہیں اتاریں گے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ آپ کو پتہ ہے کہ پورے ملک کے دوسرے شہروں اور صوبوں میں رہنے والے سب سے زیادہ نفرت کس صوبے سے کرتے ہیں جی ہاں ہمارے پنجاب سے جو کہ حقیقتاً تمام صوبوں کا حق مارتا ہے۔ کل ایک سرحد کے سیاست دان کا بیان پڑھ لیتے تو آنکھیں کھل جاتیں کہ پنجاب میں جو روٹی ایک روپے کی مل رہی ہے وہ ہمارے صوبے سرحد کا حق مار کر مل رہی ہے اور کیا غلط کہا ہے اس سیاست دان نے۔ ایم کیو ایم واقعی اچھے کام کر رہی ہے میں تو کراچی کا دورہ کر کے آیا اور جس طرح ہزاروں قوموں کے لوگ وہاں ملازمتیں کر رہیں اور رہ رہے ہیں شاباش ہے ایم کیو ایم پر کہ پھر بھی اتنے بڑے شہر کو اتنے اچھے طریقے سے چلا رہی ہے۔ اور مہاجر قومی موومنٹ تو کچھ نہیں کر رہی جیل میں ہے اس کی قیادت ہاں متحدہ قومی موومنٹ بڑا مثبت کردار ادا کر رہی ہے اور ہمارے میاں صاحب کا بھی آج کا اخباری بیان زرا پڑھ لیں ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے ایم کیو ایم کے الطاف حسین کی زبان بول رہے ہیں جو الطاف حسین آج سے کئی روز سے چیخ چیخ کر کہ رہا ہے میاں صاحب کی موٹی عقل میں وہ باتیں آج آرہی ہیں چلیں دیر آئے درست آئے کاش آپ بھی کچھ انصاف اور ایمان کا مظاہرہ کر دیکھیں بڑا سکون ملے گا آپ کا مخلص
By: Javed, Lahore on Apr, 22 2009
Reply Reply
0 Like
کراچی میں طالبنائزیشن کا ڈھول تو چلیں بج ہی رہا تھا۔ آج تو لاہور کے والی وارث میاں نواز شریف نے جو نظام عدل اور طابلان کے لیے لب کشائی کی ہے زرا آنکھیں کھول کر پڑھ لیں بڑے اخبارات کے فرنٹ پیجز پر چھپی ہوئی مل جائیں گی مسئلہ پتہ ہے کیا ہے یہ جو میاں صاحبان ہیں نا انہیں چیزیں زرا دیر سے سمجھ میں آتی ہیں اور مشہور اور مینڈیٹ اس لیے زیادہ ہے کہ جاگ پنجابی جاگ کے نعرے لگانے میں ماہر ہیں اور ماشاﺀ اللہ انکے صوبے میں آبادی بھی کوئی نو دس کروڑ افراد کی ہے اور زرا عرفان صدیقی جو سب سے تگڑے لفافے لینے والوں میں دوسرے تیسرے نمبر پر ہوگا میاں صاحب کا ان کا بھی آج جنگ میں کالم چھپا ہے بنام شورش کو نئے ہدت نہ دیں کے عنوان سے اور زرا ایک اور محترم جناب عزت ماآب قبلہ بڑے حکیم ڈاکٹر شاہد مسعود کا کالم میرے مطابق اور عنوان ہے بنام صوفی صاحب! زرا یہ تو آج کے اخبار مورخہ ٢٢ اپریل میں پڑھ کر دیکھ لیں اور حق اور باطل میں فرق کرنے والے بنیں صرف جاگ پنجابی جاگ کے نعرے پر لبیک کہنے والے نا بن جائیں۔ الطاف حسین نے تو کب یہ بات بھانپ لی تھی کہ یہ جاہل ملا ان پڑھ بے دین اور بے دنیا اس دنیا کو تباہی کے سوا کیا دے سکتے ہیں جس کے ماننے والے ڈھاٹے باندھے اور اسلحہ اٹھائے اپنے ہی ملک کے لوگوں پر چڑھائی کر رہے ہیں ارے ایسا تو ہمارے کراچی میں نہیں ہوتا الحمداللہ یہ تو باہر کے لوگ آکر کراچی والوں کا سکون غارت کرتے ہیں اور بدنام کرتے ہیں ایم کیو ایم کو جو کراچی والوں میں سے اکثریت کے دل کا چین و سکون ہے۔ مرچیں تو آ پ کو بڑی لگ رہیں ہونگی۔ آگے آگے دیکھتے جائیں کہ کس کس کا زاویہ تینس سو ساتٹھ ڈگری گھومتا ہے صوفی کے نفاذ عدل کے معاملے پر
By: Shahid, Karachi on Apr, 22 2009
Reply Reply
0 Like
ہاں چھوٹی بڑی جماعتوں نے کتنا سراہا ہے زرا آج کا نواز شریف کا بیان پڑھ لیں ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے نواز شریف بھی ایم کیو ایم کی زبان بول رہے ہیں بات اصل میں یہ ہے کہ بات جب سمجھ میں آتی ہے تو سچ کہنا ہی پڑتا ہے۔ ہماری تو دعا ہے کہ ملک میں صحیح معنوں میں شریعت محمدی نافذ عمل ہو جائے نا کہ شریعت طالبان۔ دوسرے یہ کہ ایم کیو ایم کے زیر اہتمام علما کانفرنس کے تمام علما بھی آپ کی نظر میں کوئی وقعت نہیں رکھتے اور پرسوں جو لاہور کے علما کا ایک کنونشن ہوا اور جس میں انہوں نے طالبان کی لائی ہوئی نام نہاد شریعت کو ماننے سے انکار کیا اس کو آپ کیا کہیں گے وہ بھی ایم کیو ایم کی وجہ سے ان علما نے کہا ہے۔ آگے آگے دیکھتے جاؤ میرے بھائی جس طرح عدالتیں آزاد کرانے کے دعوں کے بعد چپ سادھ لی ہے وکلا ججز اور سول سوسائٹی وہ قابل مذمت ہے کیا چیف جسٹس بھی کوئی ایکشن نہیں لیں گے اپنے غیر شرعی ہونے کا۔ اور ہاں میرے شریعت کے صرف نعرے لگانے والے دوستوں سے ایک بات دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ پورے ملک پر تو شریعت بلا شبہ نافذ ہونی چاہیے۔ مگر سچے دل سے ایمان سے بتاؤ کہ کیا آپ نے اپنی شخصیت پر بھی شریعت کا کوئی نشان (جیسے شرعی داڑھی یا شرعی ٹوپی یا شرعی رہن سہن) رکھا ہے یا جیلیٹ اور بلیو ٹو ریزر پھیر کر شریعت کی باتیں کر رہے ہو۔ (دل سے شریعت کتنی مانتے ہیں ہم سب یہ تو ہمارا اور ہمارے اللہ کے درمیان کا معاملہ ہے) اگر اپنی ذات پر کوئی شرعی نشان نہیں اور دوسروں کو شریعت کا درس دینا بھی میری نظر میں تو ایک منافقت ہے۔ اللہ سے ہم سب کو توبہ کرنی چاہیے شریعت محمدی اللہ ہمارے سروں پر ہمیشہ قائم و دائم رکھے آمین
By: Ali, Hyderabad on Apr, 22 2009
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB