|
|
محترم نعمان صاحب، اب یہ واضح دلیل ہے کہ اذان سن کر روزہ بند کیا جائے ۔
2350 - حدثنا عبد الأعلى بن حماد ثنا حماد عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم " إذا سمع أحدكم النداء والإناء على يده فلا يضعه حتى يقضي حاجته منه " (سنن ابوداود کتاب الصیام باب الرجل یسمع النداء رقم ٢٣٥٠) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی آذان کی آواز سنے تو جو اس کے ہاتھ میں ہے اسے نہ رکھے بلکہ اس سے اپنے ضرورت کو پورا کرے۔ تو بھائی آذان سن کر بھی اگر کچھ پینے یا کھانے کے برتن میں باقی ہو تو اس کو پورا کرلے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا حکم دے رہے ہیں آذان کے وقت بھی اگر کچھ برتن میں باقی ہو تو اس کو پورا کر لے |
|
|
By:
tariq mehmood,
Karachi
on
Aug, 16 2012
|
|
|
|
|
|
|
جناب دونوں کو غور سے پڑھ لو اور محدثین کے اقوال بھی پتہ چل جائے گا کہ کونسی اذان تہجد کے لئے لوگوں کو اٹھانے کے لے اور کونسی فجر کے لئے ہوتی تھی دوسری اذان جو فجر کے لے ہوتی تھی اس تک سحری جاری رکھنے کا حکم ہے۔ تک کا مفہوم ومطلب بھی کسی سے معلوم کرلو ۔اللہ آپ کو ہدایت دے |
|
|
By:
Nouman Kk,
Tando Alyar
on
Aug, 15 2012
|
|
|
|
|
|
|
| محترم ارشد مدنی ،بخاری میں موجود ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال کی اذان تمہیں سحری سے نہ روکے سحری کرو حتی کہ ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان نہ دیں“ تو بھائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سحری کو خود اذان تک جاری رکھنے کا کہہ رہے ہیں اور اپ اس سے قبل بند کروا رہے ہو اگر آپ کے موقف کی تائید میں کوئی دلیل ہے تو پیش کرو |
|
|
By:
tariq mehmood,
Karachi
on
Aug, 11 2012
|
|
|
|
|