دُو کوڑی کی باسی عورت

(ISHRAT IQBAL WARSI, MIRPURKHAS)

محترم قارئین یہ بات اگرچہ چند ماہ پُرانی ہے۔ مگر مجھے جب بھی اُس فون کال کی یاد آتی ہے۔ تو میرا غمگین دِل مزید غَم و یاس کی تصویر بن جاتا ہے۔ اور میں سوچنے لگتا ہُوں کہ اے کاش میرے پاس کُچھ اختیار ہُوتا۔۔۔ تُو میں اِس معاشرے کے اِس گھناؤنے ناسور کی کُچھ نہ کُچھ اِصلاح کی تدبیر ضرور کرتا ۔ مگر اپنی کم مائیگی اور بے بسی دیکھ کر اپنا دِل مَسُوس کر رِہ جاتا ہُوں۔ یہ تمام گُفتگو انتہائی مُتاثر کُن اور اپنے اندر بُہت سے سوالات لئے ہُوئی تھی۔ اسلئے میں نے اِس تمام گُفتگو کو اِسکے اصل پیغام کیساتھ اپنے انداز میں تحریر کردِیا ہے۔ تاکہ ہماری اِصلاح کا کُچھ سامان ہُوسکے۔


اُس دِن غالباً میری اپنی صحت کے حوالے سے ڈاکٹرز سے ایک میٹنگ تھی۔ جسکی وجہ سے میں نے اپنا سیل فون سائلنٹ پر لگا رکھا تھا۔ گھر پُہنچ کر جب تمام ضروریات سے فارغ ہُونے کے بعد میں آرام کرنے کیلئے اپنے بستر پر دراز ہُوا۔ تو ایک بے چینی تھے۔ جیسے آج کا دِن رُوٹین سے بُہت مُختلف دِن ہو۔ ایک ایسا اِحساس جیسے پانچ وقت کی نماز پڑھنے والے شخص کو عموماً کسی دِن کوئی نماز رِہ جانے کے باعث ستاتا رِہتا ہے۔ اور جب تک نماز ادا نہ کرلی جائے یہ بے چینی ختم نہیں ہوتی۔ میں نے بُہت یاد کیا۔ کہ آخر ایسا کونسا کام ہے۔۔ اور آج انجام نہیں دیا گیا۔ نماز عشاء میں پڑھ چُکا تھا۔ رُوٹین کی ادویات بھی کھا چُکا تھا۔۔۔۔۔ پھر یہ بے چینی کیوں ہے۔۔۔۔ کافی ٹائم اِس بے چینی میں مُبتلا رہنے کے بعد مجھے یاد آیا کہ،، آج معمول کے مطابق نہ ہی فون کی بیل مُخل کررہی ہے اور نہ ہی میں نے آج موبائیل پر ایس ایم ایس کے جوابات دیئے ہیں۔

موبائیل چونکہ سائلنٹ موڈ پر تھا۔ اس لئے مجھے آنے والے میسج اور کالز کا اِحساس ہی نہیں ہُوسکا۔ لیکن جب موبائیل کو چیک کیا تو 24 کالز مِس کالز میں تبدیل ہُوچُکی تھیں۔ اگرچہ یہ معمول کی بات تھی۔ لیکن مجھے حیرت کا جھٹکا تب لگا۔ جب میں نے دیکھا کہ اُنیس مِس کالز ایک انجانے نمبر سے مسلسل کی گئی ہیں۔۔۔ میں سُوچنے لگا نہ جانے بیچارہ کُون ہے۔ اور کِس ایمرجنسی میں مُبتلا ہے۔۔۔ پھر خیال آیا کہ بعض اوقات لوگ زرا سے مسئلے کو بھی اپنے اوپر طاری کرلیتے ہیں۔ لِہذا صبح دیکھ لُونگا۔ میں ابھی فون رکھنے ہی لگا تھا۔ کہ ایکبار پھر اُسی انجانے نمبر سے کال موصول ہُونے لگی۔ مجھے خدشہ تھا کہ میرے کال اَٹینڈ کرنے کی صورت میں بچوں کے آرام میں خَلل واقع ہُوگا۔ لہذا وہاں سے اُٹھ کر ڈرائینگ رُوم میں چلا آیا۔

کال اَٹینڈ کرتے ہی دوسری جانب سے ایک خاتون کی آواز سُنائی دی۔ السلامُ علیکم کیا عشرت اقبال وارثی بات کررہے ہیں۔۔۔؟

آواز سے مجھے اندازہ لگانے میں بالکل بھی دِقت پیش نہیں آئی کہ اُن خاتون کی عُمر بیس برس کے قریب رہی ہُوگی۔میں نے سلام کا جواب دیتے ہُوئے کہا۔جی فرمایئےمیں عشرت وارثی ہی عرض کررہا ہُوں۔

سر میرا نام نتاشہ سحر ہے۔ میرا تعلق کراچی سے ہے۔اور میں کافی عرصہ سے آپ کے اِسم اعظم کے روحانی کالمز پڑھ رہی ہُوں۔ لیکن مجھے آپکا کالم ،، واعظ اور طوائف،، بُہت ہی زیادہ پسند آیا تھا۔ مجھے آپ جیسے مذہبی انسان سے اتنے تلخ سچ کی ہر گز توقع نہیں تھی۔ میں کئی ماہ سے آپکا فون نمبر سرچ کررہی تھی ۔ بس مجھے آپکا موبائیل نمبر آج ہی مِلا ہے۔ اسلئے سُوچا آپکو مبارکباد دے دُوں۔دوسری جانب سے وہ لگاتار بُولے چلی جارہی تھی۔

میری بہن نتاشہ آپکی پسندِیدگی کا بُہت شُکریہ۔ مگر کیا رات کے ساڑھے بارہ بجے آپ نے مجھے یہ سب کُچھ بتانے کیلئے فون کیا ہے۔ ۔۔؟مجھے لگا کہ وہ صرف وقت گُزاری کیلئے مجھ سے فُون پر گُفتگو کررہی ہیں۔

نہیں سر ۔ میں اِس وقت آپکو ڈسٹرب کرنے کیلئے مُعافی چاہتی ہُوں ۔ لیکن میرا مسئلہ اتنا اہم اور نازک ہے۔ کہ مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتی ۔ کیونکہ پہلے ہی کافی دیر ہُوچُکی ہے۔ لیکن سر میری آپ سے استدعا ہے کہ آپ مجھے بِہن کہہ کر مُخاطب نہ کریں۔ کیونکہ ہُوسکتا ہے کہ آپ میرا تعارف جان کر خود اپنی نِگاہُوں میں شرمندہ ہُوجائیں۔ اور میں آپکو شرمندہ نہیں کرنا چاہتی۔

حالانکہ میں کال ڈسکنیکٹ کرنے کا سُوچ رہا تھا۔ لیکن اُسکی تجسس بھری گُفتگو نے مجھے مجبور کردِیا کہ میں کال جاری رکھوں۔۔۔ میں نے اُسے مُخاطب کرتے ہُوئے کہاکہ،، دُنیا کے تمام عورت و مَرد نسبی بہن بھائی ہیں۔ اگر میں آپکو بہن نہ کہوں تُو پھر کیا کہوں۔۔۔۔؟ دوسرا آپ زیادہ تجسس نہ پھیلائیں۔ بلکہ جو مسئلہ ہے اُسے ڈائریکٹ بیان کردیں۔ کیوں کہ مجھے نیند بُہت مشکل سے آتی ہے۔ میں نے اُسے شفقت سے سمجھاتے ہوئے کہا۔

سر دراصل میں ایک سابقہ طوائف کی بیٹی ہُوں۔ حالانکہ میری والدہ میری پیدائش سے قبل ہی اپنے پیشے سے توبہ کرچکی ہیں اور میرے والد ایک دیندار آدمی تھے۔ لیکن میرے شوھر مجھے آج بھی طوائف زادی کے نام سے پُکارتے ہیں۔ حالانکہ میرا خُدا گواہ ہے کہ میں نے اپنے شوھر کے عِلاوہ کسی غیر مرد سے نہ کبھی دوستی رکھی۔ اور نہ ہی کِسی قِسم کا کوئی بھی تعلق رکھا۔ مگر وہ مجھے کبھی ،باسی عورت، اور کبھی دُو کوڑی ، کی عورت سے نوازتے ہیں۔ تو کبھی برملا مجھے یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ طوائف کی بیٹی طوائف نہ ہُو۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ممکن ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔! آخری جُملہ اُس نے نہایت گلوگیر لہجے میں بمشکل ادا کیا۔

تُو نتاشہ سسٹر کیا آپ کے شوھر کو شادی سے پہلے آپ کے ماضی کا عِلم نہیں تھا۔۔۔۔۔ ؟ میں نے تاسف کا اظہار کرتے ہُوئے استفسار کیا

دراصل ہماری جان پہچان نیٹ پر ہُوئی تھی۔ وہ میری ایک سہیلی کے فرسٹ کزن تھے۔ میری سہیلی نےمجھ سے اختر جمال کی بُہت تعریف کی تھی۔ اُس نے بتایا تھا کہ اختر جمال ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور عنقریب وہ خُود بھی پی ایچ ڈی کا اِرادہ رکھتے ہیں۔ اور زمانے کی تفریق و اُونچ نیچ کی وجہ سے کِسی کو کمتر و حقیر نہیں سمجھتے ہیں۔ ہمیشہ نِگاہ جُھکا کر چلتے ہیں۔ اور ہر انسان کی عزت کرتے ہیں۔۔۔۔ اسقدر اوصاف حمیدہ سُن کر میں واقعی دِل ہی دِل میں اختر جمال کی گرویدہ ہُوچُکی تھی۔ کیونکہ اختر جمال ایک مذہبی سائٹ بنانے کا اِرادہ رکھتے تھے۔ اِس لئے اُنہیں ایسے افراد کی ضرورت تھی۔ جو بِلا لُوث دین کی خِدمت کرنے کا جذبہ رکھتے ہُوئے اُسکی سائٹ میں معاونت کرسکیں۔

چونکہ میں میٹرک کی تعلیم مکمل کرچکنے کے بعد ایک انسٹیٹوٹ میں ویب ڈئزائینگ کا کورس سیکھ رہی تھی ۔ اسلئے میری سہیلی کا اِصرار تھا کہ میں بھی اختر جمال کی اِس نیک کام میں مدد کروں۔ لِہذا اَمی جان کی اِجازت کے بعد میری اختر جمال سے نیٹ پر مُلاقاتوں کا سِلسلہ جاری ہُوا۔ پھر ایک مرتبہ میری سہیلی نے مجھے بتایا کہ ایک فرم کو ویب ڈئزائینگ میں مہارت رکھنے والے افراد کی ضرورت ہے۔ جو دس سے پندرہ ہزار روپیہ تنخواہ دینگے۔ جسکے عوض وہ گھر بیٹھے انٹر نیٹ کے ذریعہ سے کام کی نوعیت سمجھا دیں گے۔ اِس فرم کے مینیجر اختر جمال کے دوست ہیں۔ اسلئے مجھے اختر بھائی نے کہا ہے۔ کہ میں تُم سے تُمہاری سی وی دو پاسپورٹ سائز فوٹو کیساتھ حاصِل کروں اور اُن تک پہنچادُوں۔

یہ آفر اتنی زبردست تھی کہ امی جان بھی میری مُخالفت نہ کرسکیں۔ جبکہ شادی کے بعد میں مجھے وَہی سی وی اختر جمال کی الماری سے مِلی اور اپنی دو پاسپورٹ سائز تصویروں کیساتھ ایک اِنلارج پکچر بھی مِل گئی جو شائد اُسی تصویر کی بدولت اسکینر کے ذریعہ سے حاصل کی گئی تھی۔ جسکی وجہ سے مجھے یقین ہُوچلا کہ نوکری کا تُو صِرف بہانہ تھا۔ جبکہ درحقیقت وہ شادی سے قبل مجھے دیکھنا چاہتا تھا۔ الغرض قصہ مُختصر مجھے نوکری تُو نہیں مِلی البتہ ایک دِن اچانک اختر جمال ہمارے گھر آگئے۔ میری اَمَّی چُونکہ اُنکے نام سے واقف تھیں اسلئے اُنہیں ڈرائینگ رُوم میں لے آئیں۔ کُچھ رسمی گُفتگو کے بعد اُنہوں نے اچانک میری امی جان سے میرا رِشتہ مانگ لیا۔

امی کو اگرچہ اختر جمال کا اسطرح تنہا رشتہ کیلئے آنا کھٹک رَہا تھا۔ مگر وہ اختر جمال کی وجاہت اور بردباری سے بھی مُتاثر ہوئے بغیر نہ رِہ سکیں۔ امی جان کے بقول اختر جمال جتنی دیر میری امی جان سے گُفتگو کرتے رہے۔ اُنہوں نے ایک مرتبہ بھی امی کی جانب آنکھ اُٹھا کر نہیں دِیکھا تھا۔ بلکہ وہ مسلسل نظریں جُھکائے گُفتگو کررہے تھے۔ اُنکے چہرے پر داڑھی اور پیشانی پر سجدوں کا نِشان اُنکے وقار کو بڑھا رہا تھا۔ اَمّی جان نے اختر جمال کے جواب میں کہا کہ ابھی نتاشہ صرف سترہ برس کی ہے۔ اُسکے والد صاحب بھی دس برس قبل فُوت ہُوچُکے ہیں۔اسلئے مجھے سوچنے کا موقع دُو۔ تاکہ میں نتاشہ سے اُسکی رضامندی بھی معلوم کرلوں۔ اور کُچھ آپ کے متعلق بھی جان سَکوں۔ اِسکے علاوہ شادی بیاہ کی بات اگر بڑوں کے درمیان ہُوتی تُو زیادہ بہتر بات تھی۔ دوسری بات یہ ہے کہ نتاشہ کے ابو کے انتقال کی وجہ سے گُذشتہ دس برس سے ہمارا گُزر بسر مکان کے اوپر والے پورشن اور ایک دُُُوکان کے کرایہ سے اگرچہ باآسانی ہوجاتا ہے۔ لیکن مہنگائی اسقدر ذیادہ ہُوگئی ہے۔ کہ میں بُہت زیادہ جہیز نہیں دے سکتی۔ اسلئے بیٹا یہ بات پہلے ہی بتائے دے رہی ہُوں۔ تاکہ بعد میں کوئی بدمزگی نہ ہُو۔

اَمَّی کی تمام باتیں سُن کر اختر جمال اپنی خُوبصورت گُفتگو سے اَمی جان کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہُوگیا کہ وہ خُود بھی نمائشی جہیز کیخلاف ہے۔ چونکہ جہیز دینا سُنت ہے اسلئے اسکی مخالفت بھی نہیں کرونگا۔ اگر آپ چار مٹی کے برتن بھی جہیز میں دے دیں۔ تو یہ بھی کافی ہے۔ اسلام میں لڑکی کی اجازت بھی نہایت اِہم ہے۔ آپ نتاشہ سے اُسکی رضامندی معلوم کرلیں مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔ آپ میرے متعلق بھی معلومات ضرور حاصِل کریں۔ البتہ میری آپ سے گُزارش ہے کہ آپ فی الحال بڑوں کی شرط نہ لگائیں۔ جب آپکی طرف سے رضامندی ظاہر ہُوجائے گی۔ تب میں اپنے بڑوں کو بھی لے آؤں گا۔ ویسے میرے والد صاحب ایک مذہبی شخصیت ہیں جنہیں بِلا مُبالغہ کراچی کے ہزاروں لوگ احترام و عقیدت کی نِگاہ سے دِیکھتے ہیں۔

اَمی جان کا چونکہ کراچی میں کوئی قریبی عزیز موجود نہیں تھا۔اسلئے امی جان کے پاس اختر جمال کی معلومات حاصِل کرنے کا واحد ذریعہ میری سہیلی تھی۔ اگلے دِن امی جان نے مجھ سے اختر جمال سے ہُونے والی تمام گفتگو شئیر کرتے ہُوئے میری رائے معلوم کی۔ میرے پاس بھی اپنی سہیلی کے علاوہ کوئی ذریعہ نہیں موجود تھا۔ اور میری سہیلی نے اختر جمال کا جو نقشہ میرے سامنے کھینچا تھا۔ اُسکے بعد تُو مجھے بھی اختر جمال انسان سے زیادہ ایک دیوتا نظر آنے لگا تھا۔ بہرحال امی نے ایک دِن میری سہیلی کو گھر پر بُلایا اور باتوں باتوں میں اختر جمال کی بابت معلومات حاصِل کی۔ چُونکہ اختر جمال پہلے ہی رازداری کا کہہ چُکے تھے ۔ اس لئے اَمی جان بھی کُھل کر میری سہیلی سے اظہار خیال نہ کرسکیں۔ اور یُوں امی نے مطمئین ہُونے کے بعد اپنی رضامندی میرے سامنے ظاہر کردی۔ اُن کی نظر میں یُوں بھی آجکل ایسے نوجوان کہاں مِلتے ہیں۔ جُو بِن باپ کی بچی کو بغیر جہیز کے بیاہنے کو تیار ہُوں۔ جبکہ اختر جمال تُو صرف جسم پر موجود ایک لباس کیساتھ بھی شادی پر تیار تھا۔ لڑکا نہ صرف خُوبصورت تھا۔ بلکہ ایک بُہت اچھے اور دینی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ صِرف ایک کمی تھی کہ اختر جمال مجھ سے عُمر میں دس برس بڑا تھا۔ لیکن اَمی کی نظر میں یہ کوئی ایسی معیوب بات نہیں تھی۔ اور مجھے بھی اُس وقت اسمیں کوئی قباحت نظر نہیں آئی۔ نتاشہ کی گُفتگو جاری تھی کہ اچانک لائن ڈسکنیکٹ ہُوگئی۔

میں ایک بات شدت سے محسوس کررہا تھا۔ کہ نتاشہ نے ایکبار بھی اختر جمال کا نام احترام سے نہیں لیا تھا۔ بلکہ اپنے شوھر کا تذکرہ کرتے ہُوئے اُسکے لہجے میں اختر جمال کیلئے دَبا دَبا ساحقارت کا عُنصر ظاہر ہُو رہا تھا۔ جسکی وجہ شائد نفرت کے وہ جذبات ہُوں۔ جو آہستہ آہستہ نتاشہ کے دِل میں اختر جمال کیلئے پیوستہ ہُوتے چلے جارہے تھے۔

تقریباً پندرہ منٹ بعد پھر نتاشہ کی کال کے سنگنل موصول ہُونے لگے۔ میں نے کال کنیکٹ کی تُو اُس نے معذرت کے بعد اپنی بات پھر وہیں سے جُوڑ دِی۔ اُس نے مزید بتایا کہ ،،میری سہیلی سے مُلاقات اور اختر جمال کے والد صاحب کے متعلق خُوش آئیند معلومات حاصل کرنے کے بعد۔ امی جان نے چند دِن بعد اختر جمال سے ٹیلیفون پر اپنی رضامندی کا اِظہار کرتے ہُوئے اُسے تاکید کی۔ کہ وہ شادی بیاہ کے مُعاملات طے کرنے کیلئے اپنے والدین کو ہمارے گھر بھیج دے۔

تین دِن بعد ایک سہ پہر جب میں اپنے انسٹیٹیوٹ جارہی تھی۔ مجھے راستہ میں ایک بچے نے ایک سِلپ تھماتے ہُوئے کہا۔ کہ یہ پرچی اختر جمال صاحب نے آپ کیلئے دی ہے۔ اس سے پیشتر کہ میں کوئی بات کہہ پاتی وہ بچہ وہاں سے رفو چکر ہُوگیا۔ میں نے یہاں وہاں نظر دوڑائی لیکن مجھے کوئی نظر نہیں آیا۔ میں نے دھڑکتے دِل کیساتھ وہ سِلپ کھول کر دیکھی۔ تُو اُس پر لکھا تھا کہ مجھے آپ سے ابھی اور اِسی وقت فوراً مُلاقات کرنی ہے۔ خُدا کے واسطے اِنکار مت کیجئے گا۔ کیونکہ اِس مُلاقات سے میری زندگی کا فیصلہ جُڑا ہے۔ میں آپکے انسٹیٹیوٹ کے باہر اپنی بائیک پر موجود ہُوں۔

آپکا اور صِرف آپکا۔۔۔۔ اختر جمال

بقیہ حِصہ اگلی قسط میں مُلاحِظہ فرمائیں
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
25 Jun, 2012 Total Views: 1233 Print Article Print
About the Author: ishrat iqbal warsi

مجھے لوگوں کی روحانی اُلجھنیں سُلجھا کر قَلبی اِطمینان , رُوحانی خُوشی کیساتھ بے حد سکون محسوس ہوتا ہے۔
http://www.ishratiqbalwarsi.blogspot.com/

.. View More

Read More Articles by ishrat iqbal warsi: 198 Articles with 489555 views »

Reviews & Comments

Bohat Hi Umda bhai
By: Nouman Kk, Tando alayar on Jun, 26 2012
Reply Reply
0 Like

جب غرض ہوئی تب پیار کیا، جب وقت ملا تب یاد کیا
اب اور حقیقت کیا لکھوں اِس دور کے مخلص لوگوں کی!۔

کامرآن بھائی سے سو فیصد اتفاق کرو گا۔
By: Kashif Akram Warsi, Lahore on Jun, 26 2012
Reply Reply
0 Like
BHOT ACHI HAI BHAI ....AOR BHAI KAMRAN AZEEMI BHAI APP NEY B BHUT ACHI LIKHI HAI COMMET
By: shabana.., hong kong on Jun, 26 2012
Reply Reply
0 Like
سکھ دکھ کی راہوں پر نجانے کتنی نتاشہ سحر ۔۔۔۔۔۔ نجانے کتنے اختر جمال کو اسی لب و لہجہ میں یاد کرتیں ہونگی۔ کچھ کا دکھ ہم تک پہنچ جاتا ہے اور کچھ زبان پر مہر لگا کر ہمیشہ کے لئے گمنام ہوجاتیں ہیں۔

کچھ عرصے قبل میں نے آڈیو ریکارڈنگ میں ایک بیان جو کہ حاجی عمران عطاری قادری صاحب نے فرمایا تھا اسے سنا ۔۔۔۔۔۔۔ اس میں ایک حدیث پاک کا حوالہ دیا گیا جس کا مفہوم کچھ اس طرح سے تھا کہ “تم کسی کے نماز و روزہ سے ہرگز دھوکہ نہ کھانا بلکہ یہ دیکھنا کہ وہ کتنا امانت دار ہے“ ۔۔۔۔۔۔

بے شک نماز بے حیائی سے روکتی ہے اور روزہ تقوی پیدا کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر جو سر صرف اللہ عزوجل کے لئے نہ جھکتا ہو اور جو دل عشق مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خالی ہو ۔۔۔۔۔ تو ایسوں کی نماز اور ایسوں کا روزہ کس کھاتے میں ۔۔۔۔۔ لہذا صرف نماز و روزہ کی پابندی سے انسان کی پاک طبعیت کا اندازہ لگانا غلط ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ البتہ اس کی امانت داری ہی اسے نیک انسان ثابت کرنے کے لئے کافی و شافی ہوگی۔

کیونکہ امانت دار ۔۔۔۔۔ جھوٹ نہیں بولے گا ۔۔۔۔۔۔ دھوکہ نہیں دے گا ۔۔۔۔۔۔ اور امانت صرف پیسہ رکھ کر اسے لوٹانے کا ہی نام نہیں بلکہ کسی کے راز کو راز رکھنا ۔۔۔۔۔۔۔ اپنے کہے گئے لفظوں کی حفاظت کرنا بھی امانت دار کی نشانی ہے۔

اے کاش ! ہم پر ظاہری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ باطنی خوبصورتی کی خوبیاں بھی آشکار ہوجائیں اور اندر و باہر کی دنیا میں کوئی ملاوٹ نہ رہے ۔۔۔۔۔۔ اور کوئی نتاشہ سحر ۔۔۔۔۔ کسی اختر جمال کے لئے تلخی لئے نہ رہے۔

اصلاحی پہلووں کو سامنے رکھتے ہوئے ایسے واقعات کو ہم تک پہنچانے کا بہت بہت شکریہ ۔۔۔۔ بلکہ جزاک اللہ خیرا کثیرا ۔۔۔۔
By: Kamran Azeemi, Karachi on Jun, 26 2012
Reply Reply
0 Like
دلچسپ تحریر ہے۔ اگلی قسط کا انتظار رہے گا، امید ہے کہ عوام الناس کے لیئے مفید اور سبق ہو گا اس تحریر میں۔ انشاءاللہ
By: افتخار الحسن رضوی, Riyadh on Jun, 26 2012
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB