پان کے بیڑے اور گلوریاں٬ کچھ دلچسپ حقائق

(Source: Voa)

پاکستان میں سب سے زیادہ جو چیز کھائی جاتی ہے اس میں' قسم' کے بعد سب سے بڑا نام "پان" کا ہے۔ چھوٹا 'پان کا بیڑا' یا ' ننھی سی پان کی گلوری' کی صحیح صحیح تاریخ کے بارے میں تو معلوم نہیں البتہ جب سے ہندوستان میں نوابوں، مہاراجوں اور راج واڑوں کا دور شروع ہوا غالباً اسی وقت سے یہاں پان کھانے کا رواج ملتا ہے۔ لکھنو کے تہذیبی پس منظر رکھنے والی فلموں میں کنیزوں کے ہاتھوں پان کی گلوری پیش کرنے کا تذکرہ بھی موجود ہے جبکہ کوٹھوں پر طوائفوں کو نائیکاؤں کے ہاتھوں گلوریاں پروسنے کے سین بھی کئی پرانی بھارتی فلموں میں ملتے ہیں۔

فلم 'تیسری قسم' میں راج کپور اور وحیدہ رحمن پر پکچرائز کیا جانے والا اپنے دور کا ہٹ گانا "پان کھائیں سنیاں ہمارو۔۔۔" اور ستر کی دہائی میں بننے والی فلم مثلاً "ڈان" کے گانے "کھائی کہ پان بنارس والا ۔۔۔" کی شہرت نے تو ان لوگوں میں بھی پان کھانے کا شوق جگا دیا جن لوگوں نے کبھی اس کا ذائقہ بھی نہیں چکھا تھا۔

کہنے کے لئے تو پان بہت چھوٹا سا آئٹم ہے مگر کراچی میں اس پان سے کیا کیا دلچسپ کہانیوں وابستہ ہیں، یہ بھی اپنے آپ میں ایک دلچسپ داستان ہے۔


عام طور پر پان کی قیمت پاکستان بھر میں پانچ روپے سے شروع ہوتی ہے اور دس بارہ روپے پر ختم ہوجاتی ہے مگر شہر قائد کے کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں کے پان مشہور تو ہیں ہی، ان کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ ان علاقوں کے علاوہ کہیں اور نہیں ملتے۔ مثلا ً وی آئی پی پان، وی وی آئی پی پان، سہاگ پوڑا، پان بیڑا اور ڈسکو گلوری۔۔۔ اور سنئے ان پانوں کی قسمیں ۔۔ سانچی پان، گولٹا پان، سیلون پان، بنگلا پان، بنارسی پان ۔۔ شاید آپ کے لئے بھی یہ نام نئے ہوں کیوں کہ جو پان کھانے کے حد درجہ شوقین ہیں وہ بھی ان قسموں سے کم ہی آشنا ہیں۔

پان کی قسموں سے زیادہ ان کی قیمتیں حیران کن ہیں۔ مثلاً وی آئی پی پان کی قیمت تین سو روپے ہے۔ اس میں چاندی کے اصلی ورق، تازہ گلاب کے پھولوں کی تیار کردہ گلقند ڈالی جاتی ہے ۔ وی وی آئی پی پان کا اندازہ آپ خود لگا لیجئے کیوں کہ اس میں اصل شہد اور پھولوں کی گلقند ڈالی جاتی ہے۔ سہاگ پوڑا چار سو روپے میں ملتا ہے اور اسے ایک بار میں کوئی بھی نہیں کھا سکتا لہٰذا تھوڑا تھوڑا اور رکھ رکھ کر کھایا جاتا ہے۔ ایک پان کا وزن ایک پاؤ ہوتا ہے۔ اس میں چھوٹی الائچی اور میوے ڈالے جاتے ہیں۔ پستا خاص کر ڈالا جاتا ہے اور چونکہ الائچی کی قیمت اس وقت تین ہزار روپے اور پستہ 2400 روپے کلو ہے لہذا بقول دکاندار محمد عرفان کے پان پوڑا اگر چار سو روپے میں مل رہا ہے تو بھی سستا ہے۔ آخری قسم بچتی ہے 'پان بیڑے' کی تو اس کی قیمت ایک سو روپے ہے۔ اس میں رنگی برنگی پھول پتیاں اور رنگ دار کھوپرا ڈالا جاتا ہے۔


کراچی میں کریم آباد پر واقع دکان پر یہ قسمیں موجود ہیں۔ رنچھوڑ لائن، پان منڈی، کھارادر، میٹھادر اور لسبیلہ پر بھی مخصوص دکانوں پر یہ پان دستیاب ہیں۔ گارڈن کے علاقے کی سب سے مشہور اور پرانی دکان گولڈن پان شاپ ہے۔ یہ دکان اس قدر مشہور و معروف ہے کہ کہا جاتا ہے جس نے گولڈن پان شاپ نہیں دیکھی اس نے پان کھانا ہی نہیں سیکھا۔ اس کی کئی شاخیں ہیں جو گارڈن، گلستان جوہر، طارق روڈ، کلفٹن اور ڈیفنس میں واقع ہیں۔ یہاں پانوں کو کچھ قسمیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اگر دیوار پر کھینچ کر مار دیا جائے تو شیشے کی طرح کرچی کرچی ہوکر بکھر جاتا ہے۔

ایک قسم 'چھوئی موئی پان' کی بھی ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ منہ میں رکھتے ہیں چھوئی موئی کے پھول کی طرح سکڑتا اور منہ میں گھلتا چلا جاتا ہے۔

کراچی میں خود پان کھانے کا تو رواج ہے ہی، مہمان نوازی بھی پان کے بغیر بعض جگہ ادھوری سمجھی جاتی ہے ۔ اکثر گلہ بھی کیا جاتا ہے کہ ’فلاں کے گھر گئے تھے اس نے تو چائے پانی چھوڑو ۔۔پان کو بھی نہیں پوچھا‘۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اکثر شادیوں میں میزبان کی جانب سے شادی ہالوں پر پان کے باقاعدہ اسٹال لگائے جاتے ہیں جہاں ہر مہمان جی بھر کر مفت پان کھاتا اور گھر لے جاتا ہے۔


پان کی تعریف اور قدردانی اپنی جگہ مگر پان میٹھا زہر بن کر جو نقصانات پہنچاتا ہے اب کچھ اس کا تذکرہ بھی ہوجائے۔

کولکتہ کے تاریخی ہاوڑہ برج سے تو آپ واقف ہوں گے ہی۔ یہ 26,500 ٹن ہائی ٹینسل اسٹیل کا بنا ہے اور تقریباً ایک لاکھ گاڑیاں یومیہ اس پر سے گزرتی ہیں۔ دو صدیاں ہونے کو ہیں یہ سردی، گرمی، برسات، طوفان، آندھی سب کچھ برداشت کرتا ہے مگر اب اسے سب سے زیادہ نقصان پان کی پیک سے پہنچ رہا ہے۔ جسے پان کھانے والے جب چاہیں جہاں چاہیں تھوک دیتے ہیں۔ پان کی پیک اس تاریخی شاہکار کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔

پان۔۔۔ یعنی ایک مخصوص قسم کا پتہ جس کی بیل ہوتی ہے، درخت نہیں۔ چھالیہ، چونا اور تمباکو۔۔ سب ملاکر پان کی گلوری بنتی ہے اور بھارت ، پاکستان، بنگلہ دیش اور دنیا کے ان تمام ممالک میں جہاں یہ لوگ مقیم ہیں وہاں پابندی کے باوجود ، صحت کو پہنچنے والے سخت نقصان کے باوجود اور اس سے بھی بڑھ کر تمام نقصانات جاننے کے باوجود پان چبایا جاتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں جن بیماریوں سے سب سے زیادہ لوگ مرتے ہیں ان میں کینسر بھی سرفہرست ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2005 سے 2015 تک کینسر سے 80 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوسکتے ہیں۔ سول اسپتال کراچی کے کینسر یونٹ کے جاری کردہ اعداد وشمار اس سے بھی زیادہ بھیانک ہیں۔ کراچی اوراندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے 23 فیصد کینسر کے مریض پان اور تمباکو کے سبب بیمار ہوئے۔


منہ کا کینسر، گلے کا کینسر، دانتوں کا کینسر، حلق کا کینسر، گال کا کینسر۔۔۔ اور اس جیسی متعدد خطرناک بیماریوں کا 'موجد' پان جنوبی ایشیائی ممالک کی معیشت کو سہارا دینے کے لئے ہر قسم کی پابندی سے مستثنیٰ ہے۔ پاکستان ہی کی مثال لے لیجئے یہاں ماہانہ لاکھوں ٹن پان بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے درآمد ہوتا ہے۔ سمجھوتا ایکسپریس ہو یا تھر ایکسپریس، دوستی بس ہو یا ہوائی سفر سب سے زیادہ پان ہی غیر قانونی طور پر پاکستان آتا ہے۔ یہ پان ہی کی 'برکت' ہے کہ دونوں جانب کے حکام لاکھوں اور کروڑوں روپوں سے کھیل رہے ہیں۔

لاہور کا انارکلی بازار ہو یا دوسری چھوٹی بڑی مارکیٹیں آپ کو بھارتی ، بنگلہ دیشی اور سری لنکن پان، چھالیہ ، گٹکا اور تمباکو کی دکانیں کی دکانیں لدی ہوئی ملیں گی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ مقامی سامان کے مقابلے میں یہ سامان مہنگا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اسے ہی ترجیح دیتے ہیں۔


خلیجی ممالک خصوصاً متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں پان کھانے پر پابندی ہے لیکن وہاں بھی وہ چوری چھپے مل جاتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظہبی میں پان کھانے والے پر دس ہزار درہم جرمانے کی سزا ہے۔ سعودی عرب میں پان کھانے والے پر مقدمہ درج کردیا جاتا ہے جہاں اسے جیل میں قید و بند کی سزائیں دی جاتی ہیں اور بسا اوقات سزا کے بعد اسے ڈیپورٹ بھی کردیا جاتا ہے۔

سخت قانون کے سبب وہاں پان نہ کھا سکنے والے جتنے دن بھی اپنے وطن میں گزارتے ہیں دانستہ اور بہانے بہانے سے پان چباتے رہتے ہیں۔ ایسے میں قریبی رشتے داروں کی ہمدریاں بھی ان کے ساتھ ہوجاتی ہیں اور گھر کے بڑے بوڑھے تک کہہ اٹھتے ہیں۔۔ ’چلو بھئی کھانے دو پان جی بھر کے۔۔ واپس جاکر آزادانہ پان کھانے کو کہاں ملیں گے۔۔‘یا پان کھانے والا خود رشتے داروں کی ہمدریاں سمیٹتے ہوئے کہتا ہے ۔۔’بس یہیں تک کی بات ہے۔۔۔پھر اگلے سال جب آئیں گے تو ہی پان کھانے کو ملے گا۔۔۔‘

حالانکہ ذرا سا غور کیا جائے تو محسوس ہوگا کہ ۔۔ پان کھانے والا پیسے دے کر اپنے ہی لئے موت خریدتا ہے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
15 Feb, 2012 Total Views: 5364 Print Article Print
Reviews & Comments
It is a very intresting and informative knowledge.
By: Mujtaba, Karachi on Feb, 20 2012
Reply Reply
0 Like
very informative article. thanks to hamariweb.
By: Abuzar, Karachi on Feb, 17 2012
Reply Reply
0 Like
totaly bekar article
By: waqas, karachi on Feb, 16 2012
Reply Reply
0 Like
I agreed with Mr. Adil but Mr. Adil Pan mey tambakoo k ilawa bhi chand eisi ceheezein hein jo sehat munasib nahi hoti maslan kathhey mey istimal honey wali kuchh ashiya or chalia waghera
Behrhal ager pan khana hi hey to gher mey safai k sath tyyar ker k khaya jaye ...
wesey bhi pan ki jis tehzeeb ka zikar yaha horaha hey wo gher k banaye hue pan hi to hein ...
By: Afzal Ismail, Karachi on Feb, 16 2012
Reply Reply
0 Like
Hnmm nice...
By: Ali Imran, Karachi on Feb, 15 2012
Reply Reply
0 Like
a good re-presentation but important clarification are required to share with this article like pakistan may pan kis kis province may kahya jata hay, kitna khaya jata hay, 2nd important point is to mantion the main cause/components of pan which is a main cause of cancer etc. Pan ki age bohat lambi hay jaisa kay article may hay, pan, metha pan, sada pan, dangerious nahee hay jubkay pan may tobacoo ( patti wala tambakoo) khatarnak item hay jis may Nassaha hota hay, jis kay khanay say chukkar attay hain, tambakoo ki bohat sari qismay hain, patti, zafrani, qimam, muradabadi, etc. in may sub say zaida muradabadi oor pelli patti sub say khanarnak hoti hay joo zafrani tambakoo kahanay wala bhee nahee kha sugta oor nuksan day hay cancer ka bayas bunti hay, dosri cheez chuna (lime), yeh app nay suna hoga kay double patti ka pan, double ka mutlab hay, chuna double kur kay, yeh pan hard hota hay, aam insan nahee kha sugta or moon cut jata hay tooo andaza lagooo kay antoo ka kia hall hota hoga. Metha pan koi nuksan nahee pouchata yeh sweet dish kay tour pur istemal hota hay, saday pan say khana hazam hota hay, bettle nut (chalia) augar achey hoon or limit may istemal ki jayain too koi zaida nuksan day nahee, app kay teeths ki excercise kurti hain. pan ki tareekh bohat azeem hay. Pakistan may ajj pan say nufrat kurnay waly sub say zaida orr buttamizee say khatay hain bulkay paith burthay hain. lahore city may augar app kissi ko pan latay daikh lain too karachi ka pan khanay wala toba kurta hay. Lahore may pan India say atta hay, Lahore may pelli patti wala pan khaya jata hay. dukan wala oos waqt tuk pan may tambakoo dalta rahta hay jub tuk kahany wala stop na bolay. oor os kay bad pan kahany ka joo style apnaya jata hay voo daiknay say talluq rukhta hay. Pan kahany ka apna mugliaye andaz haota hay bohat say loog pan khatay waqt bohat achay lugtay hay khass kur ghar may nani amma, dadi ammi wah kia nafasat hoti hay. jis theran pakistan may cultlure or saqafat may bigar aya hay is he therah pan kanay kay andaz may bigar aye hay oor pan kahana gass kahanay kay braber ho gaya hay. merray tamam buzrug pan kahatay thay, hamari nani hum ko khutta chatia kurti thein bohat maza atta tha. nani ka bohat bara pandan hota tha joo nishani hota tha kay is ghar may koi buzrug hay yeh tam batain khutam ho gaye hain ab too loog time pass kurnay kay wastay pan kahtay hain. pan kaoo, metha, sonf khusboo wala. elichi wala, khopray wala oor bachoo patti waly pan say, gutay say, jis ka khana jan lava bhee ho sugta hay. Bohat acha mazmoon hay. Ajj say 40 sal phalay pan baray buzrug khatay thay ajj yeh kam nojavan kur rahay hain. ajj ka bazaroo pan, pan kahelanay ka haqdar nahee is ki vajaha yeh kay na voo pan kahany walay rahee na pan khilanay walay yeh too pan ki bigrai hohi shakal hay.
By: adil, karachi on Feb, 15 2012
Reply Reply
0 Like
amazinnnnnnnnnnnnnnng...
By: aiman bukhari, karachi on Feb, 15 2012
Reply Reply
0 Like
article to acha ha chahe kahin se bhi liya ho bt bat tab banti tab insan is par amal kare bcz pk me yh bat ha log zehar ko khana ziada pasand krte hn unhe life se piyar nhi ha bt zaban ka maza milna chahiye.india se hijrat krte hoi kitna acha hota k waha ki jahalat or bekar adaton or rusmon ko bhi whi chor ate to yh haal na hota aj PAKISTAN ka.koi kam tab bht acha lagta ha tab log us pr amal karen ALLAH kare is article se koi to sabak sekhe ameen
By: Sana Hasni, lahore on Feb, 15 2012
Reply Reply
0 Like
Why you all giving whole credit to Hamariweb, actually this article has been composed by VOA (Voice of America)............... nice job done by VOA and thanks to hamariweb who brought this article to us

By: ASIF NIAZI, Mianwali on Feb, 15 2012
Reply Reply
0 Like
superb information. tkx 2 hamari web
By: Shehzina Ramzan Ali, Karachi on Feb, 15 2012
Reply Reply
0 Like
very nice story, good team hamariweb
By: muhammad ishfaq, lahore on Feb, 15 2012
Reply Reply
0 Like
Nice Information Hamariweb.....
By: Nomi, Karachi on Feb, 15 2012
Reply Reply
0 Like
Sooooooperb article.
love u Hamariweb.
By: *Rizwana Khan*, ***Karachi*** on Feb, 15 2012
Reply Reply
0 Like
what a informative article very very nyc job"
thanks for HamariWeb...
By: Diya, KARACHI on Feb, 14 2012
Reply Reply
0 Like
Zabar Dast.
By: Muhammad Zeeshan, Multan on Feb, 14 2012
Reply Reply
0 Like
Very nice detailed and informative article. Thanks to the team of hamaiweb.
By: Aliakber Mandsorwala, Karachi on Feb, 14 2012
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
A betel leaf or paan is a tropical creeper belonging to the pepper family of plants, in the division of Magnoliophyta in the plant kingdom. Paan has been an important part in social life and customs for hundreds of years in India. In the courts of the Moghul kings and other medieval rulers, paan was chewed as a palate cleanser and a breath freshener; and was offered as part of hospitality, friendship and love.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB