ایکسویں صدی کا عشق ماضی - حصہ سوئم

(Jan Alam Swat, Karachi)

28جنوری 2005 ئ
از طرف ،رانجھا ۔۔سرگودھا پاکستان
مائی موسٹ ڈیرہیریے
اسلام علیکم !
سلام کے بعد عرض ہے کہ رانجھے کو خط لکھنے کا کوئی شوق نہیں ہے ،کیونکہ سویڈزر لینڈ جاتے ہوئے تم نے رانجھے کو منع کیا تھا کہ مجھے ڈسٹرب مت کرنا ۔ لیکن سوری رانجھاغیرت کے ہاتھوں مجبورہو کرتمھیں خط فیکس کررہا ہے۔بات کچھ یوں ہے کہ کل لیلیٰ نے مسٹر مجنوں کاایک خط مجھے فیکس کردیا تھا جو اُس للونے لیلیٰ کو ارسال کیا تھا اس خط میں مجنوں کوًے نے لکھا ہے کہ تم انٹر نیٹ پر اُس سے میری برائیاں کرتی ہواور مجنوں کوًے سے عشق کی ڈوریں بھی لڑا رہی ہو۔تمہاری بےوفائی جانتے ہی میں غصے کے مارے میں تمھیں خط لکھنے پر مجبور ہوا ۔ڈیر ہیریے میری پرسنلٹی تمھیں معلوم ہے کہ میں برگر فیملی کا ایک ہیرو ہوں اور تم دیہات کی ایکوزونا ۔میں اگربھنورا ہوں تو تم سورج مکھی کا پھول ۔لیکن پھر بھی میں نے تم سے پیار کیا ،تمہارے پیار کی خاطرروز قربان ہوتے ہوتے قربانی کا بکرا بن چکا ہوں ۔لیکن اُس کا صلہ تم کیا دے رہی ہو ؟ میں تمھاری خاطر شرٹ کی جگہ کرتا پہنتا ہوں ،جس کے ایک سائیڈ پر لٹکتا گچھا مجھے ہر وقت پریشان کرتا ہے ،لیکن میں برداشت کرتا ہوں ۔تمھاری خاطر میں پینٹ کی جگہ لنگ باندھنے پر مجبور ہوں ،تم کیا جانو مجھے کتنی پریشانی ہوتی ہے جب میں موٹرسائیکل پر بیٹھتا ہوں ۔ تمہارے واسطے میں ہنڈا سوک کے بجائے گدھے پر سفر کرتاہوں ،بے سُری بانسریاں بجا بجا کر تیرے پنڈ والوں سے روزانہ گالیاں اور ہفتہ وار ۔۔ مار کھاتا رہتا ہوں ۔لیکن افسوس تمھاری نظر میں میری ان قربانیوں کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے۔ الٹا مجھے بن تنخواہ کا نوکر بنا کرہمیشہ مجھ پر حکم چلاتی رہتی ہو۔ڈیری فارم کا سارا کام کرواتی ہو،گوبر صاف کرواتی ہو ،اپھلے بنواتی ہو۔اور خود کبھی لندن کبھی سویڈزرلینڈ کی ٹور کرتی رہتی ہو ۔لیکن مجھ کو دینے کے لیے نہ تمہارے پاس پیسے ہوتے ہیں اور نہ ہی وقت۔ تمہارے پیار میں میری کتنی تذلیل ہوتی ہے ،یہ صرف میں جانتا ہوں ۔تم اچھی طرح جانتی ہو کہ میرا ایمپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس تھا ،لیکن میں تمہاری خاطر اپنے بزنس کو جوئے میں ہار کرتمھارے ڈیری فارم میں ملازم ہو گیا ۔پچھلے دنوں جب دودھ دھونے والی مشین خراب تھی تو سارا دودھ میں ہی دھوتا تھا ،تمہا ری کان کٹی بھینس نے لاتیں مار مار کر میرے سر کو مریخ سیارہ بنایا دیا ہے ۔اور تو اور اُس دن تمھارے کمینے منیجر نے ،سونالی ،گائے کے بجائے طبیلے میں گدھا باندھ دیا تھا ،اتفاق سے لائٹ بھی نہیں تھی ۔میں سونالی سمجھ کردودھ دھونے کی کوشش کرتا رہا ،وہ بے چارا کافی برداشت کے بعد جب ڈھنچوں ڈھنچوں کرنے لگا تب مجھے معلوم ہو اکہ یہ دودھ کیوں نہیں نکل رہا ہے ۔اب بتاو اتنی تذلیل کے با وجود بھی تم مجھ سے خوش نہیں ہو ۔اُلٹا کوئے مجنوں سے میری برائیاں کرتی رہتی ہو کہ رانجھا شاپنگ نہیں کراتا ،رانجھا پلاں نہیں کراتا۔سن لو ،،پاروتی،، اگر تمھیں مجنوںپسند ہے تو شوق سے لائنیں مارو ،میں نہیں جلتا ۔لیکن یاد رکھنا میں چپ نہیں رہوں گا ،تم سے انتقام لوں گا ،تمھارے مٹکے میں سوراخ کرکے تجھے راوی میں غرق کر دوں گا۔ہاں بچو ۔۔میری فکر مت کرو ماں کی دعا سے مجھ پر بہت مرتی ہیں ،اُس دن رانگ نمبر پر شیرین باجی سے بات ہوئی تھی ۔وہ فرہاد سے سخت نالاں اور مجھ سے بہت فری لگ رہی تھی ،جب اُس نے فرہاد کی بےوفائی کی دکھ بھری کہانی سنائی تو میں نے اُسے دلاسہ دیا کہ،شیرین جانو ، تم فکر مت کرو میں ہوں نا۔۔۔مم مم میں فرہاد کو سمجھا دوں گا ۔لیکن اگر تم مجنوں کو دانہ ڈالنے سے باز نہ آئی ،تو دنیا کی کوئی بھی طاقت مجھے شیرین پر ڈور ڈالنے سے نہیں روک سکے گی ۔ہا ہا ہا ۔۔۔پھر اپنا ڈیری فارم سنبھالتی رہنا ۔اورہاں تم نے ٹی وی کے جس ایڈ کے لیے ایپلائی کی تھی اُسکا پروڈیوسر آیا تھا ،تم موجود نہیں تھی اس لیے اُنہوں نے عابد پروین کو سائن کرکے میرا دل خوش کر دیا ۔ایک بات اور تمھاری بغیر دم والی گھوڑی کو فروخت کرچکا ہوں پارٹی کی طرف سے آفر اچھی تھی لہذا اُسکے دم میں تمھاری وگ کی سرجری کرکے پارٹی کو تمھادی ،لہذا آتے وقت اپنے وگ کا بندوبست کرتی آنا ،باقی میںمزید تمھاری نوکری نہیں کرسکتا ،مجھے ریزائن دینا ہے ۔لہذا جلد آنے کی کوشش کرنا ۔
والسلام
تمھارا ۔۔ناراض رانجھا ۔پاکستان
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
03 Dec, 2011 Total Views: 180 Print Article Print
About the Author: جان عالم سوات

Read More Articles by جان عالم سوات: 21 Articles with 9311 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB