ایک ستارہ اور ٹوٹا

(Rashid Ashraf, Karachi)

میرا پیغام تعزیت ہے جہاں تک پہنچے ۔

شہرت بخاری نے اپنی خود نوشت کھوئے ہوؤں کی جستجو میں لکھا تھا کہ یہ موت مجھے کہیں مجسم حالت میں مل جائے تو میں اس کا منہ نوچ لوں ، کلیجہ چبا لوں۔یہ ڈائن بار بار ہمارے پیاروں کو ہم سے جدا کردیتی ہے۔
موت لے جائے گی مہ پاروں کو
ہائے یہ لوگ بھی مر جائیں گے

لیکن صاحبوں ! موت تو برحق ہے ۔۔۔ اپنا وار کرتی رہے گی۔ علم تصوف میں بتایا جاتا ہے کہ زمانے میں ہمہ وقت " حشر نشر " کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک سمت سے ہر لحظہ مخلوقات کو دنیا میں نشر کیا (پھیلایا) جارہا ہے اور دوسری جانب انہیں حشر (جمع ہونے/سمیٹے جانے)کا سامنا ہے۔ یوں زمانے کی گود میں ازل سے ترتیب و ابتری حرکت میں ہیں، اور روئے زمین پر اسی طور ابد تک محبت اور موت کی نبرد آزمائی جاری رہے گی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (ترجمہ): " یہی ہے ازل سے تیرے رب کا طریقہ اور تو ابد تک اس میں کوئی تبدیلی نہ پائے گا “۔

فیض لدھیانوی (وفات:۶ جنوری ۵۹۹۱۔لاہور) کا کیا خوب اور منفرد شعر ہے:
میں ہوں ناواقف مگر ہر سال آتی ہے ضرور
فیض جس کو کل کہیں گے میری تاریخ وفات

اے حمید صاحب نے اپنے ایک یادگار ناول ڈربے (مطبوعہ ۰۶۹۱) میں ایک گورکن کی زبانی موت کے فلسفے پر سادہ و دلنشین انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: اس گورکن کی ہر نصیحت کسی نہ کسی مقولے پر ختم ہوا کرتی۔ وہ پڑھا لکھا بالکل نہ تھا مگر اس کی باتیں دور دور کی خبر لایا کرتیں۔ موت کے فلسفے پر وہ اس قدر آسانی سے روشنی ڈالا کرتا کہ ہر لفظ جگنو کی مانند چمک چمک کر اپنا مفہوم بتا دیتا تھا: " لوگ موت سے خواہ مخواہ ڈرتے ہیں۔سچ پوچھو تو زندگی کے لیے یہ بڑی ضروری شے ہے۔ ہمیں پھول کیوں اچھے لگتے ہیں ؟ اس لیے کہ وہ تھوڑی دیر کے لیے کھلتے ہیں۔اور پھر مرنے سے ہمیں نقصان ہی کیا ہوتا ہے۔ یہی نا کہ ہم اس دنیا میں باقی نہیں رہتے، تو اس میں حرج کی بات کیا ہے۔اگر موت نہ ہوتی تو لوگ پہاڑوں سے کودتے، پتھر باندھ کر دریاؤں میں چھلانگ لگاتے، انجن تلے سر دیتے۔ پھر سوچو زندگی کتنی گھناؤنی ہوتی۔ بھئی میں تو ہنسی خوشی جان دوں گا۔ موت کا اسقبال تہوار کی صورت ہونا چاہیے۔ برخوردار یہ سب دکھوں کا آخری علاج ہے۔

کہتے ہیں اگلے وقتوں میں روح قبض کروانے پر مامور فرشتے کو آتا دیکھ کر لوگ دشنام طرازی کیا کرتے تھے۔ طے پایا کہ اس سے بچنے کے لیے موت کے مختلف ذرائع مقرر کردیے جائیں ۔لہٰذا ہم نے دیکھا کہ اے حمید صاحب نمونیہ کے شدید حملے کا شکار ہوئے اور تقریباً دو ماہ تک اسپتال میں داخل رہنے کے بعد کل رات دو بجے انتقال کر گئے۔ انا للہ و انا علیہ راجعون

وہ تما عمر سکرات کے اس عالم سے محفوظ رہے جس سے خاص کر ہمارے معاشرے کا کم و بیش ہر ادیب و شاعر گزرتا ہے یعنی زندگی میں قدر نہ ہونے کا احساس۔اے حمید صاحب کو ان کے چاہنے والوں سے بے اندازہ محبت ملی!

آج علی الصبح ان کے انتقال کی خبر آج ٹی وی نامی چینل سے ملی۔ سات بجے راقم نے ان کی رہائش گاہ پر فون کیا اور ان کی اہلیہ سے بات ہوئی۔وہ اسپتال میں پچھلے دو ماہ سے مقیم تھیں جہاں پنجاب حکومت نے ان کے لیے ایک کمرہ مخصوص کردیا تھا۔ ان کو اسپتال انتظامیہ نے رات دو بجے اطلاع دی کہ حمید صاحب کی حالت نازک ہے۔ جب وہ کمرے میں پہنچیں تو حمید صاحب جاچکے تھے!۔۔۔۔ کل رات اچانک ان کے جسم میں پانی بھرنا شروع ہوگیا تھا اور دو بجے ان کا انتقال ہوگیا۔ مجھ سے گفتگو کرتے وقت حمید صاحب کی اہلیہ کا لہجہ پرسکون تھا۔ وہ کہہ رہی تھیں: حمید صاحب کے چہرے پر بڑا سکون تھا اور کئی لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ انتقال کے بعد ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔

میں نے دریافت کیا کہ اس وقت ان کا جسد خاکی کہاں ہے تو ان کی اہلیہ نے بتایا کہ ابھی ابھی ان کو اسی کمرے میں لایا گیا ہے جہاں میں (راقم) ۸۰۰۲ میں ان سے ملاقات کی غرض سے دیر گئے تک بیٹھا رہا تھا۔ آج یعنی بروز جمعہ، بعد نماز ان کا جنازہ ہے۔

چشم تصور سے میں نے وہ منظر دیکھا ور بوجھل دل کے ساتھ روایتی تعزیتی جملے کا سہارا لیا:
اللہ آپ کو وقت کے ساتھ صبر دے!
بیٹا! وقت تو میرے لیے رک گیا ہے، ختم ہوگیا ہے، تو یہ صبر کیسے آئے گا ؟
حمید صاحب کی اہلیہ کے اس جواب سے میری آواز میرا ساتھ چھوڑ گئی۔

اے حمید صاحب اپنی خود نوشت تحریر کر رہے تھے اور میں اکثر ان سے اس بارے میں فون پر دریافت کرلیا کرتا تھا۔ شاید کم لوگ یہ بات جانتے ہوں گے کہ انہوں نے اپنی خود نوشت کا عنوان “ چھوڑ آئے وہ گلیاں “ مقرر کیا تھا۔

فارغ بخاری کی خود نوشت “ مسافتیں “ کا آخری باب ان کے بیٹے قمر عباس نے تحریر کیا تھا جو خود بھی ایک مصنف تھے اور بعد ازاں ۷ مئی ۷۰۰۲ کے روز پشاور میں قتل کردئے گئے تھے۔

حمید صاحب! اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی عنایتوں کے سائے تلے ہمیشہ رکھے۔۔۔لیکن آپ کی خود نوشت کا آخری باب کون تحریر کرے گا ؟

(اے حمید صاحب پر ان کی بیماری کے دوران راقم نے ایک مضمون تحریر کیا تھا جسے یہاں پڑھا جاسکتا ہے):
http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=12711
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
29 Apr, 2011 Total Views: 697 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Rashid Ashraf

Read More Articles by Rashid Ashraf: 107 Articles with 56060 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
سعیدہ صاحبہ اور محترم امین صاحب! اللہ تعالیٰ آپ کی دعا قبول فرمائے
بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے جانے کا افسوس دل کی گہرائیوں سے ہوتا ہے ورنہ یہاں تو ہر چیز رسمی طور پر کہی جاتی ہے اور تجارتی پہلو غالب رہتا ہے
By: Rashid Ashraf, Karachi on Apr, 30 2011
Reply Reply
0 Like
ALLAH UN KI MAGFIRAT KRY,AAAMEN
THNX RASHID,BOHT ACHA LIKHA AP N,
By: amatullah saeeda, islamabad on Apr, 29 2011
Reply Reply
0 Like
راشد بھائی بہت ہی اعلیٰ خراج ِتحسین پیش کیا ہے۔ اللہ اے حمید کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آٓمین
By: AMIN BHAYANI, Atlanta, Ga-USA. on Apr, 29 2011
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB