|
|
بابر تنویر کے اس موضوع پر دونوں کالم کے جواب میں فقیر نے مسلک حقہ کو واضح کرنے کے لئے دو عدد کالم پوسٹ کر دئے ہیں لہٰذا ان کا مطالعہ ضرور فرمائیں لنک پیش خدمت ہیں۔
http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=11642 http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=11640 |
|
|
By:
Muhammad Saqib Raza Qadri,
Karachi
on
Feb, 17 2011
|
|
|
|
|
|
|
| جناب محمد ثاقب رضا قادری صاحب۔ ذرا اپنے علماء سے یہ بھی پوچھ کر بتا دیجیے گا کہ کسی کذاب راوی کو کذاب کیوں کہا جاتا ہے۔ |
|
|
By:
Baber Tanweer,
Karachi
on
Feb, 14 2011
|
|
|
|
|
|
|
جناب محمد ثاقب رضا قادری صاحب۔ کیا دھرا معیار ہے آپ کا۔ جب آپ اپنے کمنٹس میں دوسرے آرٹیکلز کا حوالہ دیں تو ٹھیک اور اگر میں اسی طرح کا کوئیو حوالہ دوں تو موضوع سے ہٹنے کا طعنہ۔ جناب آپ نے اپنے آپ کو اہلسنت کا خطاب دے ڈالا تو یہ بھی یہاں لکھ دیجیے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی جن کی نسبت سے آپ قادری کہلاتے ہیں انہوں نے اہلسنت کی کیا تعریف کی ہے۔ ابھی تک آپ میرے پیش کیے گئے ان دو اشعار کے حصار سے ہی باہر نہیں نکل سکے۔ ابھی تو بہت سے اشعار باقی ہیں۔ ابھی تک آپ ان کی وضاحت ہی نہیں پیش کر سکے۔ اس لیے میں نے وہ اشعار آپ کی خدمت میں پیش نہیں کیے۔ حہاں تک چوری کے بارے میں آپ کا یہ دعوے کا تعلق ہے تو میں اس کا انتظار کروں گا۔ 3 ماہ تک آپ الوہیت کے معیار کے بارے میں مجھ سے دریافت کرتے رہے مگر آج تک آپ کو خود اس کی تعریف بیان کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ آپ کو اس بات کی مبارکباد دیتا ہوں کہ آپ کو میرے مسلک کا پتہ چل گیا۔ یعنی میرا مسلک آپ کو معلوم ہو گیا کہ جو صحابہ کا مسلک تھا وہی میرا بھی مسلک ہے۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔ |
|
|
By:
Baber Tanweer,
Karachi
on
Feb, 12 2011
|
|
|
|
|
|
|
جناب محمد ثاقب رضا قادری صاحب۔ افسوس ہوتا ہے آپ کے بحث کے انداز پر۔ آپ بلا سوچے سمجھے ہی بحث کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر میری پیش کی گئی روایت کو درست مان لیا جائے تو اس میں تو آپ نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ حکم دیا کہ خون کو جا کر بہا دو تاکہ اسے کوئی دیکھ نہ لے۔ مگر جناب عبداللہ بن زبیر نے اسے پی لیا۔ مطلب یہ کہ انہوں نے آپ کی حکم عدولی کی۔ جس کے نتیجے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لوگوں کے لیے ہلاکت قرار دیا اور لوگوں کو ان کے لیے۔ اگر اسی بات پر آپ غور کر لیتے تو اس روایت سے اجتناب کرتے۔ اس کے علاوہ آپ نے اس روایت کے راویوں پر غور کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ آپ کی خدمت میں پھر پیش کرتا ہوں۔ پہلے طریق میں موسیٰ بن اسماعیل مجہول ہے۔اور دوسری طریق میں علی بن مجاھد کذاب اور رباح النوبی کے بارے میں معلوم ہی نہیں کہ وہ کون ہے۔ اسی طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی نجاست کے بارے میں بیان کردہ روایتوں کی حقیقت کچھ اس طرح ہے۔ پہلے طریق میں حسین بن علوان اور دوسرے طریق میں محمد بن حسان بھی کذاب ہیں۔ اب آپ اپنے علماء سے کذاب، متروک اور مجھول راویوں کے بارے میں محدثین کی رائے دریافت کیجیے۔ ان سے یہ بھی دریافت کیجیے کہ یہ کیسا اصول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بیان کرنے کے لیے اس طرح کی روایتوں کا سہارا لیا جائے۔ یہ تو آپ کی شان اور آپ کے حکم دونوں کے صریحاً خلاف ہے۔ دوسری بات یہ کہ جو اصول آپ نے مبینہ طور پر جمھور علماء کے حوالے سے اختیار کیا ہے۔ کیا اس کی تائید امام بخاری، امام مسلم، ابو داود، ابن ماجہ یا ان مشہور محدثین سے بھی ہوتی ہے جن پر جمھور علماء کا اعتماد ہے۔ اسی طرح کیا مام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی یا امام احمد بن حنبل نے بھی ایسا کوئی اصول وضع کیا تھا۔ ان سب باتوں کی تحقیق کیجیے اور انشاء اللہ اس تحقیق کے بعد آپ کو محسوس ہوگا کہ جو خطاب آپ نے مجھے دیا تھا اس کے اصل حقدار تو آپ خود ہی ہیں۔ والسلام۔ |
|
|
By:
Baber Tanweer,
Karachi
on
Feb, 12 2011
|
|
|
|
|
|
|
اپنی من گھڑت تعریفات سے کیا استنباط کرنا چاپتے ہو موضوع کے لفظ پر ہی غور کر لیتے جو کہ وضع سے بنا ہے اور وضع کا معنی اپنے پاس سے گھڑ لینا ہوتا ہے اور موضوع روایت وہ ہوتی ہے جو کہ من گھڑت ہوتی ہے اور اس کا بالکل بھی اعتبار نہیں کیا جاتا۔ جہاں تک رہی بات ضعیف حدیث کی تو میں پہلے بھی تحریر کر چکا ہوں کہ ضعیف حدیث عندالاعمال و فضائل مقبول ہے اور اس بات پر محدثین کا اجماع ہے۔
میں ہر بار تمھیں یہی کہتا رہا ہوں کہ جو موضوع ہو اس پر بات کیا کرو تم خوامخواہ بیچ میں دوسرے موضوعات لے آتے ہو لیکن اور تم کر بھی کیا سکتے ہو تمھارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں کسی بھی موضوع پر تم لوگ جم کر گفتگو نہیں کر سکتے ۔ لیکن انشاء اللہ فقیر اہلسنت ہمیشہ موضوع پر ہی گفتگو کرے گا باقی رہے آپ کے پیش کردہ اشعار تو میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور اب پھر کہے دیتا ہوں کہ جب یہ موضوع سخن ہو گا تو اس پر بھی مفصل کلام کریں گے۔ اور انشاء اللہ فقیر آپ کی چوری ثابت کرے گا
الحمد للہ فقیر کا نام ہی اس کے مسلک کی ترجمانی کرتا ہے لیکن آپ میں تو ابھی تک اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ اپنا مسلک ظاہر کر سکیں جن علماء کو تم اپنا مقتدا مانتے ہو ان کے نام بتا سکو۔ خیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے اتقوا فراست المومن مومن کی فراست سے ڈرو بے شک وہ اللہ کے نور سے دیکھ لیتا ہے
آپ نہ بتائیں لیکن فقیر کو آپ کے مسلک کی مکمل شناخت ہو چکی ہے |
|
|
By:
Muhammad Saqib Raza Qadri,
Karachi
on
Feb, 11 2011
|
|
|
|
|
|
|
محترم چیلنج اور دعوے نہ کیا کریں۔ کیونکہ آپ کے کئی دعوے غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ جہاں تک گستاخی کی بات ہے ایک بات یہیں کردوں کہ میں نے ہر فورم پر آپ کی خدمت میں یار محمد فریدی کے اشعار پیش کیے مگر آپ نے ایک بار بھی ان کی مذمت نہیں کی۔ آپ کو پھر دعوت دیتا ہوں کہ ان اشعار کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرنے والے اور اس کی عزت و تکریم کرنے والوں کی مذمت میں دو الفاظ یہاں لکھ دیجیے۔ اسی طرح میں نے جب آپ کی خدمت میں صحیع احادیث پیش کیں تو آپ نے ایک مرتبہ بھی یہ نہ مانا کہ یہ احادیث صحیع ہیں۔ محترم آپ گستاخی کی بات کرتے ہیں قرآن پاک میں آپکی تحریف کے متعدد ثبوت میں نے آپ کو دیے مگر آپ نے ان کو نہ مانا۔ تو جناب یہی گستاخی ہے جس کا ذکر میں بارہا کر چکا ہوں۔ مجھ سے جس طرح آپ آپ مخاطب ہوتے ہیں تو مجھے اس کی وجہ معلوم ہے۔ آپ اس بارے میں مجبور ہیں۔ آپ کو یہی کچھ سکھایا گیا ہے۔ اگر حکم ہو تو آپکے امام کی تحریر کے کچھ نمونے آپ کی خدمت میں پیش کردوں۔ اور بتاؤں کہ کس طرح اس میں بازاری اور فحش قسم کی زبان استعمال کی گئی ہے۔ حوالہ ان ہی کی کتابوں کا ہوگا۔ جسے آپ جھٹلا نہ سکیں گے۔
یعنی آپ کا مطلب ہے کہ اعمال و فضائل کا ذکر کرنے میں نبی پاک کا نہایت واضح حکم نظر انداز کردیا جائے جس کا ذکر میں نے اپنے کالم کے شروع میں کیا ہے۔ اور یہ نہ دیکھا جائے کہ یہ روایت کسی بھی درجے میں ضعیف ہے۔ اور آپکی یہ گستاخی ہی قابل گرفت ہے کہ نبی پاک کے فضائل میں وہ کچھ لکھ رہے ہیں جن کی صحت کے بارے میں شبہ ہے۔ اور پھر آپ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ میں نبی پاک کی ناموس کی حفاظت کر رہا ہوں۔ اللہ آپ پر رحم کرے۔ و السلام |
|
|
By:
Baber Tanweer,
Karachi
on
Feb, 11 2011
|
|
|
|
|
|
|
جناب محمد ثاقب رضا قادری صاحب مجھے جاہل کا خطاب دینے سے پہلے ذرا علماء کی زبانی ضعیف روایات کی تعریف سن لیجیۓ۔ " صعیف حدیث ہو ہے جس کا راوی عادل اور ضابط اور متقن نہ ہو۔ بلکہ اس کے حافظہ کی کمی اور نقص ہو یا عقیدہ اور مروت کے لحاظ سے مجروح ہو۔ ضعف دو طرح سے ہوتا ہے :- 1- راوی کی وجہ سے۔ " اس میں ضعف کی وجہ راوی کا سوء حفظ ، کثرت غفلت ، فحش خطا ، جہالت، فسق، کذب، اور متہم بالکذب ، بدعت ، اور اضطراب ثابت ہونا ہے" 2- سند کی وجہ سے- " اس کے میں۔ مرسل، معطل، معلق ، منقطع، ، مدلس، شاذ ، منکر، موضوع، باطل اور بے اصل روایات ہیں۔ میرے عالم و فاضل بھائ مجھے کوئ خطاب عطا کرنے سے پہلے تھوڑا مطالعہ کر لیا کریں۔ تاکہ بعد میں آپ کو کوئ شرمندگی نہ ہو اب ذرا آنکھیں کھول کر دیکھ لیں کہ موضوع روایات بھی ضعیف روایت کی ہی ایک قسم ہے۔ مطلب یہ کہ مجھے جاہل کہنے والے کا اپنا جہل ہی یہاں ثابت ہو گیا۔ اللہ آپ کو اس جہل سے بچاۓ۔ اور آپ نے پھر اپنے امام کا حوالہ مجھے دیا۔ اس پر میں آپ کو ایک بار پھر وہ اشعار پیش کردوں جو میں اس سے پہلے پیش کر چکا ہوں۔ بندگی سے آپ کی ہم کو خداوندی ملی۔ ہے خداوند جہاں بندہ رسول کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ استغفراللہ۔ دوسرا شعر بھی ملاحظہ فرما لیجیۓ۔ اس میں یار محمد صاحب اپنے پیر و مرشد کے متعلق کہتے ہیں۔ کیا خدا کی شان ہے یا خود خدا ہے جلوہ گر۔ ملتی ہے اللہ سے تصویر میرے پیر کی۔۔۔۔۔۔۔۔ استغفراللہ ہر پڑھنے والا غور کرے کہ کس بے دردی سے اللہ کی شان میں گستاخی کی گئ ہے۔ اور پھر جب آپکے امام صاحب اس قسم کے اشعار کہنے والے کے گلے میں ہار پہنائین اور مختلف علماء ان کی تعریف کریں تو کیا خیال ہے کہ وہ بھی اس گستاخی کا حصہ ہوۓ یا نہیں۔ اسی طرح میری پیش کی گئ ضعیف احادیث میں پر یقین کرنے والا بھی دانستہ طور پر نبی پاک کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ میرے بھائ میرا اگلا آرٹیکل نبی پاک کے بارے میں ان روایات پر تھا جو کہ صحیع احادیث سے ثابت ہیں۔ میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ وہ روایات تلاش کریں اور یہاں پیش کر دیں۔ پھر دیکھیں سب سے پہلے میں آپ کو خراج تحسین پیش کروں گا۔ و السلام
|
|
|
By:
Baber Tanweer,
Karachi
on
Feb, 10 2011
|
|
|
|
|
|
|
کس قدر افسوس کی بات ہے کہ میں قارئین کرام کو دعوت انصاف دیتا ہوں کہ میرے تحریر کئے گئے ان اشعار میں سے کون سا شعر گھٹیا ہے بغض مصطفی نے بابر کی عقل پر پردے ڈال رکھے ہیں
عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے یہ گھٹائے اسے منظور بڑھانا تیرا
مزید بابر کے کہنے کے مطابق یہ روایات ضعیف ہیں میں نے ان کی صحت پر کسی قسم کی گفتگو کی بجائے صرف ضعیف حدیث کا حکم بیان کیا تھا کہ اگر یہ روایات ضعیف ہوں تو پھر بھی اجماع محدثین اس بات پر ہے کہ ضعیف روایت بھی عند الاعمال و فضائل مقبول ہوتی ہے جس کو بابر نے بالکل ہی صرف نظر کر دیا اور مجھے محدثین کی تاریخ ولادت و پیدائش مہیا کرنے کا کہا جناب اس کی کوئی حاجت نہیں میں نے تو صرف ضعیف حدیث کا حکم بیان کیا ہے
مزید میں چیلنج کرتا ہوں کہ بابر تنویر ثابت کرے کہ میری کون سی بات گستاخی پر مبنی ہے الحمد للہ میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ناموس کا ایک ادنی درجہ کا سپاہی ہوں جو ہماری ویب پر بابر کے گمراہ کن کالمز پر اس کا تعاقب کر رہا ہوں
یہی آرزو جو ہو سرخرو ملے دو جہان کی آبرو میں کہوں غلام ہوں آپ کا وہ کہیں کہ ہم کو قبول ہے
باقی رہی آپ کے اس جھوٹ کی کہ میں آپ سے ہر کالم میں لاجواب ہوا ہوں مجھے خوشی ہے کہ آپ نے خود ہی یہ دعوت دے دی کہ لوگ غیر جانبداری سے ان کالمز کا مطالعہ کر لیں اور ان میں میرے اور آپ کے کمنٹس ملاحظہ کر لیں۔ میں اس کی بھر پور ترغیب دلاتا ہوں کہ ضرور لوگ غیر جانبداری سے ان کا مطالعہ کریں ان شاء اللہ تعالی آپ کا یہ جھوٹ بھی لوگ جان جائیں گے
|
|
|
By:
Muhammad Saqib Raza Qadri,
Karachi
on
Feb, 10 2011
|
|
|
|
|
|
|
بہت خوب جناب محمد ثاقب رضا قادری صاحب۔ پھر اپنی گھٹیا شاعری والے اسلوب کی طرف لوٹ گئے۔ واقعی مجھ سے عنوان لکھنے میں غلطی ہوئی۔ دراصل عنوان میں "ضعیف اور موضوع" روایت لکھنا میں نظر انداز کر گیا۔ جس پر آپ سے معافی چاہتا ہوں۔ میں نے یہ کب کہا کہ جو روایت صحیحین میں نہیں ہے وہ ہمیشہ غلط ہوتی ہے۔ لیکن یہاں جو روایات پیش کی گئیں ہیں وہ اتنی اہمیت کی حامل ہیں کہ ان کا ذکر ضرور ان میں ہونا چاہیۓ تھا۔ اور ایک بات آپ ضرور نوٹ کر لیں کہ آپ ہمیشہ اتنے خود ساختہ اولیاء کو انبیاء کے برابر لا کھڑا کرتے ہیں۔ حالانکہ اولیاء اور انبیاء میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ ضعیف روایت کو حسن روایت کی سیڑھی چڑھانے کا فلسفہ اسی وقت قابل قبول ہوتا ہے جب۔ وہی یا اسی سے ملتی جلتی روایت کسی اور حدیث میں ثقہ راویوں سے ثابت ہو۔ مگر جو روایات میں نے یہاں پیش کی ہیں ان کی تائید کسی بھی اور حدیث میں صحیح اسناد سے ثابت نہیں ہوتی۔ اور پھر جن محدثین نے ان کا تعاقب کیا ہے وہ آج کے زمانے کے محدثین نہیں ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو ان سب کی تاریخ پیدائش و وفات بھی لکھ دوں تاکہ آپ یہ نہ کہہ سکیں کہ آج کے دور کے علماء نے اپنے عقائد کی وجہ سے ان روایات کو ضعیف اور موضوع کہا ہے۔ اور جن کتابوں کا حوالہ میں نے دیا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو ان کی کاپی اسکین کر کے ہماری ویب کو پہنچا دوں گا۔ کم از کم وہ میری تحریر کی صداقت کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ میں نے آپ کو ہر جگہ اپنے دلائل سے لاجواب کیا ہے۔ اور آپ تو وہ ہیں کہ میرے جواب دینے سے پہلے ہی اپنی فتح کا جشن منانا شروع کر دیتے ہیں۔ کوئی بھی شخص غیر جانبداری سے دوسری کالمز میں میری اور آپ کی گفتگو کا تجزیہ کرے گا تو اسے میری صداقت کا اور آپ کے حق کو جھٹلانے کہ ثبوت واضح طور پر ملے گا۔ اگر آپ کی آنکھوں پر مسلک کا پردہ نہ پڑا ہوتا تو آپ جھوٹی روایات پیش کر کے نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی نہ کرتے۔ |
|
|
By:
Baber Tanweer,
Karachi
on
Feb, 10 2011
|
|
|
|
|
|
|
اسلام علیکم ضمیر حسین ہاشمی صاحب
میں آپ سے بطور ہماری ویب موڈریٹر مخاطب ہوں- اطلاع عرض ہے کہ آپ کا میلاد کے حوالے سے مجھے کوئی تبصرہ موصول نہیں ہوا ہے یہاں تک کہ میں اس کو دوبارہ چیک کر چکا ہوں آپ سے گزارش ہے کہ آپ اس کی کچھ نشاندھی فرمائیں کہ آپ نے یہ کس آرٹیکل پر کیا تھا اور ہوسکے تو یہ بھی بتا دیں کہ کب کیا تھا تاکہ اس بابت آپ کو درست آگاہی فراہم کی جاسکے-
شکریہ |
|
|
By:
hamariweb moderator,
Karachi
on
Feb, 09 2011
|
|
|
|
|
|
|
بابر تنویر کی جہالت پر اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ کالم کے عنوان میں لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے متعلق موضوع احادیث لیکن جناب پورے کالم میں انھوں نے روایات نقل کرنے کے بعد ضعیف کا قول کیا ہے جس بندے کو ضعیف اور موضوع کے فرق کا نہیں پتہ اسے شرم کرنی چاہیے کہ وہ کس ہستی کے بارے بات کر رہا ہے
جے لکھ واری عطر گلابوں دھوئیے نت زباناں نام اونھاں دے لائق ناہیں کیہ قلمے دا کاناں
مزید جہالت ملاحظہ فرمائیں کہ جناب فرماتے ہیں کہ اگر یہ روایات صحیح ہوتیں تو ان کا ثبوت صحیحین سے ملتا میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا صحیحین کے علاوہ دیگر کتب احادیث غیر معتبر ہیں کیا ان کے اندر کوئی بھی حدیث درجہ صحت تک نہیں پہنچتی ، عجب منطق ہے کہ اپنے من پسند اصول کتنی ڈھٹائی سے وضع کیے جا رہے ہیں۔
ذکر روکے فضل کاٹے نقص کا جویاں رہے پھر کہے مردک کہ ہوں امت رسول اللہ کی |
|
|
By:
Muhammad Saqib Raza Qadri,
Karachi
on
Feb, 09 2011
|
|
|
|
|
|
|
اب میں صرف ایک علم الحدیث کے متعلق ایک بنیادی بات کی طرف اشارہ کرتا ہوں جس سے عوام الناس کی لا علمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ کے طبقہ کے حضرات اپنے نظریات کا پرچار کرتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں چنانچہ تمام محدثین کا اس بات پر اجماع ہے کہ ضعیف حدیث عند الاعمال و فضائل مقبول ہے۔ کسی حدیث کے بارے میں محدثین کا یہ کہنا کہ یہ ضعیف ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غلط ہے یا وہ من گھڑت ہے بلکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے وہ الگ بات ہے کہ اس کے راوی میں ضعف پایا جاتا ہے اور پھر بعض اوقات ضعیف حدیث کو تقویت مل جاتی ہے کسی بزرگ شخصیت کے تعامل سے یا قول سے یہاں تک کہ بعض اوقات وہ درجہء حسن تک پہنچ جاتی ہے
میں ابھی بابر صاحب کی روایات کو ضعیف نہیں مان رہا بلکہ ان کے ضعیف کہنے پر میں نے ضعیف کا حکم اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ رہی بات ان روایات کی تو ان کی صحت کی تحقیق ایک الگ مسئلہ ہے اور وہ بھی ضرورت پڑنے پر پیش کی جا سکتی ہے |
|
|
By:
Muhammad Saqib Raza Qadri,
Karachi
on
Feb, 09 2011
|
|
|
|
|
|
|
سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
آنکھ سے کاجل صاف چرا لیں یاں وہ چور بلا کے ہیں تیری گٹھری تاکی ہے اور تو نے نیند نکالی ہے
بابر صاحب کبھی اگر خدا نے کچھ سوچنے کی صلاحیت دی ہوئی ہے تو ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچو کہ تم اپنی جہالت کی وجہ سے دین کا کس قدر نقصان کر رہے ہو اور تمھاری وجہ سے اگر کوئی شخص فتنہ میں پڑ گیا تو اس کا وبال بھی تمھارے سر ہو گا
بہر حال تمھارے اس کالم کا مفصل جواب بھی تم کو مل جائے گا اور جس طرح تم باقی کالمز میں اپنے گمراہ کن نظریات کے دفاع میں ناکام رہے ہو انشاء اللہ اس میں بھی ناکام رہو گے۔
پہلے تو میں یہ بات برملا کہنا چاہتا ہوں کہ ان تمام روایات کی تحقیق فی الوقت میرے پیش نظر نہیں لیکن انشاء اللہ جلد ہی ان کو بھی شامل کر لیا جائے گا۔ فی الوقت میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ بابر صاحب آخر کیا وجہ ہے کہ آپ کی طبیعت ہمیشہ ایسے موضوع کا ہی انتخاب کیوں کرتی ہے کہ جس سے آپ انبیا و اولیا کے فضائل و مناقب کو کم ثابت کر سکیں اور ان میں کمی کر سکیں ، اسی بخار کی طرف میرے امام نے کہا تھا کہ
وہ حبیب پیارا تو عمر بھر کرے فیض و جود ہی سر بسر ارے تجھ کو کھائے تپ سقر تیرے دل میں کس سے بخار ہے |
|
|
By:
Muhammad Saqib Raza Qadri,
Karachi
on
Feb, 09 2011
|
|
|
|
|
|
|
|
Zameer bhai moderator ku na pukaren. agar aap ka pass is issue per koi sahih hadith ha tu wu bian keren. aap ka pass nahi ha tu apny Ulmah se rajo keren. sothat hamary ilm mein bi azafaa hu ka aap ka is issue per kia stand ha aur aap ka pass kia daleel ha.
|
|
By:
Khalid Mahmood,
Bahwalpur
on
Feb, 09 2011
|
|
|
|
|
|
|
|
Moderator saheb mene kitnay din se Meelad Shareef k baray mein aik fatwa bheja hua hai....lekin vo tau apne publish nhe kya ... lekin gustakhan qisam k nazriyat aur soch per mushtamil background ka article publish ker diya....afsos he ker skta hun
|
|
By:
zameer hussain hashmi,
Abu Dhabi
on
Feb, 09 2011
|
|
|
|
|