فیس بک اور گوگل آپ کے متعلق کیا کچھ جانتا ہے؟

 

ایک ایسے وقت میں جب کہ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کروڑوں لوگوں کے پرائیویٹ ڈیٹا اسیکنڈل پر معافی مانگ رہے ہیں اور اس سے متعلق سوالات کے جواب کے لیے امریکی پارلیمنٹ کے ارکان کے سامنے جا رہے ہیں، لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی ان کمپنیوں نے ان کے بارے میں کتنی معلومات اکٹھی کیں ہیں۔
 


فیس بک اس ہفتے ان 8 کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ افراد کو بتانا شروع کر رہی ہے کہ ان کے علم میں لائے بغیر ذاتی معلومات سیاسی مشاورت سے متعلق ایک کمپنی کیمبرج اینالیٹکا کو فراہم کر دی گئی تھیں۔ فیس بک فوری طور پر اپنے صارفین کے لیے ایسی تبدیلیاں متعارف کر ا رہا ہے جس سے وہ با آسانی اپنی معلوما ت پر کنٹرول رکھ سکیں گے۔

اب جب کہ فیس بک اپنے صارفین کے اعتماد کی بحالی کے لیے کئی تبدیلیاں لا رہی ہیں، بہت سے لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ فیس بک اور گوگل جیسی ہائی ٹیک کمپنیاں جو معلومات اکٹھی کرتی ہیں ، وہ ان معلومات کا کیا کرتی ہیں۔

یہ دونوں بڑی کمپنیاں صارفین کی معلومات حاصل کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتی ہیں۔

اگر آپ ان کے’ Setting ‘کے کالم میں جائیں تو وہاں آپ کو ’ آپ کی معلومات تک رسائی ‘یعنی Accessing Your Information کا خانہ دکھائی دے گا بڑی کمپنیوں نے یہاں آپ کے ڈیٹا کو ڈاؤن لوڈ کرنا بہت سہل بنا دیا ہے۔
 


آپ کے فیس بک یا گوگل اکاؤنٹ سے جو چیزیں ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہیں ان میں آپ کی پوسٹ، تصاویر، ویڈیوز، آپ کے میسج ، اور آپ کی چیٹ شامل ہے۔

ڈاؤن لوڈ کی جانے والی فائلز میں آپ کی پسند وناپسند اور شخصیت کے مختلف پہلوؤں سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں۔ ڈیٹا خریدنے والی کمپنیاں ان معلومات کو سامنے رکھ کر آپ کو اپنی مصنوعات کے اشتہارات بھیجتی ہیں۔

اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے اگر آپ انٹرینٹ پر کوئی چیز دیکھتے ہیں تو فیس بک، ان اشتہاری کمپنیوں، کو جو ان سے ڈیٹا خرید تی ہیں فوراً یہ اطلاع کرتی ہے کہ آپ اس قسم کی چیز میں دلچسپی لے رہے ہیں اور اگلے ہی لمحے آپ کو اس سے ملتی جلتی چیزوں کے اشتہارات آنے شروع ہو جاتے ہیں۔

فیس بک کے مقابلے میں گوگل کے پاس آپ کے بارے میں معلومات زیادہ ہیں۔ جب آپ گوگل میں ’ محل وقوع‘کا فیچر آن کرتے ہیں تو گوگل اپنے پاس یہ ریکارڈ رکھتا ہے کہ آپ کہاں پر ہیں، اگر آپ سفر کر رہے ہیں تو آپ کس سمت جا رہے ہیں اور یہ کہ آپ کہاں کہاں رکے اور یہاں تک کہ آپ نے کس ہوٹل میں کب کھانا کھایا کس شاپنگ مال یا دکان دفتر وغیرہ میں گئے۔

گوگل کے پاس آپ کا یہ ریکارڈ بھی محفوظ ہوتا ہے کہ آپ نے انٹرنیٹ پر کیا کیا سرچ کیا۔ اور اگر آپ یو ٹیوب پر گئے ہیں تو وہاں آپ نے کون سی ویڈیوز دیکھیں۔
 


آپ کے لیے یہ جاننا بہت آسان ہے کہ گوگل آپ کے متعلق کیا کچھ جانتا ہے ۔ اپنے بارے میں جمع شدہ معلومات کے بارے میں رسائی کے لیے اس لنک کر کلک کریں۔ myaccount.google.com اور پھر وہاں سے download all data. پر چلے جائیں۔ آپ نے ماضی میں جب سے گوگل پر جانا شروع کیا ہے، اس وقت سے اب تک کی تمام معلو مات آپ کو وہاں محفوظ پڑی مل جائیں گی۔ تاہم گوگل کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا آپ کے علاوہ کوئی اور نہیں دیکھ سکتا ۔

اگر آپ چاہیں تو اپنے اس ماضی کو ڈیلیٹ بھی کرسکتے ہیں، تاہم گوگل کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے آپ گوگل کی کئی خدمات سے محروم ہو جائیں گے کیونکہ یہ انٹرنیٹ سرچ انجن انہی معلومات کی مدد سے آپ کو سروسز فراہم کرتا ہے۔

ایک جانب فیس بک، گوگل اور دیگر ٹیک کمپنیاں آپ کی معلومات بیچ رہی ہیں تو دوسرے طرف صارفین کی سادہ لوحی کا یہ عالم ہے کہ وہ ان پر اندھا بھروسا کرتے ہیں۔ ایک حالیہ جائزہ رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ امریکہ میں 41 فی صد افراد فیس بک پر اعتماد کرتے ہیں۔ ایمزان پر بھروسا کرنے والوں کی تعداد 66 فی صد ہے جب کہ 62فی صد امریکیوں کو یقین کے ہے گوگل کی کمپنیوں میں ان کی معلومات محفوظ ہیں ۔


Partner Content: VOA

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
12 Apr, 2018 Total Views: 2047 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
It is cheating with peoples i apeal all people of the world please don't use YouTube Facebook Google First i delete these acount than you Thank You
By: Ammar Group, Karachi on Apr, 12 2018
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
As Facebook CEO Mark Zuckerberg testifies in front of Congress about the company's practices this week, Americans are waking up to just how much personal information tech companies have collected about them. Facebook said it will begin notifying 87 million people this week whose information was handed to political consultancy firm Cambridge Analytica without their knowledge. Facebook has also instigated several changes to make it easier for users to control their data.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB