بیوقوف گدھے اورایماندارگھوڑے!

(Sidra Subhan, Kohat)

ہم لوگ بھی بہت عجیب ہیں۔ کوئی جانور کہے تو سیخ پا ہوتے اور اگر شیر، گھوڑا یا شاہین کہہ دے تو فخر محسوس کرتے ہیں حالانکہ ہیں انکا شمار بھی انسانوں میں تو نہیں ہوتا۔ آج رابطہ کمیٹی نے بھی انسانوں کو دو قسم کے جانوروں میں تقسیم کر دیا، ایک تو ایماندار گھوڑے جو پروموشن کے حقدار ہیں جبکہ دوسرے بے ایمان اور کاہل گدھے جنہیں پروموشن سے زیادہ سزا کی ضرورت ہے۔ گدھوں اور گھوڑوں میں بہرحال فرق تو ہےاورپھر پاکستان میں تو راج ہی گدھوں کا ہے۔ حبیب جالب ہوتے تو کہتے کہ بیس کروڑ یہ گدھے جنکا نام ہے عوام۔۔۔ خیر بات ہو رہی تھی گدھوں کی جو کہ کاہل نالائق اور بیوقوف ہوتے ہیں۔ ہمیں بھی جب سکول جاتےوقت راستے میں گدھا نظر آجاتا تو خوش ہو جاتے کہ آج کوئی کلاس نہیں ہوگی. انہیں نہ تو سلیکشن کی خوشی ہوتی ہے نہ ہی ریجکشن کا ڈر اور نہ تو پروموشن کی امید۔ پاکستان میں ایسے بہت سے گدھے ہیں کہ جنہیں بس کام سے مطلب ہے۔ وہ ہر طرح کا بوجھ بھی اٹھاتے ہیں اور آرام و آسائش سے کنارہ کش بھی ہوتے ہیں۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ اسی میں خوش رہتے ہیں کوئی شکایت بھی نہیں کرتے۔ جبکہ دوسری طرف اعلی نسل کے گھوڑے ہیں جو کہ زیادہ تر امرآء کے اصطبلوں کی زینت بنتے ہیں۔ یہ اکثر امیر و غریب کے درمیان ریس میں حصہ لیتے ہیں اور نہایت ہی اعتماد اور یقین سے جیت جاتے ہیں۔ لوگ انکی پیٹھ پر تھپکی دیتے ہیں اور انکے اعزاز میں شراب و طباب کی محفلیں سجتی ہیں اور زنجیر پہن کر رقص بھی کیا جاتا ہے۔ یہ وہ ایماندار گھوڑے ہیں جنہیں شاہ کے نوکر کہا جاتا ہے۔ یہ ہوتے تو نوکر ہی ہیں لیکن ان کی شان میں خود شاہ بھی جھک جاتے ہیں ہاں ان میں کچھ گھوڑے بدقسمتی سے تانگے میں جت جاتے ہیں جنکا مستقبل بھی گدھوں کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔

اب حال یہ ہے کہ جنہیں گدھا کہا ہے انہیں کام سے فرصت نہیں، انہیں کامیابی سے کیا لینا اور جنہں گھوڑا کہا ہے وہ اپنی قسمت پہ نازاں ہیں انہیں کام سے کیا لینا ، وہ جانتے ہیں کہ کامیابی اگر محنت اور کام سے ملتی تو گدھوں کوکب کی مل چکی ہوتی۔ یا تو یہ گدھے اور گھوڑے کی اصطلاح درست نہیں یا پھر سرکار کو تھوڑی سی نظر کرم گدھوں پر بھی کرنی چاہیئے کم از کم انکی خوراک کا ہی خیال کر لیں نہیں تو گھوڑوں کو ملک سے باہر بھیج دیں یہ نہ ہو کل کولاغر گدھے کام کے بوجھ تلے مر مرا جائیں اور نازک نفیس گھوڑوں کے سر پر کام کا بوجھ آن پڑے۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
18 Jul, 2017 Total Views: 248 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Sidra Subhan

*Hafiz-E-Quraan

*Columnist at Daily Mashriq (نگار زیست)

*PhD scholar in Chemistry
School of Chemistry and Chemical Engineering,
Key Laborator
.. View More

Read More Articles by Sidra Subhan: 18 Articles with 5798 views »
Reviews & Comments
So true.
That's is why we are still a developing country.
By: Mona Shehzad, Karachi on Mar, 13 2018
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB