چند پاکستانی مساجد جن کے نمازی کم فوٹوگرافر زیادہ

 

مسجد مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام ہوتا ہے- یہ وہ مقام ہے جہاں تمام مسلمان اکھٹے ہو کر عبادت کرتے ہیں- دنیا بھر کی مساجد اسلامی ثقافت کی نمائندگی کرتی ہیں- مکہ مکرمہ میں واقع مسجد حرام مسلمانوں کے لئے مقدس ترین مقام ہے جبکہ مسجد نبوی سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں قائم اسلام کا دوسرا مقدس ترین مقام ہے اور ان دونوں مساجد کی خوبصورتی دیکھ کر انسان کی سانسیں تھم سی جاتی ہیں- لیکن ہم یہاں چند پاکستان میں واقع چند ایسی خوبصورت یا تاریخی مساجد کا ذکر کریں گے جن کی تصاویر کھینچنے کے لیے آنے والوں کی تعداد یہاں آنے والے نمازیوں سے زیادہ ہے-


بحریہ گرینڈ مسجد
یہ جامع مسجد پاکستان کے شہر لاہور کے علاقے بحریہ ٹاؤن میں واقع ہے اور سال 2014 میں اس مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی- یہ مسجد پاکستانی آرکٹیکٹ نیر علی نے ڈیزائن کی تھی- اس مسجد میں بیک وقت 70 ہزار افراد نماز ادا کرسکتے ہیں- نمازیوں کے علاوہ اس مسجد کی تصاویر کھینچنے کے لیے آنے والے افراد کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے-


فیصل مسجد
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع یہ خوبصورت مسجد ترکی کے آرکیٹیکٹ نے ڈیزائن کی تھی- اس مسجد کی تعمیر 1986 میں مکمل ہوئی- اس مسجد میں تقریباً 74 ہزار افراد بیک وقت نماز ادا کرسکتے ہیں جبکہ اس کے ملحقہ گراؤنڈ میں 2 لاکھ نمازیوں کی گنجائش ہے- تاہم اس مسجد کی مقبولیت کی وجہ بھی یہاں کی کھینچی جانے والی خوبصورت تصاویر ہی ہیں-


بادشاہی مسجد
پاکستان کے شہر لاہور میں واقع یہ تاریخی مسجد مغل شہنشاہ اورنگزیب کے دور میں 1673 عیسوی میں تعمیر کی گئی- یہ اس وقت دنیا کی 5 ویں بڑی مسجد ہے- اس مسجد میں 1 لاکھ نمازیوں کی گنجائش موجود ہے- لیکن تاریخی مسجد ہونے کی وجہ سے یہ سیاحوں کے درمیان انتہائی مقبول ہے- اس مسجد میں نمازیوں کا رش صرف عید کے موقع پر دکھائی دیتا ہے جب چند معروف مذہبی اسکالر خصوصی طور پر یہاں آتے ہیں-


وزیر خان مسجد
یہ بھی ایک تاریخی مسجد ہے اور لاہور میں واقع ہے- یہ مسجد 1635 میں مغل بادشاہ شاہجہاں نے تعمیر کروائی- اس مسجد کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اس کا نام لاہور کے گورنر حکیم شیخ عالم الدین کے نام پر رکھا گیا جنہیں عام طور پر وزیر خان کے نام سے جانا جاتا تھا- اس قدیم مسجد میں آنے والے زیادہ تر افراد بھی یہاں کی تصاویر کھینچتے ہیں-


سکھ چین سوسائٹی مسجد
اگرچہ یہ ایک پرائیوٹ سوسائٹی کی مسجد ہے لیکن دیگر علاقوں سے بھی بڑی تعداد میں لوگ اس مسجد کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں جس کی وجہ اس کی خوبصورت اور پرکشش ڈیزائن ہے- یہ مسجد لاہور میں واقع ہے- اس مسجد کی بھی تصاویر بڑے پیمانے پر کھینچی جاتی ہیں-


بھونگ مسجد
یہ حسین و جمیل مسجد پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر صادق آباد میں واقع ہے- اس مسجد کو دیکھنے کے لیے بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد آتی ہے جو یہاں کی خوبصورت تصاویر کھینچ کر ضرور اپنے ساتھ لے جاتی ہے- تصاویر کھینچنے والوں کی تعداد نمازیوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے-


عباسی مسجد
3 گنبد اور 4 مینار کی حامل یہ دلکش مسجد مکمل طور پر دہلی میں واقع موتی مسجد کے مشابہہ ہے- یہ مسجد پاکستان کے شہر بہاولپور میں واقع ہے اور ایک تاریخی مسجد ہے- یہ مسجد 1844 عیسوی میں تعمیر کروائی گئی تھی- اس مسجد کو دیکھنے کے لیے آنے والے افراد اس کی تصاویر کھینچنے میں بےانتہا دلچسپی رکھتے ہیں-

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
20 Feb, 2017 Total Views: 4817 Print Article Print
NEXT 
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
Mosque or Masjid, such a beautiful place it is to connect with Almighty, but it seems the modern world is ruining the essence of this place as most of famous mosques in Pakistan have become more of tourist places than a place to worship and offer prayer. Being a traveler you might find it an interesting idea to visit a country's places where people worship, but being a religious person you might feel a little bad about it.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB