کٹ پیس

*سسکیاں*
سگریٹ سلگانے کے بعد ارام سے لیٹ گیا اور بڑے بڑے کش لینے لگا، ایسے پی رہا تھا جیسے کوئی آئیگا اور مجھ سے چھین لیگا، اپنی ماضی کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ غلام علی کا اک غزل پلے کرکے مایوسیوں میں مزید تیل ڈالنے لگا۔
کہ یکایک کسی کی سسکیوں نے میری یادوں میں خلل ڈال دیا۔ زور زور سے سسکیوں کے ساتھ کچھ آہیں اور بد دعائیں بھی سنی۔ خیرمجھے ماں باپ کی مہربانیوں کی وجہ سے بچپن سے ہی جن و بھوتوں سے بڑی وحشت تھی ۔ یہ اور بات ہے کہ ابھی تک کسی بھوت حضرت سے ملاقات کا شرف حاصل نہیں ہوا تھا-

اب تو یادیں اپنی جگہیں، عاشقی کو مارو گولی، محبوبہ کی یاد ایسے ذہین سے نکل گئ اور غائب ہو گئی جیسے "انجیر کے پھول"، کمرے میں میرے علاوہ کوئی نہیں تھا پھر یہ کون پیار میں دھوکہ کھائے ہوئے دوشیزہ کی طرح رخسار کو 'ساون کی پہیلی بارش میں جیسے زمین سیراب ہوتی ہے' کی طرح بھگو رہا تھا۔

یکایک نظر کرم شیلف پہ پڑی تو دل خون کے آنسو رونے لگا۔ یہ تو اک ہفتے پہلے خریدنے والی کتاب تھی جسے میں راول پنڈی کے صدربازار میں جوتے خریدنے کے دوران اک بک سٹال پہ نظر پڑی ہاتھوں میں اٹھا لیا، اک دو صفحے پلٹنے کے بعد پسند آگئی اور آدھی قیمت پہ خرید لیا، اور کمرے میں پہنچنے کے بعد شیلف پہ رکھ دیا، محبوبہ کی سالگرہ کی طرح بھول گیا، جب سالگرہ بھول جاتا تھا تو اک ہفتہ منانے میں لگ جاتا تھا،

خیر کتاب کے نزدیک گیا اُٹھانے کے لیے تو اُس حسین دوشیزہ کی طرح مجھے قریب آنے سے روک دیا۔ جو مجھے اکثر وعدے وفا بھول جانے پہ منع کرتا تھا۔ جب میں نے رونے اور مجھے پاس آنے سے روکنے کا وجہ پوچھا، تو شکایت کرنے لگی کہ جب تم سٹال پہ آئے اور مجھے ہاتھوں میں لیا، تو مجھے لگا کہ جیسے میں صدیاں تم سے دور ہوئی ہوں۔ اور مجھے سکون سا ملنے لگا، تم کمرے کی طرف جا رہیے تھے تو میں اُس دلہن کی طرح خوش ہو رہی تھی۔ جسے اس کا محبوب صدیاں سے تڑپائے اور صدیوں کی جدائی کے بعد اسے اسکا مقام دے اور اُسے اسکا حق دے۔

جب تم پہلی دفعہ مجھے شیلف پہ رکھنے کے بعد اپنے کاموں میں لگ گئے، تو مجھے اپنی بے بسی پہ رونے کے ساتھ ساتھ شرمندگی ہوئی کہ میرا محبوب کتنا کام کرتا ہے،

جب تم کام ختم کرکے بیٹھ جاتے تھے تو میں خوش ہوتی تھی۔اب مجھے سینے سے لگائے گا لیکن میں غلط تھی ۔ تھمیں میری بلکل پرواہ نہیں، آج جب مجھے آٹھانے کے بجائے تم نے سگریٹ منہ سے لگایا۔ تو میں اپنے جزبات پہ قابو نہیں رک پائی۔
جب مجھے ایسے ہی بھول جانا تھا تو وہاں سے کیوں اُٹھایا؟؟؟
بولو اب خاموش کیوں ہو؟؟؟؟
اور سچ میں شرمندگی اور خاموشی کے علاوہ مرے پاس کچھ نہیں تھا۔
Ehsan Mir
About the Author: Ehsan Mir Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.