آذر بائیجان کو آگ کی سر زمین کیوں کہا جاتا ہے؟

آذر بائیجان کو سرکاری طور پر جمہوریہ آذربائیجان کہا جاتا ہے اور مشرقی یورپ اور مغربی ایشیا کے درمیان واقع اس ملک کے مشرق میں بحیرہ قزوین، شمال میں روس، مغرب میں آرمینیا اور ترکی، شمال مغرب میں جارجیا، اور جنوب میں ایران واقع ہیں۔

آذر بائیجان کا شمار دنیا کے قدیم ترین تیل کے پیداواری ممالک میں کیا جاتا ہے- آذر بائیجان پٹرولیم انڈسٹری روزانہ 8 لاکھ بیرل تیل پیدا کرتی ہے جبکہ سالانہ 1 بلین کیوبک میٹر گیس بھی پیدا کی جاتی ہے-

آذر بائیجان کے جزیرہ نما علاقے Absheron میں قدرتی گیس اور تیل کے بہت بڑے ذخائر موجود ہیں- اور مکمل جزیرے سے مستقل قدرتی گیس کا اخراج ( leak ) ہوتا رہتا ہے-
 

image


پورے آذر بائیجان میں متعدد ایسے مقامات ہیں جہاں قدیم دور سے آگ بڑھک رہی ہے اور اس کا ذکر تاریخی ادیبوں نے بھی کیا ہے جیسے کہ 13 ویں صدی کے مارکو پولو نے یا پھر اس کے بعد مشہور مصنف الیگزینڈر Dumas نے- الیگزینڈر نے اپنی کتابوں میں پارسیوں کے ایسے آگ کے مندروں کا ذکر کیا ہے جو کہ قدرتی آگ کے گرد تعمیر کیے گئے تھے-

مختلف مقامات پر آگ کے بھڑکنے کی وجہ زمین سے ہونے والا گیس کا اخراج ہے اور اسی وجہ سے آذر بائیجان کو “ آگ کی زمین “ کہا جاتا ہے-

اسی آگ کی وجہ سے ایک ایسا مذہب وجود میں آیا جو آگ کی پوجا کرتا تھا اور اسے پارسی کا نام ملا- اور یہ سب کچھ یہاں اسلامی قوانین کے نافذ ہونے سے 200 سال قبل ہوا-

تاریخ میں بےشمار ایسے حوالے موجود ہیں جن میں آگ کو آذر بائیجان کی ثقافتی حصے کے طور پر پایا جاتا ہے-

آذر بائیجان کے تین مقامات ایسے ہیں جو اس آگ کی وجہ سے مشہور ہیں اور یہ Absheron نامی جزیرہ پر واقع ہیں-

Yanar Dag
اس مقام کے نام کے لفظی معنی “جلتے پہاڑ“ کے ہیں- اور اس مقام پر موجود ایک پہاڑی پر مسلسل آگ جلتی رہتی ہے- یہ پہاڑی آذر بائیجان کے دارالحکومت باکو کے نزدیک واقع ہے- کھلی فضا میں بلند ہوتے ان شعلوں کے اردگرد ٹھہر کر ماحول میں گیس کی بو کو محسوس کیا جاسکتا ہے- اس آگ کے رنگا رنگ شعلے سیاحوں کو اپنی جانب ضرور متوجہ کرتے ہیں- اور سیاح قریبی teashops پر بیٹھ کر اس نظارے سے لطف اندوز ہوتے ہیں-

image

Ateshgah of Baku
یہ بھی آذر بائیجان کا ایک مقبول ترین مقام ہے جو کہ یہاں دارالحکومت باکو کے نزدیک واقع ہے- اس مقام کو آتش گاہ کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کے معنی “ آگ کا مندر “ کے ہیں- یہاں موجود مندر کی عمارت کو pentagonal complex کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کے صحن میں راہبوں کے لیے کمرے بھی تعمیر کیے گئے تھے- اس کے علاوہ صحن کے وسط میں tetrapillar-altar بھی 17ویں اور 18ویں صدی کے دوران تعمیر کیا گیا- اس کمپلیکس میں آگ براہ راست زمین کے نیچے سے مستقل بنیادوں پر جلائی گئی لیکن سوویت حکمرانی کے دور میں اس آگ کو قدرتی ذخائر کا استحصال قرار دے کر ہمیشہ کے لیے بجھا دیا گیا- یہ واقعہ 1969 میں پیش آیا اور اس کے بعد اس مندر کو میوزیم میں تبدیل کردیا گیا-

image

Yanar Bulag
اس جگہ کو "burning spring" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہ مقام جنوبی آذر بائیجان کے شہر Astara میں واقع ہے- یہاں پانی کے دھاتی پائپ نصب ہیں جہاں سے پانی آتا ہے- یہ منظر غیر معمولی نہیں لیکن یہ اس وقت حیرت انگیز ضرور ہوجاتا ہے جب ماچس کی تیلی جلا کر پانی کو لگائی جاتی ہے تو آگ بھڑک اٹھتی ہے- اس کی وجہ پانی میں میتھین کی بھاری مقدار کا پایا جانا ہے- یہاں کے مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ پانی شفا بخشتا ہے اور اکثر لوگ یہ پانی اس وقت پیتے ہیں جب شعلہ بھڑک رہا ہوتا ہے- بعض لوگ تو اسے بوتلوں میں بھر کر سفر کے دوران اپنے ساتھ بھی رکھتے ہیں-

image
YOU MAY ALSO LIKE:

Azerbaijan, located within the South Caspian Sea basin, is among the world's oldest oil producers. The petroleum industry in Azerbaijan produces about 800,000 barrels of oil per day and 1 billion cubic meters of gas per year. There is so much oil and natural gas reserve under the Absheron Peninsula that the ground practically leaks all over.