کروڑ پتی خاندان کا چشم و چراغ کافی شاپ میں ملازم

امیر ترین گھرانوں کے چشم و چراغ کا طرزِ زندگی انتہائی شاہانہ ہوتا ہے کیونکہ تمام معاشی فکروں سے آزاد ہوتے ہیں- لیکن دنیا کے امیر ترین کھلاڑی سابق برطانوی فٹ بالر ڈیوڈ بیکھم کے ہاں معاملہ کچھ برعکس ہے-

حال ہی میں سامنے آنے والی ایک خبر کے مطابق ڈیوڈ بیکھم کے سب سے بڑے بیٹے بروکلین بیکھم کے لیے آجکل ایک شاپ پر ملازمت کر رہے ہیں۔
 

image


لیکن کروڑ پتی خاندان کے چشم و چراغ کا یوں کافی شاپ میں ملازمت کرنا واقعی حیرت کی بات ہے لیکن یہ سب کچھ ان کے والدین کی بدولت ہے جو کہ اپنے بچوں اپنے بچوں کو سخت محنت کرنے کا عادی بنانا چاہتے ہیں۔

اگرچہ بروکلین کے والدین کا شمار برطانیہ کے دولت مند ترین گھرانوں میں ہوتا ہے جن کی دولت کا تخمینہ 165 ملین پونڈ بتایا جاتا ہے۔ پھر بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ڈیوڈ اور وکٹوریہ بیکھم اپنے بیٹے کو سکھانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے اضافی اخراجات پورے کرنے کے لیے والدین پر انحصار کرنے کے بجائے خود روپے پیسے کی قدر کرنا شروع کریں۔

خاندان کے قریبی ذرائع نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈیوڈ اور وکٹوریہ بیکھم نے ملازمت کرنے کے لیے بروکلین کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

بروکلین ان دنوں مغربی لندن کی ایک کافی شاپ میں ویک اینڈ پر پارٹ ٹائم ملازمت کر رہے ہیں جہاں انھیں ایک گھنٹے کے 2 پونڈ 68 پنس ملتے ہیں۔ لیکن کم عمر ہونے کے باعث ان سے ہفتے میں صرف سات گھنٹے کام لیا جاتا ہے۔
 

image

15 سالہ بروکلین بھی فٹبال کے شوقین ہیں اور وہ پچھلے سال ایک پروفیشنل فٹ بال ٹیم کے ساتھ اپنا پہلا معاہدہ بھی کر چکے ہیں۔ اور ساتھ ہی وہ پنے والد کی طرح ماڈلنگ کے کیریئر کا آغاز بھی کر چکے ہیں۔

بروکلین کی ملازمت کے فیصلے کو سوشل میڈیا پر بہت سراہا جارہا ہے۔ اور کہا جارہا ہے کہ والد کی دولت پر انحصار کرنے والے دوسرے امیر بچوں کے لیے بروکلین ایک رول ماڈل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
 
YOU MAY ALSO LIKE:

Despite parents David and Victoria Beckham having a combined fortune of £165 million, 15-year old Brooklyn is keen to earn an honest wage and has been doing weekend shifts at his neighbourhood cafe, where he is paid a reported £2.68 an hour.