انبیاء کی حیات برزخی یا دونیاوی

(tariq mahmood, Karachi)

بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمد و نصلی علی رسولہ الکریم
رب شرح لی صدری و یسرلی امری وحلل عقدةمن لسانی یفقوا قولی
الاقوال السلفیہ فی حیاة الانبیاء
محترم ساتھیو:۔ السلام علیکم:

ایک مسلمان کا اس بات پر ایمان ہے کہ اللہ نے ایسے عظیم اشخاص کو پسند کیا جن کو اس نے انسانیت کی ہدایت کے لیے مبعوث کیا اور وہ عظیم اشخاص اللہ کے برگزیدہ انبیاء ہیں اور انہوں نے اپنی تمام زندگی لوگوں کو اللہ کی وحدانیت پر قائم رکھنے میں صرف کردی کیونکہ ہر نبی کی دعوت کا محور توحید باری تعالی ہے اور جس کا بیان قرآن میں موجود ہے

ولقد بعثنا فی کل امة رسولاان اعبدواللہ (سورہ النحل٣٦) ''اور ہم نے ہر قوم کی طرف ایک رسول بھیجا(جو کہتے کہ ) اللہ کی عبادت کرو''اور اس کی تکمیل امام الانبیاء رحمتہ للعلمینۖ نے کی ہے اور یہ نبی اکرمۖ کی تعلیمات ہی کے ثمرات ہے کہ آج تک مسلمان توحید باری تعالی پر قائم ہیں مگر بعض مسلمانوں نے نبی اکرمۖ کی تعلیمات کو صحابہ کرام اور سلف وصالحین کے طریقہ سے ہٹ کراپنی عقل پر سمجھنے کی کوشش کی اور اسی بنا پر غلط فہمی کا شکار ہو گئے اور انہوں نے بعض ایسی باتیں دین میں داخل کردیں جو نہ نبی اکرم ۖ کی تعلیمات کا حصہ ہے اور نہ صحابہ کرام اور سلف صالحین سے منقول ہیں ۔

غیر اللہ کو پکارنا انبیاء کرام علیہ السلام کو ندا دینا ان سے مدد طلب کرنا یہ وہ باتیں ہیں جو امام الانبیاء ۖ کی تعلیمات سے قطعی طور پر ثابت نہیں ہے اور اسی بنا پر یہ صحابہ کرام سے بھی منقول نہیں ہوسکتی ہیں مگر بعض مسلمان جنہوں نے نبی اکرمۖ کی احادیث کو فہم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم و سلف صالحین سے دور ہو کر سمجھا تو اس سے غلط استدلال کیا مگر ان میں جو مدعا بیان ہوا ہے اس کا ان مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے ان احادیث سے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور سلف و صالحین نے اس قسم کے مسائل اخذ ہی نہیں کیے ہیں اور ان ہی کے طریقہ پر ہم ان دلائل کو نقل کر کے اس کی غلطی واضح کریں گے (وتوفیق باللہ)

استدلال باطلہ کا رد
اس باب کے تحت ہم ان دلائل کو نقل کریں گے جو اس نظریہ کے حق میں دیئے جاتے ہیں ان دلائل کی بنیاد قرآن کی ایک آیت اور چند احادیث ہیں جن سے نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ انبیاء علیہ السلام اپنی قبروں میں حیات ہیں اور اس حیات کو وہ دنیاوی حیات پر قیاس کرتے ہیں اور اسی بنا پر وہ غیر اللہ کو پکارنا انبیاء علیہ السلام کو ندا اور ان سے مدد طلب کرنا جائز مانتے ہیں مگر یہ تمام امور نبی اکرمۖ کی تعلیمات کا حصہ نہیں ہیں نہ یہ باتیں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے ثابت ہیں اور نہ تابعین سے ثابت ہیں اور نہ آئمہ محدثین نے ان احادیث سے اس قسم کا استدلال کیا ہے اب ہم ان دلائل کو آپ کے سامنے ترتیب وار بیان کریں گے۔
اس ضمن میںقرآن کی جس آیت سے استدلال کیا جاتا ہے
'' ولاتقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء ولکن لا تشعرون (البقرة ١٥٤) '' اور جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائیں انہیں مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں مگر تم اس کا شعور نہیں رکھتے ''

اس آیت سے یہ استدلال کیا جاتا ہے انبیاء علیہ السلام جو شہداء سے بھی افضل ہیں اس لئے وہ بھی حیات ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انبیاء علیہ السلام شہداء سے افضل ہیں اور امام الانبیاء ۖ تمام سے افضل ہیں مگر ہم اس آیت کو قرآن کے دوسرے مقام اور حدیث نبوی ۖ سے سمجھیں تو اس آیت سے جو استدلال کیا گیا ہے اس کا باطل ہونااز خود ثابت ہو جائے گا قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے '' ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربھم یرزقون'' (الِ عمران ١٦٩) '' اور جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائیں انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے یہاں رزق دیئے جاتے ہیں تو شہید اللہ کے پاس ہیں اور وہی رزق پاتے ہیں جیسا حدیث میں منقول ہے

''عبداللہ بن مسعودفرماتے ہیں ہم نے رسول اللہ ۖ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا آپ ۖ نے فرمایا'' ارواحھم فی جوف طیر خضر لھا قنادیل معلقہ بالعرش تسرح من الجنة حیث شاء ت ثم تاوی الی تلک القنا دیل ''( صحیح مسلم کتاب امارات باب ان ارواح الشھداء فی الجنة)

'' (شہیدوں ) کی روحیں سبز چڑیوں کے قالب میں قندیلوں کے اندر ہیں جو عرش مبارک سے لٹک رہی ہیں اور جہاں چاہتی ہیں جنت میں کھاتی بھرتی ہیں پھر اپنی قنددیلوں میں آجاتی ہیں ''

اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ شہید وں کی ارواح جنت میں حیات ہیں اور بے شک انبیاء علیہ السلام شہداء سے بھی افضل ہیں تو وہ ان سے اونچے مقام میں حیات ہیں اور یہ بات دیگر احادیث سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ انبیاء علیہ السلام اپنے مقام میں حیات ہیں اور امام انبیاء بھی اپنے مقام اعلی میں حیات ہیں ۔
(1) ان عائشہ قالت کان رسول اللہ ۖ وھو صحیح یوقل انہ یقبض نبی قط حتی یری مقدہ من الجنة ثم یحیا او یخیر فلما اشتکی وحضرہ القبض و راسہ علی فخز عائشہ غشی علیہ فلما افاق شحص بصرہ نحو مقف البیت ثم قال اللھم فی الرفیق الاعلی فقلت اذا لا یضاورنا فعرفتُ انہ حدیثہ الذی کان یحدثنا وھو صحیح (صحیح بخاری کتاب المغازی باب مرض النبیۖ و وفاتہ)
'' اماں عائشہ نے بیان کیا کہ تندرستی اور صحت کے زمانے میں رسول اللہ ۖ فرمایا کرتے تھے کہ جب بھی کسی نبی کی روح قبض کی جاتی ہے تو پہلے جنت میں اس کی قیام گاہ اسے ضرور دکھائی جاتی ہے پھر اسے اختیار دیا جاتا ہے پھر نبیۖ بیمار پڑے اور وقت قریب آگیا تو سر مبارک اماںعائشہ کی گود میں تھا اور غشی طاری ہوگئی تھی جب افاقہ ہوا تو آپ ۖ کی آنکھیں گھر کی چھت کی طرف اُٹھ گئیں اور آپۖ نے فرمایا (الھم فی الرفیق الاعلی )(اے اللہ مجھے میرے اعلی رفیقوں سے ملادے) میں سمجھ گئی اب آپۖ نے ہمیں (یعنی دنیا میں رہنا) پسند نہیں کیا مجھے وہ حدیث یاد آگئی جو آپۖ نے صحت کے زمانے میں بیان فرمائی تھی''
(2)عن انس قال لما ثقل النبیۖ جعل یتغشاہ فقالت فاطمہ و اکرب اباہ فقال لھا لیس علی ابیک کرب بعد الیوم فلما مات قالت یا ابتاہ اجاب رباََ دعاہ یا ابتاہ من جنة الفردوس ماواہ''(بخاری کتاب المغازی باب ایضاََ)'' انس نے بیان کیا کہ شد ت مرض کے زمانے میں نبیۖ کی بے چینی بڑھ گئی تھی فاطمہ نے فرمایا آہ اباجان کو کتنی بے چینی ہے نبیۖ نے فرمایا کہ تمہارے والد کو آج کے بعد یہ بے چینی نہیں رہے گی پھر جب آپ ۖ کی وفات ہو گئی تو فاطمہ کہتی تھیں اباجان آپۖ اپنے رب کے بلاوے پر چلے گئے اباجان آپۖ جنت الفردوس میں اپنے مقام پر چلے گئے ۔''
ان احادیث سے مکمل طور پر واضح ہوتا ہے کہ انبیاء علیہ السلام اپنے مقا م میں حیات ہیں اور جو روایت اس بارے میں موجود ہیں کہ انبیاء علیہ السلام اپنی قبروں میں حیات ہیں یا قبر میں نبیۖ کی روح کا لوٹایا جانا '' یہ تمام برزخی معاملات ہیں اور یہ حیات برزخی ہے جس کو دونیاوی حیات پر ائمہ اور محدثین نے قیاس نہیں کیا ہے اور نہ اس بنا پر انہوں نے انبیاء کو نداد ینا جائز قرار دیا ہے اور ان تمام باتوں کی وضاحت ہم آگے کریں گے یہاں پر ہم ان ضعیف روایات کے بارے میں بیان کر رہے ہیں جو اس استدلال کو ثابت کرنے کے لئے بیان کی جاتیں ہیں ۔
استدلالِ باطلہ کے حق میں ضعیف روایات
(1) من زار قبری بعد موتی کان کمن زارنی فی حیاتی''جس نے میرے وصال کے بعد میری قبرکی زیارت کی گویااس نے میری زندگی میں میری زیارت کی۔ (طبرانی الکبیر رقم 13496،طبرانی الاوسط رقم 287، سنن الکبری للبیہقی 10274، شعب الایمان رقم 3858)
اس روایت میں حفص بن ابو داؤد ضعیف ہے (تھذیب التھذیب جلد ٢ ص ٣٦٥) اور اس کی دیگر اسناد میں درج ذیل روای ضعیف ہیں (١) لیث بن ابی سُلیم : ابو زرعہ فرماتے ہیں '' لیث لین الحدیث لا تعوم بہ الحجة عن اہل علم بالحدیث ''(تھذیب التھذیب جلد ٦ ص ٦١٣) '' لیث لین الحدیث ہے اور اہل علم نے اس سے حجت نہیں لی ہے '' (٢) احمد بن رشدین : ابو حاتم فرماتے ہیں ''
منکر الحدیث ویحدث بالمناکیر عن الثقات'' (تھذیب جلد ٣ ص ١٠٣)''منکر الحدیث ہے اور وہ ثقات کی جانب منسوب کرکے منکر روایات بیان کرتا ہے
''حیاتی خیر لکم تحدثون ویحدث لکم و فاتی خیر لکم تعرض علی اعمالکم فما رایت من شر استغفرتُ اللہ لکم''
(مسند الحارث رقم 953،مسند البزار رقم 1925،المخلصیات رقم 2412، فضل الصلاۃ النبی ﷺ 25-26،الکامل الضعفاء ابن عدی ترجمہ عبداللہ بن خراش)
''میری زندگی میں تمہارے لئے خیر ہے کہ میں تم سے باتیں(دین کے احکام)بیان کرتا ہوں اور میری وفات میں بھی تمہارے لئے خیر ہے تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں پس اگر میں برے اعمال پاتا ہوں تو تمہارے لئے اللہ سے مغفرت کی دعا کرتا ہوں"
اس روایت میں یہ الفاظ اضافی ہیں جس کو فقط عبدالمجید بن عبدالعزیز نے نقل کیا ہے اور اسے قبل جو الفاظ حدیث میں نقل ہوئے ہیں وہ یہ ہیں ، «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ يُبَلِّغُونِي عَنْ أُمَّتِي السَّلَامَ»" یقیناََ اللہ کے فرشتے زمین پر ہوتے ہیں اور میرے ہر امتی کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں،
یہ وہ الفاظ ہیں جو اس روایت سے قبل نقل ہوئے ہیں اور اس میں "حیاتی خیر لکم اخر تک" کے الفاظ کا جو اضافہ ہے وہ صرف عبدالمجید بن عبدالعزیز کی سند سے ہوا ہے اور اس کے بارے میں محدثین کی رائے درج ذیل ہے
اس روایت میں عبدالمجید ابن عبدالعزیز ضعیف ہے اس کو امام ذہبی نے الضعفاء المتروکین میں نقل کیا ہے (جلد ٢ ترجمہ ٣٦٠١)
ابن حبان فرماتے ہیں''
منکرالحدیث جدََا یقلب الاخبار و یروی المناکیر عن المشاھیر(میزان الاعتدال جلد ٢ترجمہ٥٦٠٦) '' منکرالحدیث ہے اس کی خبر میں ردوبدل ہوتا ہے اور وہ مشہور لوگوں کی جانب منسوب کرکے منکر روایات بیان کرتا تھا'' امام بخاری نے بھی اسے اپنی الضعفاء المتروکین میں نقل کیا ہے (ترجمہ٢٢٢) اگرچہ اس کی بعض نے ثقہ بھی قرار دیا ہے مگر اس وقت یہ روای اپنے سے ثقہ راویوں کی روایت میں اضافی الفاظ بیان کر رہا ہے زیادۃ ثقات کے بارے میں یہ اصول ہے کہ جس روایت میں راوی اضافہ کر رہا ہے تو اضافہ کرنے والے کا حافظہ کم از کم اسی پائے کا ہونا چاہئے تو اس کا یہ اضافہ قبول ہوگا وگرنہ وہ اضافہ شاذ مردود کے تحت رد کردیا جاتا ہے چنانچہ ''ابن عبدالبر نقل کرتے ہیں '' انما تقبل اذاعان راویھا احفظ و اتقن ممن قصر او مثلہ فی الحفظ کانہ حدیث مستانف فان عانت من غیر حافظ ولا متقن فلا التفات الیھا،(النکت ٢/ ٦٩٠) '' یہ روایت اسی وقت مقبول ہوگی جب اس کا راوی حفظ و اتقان میں اس سے بڑھا ہوا ہو جس کی روایت میں اضافہ کیا ہے یا حفظ میں اس کے برابر ہو گویایہ نئی حدیث ہے اگر یہ اضافہ غیر حافظ و غیر متقن کی جانب سے ہو تو قابل التفات نہیں ہو گا'
تو یہ حدیث مسند البزار میں اس سند سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے جو زیادۃ ثقات کی بنا پر ضعیف ہے
دیگر اسناد میں ابوبکر مزنی اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں جو ہم ترتیب وار نقل کرتے ہیں۔
ابوبکر بن مزنی: ان سے تین طرق سے یہ روایت مسند الحارث اور فضل الصلاۃ النبی ﷺ میں منقول ہے جس میں درج ذیل راوۃ پر کلام ہے ۔
ابوبکر بن مزنی: یہ تابعی ہیں اور ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ان کی روایات مرسل ہوتی ہیں(جامع تحصیل احکام مراسیل ترجمہ 65، تھذیب التھذیب جلد 1 ترجمہ 889)

تو تابعی جب براہ راست نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرے وہ روایت مرسل ہوتی ہے اور مرسل ضعیف کی اقسام میں سے ایک ہے ۔
الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ: قلت بل هو هالك قال الدارقطني في رواية البرقاني متروك الحديث وقال أبو حاتم ضعيف وقال الأزدي واهي الحديث(لسان المیزان جلد 2 ترجمہ 1033) ابن جحر فرماتے ہیں " وہ ھالک ہے دارقطنی متروک الحدیث ہے ابو حاتم ضعیف ہے الازدی واہی الحدیث ہے ۔
جسر بن فرقد: ابن معین لیس بشئی ،بخاری لیس بقوی ، النسائی ضعیف ،( الکامل الضعفاء ابن عدی ترجمہ 356)
باقی دو اسناد جو فضل الصلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں نقل ہیں وہ مرسل ہیں
انس بن مالک رضی اللہ عنہ: ان سے دو اسناد سے یہ روایت نقل ہوئی ہے جس میں یہ الفاظ موجود ہیں کہ " ہرجمعرات کو مجھ پر تمہارے اعمال پیش کیے جاتے ہیں " اس کی سند میں دو راوی ضعیف ہیں
ابو سلیمہ الانصاری: یہ راوی المخصیات کی روایت میں موجود ہے اس کی بابت محدثین فرماتے ہیں
العقيلي منكر الحديث،قال ابن حبان منكر الحديث جدا، ابن طاهر كذاب، الحاكم أبو عبد الله يروي أحاديث موضوعة (تھذیب التھذیب جلد 2 ترجمہ 424)
عبداللہ بن خراش: اس راوی سے یہ روایت ابن عدی نے الکامل الضعفاء میں نقل کی ہے اور اس کی بابت محدثین فرماتے ہیں
أبو زرعة ليس بشيء ضعيف وقال أبو حاتم منكر الحديث ذاهب الحديث ضعيف الحديث وقال البخاري منكر الحديث (تھذیب التھذیب جلد 5 ترجمہ 341)
اور اخر میں اس روایت کے بابت محدث العصر کا فیصلہ بھی پڑھ لیں
محدث عصر علامہ ناصر الدین البانی نے بھی اس راوی کو ضعیف کہا ہے انہوں نے اپنی سلسلہ الضعیفہ میں اس روایت کے تمام طرق کو جمع کرنے کے بعد نقل کیا ہے '' وجملة القول ان الحدیث ضعیف بجمع طرقہ و خیرھا حدیث ابن عبداللہ المزنی وھو مرسل من اقسام الحدیث الضعیف عن المحدثٰین ثم ابن مسعود و ھو خطا و شرھا حدیث انس بطریقة''(سلسلہ الضعیفہ جلد٢رقم٩٧٥)''حصول بحث یہ ہے کہ اس روایت کے تمام طرق ضعیف ہے اور ان میں جو بہتر ہے وہ عبداللہ المزنی کی روایت ہے مگر وہ مرسل ہے جومحدثین کے نذدیک ضعیف کی اقسام میں سے ہے ابن مسعود کی روایت خطا ہے اور سب سے ضعیف سند انس کی روایت کی ہے۔
اس کی سند کے بعد اب یہ بات بھی نقل کرتے چلیں کہ یہ روایت حدیث صحیح کے بھی متضاد ہے
إذا أصيب أحدكم بمصيبة فليذكر مصيبته بي فإنها أعظم المصائب
سلسلہ الصحیحہ رقم1106)
جب تم میں سے کسی کو دکھ پہنچے (یعنی کوئی عزیر فوت ہو جائے) تو میرے دکھ(یعنی میری وفات ) کو یاد کرے یقینا (میری وفات مسلمان کے لئے) سب سے بڑا غم و دکھ ہے۔
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کے لئے سب سے بڑا دکھ اور غم یہی بتایا ہے جبکہ اس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو خیر بتایا جارہا ہے تو یہ روایت متن کے اعتبار سے بھی اس صحیح حدیث کے خلاف ہے ۔
حرم علی الارض ان تاکل اجساد انبیاء فنبی اللہ حی یرزق''''اللہ نے زمین پر حرام کیاکہ انبیاء کے اجسام اطہر کو کھائے اللہ کے نبی زندہ اور رزق پاتے ہیں''
اس روایت کی سند میں انقطاع موجود ہے عبادہ بن نسی کی روایات ابودرداء سے مرسل بیان ہوئی ہیںامام العلائی نے عبادہ بن نسی کی ابودردء سے اکثر روایات کو مرسل قرار دیا ہے (جامع التحصیل فی احکام مراسیل ص٢٠٦ ترجمہ ٣٣٤) اور زید بن ا یمن نے عبادہ بن نسی سے فقط یہی روایت بیان کی ہے چنانچہ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں ''رجالہ ثقات لکن قال البخاری زید بن ایمن عن عبادة بن نسی مرسل( تھذیب التھذیب جلد ٣ ترجمہ٢١٩٠) اس بنا پر یہ روایت ضعیف ہے یہ روایت دیگر اسناد سے بھی مروی ہے مگر اس میں ان الفاظ کا اضافہ( فنبی اللہ حی یرزق)نہیں ہے یہ الفاظ اسی سند سے نقل ہوئے ہیں اور یہ سند ضعیف ہے وگرنہ باقی روایت صحیح سند سے ثابت ہے ایک اور روایت جس کو جلاء الافہام میں نقل کیا گیاہےاس روایت کو امام ابن قیم نے طبرانی الکبیر کے حوالے سے نقل کیا ہے اور یہی روایت جب امام سخاوی نے نقل کی ہے تو اس میں بلغنی صلاتہ کے الفاظ ہیں مگر مجھے یہ روایت طبرانی الکبیر میں نہ مل سکی پھر میں نے اس کو طبرانی الاوسط میں "بلغتنی صلاتہ " کے الفاظ کے ساتھ ملی ہے تو اگر مان لیا جائے کہ یہ روایت "بلغنی صوتہ" کے الفاظ کے ساتھ ہےتو بھی یہ روایت ضعیف ہے چنانچہ اس روایت میں (مجھ تک اس کی آواز پہنچ جاتی ہے) کے الفاط آئے ہیں اس روایت میں سعید بن ابی مریم اورخالد بن یزیدکے درمیان انقطاع ہے سعید بن ابی مریم نے یہ حدیث خالد سے نہیں سنی ہے کیونکہ خالد بن یزید ١٣٩ ہجری میں فوت ہوئے ( تھذیب التھذیب جلد ٢ ترجمہ١٧٤٩) اور سعید بن ابی مریم کی پیدائش ١٤٤ ہجری میں ہوئی (تھذیب التھذیب جلد ٢ ترجمہ٢٣٦٠) تو جو ابھی پیدا نہیں ہوا وہ کس طرح اس سے روایت بیان کر سکتا ہے اس بنا پر یہ روایت ضعیف ہے مگر نبیۖ کو امت کادرود پہنچا دیا جاتا ہے جیسا دوسری روایت میں الفاظ آئے ہیں اور اس کی تائیدصحیح احادیث سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو امت کا درود پہنچا دیا جاتا ہے۔
والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم۔آخر(فتح الباری جلد ٧ رقم ٣٤٤٨، مسلم باب نزول عیسی رقم ٢٤٣،مسنداحمد رقم ٧٢٦٩ شرح مشکل الاثار رقم ١٠٣)اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری(یعنی نبیۖ)کی جان ہے عیسیٰ علیہ السلام تمہارے درمیان ضرور آئیں گے''
یہ روایت متعدد طرق و اسناد سے نقل ہوئی ہے مگر ہماری بحث کا محور وہ الفاظ ہیں جس کو مسند ابی یعلی رقم (6584) اور مستدرک حاکم رقم (4162)نے نقل کیا ہے '' ثم لئن قام علی قبری فقال یا محمد لاجبتہ'' ان الفاظ کا اضافہ مسند ابی یعلی میں فقط حمید بن زیاد نے سعید بن ابی سعید کی سند سے کیا ہے اور اس کے علاوہ کسی سند سے یہ الفاظ نقل نہیں ہوئے ہیں اور حمید بن زیاد اس اضافہ الفاظ کے ساتھ متفرد ہے اور یہاں وہ اپنے سے ثقہ رایوں کی روایت میں اضافہ کر رہا ہے جس کو اور کسی نے بھی نقل نہیں کیا ہے اور حمید بن زیاد کے بارے میں محدثین فرماتے ہیں '' قال النسائی :ضعیف وابن عدی : وانما انکرت ھذین الحدثین وسائر حدیثہ ارجو ان یکون مستقیما و حافظ فی تقریب صدوق یھم( تھذیب التھذیب جلد ٢ ترجمہ١٦٠٤، الکامل فی ضعفاء جلد ٣ ص ٧١ ترجمہ٤٣٤، التقریب التھذیب جلد ١ ترجمہ ١٦٠٤)امام نسائی نے اسے ضعیف کہا ہے ابن عدی فرماتے ہیں کہ میں اس کی دو حدیثوں سے انکار کرتا ہے اور امید کرتا ہوں کہ اس کی (حدیث ) صحیح ہے۔ابن حجر نے فرمایا ہے کہ سچا ہے مگر اس کو وہم ہوتا ہے اس کے علاوہ اسے کو امام لعجلی نے ثقہ کہا ہے اس کی روایت قابل قبول ہوتی ہے مگر اس مقام پر ایک تو یہ ان الفاظ کے ساتھ متفرد ہے اور اس کو وہم بھی ہوتے ہیں جیسا حافظ نے بیان کیا ہے اور اس کے مقابلہ پر سعید بن ابی سعید کے دوسرے شاگرد اللیث بن سعد ہیں جنہوں نے یہی روایت سعید بن ابی سعید سے نقل کی ہے مگر ان کی بیان کردہ روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں حتی کہ کسی نے بھی ان الفاظ کا اضافہ نہیں کیا ہے اور اضافی الفاظ کے بارے میں محدثین کا یہ اصول ہے''ابن عبدالبر نقل کرتے ہیں '' انما تقبل اذاعان راویھا احفظ و اتقن ممن قصر او مثلہ فی الحفظ کانہ حدیث مستانف فان عانت من غیر حافظ ولا متقن فلا التفات الیھا،(النکت ٢/ ٦٩٠) '' یہ روایت اسی وقت مقبول ہوگی جب اس کا راوی حفظ و اتقان میں اس سے بڑھا ہوا ہو جس کی روایت میں اضافہ کیا ہے یا حفظ میں اس کے برابر ہو گویایہ نئی حدیث ہے اگر یہ اضافہ غیر حافظ و غیر متقن کی جانب سے ہو تو قابل التفات نہیں ہو گا''
اس اصول سے واضح ہے کہ حمید بن زیاد کا دیگر روایوں کے مقابلہ کا حفظ ہونا چائیے وگرنہ روایت قابل قبول نہ ہوگی اب ہم اللیث بن سعد کے بارے میں محدثین کی رائے بیان کیے دیتے ہیں '' قال حافظ فی تقریب ثقة فقیہ امام مشھور (تقریب جلد ٢ ترجمہ ٥٨٨٠)
قال الذہبی : الاعلام والائمة الاثبات ثقہ حجة بلا نزاع (میزان اعتدال جلد ٣ ترجمہ ٧٤٥٧)یہ وہ اقوال ہیں جو اللیث کے بارے میں محدثین نے نقل کیے ہیں اور اس کے مقابلہ پر حمید بن زیاد ہے جو متفرد ہے اور اضافی الفاظ بیان کر رہا ہے اور جس کے بارے میں اقوال ہم نے نقل کردیئے ہیں اوراصول کو مدنظر رکھتے ہوئے جو ہم بیان کر چکے اس کے مطابق حمید بن زیاد کو وہم ہوتا تھا اسی لئے اس کا حفظ اس پائے کا نہیں ہے جو اللیث بن سعد کا ہے اسی بناپر اس روایت کا اضافہ ناقابل قبول ہیں اور دوسری روایت جس کو حاکم نے روایت اس میں دو علتیں ہیں
محمد بن اسحاق : یہ روای مدلس ہے اور اس روایت میں اس نے تدلیس کی ہے اس کے بارے میں محدثین کے اقوال درج ذیل ہیں :
حافظ یبن حجر فرماتے ہیں صدوق یدلس( تقریب تھذیب ترجمہ5725)اور انہوں نے طبقات مدلسین کے چوتھے طبقے میان نقل کیا ہے (طبقات المدلسین ترجمہ 125 المرتبہ الربعۃ) اور امام العلائی نے بھی جامع التحصیل میں یہی نقل کیا ہے (ترجمہ 42)
عطاء مولی ام صبیۃ : یہ راوی مجہول ہے اس روایت میں اس کا نام "عطاء مولی ام حبیبہ" سے درج ہے جو غلط ہے اس کا اصل نام یہی ہے چنانچہ امام ذہبی اس کے بارے میں فرماتے ہیں ،
عطاء، مولى أم صبية الجهنية عن أبي هريرة في السواك لا يعرف تفرد عنه المقبري. عطاء مولی امی صیبہ جانا نہیں جاتا ہے (میزان الاعتدال ترجمہ 5663)
اسی طرح امام بخاری نے اس سے روایت نقل کر کے یہی نقل کیا ہے کہ اس سے صرف المقبری نے روایت نقل کی ہے اس بنا پر یہ راوی مجہول ہے اور میر ی بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ شیخ شعیب الانورط نے مسند احمد کی ایک روایت کی تحقیق میں یہی بات نقل کی ہے کہ یہ راوی مجہول ہے (مسند احمد رقم 967)
اس روایت کے یہ اضافی الفاظ دونوں اسناد سے ضعیف ہے ایک میں حمید بن زیاد کو وہم ہوا ہےا ور دوسری روایت میں دو راوی ضعیف ہیں چنانچہ اس روایت کے یہ اضافی الفاظ قابل اعتبار نہیں ہےباقی روایت بالکل صحیح ہے۔

(٥) سعید بن عبدالعزیز قال لما کان ایام الحرة لم یوذن فی مسجد النبی ۖ ثلاثا ولم سعید بن المسیب من المسجد وکان لا یعرف وقت الصلاة الابھمة بیسمھا من قبرالنبیۖ ''ایام حرہ میں تین دن تک مسجد نبویۖ میں اذان نہی دی گئی اور سعید بن مسیب نماز کا وقت نبیۖ کی قبر مبارک سے آنے والی ایک آواز سے پہچانتے تھے''
اس روایت کی سند میں سعید بن عبدالعزیز ہے جو (٩٠) ہجری میں پیدا ہوا ہے اوروہ (٦٣) ہجری کا واقعہ بیان کر رہا ہے اور اسی طرح عمربن محمد نے بھی یہی واقعہ بیان کیا ہے اور اس کی ابن عمر سے ملاقات نہیں ہے اور ابن عمر کی وفات ٧٤ ہجری میں ہوئی ہے (تھذیب التھذیب جلد٤ ترجمہ ٣٥٨٠) اور ان دونوں روایات میں یہ تصریح موجود نہیں ہے کہ انہوں نے کس سے سنا ہے اگر مان لیا جائے کہ انہوں نے سعید بن مسیب سے سنی ہے مگر یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ سعید بن مسیب سے ان کے سماع کی کوئی تصریح موجود نہیں ہے اور نہ سعید بن مسیب سے روایت کرنے والے تلامذہ میں ان کا نام موجود ہے مگر یہ دونوں یہ واقعہ خود بیان کر رہے ہیں اور یہ واقعہ ٦٣ ہجری کا ہے اور اس میں یہ بات موجود نہیں ہے کہ ان دونوں نے یہ واقعہ کس سے سنا ہے کیونکہ یہ دونوں ٦٣ہجری کے تقربیا ١٠ سے ١٥ سال بعد پیدا ہوئے ہیں یہ روایت اسی بنا پر ضعیف ہے کہ ایک شخص ابھی پیدا بھی نہیں ہوا ہے اور وہ اس دور کا واقعہ بیان کر رہا ہے اور جس روایت میں سعید بن مسیب سے سماع کی تصریح موجود ہے اس سندمیں عبدالحمید بن سلیمان ضعیف ہے اس کو ابن معین ،ابوداؤد، ابن ا لمدینی، حافظ ابن حجر نے ضعیف کہا ہے (تھذیب جلد ٥ص ٢٦ ترجمہ ٣٨٦٩) او ر ایک روایت محمد بن عمر الواقدی کی سند سے موجود ہے جو من گھڑت روایت بیان کرتا تھا(تھذیب التھذیب جلد٥ ص ١٣٥)ان روایات کی بنیادپر انبیاء سے مدد طلب کرنا ان کو ندا دینا جائز قرار دیا جاتا ہے مگر یہ تمام روایات ضعیف ہیں یہاں ایک بات عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ بعض امام ابن تیمیہ کی کتاب القتضاء الی الصراط مستقیم کے حوالے سے یہ نقل کرتے ہیں کہ امام ابن تیمیہ نے سعید بن مسیب والے واقعہ کو صحیح کہا ہے مگر وہ اس بات کو مکمل بیان نہیںکرتے ہیں امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں اس بات کو نقل کرنے سے قبل دو واقعے نقل کیے جس میں نبیۖ کی قبر پر دعا مانگنے کا ذکر ہے اس کے بعدوہ فرماتے ہیں ''فھذہ الاثار اذا ضمت الی ما قدمنامن الاثار علم کیف حال السلف فی ھذہ الباب وان ماعلیہ کثیرمن الخلف فی ذلک ھومن المنکرات عندھم، ولا یدخل فی ھذا الباب ما یروی من ان قوما سمعوا رد السلام من قبر النبی ۖ او قبور غیرہ من الصالحین و ان سعید بن المسیب کان یسمع الاذان من القبری لیالی الحرة ونحو فھذا کلہ حق لیس مما نحن فیہ والامر اجل من ذلک و اعظم کذلک ایضا ما یروی ان رجلا جاء الی قبر النبی ۖ فشکا الیہ الجدب عام الرمادہ فراہ وھو یامرہ ان یاتی عمر فیامرہ ان یخرج فیستسقی الناس فان ھذا لیس من ھذا الباب ومثلا ھذا یقع کثیرا(القتضاء الی صراط المستقیم ص ١٦٨) '' یہ آثار(جو امام ابن تیمیہ نے بیان کیے) اور جو آثار ہم آگے بیان کریں گے ان کو سلف میں سے(بعض)نے آپس میںضم کردیا جس کی وجہ سے خلف سے کثرت سے منقول ان(آثار)کا انہوں نے انکار کیا یہ (آثار) اس باب میں داخل نہیں ہوتے ہیں (یعنی نبی ۖ کی قبر پر جاکر مانگنا اور نبیۖ کی قبر کو سجدہ کی جگہ بنانا) جیسا کہ نبی ۖ اور صالحین کی قبر سے سلام کا جواب سننا اور سعید بن مسیب کا نبی ۖ کی قبر سے اذان کی آواز سننا یہ تمام حق ہےمگر ہم نے اس کی مدت بڑی نہیں دیکھی ہے (یعنی یہ وقوع پزیر ہوئے اور ختم ہو گئے) اور اسی طرح سے جو روایت ہوا ہے کہ نبی ۖ کی قبر پر ایک شخص آیا اور شکایت کی قحط سالی کی ۔۔۔آخر ۔ اس باب میں اور اسی طرح کے کثیر واقعات ہیںپس یہ اس باب کے تحت نہیں آتے ہیں۔ امام ابن تیمیہ نے اس میں واضح کیا ہے کہ نبیۖ کی قبر انور پر جا کر مانگنا ان کی قبر کو سجدہ کی جگہ بنانا ان سب باتوں سے ان واقعات کا کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اسی کتاب میں انہوں نے اس بات کی نفی کی ہے کہ نبی ۖ کی قبر انور پر جاکر دعا کی درخواست کی جائے چنانچہ امام ابن تیمیہ رقمطرازہیں '' امرلم یشرعہ اللہ ولا رسولہۖ ولا فعلہ احد من الصحابة ولا تابعین ولا ا ئمة من المسلمین ولا احدمن العلماء و الصالحین المقدمین''(القتضاء الی صراط المستقیم ص١٣٥) '' اس کام کا حکم (یعنی قبر پر دعا مانگنا) نہ اللہ نے دیا اور نہ اسکے رسول ۖ نے اور نہ اس کو صحابہ کرام ،تابعین ائمہ مسلمین اورعلماء وصالحین مقدمین میں سے کسی ایک نے بھی کیا ہے '' چنانچہ یہ عمل سلف و خلف میں سے کسی سے ثابت نہیں ہے اور میری بات کی تصدیق اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ امام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب الوسیلہ میں غیر اللہ کو ندا دینا ان سے مدد طلب کرنے کو حرام قرار دیا ہے اس لئے ان کے حوالے سے یہ کہنا کہ انہوں نے اس واقعہ کی تصدیق کی ہے اور اسی بنا پر انبیاء کو ندا دینا اور ان سے مدد طلب کرنا جائز ہے یہ بات کسی طرح بھی جائز نہیں ہے مگر ہم اس سے قبل ہی ان تمام روایات کی تحقیق آپ کے سامنے پیش کر چکے ہیں کہ یہ سب ضعیف ہیں اس لئے ان روایات سے استدلال جائز نہیں ہے اب ہم چند ایسی صحیح روایات آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں جن سے اس استدلال کے بارے میں دلائل دیئے جاتے ہیں مگر ہم اس سے ماقبل بھی عرض کرچکے ہیں کہ صحابہ کرام اور تابعین و سلف اورمحدثین نے ان روایات سے اس قسم کا کوئی استدلال نہیں کیا ہے اور اس قسم کی باتیں ان سے قطعی طور پرکسی صحیح روایت سے ثابت نہیں ہے کیونکہ وہ نبی اکرم ۖ کے اقوال و افعال کو سب سے بہتر سمجھنے والے ہیں اور انہیں نے ان روایات سے جو اخذ کیا ہے یہ ہم ان روایات کی شرح میں بیان کریں گے جو ائمہ اور محدثین سے منقول ہے اب ہم وہ روایات آپ کے سامنے بیان کر رہے ہیں۔
روایتِ صحیحہ اور استدلال باطلہ
اس عنوان کے تحت ہم ان روایات کو بیان کریں گے جن میں'' انبیاء علیہ السلام اپنی قبروں میں حیات ہیں یا قبر میں نبیۖ کی روح کا لوٹایا جانا '' یہ وہ روایات ہے جو صحابہ کرام اور تابعین سے ہوتی ہوئی ائمہ محدثین کے ذریعہ سے ہم تک پہنچی ہیں مگر انہوں نے ان روایات سے ایسا کوئی استدلال نہیں کیا ہے جو آج بعض مسلمان کر رہے ہیں کیونکہ وہ سب نبی ۖ کے فرمودات کو ہم سے زیادہ سمجھنے والے ہیں اور ائمہ اور محدثین نے جو اس کی شرح کی ہے انہوں نے بھی فہم صحابہ کرام اور تابعین کے کی ہے اس لئے کہ ان سب سے ایسی کوئی بات کسی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے تو پھر آج یہ فہم کہاں سے معرض وجود میں آگیا ہے یہ یقینا ان کے فہم کی غلطی ہے جو اسلاف کے فہم سے ہٹ کر کی گئی ہے اس سلسلہ کی پہلی روایت یہ بیان کی جاتی ہے
الانبیاء احیاء فی قبر وھم یصلون '' ''انبیاء اپنی قبروںحیات ہیں اور نماز پڑھتے ہیں ''(مسند ابی یعلی رقم
مسند البزار 6888،حیاۃ الانبیاءللبیہقی رقم 1) ,٣٤١٢
یہ روایت صحیح ہے مگر اس میں ہماری بحث کا محور وہ لفظ "احیاء" ہے جو صرف مسند ابی یعلی میں صحیح سند سے نقل ہوئے ہیں اس کے تمام رواۃ ثقہ ہیں صرف ابو جھم الارزق بن علی ہے جس کے بارے میں حافظ ابن حجر فرماتے ہیں صدوق یغرب سچا ہے مگر غریب روایات نقل کرتا ہے اور اس کی متابعت میں جو روایت ملتی ہے ہے جس کو ابو نعیم نے تاریخ اصبہان میں نقل کیا ہے اس میں احیاء کے الفاظ موجود نہیں ہیں اور اس کے علاوہ جن روایات میں احیاء کے الفاظ موجود ہیں وہ سب ضعیف سند سے نقل ہوئی ہیں اس لئے میرے نذدیک لفظ "احیاء" غریب ہے جو الارزق بن علی سے نقل ہوا ہے جو کہ تاریخ اصبہان میں موجود نہیں ہے اس کے الفاظ یہ ہیں "الانبیاء فی قبورھم یصلون " میرے اس موقف کی تائید ذیل میں دی گئی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کو سلام کے لئے لوٹائے جانے کا ذکر ہے (یہ روایت اس کے بعد نقل کی گئی ہے) چنانچہ یہ احیاء کا لفظ صحیح حدیث کے بھی متضاد ہے اور روایت کی تائید میں موجود حدیث بھی اس کی نفی کرتی ہے بعض یہ اعتراض بھی کر سکتے ہیں کہ نماز زندگی کے بغیر کیسے ممکن ہے تو عرض یہی ہے کہ جس طرح برزخی حیات کو دونیاوی حیات پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ہے بالکل اسی طرح اس نماز کو بھی عام نماز کی طرح نہ سمجھا جائے وہ کیا نماز ہے جو الانبیاء پڑہتے ہیں اس کا ادراک عقل نہیں کرسکتی ہے یہ تمام برزخی معاملات ہیں اس میں قیاس اور اندازے نہیں ہوتے صرف ایمان لانا ہوتا ہے واللہ اعلم
بعض اس روایت کو دونیاوی حیات پر قیاس کرنے کے باعث اس کو ضعیف ٹہراتے ہیں اور اس روایت کے ایک راوی حجاج کو غیر معروف مانتے ہیں جبکہ وہ حجاج بن الاسود ہےجیسا خود امام ذہبی نے میزان الاعتدال کے ترجمہ میں نقل کیا ہے ، بقول ان کے یہاں امام ذہبی کو غلطی ہوئی ہے اور وہ حجاج غیر معروف ہے ان کا یہ استدلال کئی وجوہ سے باطل ہے
(1) امام ذہبی نے حجاج کے ترجمہ میں فرمایا ہے کہ" رواہ بیہقی " اور امام بیہقی نے اس میں دو روایات نقل کی ہے جس مین ایک حجاج کے نام سے ہے اور دوسری حجاج بن الاسود کے نام سے ہے مگر امام ذہبی نے ان دونوں روایات کو جاننے کے باوجود صرف ایک ہی حجاج نقل کیا ہے حجاج بن الاسود۔ اور جس کو حافظ ابن حجر نے بھی نقل کیا ہے ہے کہ یہ حجاج بن الاسود ہے جو ثقہ ہے (لسان المیزان)
(2) امام ذہبی جب حجاج سے واقف ہو گئے تو انہوں نے اس کا ذکر سیر اعلام النبلاء میں حجاج الاسود کے نام سے اس کے پورے تعارف کے ساتھ نقل کیا ہے اوریہ دونوں ایک ہی ہیں یعنی حجا ج الاسود اور حجاج بن الاسود چنانچہ ابن حبان فرماتے ہیں کہ حماد بن سلمہ حجاج بن الاسود کو حجاج الاسود کہتے تھے (ثقات ابن حبان 7370) اورابونعیم نے حلیۃ الاولیاء جلد 2 ص 298 میں روایت نقل کی ہےجس میں حماد بن سلمہ حجاج الاسود کو ججاج بن الاسود کہا ہے جس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی ہیں۔
(3) میری تیسری دلیل یہ ہے کہ امام حاکم نے ایک روایت نقل کی ہے جس میں انہوں نے حجاج بن الاسود سے روایت نقل کی ہے جس کو امام ذہبی نے صحیح کہا ہے(مستدرک حاکم رقم 7974) اگر کوئی کہتا ہے کہ یہ حجاج بن الاسود نہیں بلکہ حجاج الاسود ہے تو اس کا یہ خیال باطل ہے کیونکہ ہم اوپر نقل کر چکے کہ حماد بن سلمہ نے حجاج الاسود ہی کو ایک روایت میں حجاج بن الاسود کہا ہے اور جب ہو اسے پہچان گئے تو اس کی روایت کو مستدرک میں صحیح کہا ہے اور البانی صاحب نے بھی یہی نقل کیا ہے (دیکھئے سلسلہ الصحیحۃ رقم 621) تو جو یہ کہتے ہیں کہ کوئی حجاج غیر معروف ہے تو وہ اس کو جمہور محدثین کے اقوال سے ثابت کریں کیونکہ ان کے نذدیک جمہور کا قول رائج ہے۔
تو اس تمام بحث کا حصول یہی ہے کہ یہ روایت صحیح ہے صرف اس میں احیاء کے الفاظ غریب ہیں واللہ اعلم۔
ما من احد یسلم علی الا رد اللہ علی روحی حتی ارد علیہ السلام(ابوداؤد رقم 2041)،مسند احمد رقم 10815،بیہقی شعب الایمان رقم3864))
یہ روایات مسند ابی یعلی اور مسند احمد وابوداؤد میں موجود ہیں اور سلسلہ احادیث صحیحہ میں بھی البانی صاحب نے نقل کی ہے مگر ان روایات سے جو فہم اخذ کیا گیا ہے وہ کسی طور بھی فہم صحابہ کرام اور تابعین و ائمہ محدثین نہیں ہے یہ روایات بیان کرنے کے باوجود بھی صحابہ کرام نے نہ کبھی نبی ۖ کی قبر انور پر جا کر ان سے دعا کی درخواست کی اور نہ کبھی نبیۖ کو ان کے وصال کے بعد ندا دی ہے اور نہ مدد کے لئے پکار اہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا اگر وہ ان احادیث سے وہی معنی اخذ کررہے ہوتے جو آج بعض مسلمان کررہے ہیں تو وہ بھی یہی کرتے جو آج یہ کررہے ہیں مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے ان روایات سے وہ معنی اخذ ہی نہیں کیے ہیں جو آج بعض مسلمان کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے ائمہ ومحدثین نے بھی ان روایات کو برزخی معاملات کے تحت لیا ہے جن پر فقط ایمان رکھنا ضروی ہے اور اس کی حقیقت اللہ تعالی ہی جانتا ہے آئیے اب ہم ائمہ محدثین کے اقوال بیان کیے دیتے ہیں جس میں انہوں نے ان روایات کو برزخی معاملات کے تحت لیا ہے ۔
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں '' اختلف فی حال الانبیاء عند لقی النبی ۖ ایاھم لیلة الاسراء ھل اسری باجسادھم ملاقاة النبی ۖ تلک اللیلة او ان ارواحھم مستقرة فی الاماکن التی لقیھم النبی ۖ و ارواحھم مشکلة بشکل اجسادھم کما جز بہ ابو الوفاء بن عقیل ، واختار الاول بعض شیوخنا واحتج بما ثبت فی مسلم عن ''انس ان النبیۖ قال رایتُ موسیٰ لیلة اسری بی قائما یصلی فی قبرہ '' فدل علی انہ اسری بہ لما مہر بہ ۔قلتُ : ولیس ذلک بلازم بل یجوز ان یکون لروحة اتصال بجسدہ فی الارض فلذلک یتمکن من الصلاة و روحہ فی مستقرہ فی السمائ( بخاری فتح باری جلد ٨ کتاب مناقب الانصار باب معراج تحت رقم ٣٨٨٨)'' اس بات میں اختلاف ہے کہ نبیۖ نے کس حال میں اسری کی رات انبیاء سے ملاقات کی تھی کیا وہ اپنے اجساد مبارکہ کے ساتھ نبیۖ سے ملے تھے یا ان کی ارواح نے ان کے اجساد مبارکہ کی شکل اختیار کی تھی جیسا کہ ابو وفاء بن عقیل نے بیان کیا ہے مگر پہلی بات کو ہمارے بعض شیوخ نے اختیار کیا ہے اور اس کی دلیل ہے ''انس سے روایت ہے نبی ۖ فرماتے ہیں کہ میں نے موسیٰ کو ان کی قبر میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے '' میں کہتا ہیں : اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے بلکہ روح کا اتصال جسد کے ساتھ فقط نماز کے لئے ہو ا ہو کیونکہ(نیک) ارواح کا ٹھکانہ آسمان ہے ''
حافظ ابن حجر کی وضاحت سے پوری طرح ثابت ہوتا ہے کہ نیک ارواح علین میں ہوتی ہے اور یہ بات سلف و خلف سے منقول ہے جیسا کہ ابن قیم الجوزی نے نقل کیا ہے '' واما قول من ان ارواح فی علین فی السماء السبعة و ارواح الکفارفی الارض اسابعة فھذا قول قد قالہ جماعة من السلف و الخلف و یدل علی قول النبیۖ '' اللہم الرفیق الاعلی''(الروح ص ٢٧٩) '' یہ قول کہ (نیک) ارواح اعلی علین میں ساتویں آسمان پر ہوتی ہیں اور کفار کی ارواح ساتویں زمین میں ہوتی ہیں اور یہ سلف اور خلف جماعت کا قول ہے اور اس کی دلیل یہ ہے (اے اللہ مجھے میرے اعلی رفیقوں سے ملا دے)''اور امام ابن حزم نے بھی یہی بات بیان کی ہے '' انبیاء اور شہداء کی ارواح کا معاملہ مختلف ہے ان کو رزق دیا جاتا ہے اور وہ ہر طرح سے عیش و راحت میں ہیں ( المحلی ابن حزم مسائل توحید ص ٥٣) اور اس کے بعد معراج والی روایت نقل کر کے فرماتے ہیں کہ '' اس حدیث سے اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء کی ارواح جنت میں تھیں۔
نبیۖ کے فرمان اور صحابہ کرام اور ائمہ سلف و خلف کے اقوال سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ انبیاء کی ارواح جنت میں میں اپنے رب کی رحمتوں میں ہیں اور اس کے دلائل ہم نے احادیث اور صحابہ کرام اور ائمہ و محدثین سے نقل کیے ہیں اب وہ امور جن میں نبی ۖ کی روح مبارک کا لوٹایا جانا اور انبیاء کا قبروں میں حیات ہونا اور نماز پڑھنا یہ سب امور برزخی ہیں جن کو ائمہ محدثین نے بیان کیا ہے اب ہم آپ کے سامنے ائمہ اور محدثین کی تصریحات بیان کیے دیتے ہیں
'' قلت و اذاثبت انہم احیاء من حیث النقل فانہ یقویہ من حیث النظر کون الشھداء احیاء بنص القرآن والانبیاء افضلا من الشھداء ( (فتح الباری کتاب الاحادیث الانبیاء تحت رقم ٣٤٤٧ ص٤٠٦)میں کہتا ہوں کہ بے شک جو نقل ہوا ہے وہ یقیناََ قوی نظر ہے کہ شہداء کی حیات نص قرآنی سے ثابت ہے کہ انبیاء شہداء سے بھی افضل ہیں'' اس کے بعد انہوں نے''رد اللہ علی روحی'' والی روایت کو نقل کیا اور اس کے بعد فرماتے ہیں'' وراوتہ ثقات ووجہ الاشکال فیہ ان ظاھرہ ان عودالروح الی الجسد یقتضی انفصالھا عنہ وھو الموت وقد اجاب العلماء عن ذلک باجوبة''(حوالہ ایضاََ) '' اس کے رواة ثقہ ہیں اور اس کے اشکال کی جو وجہ ہے یہ کہ ظاہر طور پر یہ (کہاگیا ہے ) اس میں روح کو لوٹایا جائے گاجو یہ تقاضہ کرتا ہیں کہ یہ انفصا ل وصال کا ہے اور یقیناََ علماء نے اس کے جواب دیئے ہیں'' اس کے بعد پانچ جواب نقل کیے ہیں جو اس کے بارے میں دیئے گئے ہیں اور آخر میں وہ فرماتے ہیں کہ '' اجیب بان الامور الاخرة لا تدرک بالعقل و احوال البرزخ اشبہ باحوال الاخرة''میں مانتا ہوں کہ آخرت کے احوال کا ادراک عقل سے نہیں ہوسکتا ہے اوربرز خ کے احوال آخرت کے مشابہ ہیں''
اور اسی طرح امام سخاوی نے بھی بیان کیا ہے وہ فرماتے ہیں
''واجیب بان امور الاخرة لا تدرک بالعقل ، واحوال البرزخ اشبہ باحوال الاخرة (القول البدیع ص ١٧٤) میں مانتا ہوں کہ آخرت کے احوال کا ادراک عقل سے نہیں ہوسکتا ہے اوربرز خ کے احوال آخرت کے مشابہ ہیں''اور اسی طرح امام عبدالھادی نے صارم المنکی میں نقل کیا ہے ''رد الروح علی المیت فی البرزخ و ردالسلام علی من یسلم علیہ لا یستلزم الحیاة التی یظنہا بعض الغالطین ، و ان کانت نو ع حیاة برزخیہ و قول من زعم انہا نظیر الحیاة المھودة مخالف للمنقول والمعقول ،یلزم منہ مفارقة الروح لرفیق الاعلی وحصولھا تحت التراب قرنا بعد قرن والبدن حی مدرک سمیع بصیر تحت اطباق الترب و الحجارة و لوازم ھذا الباطلة مما لا یخفی علی العقلاء ۔(الصارم المنکی ص ٢١٦باب معنی قولہ رداللہ علی روحی)'' میت پر روح کا لوٹانا ہے برزخ میں ہے اور وہ سلام لوٹاتی ہے جب کوئی سلام کرتا ہے اس سے یہ لازم نہیں یہ حیاة (دنیاوی)ہے جیسا بعض مغالطہ پیدا کرنے والوں نے گمان کیا ہے ، اوریہ حیات برزخی ہے اور جو قول نقل کیا ہے وہ غلطی پر مبنی ہے اس کو جس حیات کی جانب لوٹایا گیا ہے وہ منقول کے قول کے مخالف ہے ، روح کا جسم سے علیحدہ ہو کر رفیق الاعلی کی طرف جانا لازم ہے اور جسم کا زمانہ در زمانہ قبر میں رہنا اور جسم (روح کے بغیر) مٹی، پتھر کے نیچے اندھیرے میں دیکھے اور سنے بھی اورزندہ بھی ہو اس قول کا باطل ہونا لازم ہے جو اہل عقل سے مخفی نہیں ہے ۔امام عبدالھادی بھی روح کے لوٹائے جانے کوبرزخی ہی مانتے ہیںاور اس کے بعد امام بیہقی کے رد میں فرماتے ہیں ''بھذا یعلم بطلان تاویل قولہ الارد اللہ علی روحی بان معناہ الاوقد رداللہ علی روحی وان ذلک الرد مستمر احیاہ اللہ قبل یوم النشور و اقرہ تحت التراب و اللبن فیا لیت شعری ھل فارقت روحہ الکریمةالرفیق الاعلی و اتخذت ببیت تحت الارض مع البدن ام فی الحال الواحد ھی فی المکانین؟ وھذا التاویل المنقول عن البیہقی فی ھذا الحدیث قد تلقاہ عنہ جماعة من المتاخرین والتزموا الاجل اعتقادم لہ اموراََ ظاہرہ البطلان واللہ الموفق للصواب(ایضاََ) '' اور اس باطل تاویل کی دلیل اس قول سے دی جاتی '' رداللہ علی روحی'' اور اس کا معنی کیا جاتا ہے کہ اللہ نے میری روح کو میرے جسم اطہر میں لوٹا دیا ہے (جسم) کو اللہ قیامت سے قبل یقینا زندہ کرے گا اور مٹی، اینٹوںکے نیچے اس کا ٹھکانہ بنادیا ہے اور نبی ۖ کی روح مبارک رفیق الاعلی میں بھی ہو اوروہ قبر میں بھی اپنے جسم اطہر کے ساتھ رہیںکیا نبی ۖ کی روح مبارک دو مقام پر ایک حال میںہے یہ تاویل امام بیہقی سے منقول ہے(کہ نبیۖ کی روح جسم اطہر میں لوٹادی گئی ہے) اور اس کو بعض متاخرین نے بھی لیا ہے اور اس کا باطلان کرنا لازم تھا '' اس کے علاوہ بعض حضرات امام شوکانی کے حوالے سے یہ نقل کرتے ہیں کہ وہ نبیۖ کی قبر میں دونیاوی حیات کے قائل تھے یہ بات صریح غلط ہے امام شوکانی نے چند لوگوں کے استدلا ل پیش کیے ہیں جس کو ان کی جانب منسوب کیا جاتا ہے کہ وہ اس بات پر قائل ہے چنانچہ رقمطراز ہیں ''ان نبینا حی بعد وفاتہ انتھی ۔ویوید ذلک ما ثبت ان الشھداء احیا یرزقون قبورھم والنبی منھم واذا ثبت انہ حی فی قبرہ کان المجیء الیہ بعد الموت کالمجیء الیہ قبلہ ولکنہ قد ورد ان الانبیاء لا یتروکون قبورھم فوق ثلاث و روی فوق اربعین فان صح ذلک قدح فی الاستدلال بالآیة : یعارض القول بدوام حیاتھم فی قبورھم ماسیاتی من انہ تردالیہ روحہ عند التسلم علیہ نعم حدیث '' من زارنی موتی فکانما زارنی فی حیاتی '' الذی سیاتی ان شاء اللہ تعالی ان صح فھو الحجة فی المقام،(کتاب المناسک باب تحلل المحصر عن العمرة جلد ٥ ص١٢٦)''بے شک ہمارے نبیۖ وفات کے بعد بھی حیات ہیں اور یہ اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ شہداء اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور رزق پاتے ہیں اور اسی طرح انبیاء بھی رزق پاتے ہیں اور ثابت ہے کہ نبیۖ اپنی قبر مبارک میں اسی طرح حیات ہیں جیسا اپنی دونیاوی حیات میںتھے لیکن وارد ہوا ہے کہ الانبیاء اپنی قبروں کو تین دن سے زیادہ یا (بعض میںچالیس دن آیا ہے)نہیں چھوڑتے ہیں اگر یہ صحیح ہے تو پھر اس آیت(لوظلم انفسھم ) سے استدلال قادح ہے کیونکہ اس حدیث سے ہمیشگی کی زندگی پر تعرض واقع ہوتا ہے جو ہم بیان کررہے ہیں کہ '' میری روح کو لوٹایا جاتا ہے'' ہاںیہ حدیث '' جس نے میری زیارت میری وفات کے بعد کی وہ ایسا ہی ہے جس نے میری زندگی میں میری زیارت کی''اگر یہ صحیح ہے تو یہ اس مقام کے لئے حجت ہے ''مگر امام شوکانی نے یہ اور اس قسم کی تمام روایات جو زیارت روضہ رسولۖ کے وجوب پر دلیل ہے ان سب کو ضعیف قرار دیا ہے اور آخر میں فرماتے ہیں کہ یہ ایک مستحب عمل ہے اور اس سے کسی کو انکار نہیں ہے۔اس تفصیل سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ امام شوکانی اس بات کے قائل نہیں تھے کہ انبیاء اپنی قبروں میں دونیاوی حیات گزار رہے ہیں
یہ وہ تمام اقوال ہے جو ائمہ اور محدثین سے منقول ہیں جو انہوں نے ان روایات کی شرح میں بیان کیے ہیں یہ تمام اروا ح کا اعلی علین میں ہوناسلف و خلف سے مانتے ہیں اور دیگر روایات کو انھوں نے برزخی معاملات کے تحت لیا ہے جس کی حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور امام عبدالھادی نے اس تاویل کا بھی رد بیان کیا ہے جو بعض متاخرین مثلا امام سبکی اور ان کے بعد امام جلال الدین سیوطی وغیر ہ نے کی ہے اور اس کا یہ جواب دیا ہے کہ نبی ۖ روح مبارک رفیق الاعلی اور اپنی قبر مبارک میں بیک وقت کس طرح موجود ہو سکتی ہے اس لئے ان تمام ائمہ نے ان روایات کو برزخی معاملات کے تحت لیا ہے ۔ اور ائمہ سلف میں سے کسی نے بھی یہ تاویل بیان نہیں کی ہے کہ میری روح کو مجھ پر لوٹادیا گیا ہے جیسا بعض متاخرین نے بیان کیا ہے بلکہ ائمہ مقدمین اور صحابہ کرام اور تابعین وصالحین سے اس طرح کی کوئی بات ثابت نہیں ہے بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبیۖ پر جہاںسے بھی سلام بھیجا جائے گا تونبیۖ کی روح مبارک کو لوٹایا دیا گیاہے مگر یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ائمہ مقدمین سے ثابت نہیں ہے ائمہ مقدمین نے اس روایت کو نبی ۖ کی قبر انور کے قریب سلام پڑھنے کی دلیل بنایا ہے چنانچہ امام ابن تیمیہ بھی روح لوٹانے والی حدیث کو نبی ۖ کے روضہ مبارک پر جاکر سلام پڑھنے کی دلیل مانتے ہیں چنانچہ فرماتے ہیں'' ائمہ دین نبی ۖ کی قبر اطہر کے قریب آپۖ پر سلام بھیجنے کے بارے میں صرف اسی(یعنی اللہ میری روح لوٹا دیتا ہے) پر اعتماد کرتے ہیں(الوسیلہ ص ١٦٦) اور امام ابن تیمیہ کی بات کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ " ابن عمر رضی اللہ عنہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر حاضر ہوتے تو ان کو سلم کر تے اور ابو بکر اور عمر کو بھی اور پھر ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہی روایت نقل کرتے تھے " مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ"
تو یہ بات ثابت ہے کہ ائمہ مقدمین اس روایت کو نبی ۖ کی قبراطہرکے قریب کھڑے ہو کر سلام پڑھنے کی دلیل مانتے ہیں اور یہ روح کا لوٹانا برزخی معاملات سے تعلق رکھتا ہے جس پر فقط ایمان رکھنا چاہئے اور ائمہ و محدثین نے اسی طرح بیان کیا ہے کہ یہ سب برزخی معاملات ہیں اور انبیاء اپنی قبر میں برزخی زندگی میں حیات ہے اور اس حیات پر فقط ایمان لانا ضروری ہے اس کی حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور اس برزخی حیات سے صحابہ کرام سے اور تابعین و سلف سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے انبیاء کو ندا دینا اور ان سے مدد طلب کرنے کو جائز قرار دیا ہے ہے چنانچہ امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ ''صحابہ کرام اور سلف صحالحین میں سے کسی نے بھی اپنی ذات کے لئے دعا کرتے وقت نبی ۖ کی قبر انور کی طرف رخ نہیں کیا چہ جائیکہ وہ نبی ۖ کی قبر اطہر کی طرف رخ کرکے آپۖ سے سفارش وشفاعت کی درخواست کرتے اور کہتے اے اللہ کے رسول میرے لیے شفاعت کریں میرے لئے دعا کریں ان میں سے کسی نے دین و دنیا کےمصائب کے بارے میںآپ ۖ سے فریاد نہیں کی نہ نبیۖ نہ کسی نبی اور بزرگ کی وفات کے بعد نہ ملائکہ سے سفارش کی درخواست کی ہے نہ ان سے مصائب وآلام کے خلاف فریاد کی ہے سابقون الاولون مہاجرین و انصار اور تابعین و صالحین میں سے کسی نے یہ کام نہیں کیا ہے نہ کسی امام نے اس کا حکم دیا ہے (الوسیلہ ص ١٦٦) اور آخر میں میں احناف کے حوالے سے نقل کرنا چاہتا ہوں تاکہ یہ اندازہ ہو جائے کہ اکابر احناف کا اس بارے میں کیا عقیدہ ہے چنانچہ شرح عقیدہ الطحاویہ میں نقل کیا ہے ''الارواح فی البرزخ ان الارواح فی البرزخ متفاوتہ اعظم تفاوت فمنھا: ارواح فی علی علین فی الملاء الاعلی وھی الاروح الانبیاء وھم متفاوتوں فی منازلھم ،ومنھاارواح فی حواصل طیر خضر وھی ارواح بعض الشھداء لاکلھم (شرح العقیدہ الطحاویہ باب بعذاب القبر و سوال منکر نکیر ص ٤٥٦-٤٥٤)''ارواح برزخ میں ہیں جہاں ان کے دو بڑی تقسیم ہے جو اعلی علین میں ہیں ان میں ایک الملاء اعلی میں انبیاء کی ارواح ہیں اور دوسرے جو ارواح سبز پرندوں کے سینوں میں ہیں وہ شہداء کی ارواح ہیں'' اس کے بعد آخر میں وہی روایت نقل کی ہے ''
حرم علی الارض ان تاکل اجساد انبیائ'' مگر اس کے بعد انبیاء کی قبر میں حیات کا کوئی تذکرہ نہیں کیا ہے اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اکابراحناف بھی انبیاء کی اراوح کے جنت کے اعلی مقام میں ہونے کہ قائل ہیں نہ کہ انبیاء اپنی قبروں میں حیات دونیاوی کے ساتھ ہیںاور اکابر احناف نے بھی انبیاء سے مدد طلب کرنے یا ان کو ندا دینے کے قائل نہیں ہیںحتیٰ کہ امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف تو اس بات کے بھی قائل نہیں تھے کہ اللہ کو مخلوق کے وسیلہ سے پکارا جائے چنانچہ پاکستان کی اکثریت حنفی مسلک سے تعلق رکھتی ہیں اسی وجہ سے میں ان کے یہ ا قوال نقل کررہا ہوں امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں لا ینبغی ِلاَحدِِ اَنْ یدعوا اللہ الا بہ(شرح الکرخی باب الکراہت) '' کسی شخص کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ کی ذات کے سوا کسی کا واسطہ دے کر اللہ کو پکارے'' امام ابو حنیفہ کا یہ قول متعدد ائمہ نے نقل کیا ہے جس فقہ کے بانی کسی وسیلہ سے اللہ کو پکارنا جائز نہیں سمجھتے وہ کس طرح اللہ کے علاوہ کسی کو ندا دینا یا مدد طلب کرنا جائز قرار دے سکتے ہیں اور ان کے ماننے والے آج ان ہی کی تعلیمات سے اس قدر ناآشنا ہیں کہ
وہ انبیاء کو ندادینا جائز سمجھتے ہیں جبکہ ان کے مسلک کے امام کا عقیدہ ہی کچھ اور ہے۔
اس تمام بحث کاحصول فقط یہی ہے ہر انسان کے لئے ایک حیات برزخی ہے اور مومن بھی اپنی حیات برزخی گزار رہے ہیں اور انبیاء مومنوں سے بھی اعلی ہیں اور نبی ۖ امام الانبیاء ہیں تو تمام انبیاء کی حیات برزخی ہے جس کو دنیاوی حیات پر قیاس کرنا صحابہ کرام ،تابعین سلف وصالحین ائمہ ومحدثین سے ثابت نہیں ہے اور اس کی بنا پر انبیاء کو ندا دینا ان سے مدد طلب کرنا قطعی طور پر صحابہ کرام سے ثابت نہیں ہے اور خصوصا ان روایات سے اس قسم کا کوئی عمل صحابہ کرام نے اخذ نہیں کیا ہے اور ہمارے لئے صحابہ کرام کے ایمان کی مثال دی گئی ہے کہ اگر ایمان لاناہے تو ان کی طرح لاؤ تو ہمارے لئے نبی ۖ کی تعلیمات کو سمجھنے کے لئے صحابہ کرام سے بہتر اس روئے زمین پر اور کوئی نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ انہوں نے براہ راست نبی ۖ سے تعلیم حاصل کی ہے اور ان سے بہتر نبی ۖ کے ارشادات کو اور کون سمجھ سکتا ہے اللہ ہمیں نبی ۖ کی تعلیمات کو فہم صحابہ کرام کے طریقہ پر سمجھنے کی توفیق دے جو سب سے بہتر طریقہ ہے (آمین) جزاکم اللہ و احسن جزا
وماعلینا الابلاغ
 
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
14 Sep, 2012 Total Views: 1930 Print Article Print
NEXT 
About the Author: tariq mehmood

Read More Articles by tariq mehmood: 13 Articles with 16529 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
طارق جی آپکا مضمون پڑھا ۔یقین جانیے دل سے دعاء نکلی۔آپ نے بڑے مدلل دلائل سے بات کی ھے مگر پھر بھی بھائی بہن لوگ ماننے کےلئے تیار نہیں۔ جو فرض تھا پورا کر دیا۔کسی کو صحیح راستہ دیکھانا الله کا کام ھے۔اب ان لوگوں سے بحث کرنا بیکار ھےآپ کا فرض ھو گیا۔دعا ھے ہم سب کو قرآن پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت عطا کرے آمین ثم آمین
By: abdul wajid, Hyderabad on Apr, 01 2013
Reply Reply
0 Like
طارق صاحب امام اعظم کے عقیدہ کے متعلق قیاس آرائیاں کرنا چھوڑیں یہ بتائیں کہ آپ خود کس امام کے مقلد ہیں اور اگر کسی کے نہیں تو پہلے اپنے عقیدے کی اصلاح کی کوشش فرمائیں۔ امام اعظم ہمارے روحانی و فقہی باپ ہیں اور ہم اولاد کی مانند ہیں ہمیں خوب معلوم ہے کہ امام اعظم کے عقائد کیا تھے۔ ہمیں انکے بارے میں اغیار کے سرٹیفیکٹ کے کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بالکل ایسا ہی معاملہ ہے کہ اوبامہ کہے کہ چاند نظر آگیا ہے تو ہم اسکے کہنے سے عید نہیں کرتے اسی طرح سے ہمیں امام اعظم کے عقیدے کے بارے میں آپکی رائے سے بھی کوئی سروکار نہیں۔
By: Mujtaba, Karachi on Mar, 26 2013
Reply Reply
0 Like
مجتبٰی صاحب،
میں نے خود قیاس آرائیاں نہیں کی ہیں بلکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے جس کا لنک میں نے پیش کیا ہے آپ ان کی بات مانیں اغیار کی نہیں ان کے قول کا لنک دوبارہ دے رہا ہوں غور سے پڑھیں کہ یہ میری قیاس آرائیاں نہیں ان کا ذاتی قول ہے ۔ لنک پیش ہے www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=30223
By: tariq mehmood, Karachi on Apr, 06 2013
0 Like
بابر صاحب یہ آپ نے تحریر فرمایا ہے نا ان سے کہیے کہ "خلق الاِنسان" . کا اردو میں ترجمہ کر دیں۔ تو اسی قاعدے پر مکر کا ترجمہ بھی کردیتے وہاں قانوں تبدیل کیوں کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جا ہل کون ہیں۔ یا اب بھی سمجھ نہیں آیا۔
مزید آپ نے لکھا ہے کہ
(ان بے وقوفوں کے نزدیک عربی کے لفظ "مکر" ۔ کا مطلب وہی ہے جو کہ اردو مین ہوتا ہے۔ سورہ آل عمران کی آیت نمبر 54 کے مطابق کفار نے ایک خفیہ تدبیر(مکر) کی اور پھر اللہ تعالٰی نے ایک ایسی تدبیر کی جو کہ ان کفار سے خفیہ تھی۔ اس لیۓ اس آیت میں ہر دو خفیہ تدبیروں کے لیۓ عربی کا لفظ "مکر" ۔ ہی استعمال ہوا ہے۔ ان کے سب سے بڑے حضرت ایک جگہ تو عربی لفظ "مکر"۔ کا اردو ترجمہ بھی مکر ہی کرتے ہیں اور دوسری جگہ اسے خفیہ تدبیر کا نام دیتے ہیں ۔ حالانکہ دونوں ہی مقامات پر اس کا مطلب خفیہ تدبیر ہی ہے۔ اور یہ حضرات اس فرق کو سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ اور اپنے اس غلط ترجمہ کی بنیاد پر دوسرے علماء کو گمراہ قرار دے دیتے ہیں۔ ) نادانوں جب تک تم عبد اور معبود کا فرق سمجھ کر تراجم نہیں کرو گے تو ایسا ہو گا۔ تمہیں ہر طرف شرک اور بدعت ہی نظر آئے گا۔ ہم اسی لیے تو کہتے ہیں کہ اللہ کا سمیع ہونا اور اور مخلوق کا سمیع ہونا اور، جب کہ لفظ ایک ہی ہے مگر مراتب میں زمیں و آسمان کا فرق ہے۔ اسی لیے جب مکر کی نسبت کفا کی طرف ہو تو وہ مکاری ہوتی ہے مگر رب کی طرف ہو تو خفیہ تدبیر ہوا کرتی ہے۔ اسی طرح ""خلق الانسان""" کی نسبت جب سرکار دو عالم سے ہوگی تو اسکا مطلب انسانیت کی جان ہی نکلےگا۔
By: Mujtaba, Karachi on Mar, 26 2013
Reply Reply
0 Like
جناب مجتبی صاحب بندے نے تو صرف آپ سے "خلق الانسان" کا ترجمہ دریافت کیا ہے۔ اس کی نسبت کی بابت دریافت نہیں کیا۔ بہلے ترجمہ تو درست کر لیجیۓ پھر اپنا مطلب نکالتے رہیۓ گا۔ چلیۓ اب مجھے ذرا جلدی سے اس اردو جملہ کا عربی میں ترجمہ کر کے بتائیے۔
"۔انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا"
اور جناب آپ غلط فرما رہے ہیں۔ میں نے آپ سے عرض کیا کہ دونوں جگہ اس کا مطلب خفیہ تدبیر ہی ہے۔ اس لیۓ اس آیت کے آخر میں اللہ تعالٰی نے فرما دیا کہ "والله خير الماكرين". یعنی اللہ تعالی ہی سب سے بہتر خفیہ تدبیر کرنے والا ہے۔ اب آپ خود ہی اپنے الفاظ کے دام میں آ رہے ہیں۔ اب اگر آپ غیر اللہ کے لیۓ مکر کا مطلب مکاری لیں تو اللہ تعالی تو فرما رہا ہے کہ میں سب سے اچھا مکر کرنے والا ہوں۔ (مطلب آپ خود سمجھ لیجیۓ)۔ اور اگر یہان اس لفظ سے مراد خفیہ تدبیر لی جاۓ تو پھر اس کا مطلب دونوں کے لیۓ خفیہ تدبیر ہی ہوگآ۔۔ اور جس طرح اللہ تعالٰی عزوجل کے سمیع و بصیر ہونے اور انسان کے سمیع بصیر ہونے میں فرق ہے اول الذکر لامحدود اور آخر الذکر محدود۔ اس طرح کسی انسان کی خفیہ تدبیر کرنے میں اور اللہ تعالٰی کی خفیہ تدبیر کرنے میں فرق ہے۔ یہی نقطہ آپ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Mar, 27 2013
0 Like
Babar Sahab! Muhammad (SAWW) ko Insaniyat ki jaan Eeman waley hi maantey aur jaantey hein wo log jo Makarallaho ka tarjuma (Allah ka Makar) kartey hein kia janeygey. Ya wo badnseeb kia samjheingey jo Allah ko har cheez par Qadir likhkar Jhoot Bolney par bhi Qadir bataey (Naozobillah) Lehza dost Zaahiri Tarjuma karney se Quran ko samjhna Eemaan ki barbaadi ka sabab bhi ban sakta hai.
By: Mujtaba, Karachi on Mar, 18 2013
Reply Reply
0 Like
جی سسٹر نور فاطمہ یہ بھی انہی بیماروں سے ہیں۔ اور ان کے مطابق باقی تمام علماء جاہل ہیں اور ان کے مترجم ہی علم والے ہیں۔ ان سے کہیۓ کہ "خلق الاِنسان" . کا اردو میں ترجمہ کر دیں۔
یہاں میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ ماضی میں اسی فورم پر ان سے مختلف آیات کے تراجم کے حوالے سے میری گفتگو ہو چکی ہے
ان بے وقوفوں کے نزدیک عربی کے لفظ "مکر" ۔ کا مطلب وہی ہے جو کہ اردو مین ہوتا ہے۔ سورہ آل عمران کی آیت نمبر 54 کے مطابق کفار نے ایک خفیہ تدبیر(مکر) کی اور پھر اللہ تعالی نے ایک ایسی تدبیر کی جو کہ ان کفار سے خفیہ تھی۔ اس لیۓ اس آیت میں ہر دو خفیہ تدبیروں کے لیۓ عربی کا لفظ "مکر" ۔ ہی استعمال ہوا ہے۔ ان کے سب سے بڑے حضرت ایک جگہ تو عربی لفظ "مکر"۔ کا اردو ترجمہ بھی مکر ہی کرتے ہیں اور دوسری جگہ اسے خفیہ تدبیر کا نام دیتے ہین ۔ حالانکہ دونوں ہی مقامات پر اس کا مطلب خفیہ تدبیر ہی ہے۔ اور یہ حضرات اس فرق کو سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ اور اپنے اس غلط ترجمہ کی بنیاد پر دوسرے علماء کو گمراہ قرار دے دیتے ہیں۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Mar, 25 2013
0 Like
baber bhai yeh sahib b uni bimaron main sy lagtay hain jin k samny kinzul imaan rakhi jati hai or 10 12 QURAN E PAK dosri side py rakh k hoob patya purhai jati hain k yeh dako humara turjuma sahi hai baki to kisi ko turjuma kerna he nhi ata ub ju patya parhi hain wohi toatay ki taran yahan bol rahy hain yeh sahib
By: noor fatima, damam on Mar, 23 2013
0 Like
janab Tariq Sahab! Aap musalsal Waseeley ki mukhalfat mein masroof hein, Phir tu Aapko Namazein bhi 50 padhni Chahye q k ye 50 se 5 Sirf Hazrat Moosa (AS) k waseeley se hui hein aur Waseeley k aap Qail nahi tu 50 Padho 5 q, Dosri baat k Hazrat Zakria (AS) ney Hazrat Yahya (AS) ki dua Hazrat Mariyam k Hujrey mein hi q mangi wo bhi Allah k Nabi thhey aur ham sab se ziayada jaantey thhy k Allah Karim Harjaga Moujod hai aur Sunta hai. Phir Dua k liye ye intekhab kia. Aur ye bhi yad rahey k Moosa (AS) ne ye madad Baad az Wisaal k ki thhi Hayat -e- Zahiri mein nahi. Aur Mohtram jitni koshish Aap Nabi pak (SAWW) ki Shaan mein Kami karney ki kartey hein agr yehi waqt Midhat mein sarf kartey tu Achha na hota. lekin ye sab muqadr ki baat hai. Aur jo Babar Tanweer Sahab ne Tarajim likhey hein Diyanat se Khudhi padhein tu baat wazah hojaeygi k HAQ kia hai, Burey Bhaley ka Maalik honey mein aur Akhtiar honey mein Zameen Asman ka farq hota hai jo Mosoof ko Nazar nahi Aarah hai, q k Aankh waley tere joban ka Nazara dekhen, Deedah Kor ko kia Nazar Aaey wo kia Dekhey. Allah Samajh Atta farmey, Aur merey Bhai Rana Sahab ney sahee faisla kia k Aisey Bad Aqeedah logo se dooor hi raha jana munasib hai. yeh Khud bhi Gumrah hein aur dosro ko bhi gumrah kartey hein.
By: Mujtaba , Karachi on Mar, 18 2013
Reply Reply
0 Like
مجتبٰی صاحب،
میرا ایک ہی سوال ہے امام ابو حنیفہ اس وسیلہ کو نہیں مانتے جس کی آج امت مسلمہ قائل ہے کیا امام ابو حنیفہ غلط تھے کیا ان کا عقیدہ درست نہیں تھا جواب عنایت فرمائیں۔
By: tariq mehmood, Karachi on Mar, 24 2013
0 Like
باربار تنور اعتراض آپ کو ہے ہم اہلسنت تو وسیلہ مانتے ہی ہیں اگر آپ کو کوئی دلیل نہیں آتی تو میرا قصور نہیں
By: محمد عظیم گل, karachi on Mar, 01 2013
Reply Reply
0 Like
وسیلہ کے بارے میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا موقف اس لنک موجود ہے جو پڑھنا چاہے پڑھ لے۔

http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=30223
By: tariq mehmood, Karachi on Mar, 10 2013
1 Like
daleel to kia he yeh lain gain bus kiyas ki batain sun lain in say .
By: noor fatima , damam on Mar, 04 2013
0 Like
محمد عظیم گل بدعتی سراپا تاریکی
تو پھر لاؤ نا اپنی دلیل۔ اور شرو‏ع کرنا قران کریم فرقان حمید سے۔ کیونکہ دعا مانگنے کا سلسلہ وہیں سے شروع ہوتا ہے۔ اور میری دلیل بھی انشاء اللہ وہیں سے شروع ہوتی ہے۔ جو کہ میں تمہاری خدمت میں پیش کرچکا ہوں۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Mar, 02 2013
0 Like
طارق بھائی! آپ سے یہ امید ہرگز نہیں تھی کہ آپ قرآن کی ایک آیت کا اتنا غلط ترجمہ کریں گے ھماری ویب کے ورڈ پیڈ پر اعراب نہ ہونے کی وجہ سے ھم اس آیت مبارکہ کو بغیر اعراب کے لکھ رہیے ھیں بات اس سے بھی واضح ہو گی سورہءجن کی آیت نمبر ٢١ “قل انی لا املک لکم ضرا و لا رشدا “ املک کا مطلب ھے مالک ہونا ضرا کا مطلب ھے برائی اور رشدا کا مطلب ہوتا ھے بھلائی ۔ ایک مخصوص صورتحال کے موقع پر الله نے اپنے اپنے رسول سے جو فرمایا اس کا درست ترجمہ ھے “ تم کہدو میں تمہارے برے بھلے کا مالک نہیں “ آپ نے اس کو کیا سے کیا کر کے رکھ دیا؟ اور پھر اسے پوری امت پر بھی لاگو کر دیا اس ایک مثال سے ہی اندازہ ہو رہا ھے کہ آپ نے ضرروت پڑنے پر باقی آیات کا بھی کیا حشر کیا ہو گا؟ بس اب ھمیں آپ سے اور بحث نہیں کرنی ھے ھم آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ کوشش کریں گے کہ آئندہ آپ کے پیج پر نہ آئیں یا کم از کم کسی بحث میں حصہ نہ لیں ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas f w,USA on Feb, 27 2013
Reply Reply
0 Like
محترم رانا صاحب،
امید ہے کہ اگر میری طرف سے آپ کو کوئی بات بری لگی ہے تو مجھے بھی معاف فرمائیں گے میرا اپ سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں ہے مگر میں یہی امید کرتا ہوں کہ ہم دونوں کی نیت صرف یہی ہے اصلاح کی ہے اللہ سب کو قران اور سنت کا مطیع بنائے
بابر بھائی میں اپ کا بھی انتہائی ممنون ہوں کہ آپ نے مناسب وقت پر کمنٹس دے کر میری طرٍ ہونے والے اشکال کو دور کیا اللہ آپ کو دنیا اور اخرت کی ڈھیروں بھلائیاں عطا کرے آمین۔
By: tariq mehmood, Karachi on Mar, 05 2013
0 Like
بھائی طارق محمود صاحب! مسلکی اختلاف اپنی جگہ آپ کے نکتہءنظر سے اتفاق نہ ہونا بھی ایک معمول کی چیز مگر آپ نے قرآن کی ایک آیت کا جو ترجمہ لکھا تھا بلحاظ حروف وہ بالکل صحیح تھا ھماری تحقیق محدود تھی اور اسی بناء پر ھم نے آپ کے لئے جو الفاظ استعمال کئے ان کا ھمیں بعد میں واقعی افسوس ہؤا تھا کسی سے اختلاف ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس کی کسی درست بات کو بھی رد کر دیا جائے ابھی ھماری غلطی تھی ھم نے اسے تسلیم بھی کیا اور آپ سے معذرت بھی چاہی ۔ معاملات ایسے ہی سلجھتے ھیں ھم تہذیب و شائستگی کو اولیت دیتے ھیں ھم کسی بھی قسم کی بد زبانی افورڈ نہیں کر سکتے یہ ھماری مجبوری ھے ۔ کوشش یہی ہوتی ھے کہ اس طرح بات نہیں کریں کہ دوسرا بد تمیزی پر اتر آئے ۔ ابھی جس موضوع پر بحث چل رہی ھے اس میں پورے دم خم کے ساتھ ٹھوس بنیادوں پر حصہ لینے کے لئے جتنی علمی تحقیق اور مطالعے کی ضرورت ھے اس کا ھمارے پاس وقت نہیں ھے ھم نہیں چاھتے کہ کم علمی کی بناء پر پھر ھم سے کوئی دلآزاری سر زد ہو جائے ۔ اتنے سارے ھمارے ھم مسلک دلائل اور حوالوں کے ساتھ آپ سے نبرد آزما ھیں مگر آپ قائل نہیں ہوئے تو پھر ھم تو چیز ہی کچھ نہیں ھیں بس اتنا کہیں گے کہ ھم میں سے جو بھی حق پر ھو الله اسے کامیابی دے اور جو غلطی پر ھے اسے ھدایت دے ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas,USA on Mar, 04 2013
0 Like
جزاک اللہ خیرا طارق بھائ آپ اپنی گفتگو جاری رکھیے۔ میں دخل در معقولات کی معافی چاہتا ہوں۔ ایک جناب رانا تبسم صاحب ہین جو کہ مخالف نقطہ نظر رکھنے کے باوجود باعزت انداز سے گفتگو کر رہے ہیں اور دوسرے یہ بھٹکے ہوئے صاحبان ہیں جو کہ وہ اسلوب اپنا رہے ہیں جو کہ ناقابل قبول ہے۔ ان کے کمنٹس دیکھ کر سوچا کہ انہین ان کے شایان شان جواب دے دیا جاۓ۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Mar, 03 2013
0 Like
محترم رانا صاحب،
میرے کیے ہوئے ترجمہ کو اب آپ درست مان چکے ہیں تو جناب اب مجھے اجازت ہے کہ میں ہم جس بارے میں بات کر رہے تھے اس حوالے سے آپ کے ذمے جو دلیل ہے وہ آپ مجھے عنایت کریں گے آپ کو آپ ہی کی تحریر سے یاد دلا دیتا ہوں “ خدا کی کوئی خاص مخلوق اپنی موت کے بعد کسی قسم کے نفع کا باعث نہیں بنتی ۔ تو اس تحریر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ فوت شدہ سے نفع کے قائل ہیں تو پھر میں اپنی دلیل دے چکا اب اپ اپلے موقف کی دلیل پیش کر دیں اس کے بعد آگے بحث کریں گے کہ کس کی دلیل زیادہ مضبوط اور اسلاف کے مطابق ہےتو برائے مہربانی اپنی دلیل پیش کریں۔
By: tariq mehmood, Karachi on Mar, 02 2013
0 Like
الله آپ کو جزائے خیر دے طارق بھائی ھم نے آپ سے اسی جواب کی امید رکھی تھی ۔ تو بھائی جب الله اپنے فنا شدہ اور بے وجود بندوں کو روز قیامت دوبارہ صحیح سلامت کھڑا کرنے پر قادر ھے تو اسی طرح وہ اپنے برگزیدہ اور پسندیدہ بندوں کو بعد از مرگ بھی اپنی مخلوق کے لئے باعث نفع بنانے پر قادر ھے ۔ سب کچھ خدا ہی کی قدرت اور رضا سے ہوتا ھے زندہ یا مردہ تو صرف ذریعہ وسیلہ بنتے ھیں ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas f w,USA on Feb, 18 2013
Reply Reply
0 Like
نہایت ہی محترم بھائ رانا تبسم پاشا صاحب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا نہ تو اس دنیا میں آیا اور نہ ہی قیامت تک آئے گا۔ اور دیکھو بھائ اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں تو ہمیئ اس شریعت کی پابندی کرنی ہوگی جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیۓ لے کر آۓ۔ اسی کا حکم ہمیں قران کریم میں دیا گیا ہے۔ ایک اور بات یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنی پیاری بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے بھی یہ کہا تھا بیٹی عمل کر لو اللہ تعالٰی کے ہاں اعمال ہی کام آئیں گے۔
آپ تو مجھے پڑھے آدمی لگتے ہیں۔ بھائ اگر وقت ہو تو کسی بھی اختلافی مسئلہ پر مختلف مکاتب فکر کی آراء کا مطالعہ کیجیۓ اور قران و سنت کی کسوٹی پر اسے پرکھ لیجیۓ۔ ان شاء اللہ حق آپ واضح ہو جائے گا۔
جب کسی کی ذات کے وسیلے سے دعا مانگنے کی بات آئے گی تو آپ دیکھیں گے کہ اس طرح دعا مانگنا کسی بھی صحیع حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
ایسی دعا کبھی انبیاء نے نہیں مانگی۔ کبھی صحابہ نے نہیں مانگی تو ہم نے تو وہی عمل کرنا ہے جو کہ قران و حدیث سے ثابت ہو۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Mar, 02 2013
0 Like
برادرم بابر تنویر آپ کے تحریر کردہ تمام تراجم درست ھیں اور طارق بھائی نے انہی میں سے ایک کو یہاں نقل کیا ھم اپنی کم فہمی پر ان سے معذرت خواہ ھیں مگر بھائی یہ تو واقعہ ھے نا کہ ایک مخصوص صورتحال اور موقع پر الله کی جانب سے اپنے رسول کو فرمان آیا کہ آپ یہ کہہ دیجئے ۔ تو کیا یہ فرمان قیامت تک کے لئے لاگو ہو گیا ۔ کیا نبی پاک کی ذات اقدس سے یہ امید کی جا سکتی ھے کہ وہ اب امت کے لئے باعث فیض و برکت نہیں رہی ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas,USA on Mar, 01 2013
0 Like
جناب رانا تبسم صاحب آیات کا برا حشر ہم نہیں آپ کیا کرتے ہیں۔
اپنے کسی عالم سے اس اردو عبارت کا عربی میں ترجمہ کرکے یہاں لکھ دیں۔
"انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا"
اور یہ جو آپ نے سورہ جن کی آیت نمبر 21 کے غلط ترجمے کا ذکر کیا ہے تو میں آپ کی خدمت میں مختلف تراجم پیش کردیتا ہوں۔_______

کہو، "میں تم لوگوں کے لئے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا" (21)۔ مودودی
تم فرماؤ میں تمہارے کسی برے بھلے کا مالک نہیں، (21)۔ احمد رضا خان
کہہ دو میں نہ تمہارے کسی ضرر کا اختیار رکھتا ہوں اورنہ کسی بھلائی کا (21)۔احمد علی
(یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہارے حق میں نقصان اور نفع کا کچھ اختیار نہیں رکھتا (21)
جالندھری
کہہ دیجئے کہ میں تمہارے لئے کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ فائدہ کا (21) ۔ علامہ جوادی۔
کہہ دیجئے کہ مجھے تمہارے کسی نقصان نفع کا اختیار نہیں (21)۔ جونا گڑھی
اور لیجیے عربی عبارت بھی بمع اعراب پیش کردیتا ہوں۔
قُلْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا۔

اب آپ کی خدمت میں بصد احترام عرض کرتا ہوں کہ یہ فرمادیجیے کیا باقی تمام مترجمین کے ترجمے غلط ہیں اور صحیح وہی ہے جو کہ آپ نے بیان کیا ہے۔؟
By: Baber Tanweer, Karachi on Feb, 28 2013
0 Like
سمیع اللہ اور جمال ضیاء صاحبان آپ قران کریم سے کوئ ایک بھی ایسی دعا ثابت کردو جس میں کسی دوسرے انسان کی ذات زندہ یا مردہ کا وسیلہ اختیار کیا گیا ہو۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Feb, 28 2013
0 Like
جناب تاریک ساب ذرا حوالہ تو دیں کہ امام ِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کون سی کتاب میں لکھا ہے کہ بغیر وسیلہ اللہ تعالیٰ کو پکارنا جائز نہیں
By: سمیع اللہ خان, karachi on Feb, 23 2013
0 Like
تاریک ساب وسیلہ نہ بنانے کی آپ کے پاس کیا دلیل ہے؟
By: jamal zia, karachi on Feb, 23 2013
0 Like
سورہ الجن آیت ٢١ میں ارشاد ہے “ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیں مجھے تمہارے کسی نفع نقصان کا اختیار نہیں ہے“
اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس سے یہ فرمان جاری کروایا تو باقی کسی کی کیا حثییت ہے وہ بھی وفات پانے والے جن کے بارے میں قرآن فرماتا ہے زندہ مردہ برابر نہیں ہے (سورہ فاطر٢٣)
تو زندہ کے لئے کوئی اختیار نہیں تو وفات پانے والے تو بدرجہ اولی اختیار نہیں رکھتے کیونکہ زندہ مردہ برابر نہیں ہے ۔ آپ نے مجھے سے دلیل مانگی میں نے پیش کردی اس پر اگر اپ کو کوئی اعتراض ہے وہ اپ اپنی دلیل پیش کرنے کے بعد کریں گے پہلے اپ میرے سوال پر دلیل پیش کریں گے امید ہے کہ اپ مایوس نہیں کریں گے۔
By: tariq mehmood, Karachi on Feb, 22 2013
0 Like
برادرم طارق محمود! دلیلوں اور حوالوں کو تو آپ کسی خاطر میں ہی نہیں لا رہیے ہوتے قرآنی آیات سے اپنی مرضی کے مطلب نکالنے والوں سے تو کوئی بھی نہیں جیت سکتا ھم کیا چیز ھیں؟ اور معاملہ اگر علمی تحقیق کا ہو خواہ اپنے عقائد کے مطابق ہی سہی تو اس میں بھی ھم آپ کا مقابلہ کر سکتے ھیں بھلا؟ چلیں آپ کی اسی تحقیق مسلسل اور زود قلمی کے پیش نظر ھماری طرف سے ایک اور زحمت آپ کی خدمت میں ۔ کوئی ایک مقام ایسا بتادیں جس سے یہ واضح ہو جائے کہ خدا کی کوئی خاص مخلوق اپنی موت کے بعد کسی قسم کے نفع کا باعث نہیں بنتی ۔ یہ کوئی خدانخواستہ طنز تضحیک کی بات نہیں ھے حقیقتا آپ سے علمی تعاون درکار ھے اگر ھم غلطی پر ہوئے تو ضرور اسے تسلیم کریں گے آخر اپنے محدود اور مختصر علم کا بھی تو اعتراف کر ہی رہیے ہوتے ھیں ۔ اور عزیزہ نور فاطمہ! ھم اولیاءالله کی عظمت بزرگی ان کی کرامات اور تصرفات کے دل سے قائل ھیں اور ان کے توسل کو بھی تسلیم کرتے ھیں مگر یہ عقیدے کی بات ھے مزار پر جانا یا چڑھاوا کرنا کوئی شرط نہیں ھے یہ اپنی مرضی کی بات ھے اس کے لئے کوئی کسی کو مجبور نہیں کر رہا ۔ جاہل اور بے عقل لوگوں کی طرف سے ہونے والی خرافات ہی کی وجہ سے ھم مزارات پر نہیں جاتے اور کسی قسم کے چڑھاوے کا ھمیں کبھی اتفاق ہی نہیں ہؤا ۔ لیکن ھم الله کے ولیوں کا بہت احترام کرتے ھیں مزاروں پر نہ جانے کے باوجود ھم کو ان کی کرامات اور اختیارات کا تجربہ ہؤا ھے اور الله سے ان کے تقرب کا اندازہ ہؤا ھے ۔ ھم آپ کی طرح انہیں حقیر و نا چیز ثابت کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas f w,USA on Feb, 20 2013
0 Like
رانا صاحب،
قیامت میں دوبارہ زندہ کرنے کے بارے میں تو قرآن نے تفصیل سے کثیر مقامات پر بیان کیا ہے اپ مجھے صرف ایک مقام ایسا بتا دیں جہاں قرآن نے بعد از مرگ مخلوق کو باعث نفع(یعنی وسیلہ) بنانے کے بارے میں حکم دیا ہو یا فرمایا ہو۔ جب بات دلیل کی ہے تو پھر دلیل ہی سے ہونی چاہیے ،کیا خیال ہے بتا پائیں گے، ہر گز نہیں بتا پائیں گے اب قارئین صرف قیاس اور تاویلات ہی پڑھیں گے انشاء اللہ (اگر جواب آیا تو)
By: tariq mehmood, Karachi on Feb, 19 2013
0 Like
kia bat hai app sub logon ki b .mujay hirani is bat ki hai k ALLAH k nake murda logon py itna yakeen k woh humari bat suntay hain or ALLAH py asi naumeedi k us k liy waseela chahiy kia bat hai kasa yakeen hai RAB ki zat py adhay teeter adhay batair wala mamla hai khair rana sahib yeh batain dunya main sub sy ziyada piyar kon kerta hai yakennun MAA ki ek asi husti hai ju humy bht piyar kerti hai right .ager ek maa woh khud kehti hai baita kuch b zarurt hai to mary pass a muj sy apna duk dard share ker to ager app maa sy muhbet ka izhar to kary lakin apny duk dard share kerny k liy apni khala k pass jain to maa py kia guzray gi k main keh rahi hon mary pass aa lakin baitha hai k khala k pass dora jata hai or dosri bat HAZOOR SAWW ny 3 masjidon k ilawa baki jagon py safer kerny ko mana kia hai or app log hain k doray doray kabhi ek jaga kabhi dosri jaga jaty hain
By: noor fatima, damam on Feb, 19 2013
0 Like
طارق بھائی! آپ کو ھمارا سوال کچھ بے موقع اور بے محل تو لگے گا مگر ھم کو واقعتا ایک علمی توجیہہ درکار ھے آپ ھمیں یہ بتائیے کہ جو لوگ مر گئے دنیا سے چلے گئے ان کا جسد خاکی بھی امتداد زمانہ کی نذر ہو گیا ایک وقت آتا ھے کہ قبر میں ھڈیاں بھی باقی نہیں رہتیں تو کبھی ان میں سے کوئی یا پھر اپنے عزیزوں دوستوں یا کسی بھی جاننے والوں میں سے جو کہ انتقال کر چکے ھیں کو ھم خواب میں بالکل صحیح سلامت اور جیتا جاگتا کیسے دیکھ رہیے ہوتے ھیں؟ جسم خاکی تو فنا ہو چکا روح کو زندہ انسانی آنکھ دیکھ ہی نہیں سکتی تو پھر وہ کیا چیز ہوتی ھے جسے ھم حالت خواب میں بمطابق اصل دیکھتے ھیں متحرک اور متکلم ۔ واضح رہیے کہ سوال یہ نہیں ھے کہ خواب کیا ھیں اور کیوں نظر آتے ھیں؟ سوال یہ ھے کہ کوئی مردہ شخص خواب میں زندہ اور بالکل اصل حالت میں کیسے نظر آ رہا ہوتا ھے جبکہ وہ اپنا مادی وجود کھو چکا ھے اور ساتھ ہی اگر کوئی واقعہ معاملہ بھی نظر آ رہا ھے تو وہ پہلے اصل زندگی میں پیش آیا ہؤا نہیں ھے ۔ اس معاملے پر اپنی رائے یا تجزیہ یا علمی تحقیق تحریر کیجئے آپ کے جواب کا انتظار رہیے گا ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas f w,USA on Feb, 16 2013
Reply Reply
0 Like
جب کہ خدا تعالیٰ قرآن میں صبر اور نماز کو وسیلہ بنانے کے بارے میں ارشاد فرما رہا ہے ۔
(کیا آپ لوگ اس پر بھی ایمان نہیں رکھتے ____________________________________________________
جی عظیم گل بدعتی سراپا تاریکی -- ہم لوگ نماز پڑھ کر اللہ تعالی سے مصائپ پر اجر کے طلبگار ہوتے ہیں اور صبر کرتے ہیں کہ اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
ہم یہ نہیں کہتے کے اے نماز میری بات اللہ تعالی تک پہنچا دے یا اے صبر ہم تیرا وسیلہ اللہ تعالی کے بارگاہ میں پیش کرتے ہیں۔
رانا تبسم صاحب جسے حقیقی زندگی اور عالم خواب میں فرق ہی نہیں معلوم۔ کیا آپ جو کچھ خواب میں دیکھتے ہیں حقیقی زندگي میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ آپ نے کبھی اپنے آپ کو حالت خواب میں ہواؤں میں اڑتے دیکھا ہوگا۔ کیا کبھی حقیقت میں بھی آپ اس عالم خواب کی طرح ہواؤوں میں اڑ سکتے ہیں۔
By: Baber Tanweer, Karachi on Mar, 01 2013
0 Like
بے شک تاریک صاب اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ
خواب میں حقیقت جیسا دکھا دے تو اس پر بھی تو قادر ہے کہ کسی قبر والے کے وسیلے سے مرادیں پوری کردے_____________

مجھے صرف یہ بتا دو کہ کیا اللہ تعالی اس بات پر قادر نہیں ہے کہ وہ براہ راست بغیر کو وسیلہ احتیار کیۓ بغیر اپنے پکارنے والے کی پکار کو سن لے اور اس کے حاجت روائ فرما دے۔
دوسری بات یہ کہ دلیل وجود کی دی جاتی ہے عدم کی نہیں۔ آپ کتاب و سنت سے کسی زندہ یا مردہ کا وسیلہ اختیار کرنا ثابت کر دو
By: Baber Tanweer, Karachi on Feb, 28 2013
0 Like
تاریک ساب وسیلہ نہ بنانے کی آپ کے پاس کیا دلیل ہے؟
By: محمد عظیم گل, karachi on Feb, 20 2013
0 Like
عظیم صاحب،
صبر اور نماز تو اسی نے بتایا ہے اپ اس پر دوسری باتوں کو کیسے قیاس کر رہے ہیں واضح حکم بتائیں کہ اللہ نے بعد از مرگ مخلوق کو وسیلہ بنانے کے بارے میں فرمایا ہو۔
By: tariq mehmood, Karachi on Feb, 19 2013
0 Like
بے شک تاریک صاب اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ
خواب میں حقیقت جیسا دکھا دے تو اس پر بھی تو قادر ہے کہ کسی قبر والے کے وسیلے سے مرادیں پوری کردے
جب کہ خدا تعالیٰ قرآن میں صبر اور نماز کو وسیلہ بنانے کے بارے میں ارشاد فرما رہا ہے ۔
(کیا آپ لوگ اس پر بھی ایمان نہیں رکھتے
By: محمد عظیم گل, karachi on Feb, 18 2013
0 Like
رانا صاحب،
نیک خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں تو جو اللہ قیامت کے دن پر دوبارہ صحیح سلامت کھڑا کرنے پر قادر ہے تو اس کے لئے خواب میں دیکھانا کون سے بڑی بات ہے جن کو اللہ پر بھروسا ہوتا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے وہ ایسی باتیں نہیں کرتے ہیں۔
By: tariq mehmood, Karachi on Feb, 16 2013
0 Like
طارق صاحب کیا کسی صحابی نے نبی کی حیاتِ برزخی یا دنیاوی پر کوئی مضمون لکھا ؟ اگر آپ کے پاس ہو تو اسے پوسٹ کریں کیونکہ ہم تو صحابی کی مانیں گے
By: Azeem Gul, Karachi on Feb, 06 2013
Reply Reply
0 Like
عظیم گل بدعتی اسے کہتے ہیں کٹ حجتی۔ اس سے پہلے تم یہ بتاؤ کہ تمہارے پاس تمہارے دلائل کے حق میں صحابہ کتنے مضامین ہیں ؟ تم بھی اپنی بات کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مضامین سے ثابت کرو۔ ہمیں تو اللہ تعالٰی نے کتاب و سنت پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کے لیۓ کسی صحابی کے مضمون کی نہیں صحیع احادیث ہی کافی ہیں۔ اور طارق بھائی اپنا نقطہ نظر انہی کی روشنی میں بیان کر رہے ہیں۔ اگر تمہیں ہر چیز تاریک نظر آتی ہے تو اپنی بصارت اور بصیرت دونوں کا علاج کراؤ
By: Baber Tanweer, Karachi on Mar, 01 2013
0 Like
نہیں جناب مجھے حوالے نہیں صرف مضمون چاہئیے جو کسی صحابی نے لکھا ہوکیونکہ میں صحابی کی مانوں گا وہابی کی نہیں
By: محمد عظیم گل, karachi on Feb, 20 2013
0 Like
عظیم صاحب، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے ہی اس بارے میں احادیث ملی ہیں جو میں نے اس مضمون میں نقل کی ہیں آپ نے پڑھی بھی ہیں اس کے باوجود مجھ سے مضمون مانگ رہے ہیں۔
By: tariq mehmood, Karachi on Feb, 16 2013
0 Like
agar sabot mangna mushriken ka tareqa he to wahabia meelad charaghan or julos e melad par sabot q mangtey hen?
By: jamal zia, karachi on Feb, 14 2013
0 Like
is ko kehty hain hut durmi azeem sahib.dawai muhbt hai HAZOOR SAWW sy.or her sahi bat ka rud b kerty hain.same situation hai jasy mushrekeen kaha kerty thay k humy mujzay dikao humary lit yeh karo woh karo .jis ko waki NABI PAK SAWW sy muhbt hoti hain na un ka rawya asa nhi hota
By: noor fatima, damam on Feb, 13 2013
0 Like
بحت اچھا مضمون ہے۔
By: Syed Shakeel Ahmed Shah, Karachi on Oct, 14 2012
Reply Reply
0 Like
کیا غور نہیں کرتےیہ قران پر کیا ان کے دلوں پر تالے لگے ھوئے ھیں۔۔۔۔۔القران۔۔۔۔سورہ محمد ۔۔۔۔۔٢٤۔۔۔۔صرف قران اور صحیح حدیث کے حوالے سے بات کی جائے۔۔اپنے اپنے علماء کی کتب کا حوالہ مت دیں۔جزاک الله
By: abdul wajid, Hyderabad on Mar, 28 2013
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB