ناکارہ چیزوں سے تخلیق کردہ آرٹ کے شاہکار٬ بیمار بیٹے نے ماں کے ہُنر کو بزنس میں بدل دیا

image
 
’اپنے گھر کو خوب صورت بنانے کا خواب ہر لڑکی یا عورت دیکھتی ہے۔ خواتین کا مقصد ہوتا ہے کہ وہ اپنے گھر کو ایک ایسی جگہ بنائیں جہاں اُن کے گھر والے خوشی محسوس کریں۔‘

یہ کہنا ہے لاہور کی رہائشی محیرہ طلحہ کا جن کا گھر کسی بھی آرٹ گیلری سے کم نہیں۔

محیرہ کے گھر میں داخل ہوتے ہی آپ خود کو تازہ دم محسوس کرنے لگتے ہیں کیونکہ مختلف رنگوں کے امتزاج کے ساتھ سجا یہ گھر اپنے آپ میں ہی ایک شاہکار ہے۔

تین بچوں کی ماں محیرہ کو گھر کی ٹوٹی پھوٹی چیزوں کو خوب صورت آرٹ میں تبدیل کرنے کا شوق ہے مگر اُنھوں نے اپنے اس شوق کو بزنس میں کس طرح تبدیل کیا ؟ اس سوال کا جواب اُن کے چھوٹے بیٹے کی بیماری ہے۔

’میرے بیٹے کو کرینوفیرِنگیومس نامی بیماری ہے۔ دو سال قبل جب اس بیماری کی تشخیص ہوئی تو اُس کے دماغ کی اب تک دو سرجریاں ہو چکی ہیں، جس کے بعد اُس کی ہم نے ہوم سکولنگ شروع کر دی‘۔
 
image
 
کرینوفیرِنگیومس بیماری کیا ہے؟
ابراہیم اور محیرہ کی کہانی سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کرینوفیرنگیومس بیماری کیا ہے؟

کرینوفیرنگیومس دراصل دماغی ٹیومر ہے جو عام طور پر پٹیوٹری گلینڈ (غدود) اور ہائپوتھیلمس کے قریب بنتا ہے۔

اس بیماری میں دماغ میں پانی کی تھیلیاں بن جاتی ہیں، یہ دماغ کے دوسرے حصوں میں نہیں پھیلتے ہیں۔ مگر پانی کی تھیلیوں کے بننے کے وجہ سےبینائی پر اثر پڑتا ہے۔

اس بیماری کے دوبارہ ہونے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں مگر ابراہیم کے کیس میں اُن کی پہلی سرجری کے ایک سال بعد وہ دوبارہ اس بیماری میں مبتلا ہو گئے۔

عموماً کہا جاتا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ مگر یہاں ایک خاتون، محیرہ، کے کامیاب بزنس کے پیچھے ان کے بیٹے کا ہاتھ ہے۔

محیرہ کو گھر پر جب اپنے چھوٹے بیٹے کے لیے خود ہی استاد، دوست اور ماں کا کردار ادا کرنا پڑا تو پھر ان دونوں کی جوڑی نے ایک نئے سفر کا آغاز کیا۔

محیرہ جب ابراہیم کو پڑھاتیں تو ساتھ ہی کچن کی ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں اور دوسری چیزوں کو کو پینٹ کرتیں۔ اسی دوران اُن کو احساس ہوا کہ ابراہیم کا رجحان اس طرف ہے کیونکہ وہ اُن کے کام میں خامیاں نکال کر اُس کو درست کرتا۔ محیرہ کے مطابق ابراہیم خود بھی ڈوڈلنگ (خاکے بنانے) کا شوقین ہے۔
 
image
 
’گھر میں جو چیزیں بھی بنا کر اپلوڈ کرتی، اُس کے آرڈر آنا شروع ہو جاتے‘
محیرہ کہتی ہیں کہ ’ابراہیم کو ڈوڈلنگ کا شوق تھا تو میں نے اُس کو گھر میں مصروف رکھنے کے لیے اس کے ساتھ پینٹگ کرنا شروع کر دی اور گھر کی دیواروں، کھڑکیوں اور پرانی چیزوں کو نیا بنانا شروع کر دیا۔

ہم نے انسٹاگرام پر ایک پیج بھی بنایا، جس میں ابراہیم نے میری مدد کی۔ ہم جو بھی کام کرتے اس پیج پر اپلوڈ کر دیتے‘۔

ابراہیم کو آپریشن کے بعد ناصرف چلنے میں دشواری پیش آتی ہے بلکہ ان کی بینائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ اس کے باوجود اُنھوں نے والدہ کی مدد کے لیے آئی پیڈ پر ویڈیوز ایڈیٹ اور تھری ڈی ڈائزئنگ شروع کی۔

محیرہ کے مطابق ابراہیم نے اُن کو حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنے ہُنر کو بزنس میں تبدیل کریں۔

’انسٹاگرام پر میرے پیج پر دیکھتے ہی دیکھتے فالورز بڑھتے چلے گئے اور میں گھر میں جو چیزیں بھی بنا کر اپلوڈ کرتی تھی مجھے اُس کے آڈرر آنا شروع ہو گئے۔‘

’کام کی وجہ سے ابراہیم میں مثبت سوچ پیدا ہوئی‘
 
image

اس بات سے کئی لوگ اتفاق کرتے ہیں کہ کوورنا وائرس کے دوران جہاں کئی کاروبار بند ہوئے تو وہیں کئی نئے آن لائن کاروبار شروع بھی ہوئے۔

محیرہ نے کورونا کے دوران ابراہیم کو مصروف رکھنے کے لیے جو پیج شروع کیا تھا، وہ پیج اب اُن کے کاروبار شروع کرنے کی وجہ بن گیا کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اُس دوران اُن کو آن لائن کنسلٹیشن کے آڈر بھی آنا شروع ہو گئے۔

’مجھے آن لائن ڈیزائنگ نہیں آتی تھی جب میرے پاس آرڈر آیا تو ابراہیم نے مجھے کہا کہ میں آپ کو کسٹمر کے لیے آن لائن ڈیزائن بنا کے دوں گا۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کیونکہ اس بیماری کی وجہ سے اکثر لوگوں میں مثبت سوچ کم ہو جاتی ہے۔‘

محیرہ کا ماننا ہے کہ اُن کے اس کام کی وجہ سے ابراہیم میں مثبت سوچ پیدا ہوئی ہے۔ ’وہ اب زیادہ وقت یہ سوچنے میں گزار دیتا ہے کہ کسی بھی ڈیزائن کو مزید دلچسپ کیسے بنا سکتا ہے۔‘
 
image

مگر ان کی کامیابی کا یہ سفر ہرگز اتنا آسان نہیں رہا۔

ابراہیم کوجب اس بیماری سے لڑنا پڑا تو انھیں اپنی زندگی کو مختلف بنانا پڑا۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے محیرہ کی آنکھوں میں آنسو نمایاں تھے۔ ابراہیم اس وقت نویں جماعت کا کورس گھر میں پڑھ رہا ہے۔

’ہم ہر روز ابراہیم کو ہسپتال لے کر جاتے تھے، اور دن کے کئی کئی گھنٹے میں اور میرے شوہر اس کے ٹیسٹ کرواتے رہتے تھے۔ یہ انتہائی مشکل مرحلہ تھا، میں بچوں کو سکول سے لاتی تھی، مگر اس کی بیماری کی وجہ سے میں نے سب کام چھوڑ دیے۔‘

دماغ کی پیچیدہ سرجری کے بعد مریض کو وینٹلیٹر پر رکھا جاتا ہے۔ ابراہیم کی بھی دو انتہائی مشکل سرجریوں کے بعد کئی گھنٹے انتہائی نگہداشت میں رکھا جاتا تھا۔ وہ لمحہ محیرہ اور اُن کے گھر والوں کے لیے کسی اذیت سے کم نہیں تھا۔

’اس بیماری سے قبل میرا بیٹا سکول میں کلاس میں سب سے آگے تھا۔ وہ ہر امتحان میں ٹاپ کرتا تھا۔ اس وقت گھر کی ایک دیوار صرف اُس کے سرٹیفیکیٹس سے بھری پڑی ہے۔ اپنے یہ سرٹیفیکیٹس دیکھاتے ہوئے ابراہیم نے اپنے معصوم انداز میں بتایا کہ ’آپ کو میرا ہی نام گھر کی ہر دیوار پر نظر آئے گا۔‘‘
 
image
 
ابراہیم نے مزید بتایا کہ اُنھوں نے ڈوڈلنگ جیسا مشکل آرٹ بغیر کسی کی مدد سے سیکھا ہے۔

’مجھے ایسا لگتا ہے کہ ڈوڈلنگ میرے جینز میں ہے۔‘

جب کسی انسان کو وہ کرنے کو ملے جسے وہ ہمیشہ سے کرنا چاہتا ہے تو ایسے میں اُس میں وہ اعتماد پیدا ہوتا ہے جو اُسے زندگی میں کبھی گرنے نہیں دیتا۔

ایسا ہی ابراہیم کے ساتھ ہوا۔ اُن کی والدہ نے اُن کے وقت کو بہتر بنانے کےلیے جو کام شروع کیا آج وہ اُن کو یہ حوصلہ دیتا ہے کہ زندگی میں کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں۔

محیرہ کو اپنے بیٹے کی بیماری اور تکلیف بھی توڑ نہ سکی بلکہ ان تمام حالات سے گزرنے کے بعد وہ نا صرف اپنا کاوبار چلا رہی ہیں بلکہ اب وہ دوسروں کو زندگی کی مشکلوں سے لڑنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔

’انسان کو جو نعمتیں موجود نہیں ہیں اُن پر رونے کے بجائے جو میسر ہیں اُن پر خوش رہنا چاہیے۔‘
 
Partner Content: BBC Urdu
YOU MAY ALSO LIKE: