سعودی عرب کے اوپر سے جہاز گزرا تو پائلٹ نے کلمہ پڑھ لیا، کچھ افراد جنہوں نے اچانک اسلام قبول کر لیا دل کا بدل جانا شاید اسی کو کہتے ہیں

image
 
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بار بار فرمایا ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے اسے ہدایت دے دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ساری عمر کفر کے اندھیروں میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ بے شک اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی کن کا محتاج ہے۔ وہ ناممکن کو ممکن کر سکتا ہے اور اس کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں ہے- ایسے ہی کچھ واقعات جنہوں نے لوگوں کے دل ہی نہیں بلکہ زندگی کو بھی بدل کر رکھ دیا آج آپ کے ساتھ شئير کریں گے-
 
آپ کا جہاز سعودی عرب کے شہر تبوک کے اوپر سے گزر رہا ہے
برازيل سے تعلق رکھنے والا پائلٹ کیپٹل آملو کے اسلام قبول کرنے کے واقعہ نے دنیا بھر کی نظریں اس کی جانب مبذول کر لی تھیں- اس کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ ہی ایسا تھا کہ جس نے سنا بے ساختہ ماشااللہ کہنے پر مجبور ہو گیا-
 
تفصیل کے مطابق کیپٹن آملو کا جہاز روٹین کی پرواز پر تھا اور اس کے ساتھ ایک اور مسلمان پائلٹ بھی تھا- کیپٹن آملو کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ ایک ویڈيو کی صورت میں اسی وقت پیش آیا- ویڈيو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پہلا پائلٹ عربی میں اناونسمنٹ کرتا ہے کہ ان کا جہاز 18000 فٹ کی بلندی پر سعودی عرب کے شہر تبوک کے اوپر پرواز کر رہا ہے- اسی وقت وہ یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ کلمہ شہادت پڑھے گا اور اس کے ساتھ کیپٹن آملو بھی کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کرے گا-
 
 
اس کے بعد وہ کلمہ شہادت پڑھتا ہے جس کے پیچھے پیچھے کیپٹن آملو بھی اس کے ساتھ کلمہ شہادت دوہراتا ہے- کلمہ کے اختتام پر پہلا پائلٹ کیپٹن آملو کو مبارکباد دیتے ہوئے کہتا ہے کہ مبارک ہو اب تم اسلام میں داخل ہو گئے ہو-
 
سوشل میڈيا پر جب یہ ویڈيو صارفین کے سامنے آئی تو دیکھتے دیکھتے نہ صرف وائرل ہو گئی بلکہ اس کو لاکھوں افراد نے نہ صرف دیکھا بلکہ شئير بھی کیا اور کیپٹن آملو کو اسلام قبول کرنے کی مبارکباد دی-
 
اذان کی آواز سن کر دل بدل گیا
عائشہ روزیلی جو کہ ہالی وڈ فلم انڈسٹری میں بطور اداکارہ کام کرتی تھی اس کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ بھی حیرت سے بھر پور ہے- اس کا کہنا تھا کہ اس کا تعلق امریکہ کے ایک ایسے گھرانے سے تھا جو کسی مذہب سے تعلق نہیں رکھتا تھا-
 
اس کے والد پارٹیوں کے رسیا تھے اور ان کی اپنے بچوں سے ملاقات شاز و نادر ہی ہوتی تھی جب کہ دوسری طرف جب روزیلی صرف آٹھ سال کی تھیں تو اس کے بڑے بھائی کا انتقال شراب پینے کی وجہ سے ہو گیا تھا- انکے والد ایک پندرہ سال کی لڑکی کے لیے ان کو چھوڑ کر چلے گئے اور انہوں نے سخت غربت میں زندگی گزاری- یہاں تک کہ انہوں نے اداکاری کو بطور کیرئير منتخب کر لیا اور اداکاری شروع کر دی-
 
اسی دوران انہوں نے ترکی کی سیر پر جانے کا ارادہ کیا تو ان کی والدہ اور نانی نے ان کو ایک مسلمان ملک کی سیر پر جانے سے بار بار روکا- ان کو یہ محسوس ہوتا تھا کہ مسلمان دہشت گرد ہوتے ہیں اور وہ روزیلی کو نقصان پہنچا دیں گے- روزیلی کا کہنا تھا کہ ترکی جاتے ہوئے وہ بھی خوفزدہ تھیں ان کو لگا کہ غیر مسلم ہونے کی وجہ سے ایک مسلمان ملک میں ان سے سخت امتیازی سلوک کیا جائے گا-
 
image
 
مگر ایک دن ترکی کی قدیم مساجد نیلی مسجد اور آیاصوفیہ کے درمیان وہ کھڑی تھیں اور اس وقت میں مساجد سے بلند ہوتی اذان کی آواز نے انہیں اس حد تک متاثر کیا کہ ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے-
 
اس وقت میں وہاں کھڑے ہوئے انہیں محسوس ہوا کہ وہ اپنے ہوسٹل کا راستہ بھول گئی ہیں تو انہوں نے ایک دعا کی کہ اگر خدا کہیں موجود ہے تو وہ ان کی مدد کرے اور ان کو ان کے ہوسٹل تک پہنچا دے- ان کا یہ کہنا تھا کہ اس وقت میں ان کو ایسا محسوس ہوا کہ کوئی نادیدہ ہاتھ ان کی رہنمائی کرنے لگا اور وہ مسجد سے سیدھا اپنے ہوسٹل تک بغیر کسی کی مدد کے پہنچ گئيں-
 
جس کے بعد انہوں نے ہوسٹل جاتے ہی قرآن کا انگلش ترجمہ حاصل کیا اور سورۃ البقرہ کے ترجمے کو پڑھنا شروع کیا- ان کو ایسا محسوس ہوا کہ ان کے گرد ایک روشنی سی پھیل گئی- انہوں نے ترکی میں لوگوں کے ہاتھوں میں تسبیح دیکھی تو ان کو لگا کہ یہ ٹینشن بھگانے کا کوئی طریقہ ہے اس وقت میں انہوں نے بھی تسبیح پر اسلام قبول کرنے سے قبل ہی ذکر اللہ کرنا شروع کر دیا-
 
امریکہ واپس آنے کے بعد کرونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن لگ گیا جس کو وہ اللہ کی سب سے بڑی رحمت قرار دیتی ہیں- کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے اس وقت میں انہوں نے اپنا پورا وقت اسلام کے مطالعے میں گزارا- تو ان کو اندازہ ہوا کہ وہ تو ایک بے مقصد زندگی گزار رہی تھیں جب کہ اسلام نے تو ان کو زندگی گزارنے کا ایک مکمل ضابطہ حیات دیا ہوا ہے تو انہوں نے ایک دن اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا-
 
image
 
کلمہ شہادت پڑھنے کے لیۓ بھی انہوں نے کسی عالم یا مسجد کا انتخاب نہیں کیا بلکہ گھر پر ہی لاک ڈاون کے دوران انٹر نیٹ کی مدد سے کلمہ شہادت کو یاد کیا اور اس کو کئی بار پڑھ کر اسلام قبول کر لیا-
 
پہلی نماز
اپنی پہلی نماز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سب سے پہلے ظہر کی نماز ادا کی مگر اس نماز کو ادا کرنے سے پہلے انہوں نے انٹرنیٹ کی مدد سے مکمل نماز یاد کی- ان کو یہ ڈر تھا کہ وہ پہلی بار اللہ کی بارگاہ میں پیش ہو رہی ہیں اور اس دوران ان سے کچھ غلطی نہ ہو جائے- مگر انہوں نے ایک ایک حروف کر کے نماز یاد کی اور جب ظہر کی نماز ادا کی تو ان کو ایسا محسوس ہوا کہ جس طرح ہر طرف ایک سفید روشنی سی پھیل گئی ہو-
 
اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنے لیے عائشہ کا نام اختیار کیا۔ وہ ماشاللہ اب ایک باعمل مسلمان پردہ دار خاتون ہیں جو کہ اپنی زندگی اسلام کے اصولوں کے مطابق گزار رہی ہیں- انہوں نے اداکاری کے کیرئیر کو بھی خیر آباد کہہ دیا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتی ہیں کہ اللہ نے ان کو ایک باعمل مسلمان بنایا-
 
YOU MAY ALSO LIKE: