وزیر اعظم کا دورہ ترکی ۔۔تعلقات کے نئے دور کا آغاز

 وزیر اعظم میاں شہباز شریف آج ترکی کے تین روزہ دورے پر روانہ ہو رہے ہیں ۔استنبول کے ہوائی اڈے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا جائے گا جس کے بعد انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا ۔ یہ دورہ پاکستان کے روایتی بااعتماد دوستوں اور برادر اسلامی ممالک سے دو طرفہ تعلقات کی تجدید کے سلسلے کی کڑی ہے جس سے دونوں ملکوںکے باہمی تعلقات اور دوطرفہ رابط میں نئے دور کا آغاز ہوگا ۔وزیرا عظم شہباز شریف اپنے دورے کے دوران جہاں ترک قیادت سے دونوں ملکوں کے مابین جاری منصوبوں کا جائزہ لیں گے وہاں دونوں ممالک میں کچھ نئے امور جن کا تعلق بھی بظاہر مشترکہ علاقائی تعاون ہی ہے پر بھی ترک قیادت سے بات چیت کرنے کے علاوہ پاک ترک بزنس کونسل کے اجلاس سے خطاب بھی کریں گے جس میں ترک سرمایہ کاروں اور تاجروں سے ملاقاتیں بھی شامل ہیں ۔علاوہ ازیں وزیر اعظم شہباز شریف جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال اتاترک کے مزار پر حاضری دینے کے بعد ترک صدر رجب طیب اردگان کے ہمراہ پاک ترک سفارتی تعلقات کے قیام کے 75سال مکمل ہونے کے موقع پر یادگاری نشان جاری کریں گے جبکہ ترک صدرجب طیب اردگان کی طرف سے دیئے گئے عشائیہ میں شرکت بھی کریں گے ۔

پاک ترک برادرانہ تعلقات کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان اور ترکی ،کی لازوال دوستی و محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ترکی کے تعلیمی اداروں میں پاکستان کی سرکا ری زبان اردوُ کی تعلیم دینے کا سلسلہ ایک صدی پہلے شروع کر دیا گیا جو ابھی تک بلا تعطل جاری و ساری ہے جس کہ وجہ سے ترکی کے عوام اردوُ کو باآسانی سمجھ اور پڑھ سکتے ہیں۔ترکی کی تین یونیورسٹیز ،انقرہ ،استنبول اور پونیا میں باقاعدہ شعبہ ءاردو قائم ہے جبکہ حال ہی میں اردو زبان کو ہائی سکولوں میں اختیاری مضمون کا درجہ بھی دیا گیا ہے جبکہ ترکی میں بانی پاکستان سے لگاو ¿ کی ایک مثال ترکی کے شہر انقرہ کی ایک بڑی شاہراہ کی دی جا سکتی ہے جس کا نام” جناح ہائی وے“ رکھا گیا ہے جو ترکی کی تجارتی شاہراہوں میں ایک بڑ ی اور اہم شاہراہ بتائی جاتی ہے ۔اسی طرح ترک عوام و قیادت کی پاکستان کے اکا برین سے محبت کے اظہار کی ایک اور مثال ترکی کے شہر پونیا کی ایک پارک کی بھی دی جاسکتی ہے جس کا نام علامہ اقبال پارک رکھا گیاہے ۔ اسکے علاوہ ترکی کی ایک مشہور بڑی مسجد بھی علامہ اقبال کے نام سے منصوب کی گئی ہے جو” اقبال مسجد“ کہلاتی ہے ۔ترکی میں علامہ اقبال کی عقیدت اور پاکستان سے محبت کے اظہار میں لاہور سے علامہ کے مزار کی مٹی لا کر پونیا میں مولانا رومی کے مزار کے دائیں طرف احاطہ میں دفن کر کہ علامہ اقبال کی علامتی قبر بھی بنائی گئی ہے ۔مولانا رومی اور علامہ اقبال کے روحانی رشتے نے دونوں ملکوں کے درمیان ایک ایسا تعلق قائم کیا ہے جو ابدی حیثیت کا حامل ہے ۔اسی طرح پاکستان میں بھی بہت سے مقامات کا نام ترک معاشرے سے دوستی کی علامت ہے ۔اسلام آبا د میں موجو”اتا ترک ایونیو“،لاہور میں گارڈن ٹاؤن میں’ ’ اتاترک بلاک“ مال روڈ پر جناح ھال کے سامنے” استنبول چوک “پاک ترک دوستی کا لازوال بندھن ؓباندھے ہوئے ہیں ۔یہی نہیں بلکہ پاک ترک عسکری تعاون پر بھی نگاہ ڈالی جائے تو اس میں بھی دونوں ملکوں کا تعاون مثال رہا ہے ۔1965اور 1971کی پاک بھارت جنگوں میں تر کی نے نہ صرف پاکستان کے موقف کی حمایت کی بلکہ اسلحہ اور ہتھیاروں سے بھی پاکستانی فوج کی مدد کی جبکہ 1974میں ترکی اور یونان میں جنگ چھڑ گئی تو پاکستانی فوج ترک فوج کے ساتھ مل کر محاذ جنگ پر سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہوگئی ۔ترکی کے ایک صوبے چوران میں سانحہ اے پی سی پشاور کے شہید بچوں کی یاد میںایک سو چوالیس درخت لگا کر ان شہید بچوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔پاک ترک تعلقات کا بنظر عمیق جائز ہ لیا جائے تو اس میں جہاں ترکی نے پاکستا ن کی مشکل وقتوں میں مدد کی وہاں اس کی ایک اور مثال یہ بھی ہے کہ 17 اگست 1999کوجب ترکی کو7.5 کی شدت کے ایک قیامت خیز زلزلہ نے نقصان پہنچایا تو پاکستان وہ واحد ملک تھا جس کے وزیر اعظم میاںنواز شریف سب سے پہلے امدادی سامان لے کر ترکی پہنچے جبکہ اکتوبر 2005میں جب اسی شدت کے زلزلہ نے پاکستان میں تباہی برپا کی تو ترکی ہی وہ واحد ملک تھا جس کے اُ س وقت کے وزیر اعظم رجب طیب اردگان جو ترکی کے موجودہ صدر بھی ہیں امدادی سامان لے کر پاکستان کی مدد کوپہنچے جبکہ 2010کے سیلاب کی مشکل گھڑی میں بھی ترکی نے پاکستان کی بڑے پیمانے پر مدد کی کی تھی ۔ پاک ترک لا زوال دوستی کی وجہ سے جہاں دونوں ملکوںنے ایکدوسرے سے بڑھ چڑھ کر ایکدوسرے کی مدد کی وہاں علاقائی امن و سلامتی کے قیام میں بھی ترکی پاکستان سے کسی صورت پیچھے نہیں رہا یہی وجہ تھی کہ ترکی نے افغانستان میں بیرونی مداخلت پر شدید رد عمل ظاہر کیا بلکہ افغان بحران کو حل کرنے میں پیش پیش بھی رہا خصوصاً اُس وقت جب افغانستان سے امریکی انخلاءکے نتیجے میں اسے سخت مشکلات کا سامنا تھا ۔اس سلسلے میں کابل ائرپورٹ کا چارج سنبھالنے کی ترکی کی خواہش قابل زکر ہے جس کا مقصد افغانستان کو ممکنہ بیرونی مصائب و مشکلات سے بچانا تھا تو دوسرا وہاں کی سکیورٹی کی زمہ داریاں اد ا کرنا بھی مقصود تھا مگر افسوس کہ طالبان کی نئی حکومت اس کا ادرا ک نہ کر سکی اور بات کچھ بن نہیں سکی تھی۔وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ ترکی مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ عین ممکن ہے کہ اُن کے اس دورہ ترکی میں دیگر کے علاوہ افغانستان معاملات بھی زیر غور آئیں کیونکہ افغان معاملات کا اثر جہاں پاکستان پر پڑتا ہے وہیں ترکی کا بھی اس دائرے سے باہر رہناممکن نہیں ،جہاں تک ہماری رائے کا تعلق ہے تو اس دورہ میں افغان معاملات کا اگر مفصل نہیں تو کم از کم سرسر ی جائز ہ ضرور لیا جانا چاہیے تاکہ افغانستان کی طرف سے پاکستان کی سرحدی خلاف وزیوں کو روکا جاسکے جس کے نتیجے میں آئے روز ہمارے بہادر سپوت وطن پر اپنی قربان کر رہے ہیں ۔اس حوال سے ترک صدررجب طیب اردگان کی پاکستان اور افغانستان کے درمیان” ثالثی“ بہتر نتائج دکھا سکتی ہے ۔
 

Muhammad Sabah Uddin
About the Author: Muhammad Sabah Uddin Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.