شہید

مغلظات کا طوفان تھا جس سے مالک مکان اس کے معذور بھائی ،تین بہنوں اور اندھے باپ کو نواز کر کف اڑا تا اس سیلن زدہ ٹوٹے پھوٹے مکان سے نکل رہا تھا جبھی وہ بوسیدہ پردہ سرکا کر اندر داخل ہو رہی تھی اسے دیکھ کر مالک مکان کے چہرے پر برستی ،کرختگی،بے رحمی اور سنگدلی یکدم شیطانیت میں بدلی تھی وہ لرز کر رہ گئی تھی وہ جسے کٹھن حالات بھی کبھی ہار ماننے پر مجبور نہ کرسکے بس زمانے کی یہ سفاکیت اسے اندر سے دہلا کر رکھ دیتی تھی اپنے کمزور اور تنہا ہونے کا احساس شدت سے اس پر حاوی ہونے لگتا تھا اس نے کڑوے گھونٹ کی طرح اس کی نگاہوں سے محسوس ہونے والی کراہیت کو تھوک کے ساتھ نگلا اور بظاہر مضبوط لہجے میں اس سے مخاطب ہوئی وہ جمیل بھائی میں آج آپ کی طرف کرایہ دینے ہی آرہی تھی اس نے جلدی سے کندھے سے ٹنگے تھیلے نما بیگ سے رقم بر آمد کی اور اس کی طرف بڑھائی جسے اس نے اس کا ہاتھ جان بوجھ کر مس کرتے ہوئے وصول کیا تھا اس دہکتے انگارے جیسے لمس نے اسے مزید سمٹنے پر مجبور کردیا تھا ویسے اگر تم میری پیشکش پر غور کرو تو اس کرائے سے تمہاری جان ہمیشہ کیلئے چھوٹ سکتی ہےاس نے مکاری سے کہا ۔جمیل بھائی آپ جا سکتے ہیں ،اس کی چھوٹی بہن اس کی آواز سن کر باہر آگئی تھی وہ خباثت سے مسکراتا باہر نکل گیا تھا ۔گہرا سانس لے کر وہ بہن کے ساتھ اند ر کی طرف بڑھ گئی ۔ حکومت نے کرونا کی وبا کے خلاف لڑنے والے ملک بھر کےہسپتالوں کے عملے کو ایک ماہ کی تنخواہ ان کی خدمات کے اعتراف میں بطورحوصلہ افزائی اضافی دی تھی اس غیبی مدد کے ہاتھ میں آنے کے بعد گھر پہنچنے تک کا سفر اس نے سب ضرورتوں میں سے سب سے ضرور ی چننے کی شش و پنج میں گزارا تھا پہلے خیال آیاکہ دو ماہ کی اس تنخواہ سے وہ تین ماہ کے واجب الادا کرائے میں سے دو ماہ کا کرایہ دے کر ایک ماہ کے کرائے کی مہلت مانگ کر گھر میں راشن کے علاوہ ابا اور جاوید کی دوائیاں بھی خرید لے گی،یا پھر جاوید اور ابا کو کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھا ئے یا پھر سب گھر والوں کے موسموں کی شدتوں کا مقابلہ کرتے نا کافی چھدرے ہوتے گھسے ہوئےملبوسات کا کچھ انتظام کرلے اپنی بہنوں کے خواہشات کے مر جانے سےسوگ زدہ چہروں پر مسکراہٹ لانے کا کوئی انتظام کر سکے ۔ابا فیکٹری میں کسی حادثے میں کیمیکل کے چہرے پر گر جانے سے اپنی بینائی کھو بیٹھے تھے اکلوتا بھائی چار سال کی عمر سے پولیو کا شکار تھا ماں کا دل جب تک سہہ سکا جھیل گیا پھر خاموش ہو گیا ابا کی فیکٹری سے حادثے کے بعد ملنے والی رقم سے دو سال تک ماں کھنچ تان کر کیسے گزارا کر تی رہی تھی وہ نہیں جانتے تھے گھر میں غربت تھی بیماری تھی لیکن ماں بھی تھی جس کے وجود سے حالات کی تپش چھن کر ان تک پہنچتے کم ہو جاتی تھی چوڑیاں سادھ کر اپنی گھرستی کا بھرم رکھتی رہی ماں کے ساتھ وہ بہنیں بھی ہاتھ بٹاتی تھیں ۔ وہ پڑھائی میں اچھی تھی اپنے گھر کے حالات بدلنے کیلئے کچھ کرنا چاہتی تھی پڑوس میں رہنے والی ایک نرس نے خدا ترسی کے جذبے کے تحت اس کا بڑا ساتھ دیا ماں کو شاید اسی وقت کا انتظار تھا جس دن وہ سفید یونیفارم پہن کر ہسپتال جانے کیلئے روانہ ہوئی اس کے اگلے دن ماں نے بھی سفید لبادہ اوڑھا اوراپنے دکھوں اور ذمے داریوں کی چادر اس کے بدن پر لپیٹ کر دنیا سے رخصت ہوئی کبھی کبھی اسے اپنا وجود بھی کفن میں لپٹی لاش جیسا محسوس ہوتا تھا جسے نوچنے کیلئے ارد گرد منڈلا تےگدھ اسے مزید مجبوری ا ور بے بسی کا احساس دلاتے کاش جاوید معذور نہ ہوتا یا کاش ابا کی آنکھوں کی روشنی سلامت ہوتی گھر میں دو مردوں کے ہونے کے باوجود اس کی راتوں کی نیند بے فکر اور پر سکون نہ تھی کبھی اٹھ کر بہنوں کو دیکھتی کبھی کمرے کے دروازے کی کنڈی میں لگے تالے کو ،اسے محض بیرونی دروازے کے قفل پر بھروسہ نہ تھا ۔وہ جلد از جلد اپنی بہنوں کو رخصت کرنا چاہتی تھی اس کی خواہش تھی کہ اس کی بہنیں کم از کم ایسے گھروں کو جائیں جہاں انہیں دو وقت کی روٹی عزت اور تحفظ کے ساتھ نصیب ہو جائےپڑوسن اس موقعے پر بھی کام آئی مگر صرف اتنا کہ دو مو ٹر مکینک بھائیوں کی ماں کو اس کی بہنوں کی خوبصورتی اور خوب سیرتی کچھ انسانی ہمدردی اور بہو ؤں کو دبا کر رکھنے کا لالچ دے کر ان کی دہلیز تک لے آئی تھی اب وہ تیوری چڑھائے پڑوسن کو اور کبھی ان کے گھر کو غصیلی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی جسے لاکھ سلیقہ مندی سے گھر دکھا نے کی کوشش کی گئی تھی لیکن پھر بھی وہ کھنڈر نما مکان ان کے دکھ اور بد حالی کو بیان کر رہا تھا اس عورت کے چہرے کے تاثرات دیکھ کراس کا دل چاہ رہا تھا کہ اسے جانے کا کہہ دے مگر ایک جملا اس کے کا نوں میں کئی دنوں سے گونج رہا تھا ’’کوئی بات نہیں تو نہیں مانتی تو کیا کرایہ لینے میں اکثر دوپہر کو ہی آتا ہوں،بری تو یہ دونوں بھی نہیں ہیں آخر تیری ہی بہنیں ہیں‘‘ سنا ہے تم نرَ۔رَس (نَرس)ہو کی کرخت آواز اسے حال میں کھینچ لائی تھی۔جی! جی ہاں ،بھئی میرے لڑکوں کیلئے رشتوں کی کمی تو نہیں ہے پر مجھے سیدھی سادھی لڑکیاں چاہیئں اس لئے یہاں چلی آئی انہوں نے بتایا کہ تمہاری ایک بہن کا رشتہ یہ بھی لے چکی ہیں اس نے پڑوسن کی طرف اشارہ کیا اب تم ان دونوں کی بھی ساتھ شادی کی تیاری میں ہو لگتا ہے خوب جمع کر رکھا ہے ائے نرسوں کی اتتی(اتنی) تنخا(تنخواہ) ہوتی ہے کیا چلو ٹھیک ہے اگلے مہینے کے پہلے جمعے بڑی کے ساتھ ہمیں بھی رخصتی دے دو اس نے اس خود ہی فیصلے سناتی اس عورت کی بات پر سر جھکا دیا تھا ۔پڑوسن خود ایک بیوہ عورت تھی خود بھی نرس تھی اس کا اکلوتا بیٹا تھا جس کیلئے وہ اس کی تینوں بہنوں میں سے بڑی کا رشتہ بغیر رسم و رواج اور لین دین کے مانگ کر حق ِ ہمسائیگی ادا کر چکی تھی اڑوس پڑوس بھی انہی کے جیسا کئی مسائل کا شکار تھا ۔مسائل کے انبار کے بارے میں سوچتی الجھتی وہ وارڈ میں وبا کے شکار مریضوں کی ڈیوٹی ادا کرتے کچھ دیر سستانے کیلئے باہر آکر کوریڈور کے بنچ پر بیٹھ گئی ٹی وی پر خبریں چل رہی تھیں اس کی آنکھیں یکدم کسی خیال سے چمکیں ابا اور جا وید کا خیال آیا تو ایک لمحے کیلئے بجھ سی گئیں پھر کرن کا خیال آیا وہ تو پڑوس میں بیاہ کر جا رہی ہے ان کا خیال رکھ لے گی اور پھر جب۔۔۔۔۔۔

وہ آہستہ آہستہ واپس کرونا واردڈ کی جانب قدم بڑھا رہی تھی چہرے سے ماسک نیچے کرتے ،ایک ہی خبر چاروں طرف گونج رہی تھی ’’کرونا کےمریضوں کی دیکھ بھال پر معمور ڈاکٹرز اور عملے میں سے اگر کوئی اس وبا کا شکار ہوکر چل بساتو اس کے لواحقین کیلئے حکومت نے شہید پیکج کا اعلان کیا ہے‘‘۔

Talat Asim Ali
About the Author: Talat Asim Ali Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.