ٍضرورتِ رشتہ(٢)

(Hukhan, karachi)

ہمارے وائمپائر نے قسم اٹھا رکھی تھی کہ وہ ہمارا لہو چوس کرہی جائے گا‘‘،،،اس کے پلان میں ہماری دماغی ایسی تیسی شامل تھی‘‘،،اسی لیے ہمارے دونوں کان پھڑک رہے تھے‘‘،،،اس کی بے حد ہمارے دماغ کی دہی جما دینے کے بعد جب ہم نے کوئی راہِ فراز نہیں دیکھی تو ہم نے اس کے لیے اخبار میں ضرورتِ رشتہ کا اشتہار دینے کا اس کو پلان دیا‘‘،،،جو کہ اس خون چوسنے والی مشین نے فوراَ قبول کرلیا‘‘،،،ہم نے بولا جی اپنی کوئی خوبی بتائیں بے شک جھوٹی ہی سہی‘‘،،،ورنہ ہم سب سچ لکھ دیں گے جس کے بعد کوئی امید نہ رہے گی‘‘،،،وہ ویمپائر بڑے وسوق سے بولا‘‘،،،اس میں کوئی شک نہیں‘‘،،،
آپ شکلاَ بہت ہی کمینے ہیں مگر کچھ دیر کے لیے آپ اس کمینے پن کو ذرا خود سے دور کردیجئے‘‘،،،ہم نے کسی تھانے کے ایس۔ ایچ۔او،،،والی نظر اس پرڈالی‘‘،،،مگر اس پر کوئی اَثر نہ ہوا‘‘،،،کہنے لگا‘‘،،،اشتہار ایسا ہو کہ ہم اشتہاری بالکل بھی نہ لگیں‘‘،،،اور اشتہار آتے ہی ایسی لائن لگ جائے کہ کنٹرول کرنے کے لیے بےشک پولیس کو بلانا پڑ جائے‘‘
ہم نے بولا سلمان خان کی پکچر نہ لگا دیں‘‘،،،وہ بولا نہیں ‘‘،،،ہم بولے پھر؟،،،،
وہ بڑے مغرور لہجے میں بولے‘‘،،اگر لگانی ہی ہے تو ٹام کروز کی لگا دیجئے ہمیں کوئی اعتراض نہیں‘‘،،،یہ تو باعثِ فخر ہو گا مسٹر ٹام کے لیے‘‘،،،ہم بولے مضمون کیسا ہو‘‘،،،وہ بولے‘‘،،،سب میں ہی بتادوں تم کس مرض کی دعا ہو‘‘،،،
ہم نے چند لائنیں لکھ کے‘‘،،،ان کو کہا جا کے کسی بھی بڑے اخبار کی ایجنسی میں‘‘،،،اسے ضرورتِ رشتہ میں لگوا دیجئے‘‘،،،
وہ بولے کیبل ٹی وی پرنہ چلوا دی جائے‘‘،،،ذرا کوئیک ریسپانس آجائے گا‘‘،،،ہم بولے‘‘،،،پھر تو آپ کے دشمنوں کو بھی پتا چل جائے گا‘‘،،،اس طرح کام ذرا مشکل ہو جائے گا‘‘،،،
وہ اتنی حیرت میں آگئے کہ ان کا منہ پڑوسی ملک کے مسٹر موزی جیسا ہو گیا‘‘،،،بولے ہمارے دشمن کون؟،،ہم بولے یار‘‘،،،تم خود ہی کہتے ہو‘‘،،،جمن دھوبی کا کتا ہر دفعہ آپ کو دیکھ کر بھونکتا ہے‘‘،،،کالو نائی آپ کو دیکھ کراپنی ناک بند کرلیتا ہے‘‘،،،ابھی ہم مزید گنوارہے تھے‘‘،،،ویمپائر نے ہاتھ اٹھا کے کہا‘‘،،بس،،،،،،بس
میں ان لوگوں کی پروا نہیں کرتا‘‘،،،اچھا یہ بتاؤ لکھا کیا ہے‘‘،،،ہم نے اپنی چپل ہاتھ میں اٹھا لی‘‘،غور فرمائیے گا‘‘،،
اِ ک گبھرو جوان،،،پیشے سے کوچوان
نینا اس کے تیرکمان،،،،،،،بلا کا ہے بے ایمان
رنگ ایسا جیسے کوئی جلاہوا نان
ناک ایسی رہتا ہے پورا سال نزلا زکام
سر ایسا جیسے کوئی جوتے دان
چال ایسی جیسے لڑکی ہوئی ہو جوان
ابھی اشتہار جاری تھا اور ہم آگے وہ پیچھے دوڑ رہے تھے‘‘،،،مگر میں ہوا ہوں کسی کے ہاتھ نہ آؤں‘‘،،،،،،،،،،،،
 

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
07 Jul, 2017 Total Views: 723 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 664 Articles with 231917 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
bhaiiiiiiiiiiiiiiii kia likhte ho bohaaaaaaaaaaat achaaaaa :)
By: Zeena, Lahore on Jul, 09 2017
Reply Reply
0 Like
thx sister,,,,,,,wesay mjy be nahi pta kia likhta hn
By: hukhan, karachi on Jul, 10 2017
0 Like
hahahahahahahaha,,,,kamaal ka ishteehar
By: Mini, mandi bhauddin on Jul, 08 2017
Reply Reply
0 Like
yes it is outstanding add no doubt,,,,,,,,,,thx for like
By: hukhan, karachi on Jul, 08 2017
0 Like
bhai kaamal hy no words just bht see taali
By: sohail memon, karachi on Jul, 07 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Jul, 07 2017
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB