کھلونا نہیں محبت

(Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi)

گھبرائی گھبرائی سی وہ یونیورسٹی ہوسٹل سے نکلی اور بائیک پر سوار ہو کر تجدید محبت کے لئے پارک تک پہنچی۔وہ کئی دنوں سے حسن کا سر کھا رہی تھی کہ رشتہ بھیجوا دو۔مگر وہ سنی ان سنی کر رہا تھا۔اُس کا دل ٹوٹ سا رہا تھا کہ جس کے لئے وہ گھر والوں کی عزت کو روند کر اس سے ملتی رہی ہے،جو اس سے بے پناہ محبت کا دعویٰ کرکے اوراحساس کرتا تھا اب شادی سے انکاری ہوچلا ہے۔

اُ س سے ملنے کی خاطر کئی بار وہ ٹرین پر ،بس پر گھر دوسرے شہر سے اس کی ہمراہی میں جاتی رہی،وہ کوشش کرکے اس کے ساتھ بیٹھ جانے کی کوشش کرتا تھا،وہ ایسی نہیں تھی کہ ان حرکتوں پر چپ رہ جاتی مگر لوگوں کے سامنے اُس کو کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی۔تب ہی اس نے ایک بار ہاتھ بھی تھام لیا تھا تو وہ کانپ سی گئی تھی۔

جب سے حسن کو اُس نے اسکے دوست کے فلیٹ میں ملنے سے انکار کیا تھا وہ کچھ بدلہ سا جا رہا تھا۔اسکی باتوں میں وہ طنز بخوبی محسوس کیے جارہی تھی مگر وہ چاہ کے بھی اُس سے دور نہیں ہو پاتی تھی،وہ ساتھ تعلیمی حوالے سے رہ کر اپنی سرگرمیاں بھی مکمل کر رہے تھے،مگر تب ہی وہ ایک بار جب گھر گیا تو اس کو بھرپور طور پر نظر انداز کیا اور وہ رو کر اپنی جان ہلکان کر لیتی تھی۔

آخر تنگ آکر اس نے حسن سے پوچھ لیا کہ اُس کی ناراضگی کیسے ختم ہوگی ،تو پھر اس نے دوست کے فلیٹ پر ملنے کی ضد کر دی۔وہ اعلی تعلیم حاصل کر رہی تھی وہ سب محسوس کر چکی تھی۔تب ہی اس نے ایک سخت فیصلہ کرلیا تھا کہ اب مزید اس کے ہاتھوں کھلونا نہیں بننے گی،جو پاکیزہ رشتے کے لئے گھر تک نہیں آسکتا ہے اور چور راستے سے اُس پر قبضہ کا منصوبہ بنائے ہوئے ہے ،اس سے دور ہو جائے گی۔وہ اپنی محبت پر آنچ نہیں آنے دے گی۔اس نے رابطہ ختم کرلیا،اپنے گھر کے حالات کی وجہ سے وہ گمراہ ہو چلی تھی مگر اب وہ خود کو محفوظ کرکے رکھنا چاہتی تھی اورمحبت اپنے حقدار شریک حیات پر نچھاور کرنا چاہتی تھی،تب ہی اس نے والدین اور اپنی مرضی کے مطابق شادی کرلی تھی کہ اسے اصلی و نقلی محبت کی تمیز کرنا آگئی تھی۔وہ محبت کو کھلونے کی طرح نہیں سمجھتی تھی کہ جب جی بھر جائے تو پھینک دیا جائے، یا ضرورت کے وقت ہی کھلونا ہاتھ میں لیا جائے۔ تب ہی اس نے اسکے نام کو دل سے مٹا کر اپنی زندگی میں مگن ہوگئی۔

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
13 May, 2017 Total Views: 292 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do NOT preach, I only share what I learn and feel!

I'm an original, creative Thinker, Teacher
.. View More

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 220 Articles with 125587 views »
Reviews & Comments
v nice artical bhai or bohat hi nice topic hai welldone ,,,,,
By: Zeena, Lahore on May, 14 2017
Reply Reply
0 Like
Zeena Sister
Thanks lot for appreciation.
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on May, 14 2017
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB