اَوسان خطا ہونا###مختصر کہانی (1 )

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

کچھ ہی دیر میں جہاز اڑان بھرنے والا تھا۔ لاؤنج مَیں نماز مغرب اوردورکعت نمازِ احرام بھی پڑھ چکا تھا ۔یکا یک اعلان ہوا کے وہ خواتین و حضرات جو سعودی ائر لائن کی پرواز 777سے جدہ کے لیے سفر کر رہے ہیں جہاز میں تشریف لے چلیں، تیسری بار اعلان ہواتو فکر ہوئی اور شہناز کی جانب رخ کیا جولاؤنج میں نماز گاہ میں نماز ادا رہی تھیں۔ بھاگم بھاگ لائن میں لگ گئے حالانکہ اس جلد بازی کی ضرورت نہیں تھی لیکن انسان کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ پاسپورٹ اور بورڈنگ پاس چیک کرایا اور جوں ہی جہاز کے لیے کیوب میں داخل ہونے لگے تو ایک کارندے نے ہمارے ہاتھ میں بیگ دیکھا گویا ہوا اس میں میٹھائی ہے ؟ یہ تھیلا بیگیج میں جائے گا، آپ اپنے ساتھ نہیں لے جاسکتے۔ ایک سانس میں اس نے ہماری سانس کی رفتار بڑھا دی، یہ بیگ تو تھا ہی’ رحمت شیریں ‘والوں کا، اس لیے کسی قسم کی ہجت کا سوال ہی پید ا نہیں ہوتا تھا پھر غلط بیانی کیسی،کچھ جذبز ہوئے،پریشان بھی،کارندے نے ایک نہ سنی، مجبوراً تمام سامان دوسرے بیگ میں جس پر ٹیگ لگا تھا منتقل کرنا شروع کیا اسی لمحے میرے ہاتھ سے پاسپورٹ اور بورنڈنگ کارڈ تھیلے میں گر گیا جس میں سامان منتقل کیا جارہا تھا اورمجھے اس کی خبر نہ ہوئی، بیگ کارندے کو لگیج کے لیے دینے لگے تو خیال آیا پاسپورٹ اور بورڈنگ پاس کہاں ہے، ادھر اُدھر ، سب جگہ دیکھا کہیں موجود نہیں تھے،اُف خدایا، یہ کیا ہوا،ہمارے آس پاس تو کوئی بھی نہیں تھا، اب تو پریشانی آسمان کو چھونے لگی، گویا ہمارے ہاتھوں کے طوطے اڑگئے۔ اوسان خطا ہوہوگئے ، کسی شاعر نے کہا کہ ’خطا ہونے لگے تھے رعد سے اوسان میرے۔۔عجب شورِ قیامت میں گھرے تھے کان میرے‘۔ میں باوجود اس کے کہ احرام میں تھا وہیں فرش پر بیٹھ گیا، کارندے نے ہماری پریشانی دیکھی تو اُسے ہم پر رحم آیا، اس نے تسلی دی کہ گھبرائیں مت تھلے کے اندرہی ہوگا، دونوں چیزوں کی تلاش میں اس نے ہماری مدد کی، ہم اپنا پاسپورٹ اور بورڈنگ کارڈ تلاش کر رہے تھے ادھر پرواز کا وقت قریب تر آرہا تھا،لوگوں کی لمبی لائن ختم ہو چکی تھی اکا دکا لوگ جاتے نظر آرہے تھے۔دل کے دھڑکنے کی رفتار تیز ہوتی محسوس ہورہی تھی ، میں اس کوشش میں تھا کہ اپنی اس کیفیت کوظاہر نہ ہونے دوں تاکہ شہناز کی پریشانی میں اضافہ نہ ہو۔ اسی دوران پاسپورٹ اور بورڈنگ پاس تھیلے سے ہی نکل آئے ۔جان میں جان آئی، اللہ کا شکر ادا کیا، ہمارے اوسان بحا ل ہوئے اور ہم کیوب کے ذریعہ جہاز کے دروازے پر پہنچے جہاں ایک بار پھر ائر لائن کے کارندے مسافروں کی جامہ تلاشی میں مصروف تھے۔ایسا سعودی ائر لائن میں ہی ہوتا ہے ۔ لیکن دوسری جانب ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ بر وقت چلتی اور قبل از وقت منزل پر پہنچتی ہے۔ اپنی سیٹ پر بیٹھ کراللہ کا بار بار شکر ادا کرتے رہے، یہ بھی کہ ہمیں ہر وقت ہر لمحہ چوکس و چوکنا رہنا چاہیے، ہر صورت میں ، دورانِ سفر خاص طور پر اپنی تمام تر اشیاء کواحتیاط اور حفاظت سے رکھنا چاہیے اور یہ بھی کہ خواہ کچھ بھی ہوجائے اپنے اوسان قابو میں رکھنا چاہیے، اَوسان خطا ہوجانے سے پریشانی دور نہیں ہوتی بلکہ پریشانی میں اضافہ در اضافہ ہوجاتا ہے۔ ہر حال میں اپنے پروردگار پر پختہ یقین ، کامل بھروسا رکھنا چاہیے بے شک وہ ہماری پریشانیوں کو ، تکلیفوں کودور کرنے والا ہے۔ (19مارچ2017، جدہ)

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
19 Mar, 2017 Total Views: 1364 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Dr Rais Ahmed Samdani

Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Read More Articles by Dr Rais Ahmed Samdani: 384 Articles with 169157 views »
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB