وسیلہ ‘‘ نیک اعمال’’ کا

(Mohd Saleem Mahmood, India)

کتابُ اللہ اور سُنّت رسول ﷺ کی روشنی میں اہل ایمان کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ جب بھی اللہ پاک کا تقرُّب حاصل کرنا چاہیں تو اسکی جناب میں ایسے نیک اعمال کو وسیلہ بنائیں جن پر عمل کرنے کی کتاب و سنّت میں نصیحت کی گئی ہے۔کوئی بھی عمل صالح اس وقت ہوتا ہےجب وہ سنّتِ رسول ﷺ کے مطابق ہوتا ہے۔ اور اس عمل کو کرنے والے کے دل میں اخلاص و للّٰہیت ہو۔ علماء نے صراحت کی ہے کہ مقبول عمل کی بنیادی شرطیں یہی ہیں۔ ان وسائل میں فرائض و واجبات اور نفلی عبادتیں نیز خیر اور نیکی کے تمام اعمال اور تمام قسم کے رفاہی اور فلاحی کام شامل ہیں، جوکہ شریعت اور سنّت مطہرہ سے ثابت ہیں۔

نیک اعمال کی ترغیب اللہ پاک نے اپنے مخلص بندوں کیلئے ان ارشادات پاک کے ذریعے فرمائی ہے۔ ’’ پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیّدوار ہے اسے چاہئے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے‘‘۔ (سورہ الکہف،آیت نمبر ۱۱۰)۔
’’اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہی جنّت کے مستحق ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘۔(سورہ بقرہ،آیت نمبر ۸۲ ) ‘‘ ’’بے شک جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے یہی ہیں بہترین مخلوق‘‘۔ (سورہ البینہ، آیت نمبر۷)۔ ‘‘ ’’زمانہ کی قسم انسان بڑے خسارے میں ہے سوائے انکے جو ایمان لائے اور نیک کام کئے‘‘ (سورہ والعصر،آیت نمبر ۳،۲،۱، ) ’’جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے انکے لئے نہ ختم ہونے والا اجر ہے ‘‘۔ (سورہ والتّین،آیت نمبر۶)۔ ’’ اور جو شخص نیک عمل لیکر آئے گا تو اسے اس سے بہتر بدلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس روز گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے‘‘ (سورۂ النمل،آیت نمبر ۸۹ )

نیک اعمال کے صلہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہر پریشانی اور مصیبت سے بچاتا ہے۔ دنیاوی آفتوں اور بلاؤں سے انکی حفاظت فرماتا ہے۔ انکی تمام دینی و دنیوی جائز حاجات کو پورا فرماتا ہے۔انکے رزق میں برکت عطا فرماتا ہے۔قبر کے عذاب سے انکی حفاظت فرماتا ہے۔ منکر نکیر کے سوالوں کے جوابات کو آسان فرماتا ہے۔دشمنوں کی دشمنی اور حاسدوں کے حسد سے انکی حفاظت فرماتا ہے۔آخرت کی رسوائی سے محفوظ فرماکر جنّت الفردوس میں داخلہ نصیب فرماتا ہے۔ لہٰذا جو شخص واقعی اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کا طالب ہے ، اسے خالص عقیدۂ توحید اپناکر اعمال صالحہ کو زادراہ بنانا چاہئیے۔ اس سلسلے میں یہاں دو احادیث مبارکہ پیش کی جارہی ہیں۔ ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ ان احادیث مبارکہ کا بار بار مطالعہ کرے، کیونکہ کتاب و سنّت رسول ﷺ کی اتّباع کرنے والا ہر صحیح العقیدہ توحید پرست مسلمان ان احادیث مبارکہ کا ضرورت مند ہے۔ پہلی حدیث مبارک یہ ہے۔

’’ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے بواسطہ سعید بن المسیب مروی ہے کہ مدینہ منوّرہ میں ہم صفّہ میں قیام فرما تھے۔ ایک روز حضور اقدس ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ آج میں نے عجیب و غریب خواب دیکھا ہے۔ میں نے اپنے ایک امّتی کو دیکھا کہ اس کے پاس ملک الموت آچکے تھے اور اسکی روح قبض کرنا چاہتے تھے، والدین کے ساتھ اس کا حسن سلوک آیا اور اسنے موت کے فرشتے کو واپس کردیا۔ پھرمیں نے اپنے ایک امّتی کو دیکھا جو عذاب قبر میں مبتلا ہوچکا تھا تو اسکا وضو آیا اور اسے عذاب سے بچالیا۔پھرمیں نے اپنے ایک امّتی کو دیکھا جسے شیاطین نے گھیر رکھا تھا تو اس کا ذکر الٰہی آیا اور شیطانوں کو بھگا دیا۔پھرمیں نے اپنے ایک امّتی کو دیکھا جسے عذاب کے فرشتوں نے گھیر رکھا تھا تو اسکی نماز آئی اور انکے ہاتھوں سے بچا لیا۔پھرمیں نے اپنے ایک امّتی کو دیکھا پیاس سے جسکی زبان نکلی ہوئی تھی، جب بھی حوض کے قریب جاتا پیچھے ڈھکیل دیا جاتا تو ماہ رمضان کے روزے آئے اور اسے پلاکر سیراب کردیا۔پھرمیں نے اپنے ایک امّتی کو دیکھا اور کچھ لڑکوں کی ٹولیاں دکھائی دیں، جب بھی وہ انکے پاس جاتا بیٹھنے نہ دیتے اور دور چھوڑ آتے تو اس کا غسل جنابت آیا اور اسکا ہاتھ پکڑکر میرے پاس بٹھا دیا۔پھرمیں نے اپنے ایک امّتی کو دیکھا جسکے آگے بھی اندھیرا پیچھے بھی اندھیرا، دائیں بھی اندھیرا بائیں بھی اندھیرا، اوپر بھی اندھیرا نیچے بھی اندھیرا، اور وہ حیران تھا کہ کدھر جائے اور کہاں جائے تو اسکا حج وعمرہ آئے اور اندھیرے سے نکال کر روشنی میں پہنچادیا۔پھرمیں نے اپنے ایک امّتی کو دیکھا جو ہاتھ سے آگ کے شعلوں اور چنگاریوں سے بچاؤ کرتا ہے تو اسکا صدقہ و خیرات آیا اور اسکے اور آگ کے درمیان پردہ بن کر حائل ہوگیا۔پھرمیں نے اپنے ایک امّتی کو دیکھا جو مومنوں سے بات کرنا چاہتا ہے مگر وہ اس سے نہیں بولتے تو اسکی صلہ رحمی آئی اور کہنے لگی اے مومنوں کی جماعت یہ تو بڑا صلہ رحمی کرنے والا تھا تم اس سے کیوں نہیں بولتے؟ تو اسی وقت تمام مومنین اس سے کلام کرنے لگے اور وہ بھی ان سے باتیں کرنے لگا، انہوں نے مصافحے کیے اور اس نے بھی۔پھرمیں نے اپنے ایک امّتی کو دیکھا کہ اسکو عذاب کے فرشتوں نے گھیر رکھا تھا تو اس کا امر بالمعروف و نہی عن المنکر آیا اور انکے ہاتھوں سے چھڑاکر رحمت کے فرشتوں میں پہنچادیا۔پھرمیں نے اپنے ایک امّتی کو دیکھا کہ وہ اپنے گھٹنوں کے بل پڑا ہوا ہے اور اسکے اور خدا تعالیٰ کے درمیان حجاب حائل ہے تو اسکا حسن خلق آیا اور اسکا ہاتھ پکڑکر خدا تعالیٰ کے پاس پہنچادیا۔پھرمیں نے اپنے ایک امّتی کو دیکھا جسے اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں ملا تھا تو اسکا خوف خدا آیا اور اعمال نامہ پکڑکر دائیں ہاتھ میں دیدیا۔پھرمیں نے اپنے ایک امّتی کو دیکھا کہ اسکے اعمال کا پلڑا ہلکا ہے تو اسکے چھوٹے بچّے آئے اور اسکے ترازو کو بھاری کردیا۔پھرمیں نے اپنے ایک امّتی کو دیکھا جو جہنّم کے گڑھے کے کنارے پر کھڑا تھا تو اسکی امّید الٰہی آئی اور اسکو جہنّم سے بچا لیا اور وہ آگے بڑھ گیا۔پھرمیں نے اپنے ایک امّتی کو دیکھا کہ جہنّم میں اسے ڈال دیا گیا ہے تو اسکے خوف خدا سے نکلے ہوئے آنسو آئے اور اسکو جہنّم سے بچالیا۔پھرمیں نے اپنے ایک امّتی کو دیکھا جو پل صراط پر کھڑا اس طرح کانپ رہا ہےجیسے تیز و تند ہوا میں پتّوں کا ڈنٹھل ہلتا ہے تو اللہ کے ساتھ اس کا حسن ظن آیا اور اسکی کپکپی دور کرکے چلا گیا۔پھرمیں نے اپنے ایک امّتی کو دیکھا جو کبھی زمین پر گھسٹتا ہے، کبھی گھٹنوںاور پیٹ کے بل لڑھکتا ہے اور کبھی اٹک جاتا ہے تو اس کا مجھ پر درودوسلام آیا اور اٹھاکر پاؤں کے بل کھڑا کردیا اور اس طرح بچالیا۔ پھرمیں نے اپنے ایک امّتی کو دیکھا کہ وہ جنّت کے دروازے پر پہنچا لیکن جنّت کے دروازے اس پر بند کردئیے گئے تو اس کی لاالہٰ الاّ اللہ کی شھادت آئی اور جنّت کے دروازے کھول کر اسکو جنّت میں داخل کردیا‘‘ (التّرغیب والتّرہیب)
دوسری حدیث مبارک یہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ ’’ تم سے پہلے امّتوں میں سے تین آدمی سفر پر جا رہے تھے۔ یہ تینوں رات کو پہاڑ کے ایک غار میں سورہے تھے، اتّفاقاً اس پہاڑ پر سے ایک بہت بڑا پتّھر گرا اور اس نے غار کے منہ کو بند کردیا۔ جب یہ تینوں آدمی اس غار میں بند ہوگئے تو انہوں نے آپس میں کہا کہ اب نجات کی کوئی شکل سوائے اسکے نہیں کہ ہم خدا سے دعاء کریں اور اپنے نیک اعمال کے وسیلے سے دعاء مانگیں۔ چنانچہ ان میں سے ایک شخص نے کہا، یا اللہ تو جانتا ہے میرے ماں باپ بوڑھے تھے، میں شام کو جب کھیت سے واپس آتا تھا تو پہلے دودھ اپنے ماں باپ دونوں کو لاکر دیا کرتا تھا اسکے بعد اپنے عیال کو پلاتا تھا، ایک دن مجھے دیر ہوگئی، جب میں آیا تو میں نے دیکھا میرے ماں باپ دونوں سو گئے ہیں، میں دودھ کا پیالہ لیکر انکے سرہانے کھڑا رہا اور ادب کی وجہ سے انکو جگایا نہیں، میرے بچّے بھو ک کی وجہ سے پریشان رہے اور مجھ سے دودھ پینے کا تقاضہ کرتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور میرے ماں باپ نیند سے جاگے تو میں نے پہلے انکو دودھ پلایا اسکے بعد اپنے اہل و عیال کو دودھ پینے کے لئے دیا۔ اۓ خدا ! یہ میرا عمل خالص تیرے لئیے تھا تو اس عمل کی برکت سے اس پتّھر کو جو ہمارے غار پر آپڑا ہے ہٹادے۔ اس شخص کی دعاء سے وہ پتّھر ہٹا اور غار میں کچھ روشنی نظر آئی لیکن پتّھر اتنا نہیں ہٹا جس سے یہ لوگ نکل آتے۔
اسکے بعد دوسرے شخص نے کہا یا اللہ! تو جانتا ہے مجھے اپنے چچا کی بیٹی سے بہت زیادہ محبّت تھی میں نے اس سے اپنی خواہش کا اظہار کیا لیکن اس نے انکار کردیا، اتّفاقاً قحط پڑا اور وہ قحط کی مصیبت میں مبتلا ہوگئی اور فاقوں سے تنگ آکر میرے پاس آئی، میں نے اسکے سامنے ۱۲۰دینار اس شرط پر پیش کئے کہ وہ اپنے نفس کو میرے حوالے کردے، چنانچہ اس نے اجازت دیدی اور جب میں اس پر قادر ہوگیا تو اس نے کہا تیرے لئے کسی ایسی چیز کا استعمال کس طرح صحیح ہوسکتا ہے جو تیرے لئیے حلال نہیں؟ اس لڑکی کے یہ الفاظ سن کر میں اسکے پاس سے ہٹ گیا اور میں نے وہ ایک سو دینار بھی اسکو دیدئیے اور زنا کا ارادہ ترک کردیا۔اۓ خدا ! یہ میرا عمل خالص تیرے لئے تھا تو اس عمل کی برکت سے اس پتّھر کو جو ہمارے غار پر آپڑا ہے ہٹادے۔ اس شخص کی دعاء کے بعد وہ پتّھراور ہٹ گیا لیکن اس قدر نہیں ہٹا کہ یہ لوگ نکل سکتے۔

اسکے بعد تیسرے شخص نے اس طرح دعاء مانگی یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں نے ایک دفعہ کچھ مزدور اپنے یہاں مزدوری کے لئیے مقرّر کئے تھے اور مزدوروں میں چاول کی ایک مقدار طۓ ہوئی تھی، جب میں مزدوروں کی مزدوری تقسیم کرنے لگا تو ایک مزدور اپنی مزدوری کے چاول چھوڑ کر چلا گیا، میں نے ان چاولوں کو زمیں میں بودیا یہاں تک کہ وہ چاول بڑھتے بڑھتے ایک کشیر مال ہوگیا۔ ایک عرصہ کے بعد اس مزدور نے آکر کہا، اللہ کے بندے میری مزدوری دیدے۔ میں نے اس سے کہا یہ گائیں، اونٹ اور بکریاں سب تیری مزدوری ہیں انکو لے جا۔ اس مزدور نے کہا مجھ سے مذاق نہ کر بلکہ جو میری مزدوری کے چاول ہیں وہ دیدے، میں نے کہا میں مذاق نہیں کرتا، یہ تیری ہی مزدوری کے چاول بڑھتے بڑھتے اس قدر کشیر مال ہوگیا ہے، کیونکہ میں نے تیرے چاولوں کی کاشت شروع کردی، جو پیداوار ہوتی رہی اس کو بڑھاتا رہا۔ اس نے یہ سن کر تمام مال پر قبضہ کرلیا اور ان تمام مویشیوں کو لیکر چلا گیا۔ اے خدا ! اگر میں نے یہ عمل خالص تیری رضا مندی اور خوشنودی کے لئیے کیا تھا تو اس پتّھر کو ہمارے غار پر سے ہٹادے۔ چنانچہ اس دعاء کے بعد وہ پتّھر بالکل ہٹ گیا اور یہ تینوں شخص اسکے اندر سے نکل آئے۔ (بخاری شریف)۔

چونکہ یہ اعمال ان تینوں نے خلوص نیت کے ساتھ کئے تھے، اس لئیے ان اعمال کا وسیلہ اجابت دعا ء کے لئے مفید ہوا اور یہ تینوں آدمی موت کے منہ سے بچ گئے۔ ان احادیث مبارکہ اور ارشادات الٰہی سے یہ ثابت ہوا کہ قرآن پاک کی آیت وابتغو الیہ وسیلہ سے مراد نیک اعمال ہیں اور نیک اعمال ہی سیدھا راستہ ہیں اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کا۔

فقط: محمّد سلیم ابن محمود، مالیگاؤں، انڈیا

Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
11 Mar, 2017 Total Views: 191 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Mohd Saleem Mahmood


Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
السلام علیکم و رحمۃ اللہ برکاتہ جناب محمد سلیم صاحب، یقینا نیک اعمال جنت میں جانے کی سیڑھی ہیں۔
آپ نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک روایت پیش کی ہے اور حوالہ ترغیب و ترہیب کا دیا ہے۔ آپ سے صرف اتنا پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ روایت صحیح ترغیب سے لی گئ ہے یا ضعیف ترغیب و ترہیب سے اور اس روایت کا نمبر کیا ہے۔ بارک اللہ فیک
By: Baber Tanweer, Karachi on Mar, 12 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB