|
|
بابر تنویر انشاء اللہ جلد ہی اس کالم کا رد بھی پیش کروں گا مکمل تحقیق کے ساتھ
بابر تنویر کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ اپنی عقل کی کسوٹی پر سب کچھ پرکھتا ہے اور جو اس کی خام عقل کے مطابق ہو اس کو یہاں تحریر کر دیتا ہے۔ ائمہ مجتہدین کی تقلید تو اس کی قسمت میں کہاں یہ تو ہوائے نفس کا مقلد ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت دے ۔۔۔۔۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم |
|
|
By:
Muhammad Saqib Raza Qadri,
Lahore
on
May, 16 2011
|
|
|
|
|
|
|
| بھائی علی احمد آپ کا شکریہ۔ شیخ البانی یقیناً ایک بڑے عالم ہیں ۔ مگر ہمارے ہاں مجبوری ہے کہ ہم ہر بات کو اپنے مسلک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اگر یہ حوالہ ان کے سامنے آپ پہلے پیش کرتے تو وہ اسے کسے دوسرے مسلک سے وابستہ کر کے رد کردیتے۔ اگر ایک عام مسلمان بھی غور کرے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ روایت قرآن سے ٹکراتی ہے اور اس وجہ سے یقیناً من گھڑت ہے۔ و السلام |
|
|
By:
Baber Tanweer,
Karachi
on
Oct, 21 2010
|
|
|
|
|
|
|
محترم بابر بھائي جو روایت آپ نے پیش کی ہے اس کو شیخ البانی نے جو ان دنوں اہل علم لوگوں میں علم حدیث کی سند مانے جاتے ہیں موضوع یعنی جھوٹ گھڑی ہوئی قرار دیا ہے۔ |
|
|
By:
Ali Ahmad,
Karachi
on
Oct, 20 2010
|
|
|
|
|
|
|
جناب حافظ جمیل صاحب میں نے تو صرف قران کی آیات آپ کے سامنے رکھی ہیں۔ اس میں میرا اجتہاد کہاں سے آگیا۔ اور دونوں ہی جگہ ایک ہی واقعہ بیان ہوا ہے۔ ابن تیمیہ کو تو میں نے نہیں پڑھا مگر آپ کے ھم مسلک کا ترجمہ میں نے پیش کیا جس میں صاف لکھا ہے کہ حضرت آدم نے عاجزی اور معافی کے الفاظ سیکھے اور مذکورہ حدیث اس آیت کی نفی کرتے ہوئے کہتی ہے کہ آدم علیہ السلام نے اپنے اجتہاد سے نبی پاک کا وسیلہ پیش کیا۔ اگر آپ کا اصرار اسی بات پر ہے تو جھٹلا دیں قرآن کی اس آیت کو۔ اب اس آیت پر بھی غور کر لیں (دونوں نے عرض کیا: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی؛اور اگر تو نے ہم کو نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم یقیناً نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے، ) کیا ( اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی؛) عاجزی کے الفاظ نہیں ہیں اور (؛اور اگر تو نے ہم کو نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم یقیناً نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے) معافی کے الفاظ نہیں ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہ کلمات ہیں جن کا ذکر سورہ بقرہ میں کیا گیا ہے۔اگر اب بھی آپ اپنی بات پر اڑے رہیں اور قرآن پاک کو جھٹلاتے رہیں تو آپ کے لئے بھی سورہ بقرہ کی آیت ٣٩ حاضر ہے۔ آخری بات عرض کردوں کہ میں مسلمانوں کی مختلف مسالک میں تقسیم کے خلاف ہوں۔ کیونکہ قرآن اور حدیث ہمیں آپس میں تفرقہ ڈالنے سے منع کرتے ہیں۔ اور ہاں اگر ابن تیمیہ کی بھی کوئی بات مجھے قرآن اور صحیع احادیث کے خلاف نظر آئی تو آپ دیکھیں گے میں اس کی بھی انشاءالله مخالفت کروں گا۔ و السلام |
|
|
By:
Baber Tanweer,
Karachi
on
Sep, 25 2010
|
|
|
|
|
|
|
غرض (مردود نے) دھوکہ دے کر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا جب انہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھا لیا تو ان کی ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے) پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے لگے اور (ستر چھپانے لگے) تب ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور جتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے۔ سورة الأعراف ٢٢) ۔ اگر علم الغیب ہوتا تو آدم علیہ سلام کو بتانے کی ضرورت نہیں تھی الله کو کہ درخت (کے پھل) نا کھانا۔ دوسرا یہ کہ اس کے بعد کا کیا نتیجہ ہوگا دونوں کو نہیں معلوم تھا۔ تیسرا یہ کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے یہ بات بھی الله تعالیٰ کو ضرورت نہیں تھی۔ اور پھر جب دونوں کو احساس ہوا تو اپنی غلطی پر نادم ہوئے۔ “ دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے“ سورة الأعراف ٢٣)۔ آدم علیہ سلام سے لے کر رسول الله صلی الله علیہ وسلم تک جتنے انبیاء المرسلین آئے ان کو جس علم کی ضرورت ہوئی اس کے تقاضے پورا کرنے کے لئے وقتاً فوقتاً علم عطا کرتے رہے۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ آدم علیہ سلام نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو وسیلہ بنا کر الله کے حضور مغفرت طلب کی تھی تو صرف اتنا کہنا کافی ہے“ لعنت الله الکاذبین“ ۔ یقیناً یہ بہتان کبیرہ ہے۔ محترم بابر بھائی آپ نے بہت اچھا مضمون لکھا جس سے بہت سے لوگوں کو فائدہ ہوگا اور اس سے جہالت اور گمراہی کے بادل چھٹ جائیں گے اور اصل علم دین لوگوں تک بتدریج پہنچتا رہے گا الله آپ کو مزید استطاعت عطا فرمائے آمین |
|
|
By:
Sheikh Mohammad Danish,
Karachi
on
Sep, 25 2010
|
|
|
|
|
|
|
|
Mr. Ali ilm giyb sirf Allah ka paass hay. Agar Adam ka paass hota too oh Shaitan malloon ko Waswasa dalnay hi nahi datay aur oos ki baat per yaqeen kar kay woh 'Shajar mamnoowa' ka paass nahi jatay. Ilam e Giyab Allah k siwa koi nahi janta hata k Rasool [sws] bi nai warna Ummul Momminen Aisha Raziallah oh talla per buhtan lagnay ka baat ko ek month taak pereshaan rahi aur jaab sura noor nazil hoowa aur oos may Aisha Raziallah oh tallah ki baray bayan ki gaee tab Rasool [sws} ko in ki begoonahi ka aur monafeeqin ka buhtan ka pata chala. Quran ko itmanaan aur tafsir say parhu ta k joo tumary ghalat maloomat hay woh theek ho jaye.
|
|
By:
Sirajuddin,
Hyderabad-Deccan
on
Sep, 24 2010
|
|
|
|
|
|
|
| جناب احمد یارصاحب میں کیا اور میرا قد کیا۔ آپ نے کی کرم فرمائی کہ مجھے بونا ہونے کا حق مرحمت فرما دیا ۔ آپ کچھ اور القابات سے بھی نواز سکتے تھے۔ مگر جہاں بات قرآن اور حدیث کی ہو وہاں آپ کے طویل القامت بزرگ یا ان سے بھی طول رکھنے والے عالم دین اگر ترجمہ اور تفسیر میں خیانت کریں گے تو میں ان کے سامنے بھی حق بات کہنے سے گریز نہیں کروں گا۔ علی صاحب کے کمنٹس کے جواب میں نے دونوں سورتوں میں سے اس کے حوالے سے اتاری گئی آیتوں کا ترجمہ پیش کر دیا ہے۔ اگر آپ میں ذرا بھی دین کی سمجھ ہوئی تو آپ خود ہی اپنے طویل القامت بزرگ کی تفسیر کی حقیقت تک پہنچ جائیں گے۔ |
|
|
By:
Baber Tanweer,
Karachi
on
Sep, 24 2010
|
|
|
|
|
|
|
| ماشااللہ بابر صاحب، آپ خود مجتہد بن گئے ہیں اور خود اپنی خود ساحتہ نظریات کا پرچار کرتے کرتے اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ اپنے اکابرین کو ہی بھول گئے ہیں۔ آئے میں بتاتا ہوں کہ جس حدیث کو آپ قرآن کی آیت سے (اپنے اجتہاد سے) مفہوم اخذ کرتے ہوئے غلط ثابت کر رہے ہیں وہ آپ کے اپنے شیخ ابنِ تیمیہ کے نزدیک صحیح ہے۔۔۔۔ |
|
|
By:
Hafiz Jamil,
Lahore
on
Sep, 24 2010
|
|
|
|
|
|
|
|
i like it to much
|
|
By:
rizwana,
haripur
on
Sep, 24 2010
|
|
|
|
|
|
|
جناب علی افسوس ہے آپ کی کج فہمی پر۔ آپ نے الفاظ بدل مگر مفہوم نہ بدل سکے اور میری مخالفت کے چکر میں کہیں اور ہی نکل گئے۔ آپ نے ٣ آیتوں کا کہا میں پورا موضوع ہی بیان کر دیتا ہوں۔ ترجمہ طاہر القادری کا ہے کسی اہل حدیث کا نہیں ﴿۳۰﴾ اور اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو تمام (اشیاء کے) نام سکھا دیئے پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا، اور فرمایا: مجھے ان اشیاء کے نام بتا دو اگر تم (اپنے خیال میں) سچے ہو، ﴿۳۱﴾ فرشتوں نے عرض کیا: تیری ذات (ہر نقص سے) پاک ہے ہمیں کچھ علم نہیں مگر اسی قدر جو تو نے ہمیں سکھایا ہے، بیشک تو ہی (سب کچھ) جاننے والا حکمت والا ہے، ﴿۳۲﴾ اللہ نے فرمایا: اے آدم! (اب تم) انہیں ان اشیاء کے ناموں سے آگاہ کرو، پس جب آدم (علیہ السلام) نے انہیں ان اشیاء کے ناموں سے آگاہ کیا تو (اللہ نے) فرمایا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) مخفی حقیقتوں کو جانتا ہوں، اور وہ بھی جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو، ﴿۳۳﴾ اور (وہ وقت بھی یاد کریں) جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے انکار اور تکبر کیا اور (نتیجۃً) کافروں میں سے ہو گیا، ﴿۳٤﴾ اور ہم نے حکم دیا: اے آدم! تم اور تمہاری بیوی اس جنت میں رہائش رکھو اور تم دونوں اس میں سے جو چاہو، جہاں سے چاہو کھاؤ، مگر اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ حد سے بڑھنے والوں میں (شامل) ہو جاؤ گے، ﴿۳۵﴾ پھر شیطان نے انہیں اس جگہ سے ہلا دیا اور انہیں اس (راحت کے) مقام سے جہاں وہ تھے الگ کر دیا، اور (بالآخر) ہم نے حکم دیا کہ تم نیچے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن رہو گے۔ اب تمہارے لئے زمین میں ہی معیّنہ مدت تک جائے قرار ہے اور نفع اٹھانا مقدّر کر دیا گیا ہے، ﴿۳٦﴾ پھر آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے (عاجزی اور معافی کے) چند کلمات سیکھ لئے پس اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، بیشک وہی بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے، ﴿۳۷﴾ ہم نے فرمایا: تم سب جنت سے اتر جاؤ، پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو جو بھی میری ہدایت کی پیروی کرے گا، نہ ان پر کوئی خوف (طاری) ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے، ﴿۳۸﴾ اور جو لوگ کفر کریں گے اور ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے تو وہی دوزخی ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، ﴿۳۹﴾۔ ذرا غور کریں کہ الله تعالیٰ نے اشیاء کے نام حضرت آدم کو بتائے اور فرشتوں کو نہیں اس لئے جب الله تعالیٰ نے فرشتوں سے پوچھا تو وہ نہ بتا سکے اور حضرت آدم نے فورا بتا دئے کیونکہ الله تعالیٰ انہیں بتا چکا تھا۔ یہاں علم غیب کہاں سے آگیا۔ اور یہاں یہ موضوع بھی نہیں تھا۔ سورہ اعراف میں یہی واقعہ بیان کرنے کے بعد وہ کلمے یعنی الفاظ بھی بتا دئے گئے جن کے ذریعے آدم و حوا نے معافی کی دعا مانگی۔ ان آیات کا ترجمہ پھر طاہر القادری کی زبانی کرتا ہوں۔ ﴿۱۹﴾ پھر شیطان نے دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان کی شرم گاہیں جو ان (کی نظروں) سے پوشیدہ تھیں ان پر ظاہر کر دے اور کہنے لگا: (اے آدم و حوا!) تمہارے رب نے تمہیں اس درخت (کا پھل کھانے) سے نہیں روکا مگر (صرف اس لئے کہ اسے کھانے سے) تم دونوں فرشتے بن جاؤ گے (یعنی علائقِ بشری سے پاک ہو جاؤ گے) یا تم دونوں (اس میں) ہمیشہ رہنے والے بن جاؤ گے (یعنی اس مقامِ قرب سے کبھی محروم نہیں کئے جاؤ گے)، ﴿۲۰﴾ اور ان دونوں سے قَسم کھا کر کہا کہ بیشک میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں، ﴿۲۱﴾ پس وہ فریب کے ذریعے دونوں کو (درخت کا پھل کھانے تک) اتار لایا، سو جب دونوں نے درخت (کے پھل) کو چکھ لیا تو دونوں کی شرم گاہیں ان کے لئے ظاہر ہوگئیں اور دونوں اپنے (بدن کے) اوپر جنت کے پتے چپکانے لگے، تو ان کے رب نے انہیں ندا فرمائی کہ کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت (کے قریب جانے) سے روکا نہ تھا اور تم سے یہ (نہ) فرمایا تھا کہ بیشک شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے، ﴿۲۲﴾ دونوں نے عرض کیا: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی؛ اور اگر تو نے ہم کو نہ بخشا اور ہم پر رحم (نہ) فرمایا تو ہم یقیناً نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے، ﴿۲۳﴾ ارشادِ باری ہوا: تم (سب) نیچے اتر جاؤ تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہیں، اور تمہارے لئے زمین میں معیّن مدت تک جائے سکونت اور متاعِ حیات (مقرر کر دیئے گئے ہیں گویا تمہیں زمین میں قیام و معاش کے دو بنیادی حق دے کر اتارا جا رہا ہے، اس پر اپنا نظامِ زندگی استوار کرنا)، ﴿۲٤﴾۔ سورہ بقرہ میں اس خطا کے بعد کہا گیا کہ الله تعالیٰ نے معافی کے کلمات سکھا دئے اور سورہ اعراف میں اس خطا کا ذکر کرنے کے بعد ان الفاظ کا ذکر بھی کر دیا۔
اگر آپ پھر بھی اپنی بات پر اڑے رہیں تو آپ سورہ بقرہ کی آیت ٣٩ پر غور کر لیں |
|
|
By:
Baber Tanweer,
Karachi
on
Sep, 24 2010
|
|
|
|
|
|
|
|
Shah AbdulAzeez dehlvi ne apni tafseer FathulAzeez me is ayat (albqarh,37) k teht Adam alehissalam k Nabi Kareem SallAllahu alehi wasallam k waseelah se dua karne wali hadeeth ko bayan farmaya hai. bila shubah mazmoon nigar ka qad Shah Sahib k muqable me bohat bona hai. Or Shah sahib ka gharana bilittifaaq aaj kal k Ummat me phoot dalne walay Touheed parasto se kahin ziadah touheed ka alam bardaar hai.
|
|
By:
ahmed yar,
Arifwala
on
Sep, 23 2010
|
|
|
|
|
|
|
سورہ بقرہ آیت ٣٧پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے تو الله نے اس کی توبہ قبول کی بے شک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان“۔ “پھر متوجہ ھو گیا الله اس پر“ یہ نہ ترجمہ ہے اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کے یہ بھی درست ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورہ اعراف آیت ٢٣کی من گھڑت تفسیر آپ نہ کریں من گھڑت تفسیر کرنا حرام ہے (آپ سورہ بقرہ آیت ٣١،٣٢،٣٣ کا ترجمہ اور تفسیر پڑھ لیں)۔ ان آیات میں لکھا ہے کہ حضرت آدم کوالله نے غیب کا علم دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
By:
ALI,
karachi
on
Sep, 23 2010
|
|
|
|
|