قانون لازمی مضمون

(Maqsood Ahmed, Lahore)

بحیثیت پا کستانی قوم روز اول سے یہ ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے میں ہمیشہ ناکام رہا کیوں کہ سب سے اہم اور ناگزیر وجہ اس ناکا می کی یہ ہے کہ پاکستان کے اندر رائج تعلیمی نصاب میں قانون کی لازمی تعلیم ہی نہ شامل کی گئی ہے جس کے نتیجے میں آ ج ہم دہشتگردی اور لا قانونیت جیسے عفریت سے نبرد آزما ہیں۔ جو تعلیمی نظام ر یاست پاکستان کے تحت رائج ہے اس کے مطابق سکول ، کالج یا یو نیورسٹی میں قانون بطور لازمی مضمون پڑ ھا یا نہیں جاتا جبکہ مغربی طرز تعلیم جو کہ کا فی حد تک پاکستان کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کر چکا ہے کا ا گر موازنہ کیا جائے تو مشا ہدہ ہو تا ہے کے A-Level کے نصاب میں قانون کو بطور مضمون پڑ ھا یا جاتا ہے یہ امر پاکستانی قوم کے ساتھ نہ صرف امتیا زی سلوک ہے بلکہ قوم کے بچوں کا تعلیمی استحصال بھی ہے یہ استحصال نہ صرف قوم کے بچوں میں قانونی لا شعوری پیدا کرتا ہے بلکہ انہیں مختلف النوع جرائم، دہشتگردی ، شدت پسندی اور ریاستی و حکومتی بغاوت کی طرف راغب کرنے میں بھی کار فرما ہے۔ کوئی بھی جدید مہذب معا شرہ قانون کی بالادستی اور نفاذ کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا ۔ پاکستان کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر بہترین قوم کی تعمیر اور روشن مستقبل کے سفر کو ادھورے نصاب تعلیم کے ذریعے جاری ر کھنا قومی نقصان اور اجتماعی جہا لت کا پیش خیمہ ہے ۔ مضمون قانون نوجوان طالب علم کے اندر نہ صرف قانون ، قانون کی بالادستی کی سمجھ اور ریاستی امور کی انجام دہی کا علم دیتا ہے بلکہ ایک طالب علم کو اس کے بنیادی حقوق و فرائض کی آگاہی بھی ہوتی ہے ۔ نصاب تعلیم میں قانون کی تعلیم معاشرے کے اندر ایسے مہذب افراد کو جنم دیتی ہے جنہیں بنیادی قانون کا علم، حقوق و فرائض کی آ گا ہی ، قانونی ضوابط اور طریقہ کار کی سوجھ بوجھ ہوتی ہے۔ نہایت افسوس کے ساتھ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی مقننہ نے تاریخ کے اندر کبھی اس امر کو ناگزیر نہیں سمجھا کہ و ہ قوم کو تعلیمی نصاب کے ذریعے اس قابل بنائے کہ اس کے پید ا کرد ہ قوانین او ر ضوابط کا احترام کرتے ہوئے اس کی بجا آوری کر سکیں۔ پاکستان کے اندر رائج تعلیمی نصاب میں ہر بنیادی اور علمی مضمون پڑھا یا جاتا ہے ماسوائے مضمون قانون کے جو کہ سراسر قوم کا تعلیمی استحصال ہے کیونکہ تعلیم حاصل کرنا حق بھی ہے اور فرض بھی اس لیئے اگر ہم Law کے Subject ہیں تو Law بھی ہمارا Subject ہو نا چا ہئے۔ یہاں یہ کہنا ماورائے عقل نہ ہو گا کہ علم قانون ایک فرد کو ریاست کے اندر رائج حقوق و فرائض کا علم دیتا ہے۔ بنیادی قانون کی تعلیم نہ صرف ایک طالب علم کی ذہنی صلاحیت کو بڑھاتی ہے بلکہ دیگر انسان دوست اور سماجی علوم کی طرف رغبت پید اکرنے میں مدد کر تی ہے۔ تعلیم قانون ایک طالب علم کے لئے شعوری اعتبار سے ایسے دروازے کھولتی ہے جن سے وہ پہلے لاشعوری طو ر پر واقف حال نہیں ہوتا مضمون قانون طلباء کے اندر نہ صرف شعبہ وکالت اور عدلیہ کی رغبت پید ا کرتا ہے بلکہ حکمت عملی پر مبنی شعبہ ہا ئے زندگی مثلاً حکومت، بین الاقوامی ادارے، رضا کارانہ خدمات، کاروبار اور انسانی وسائل میں بھی خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے میں معاون و مددگار ہوتا ہے۔ آیئے ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم پاکستان کی موجودہ اور آنیوالی نسلوں کے تعلیمی استحصال کو روکیں گے اور پاکستان کے روشن مستقبل کے لیئے بہترین معمار پیدا کریں گے۔ الوکیل فاؤنڈیشن پاکستان کے تابناک مستقبل اور معاشرے کی بہترین فلاح و بہبود کی خاطر کوشاں ہے آیئے اس عظیم مقصد کے حصول کے لیئے حق کی آواز بنیں اور ہمارا ساتھ دیں۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
12 Jan, 2017 Total Views: 122 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Maqsood Ahmed


Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB