دہشت

(Gul Zaib Anjum, )

 زمانہ طالب علمی کی بات ہے جب ہمارا مقامی سکول صرف مڈل درجہ تک پڑہاتا تہا اور تو ہمیں نویں دسویں کے لیے چراغ حسن حسرت انٹر کالج کہوئی رٹہ جانا پڑتا تہا . گاڑیاں اور سڑکیں دونوں ہی برائے نام ہوا کرتی تھیں اور گاڑیوں میں بلکہ گاڑی میں (اس وقت صرف ایک بس ہی چلتی تہی جو طالب علموں کو ہاف ٹکٹ کی سہولت فراہم کرتی تہی ، باقی ایک دو چھوٹی گاڑیاں تہی جنہیں ویگن کہا جاتا تہا ویگن تیرہ سیٹ پاس ہوتی تہی اس لیے اس میں صرف ایک یا دو طلباء کو نصف کرائے کی سہولت میسر ہوتی تہی. اس لیے ہمیں وہ پسند نہیں تہی دوسرا اس کا ٹائم سکول ٹائم سے آگے پیچھے ہوتا تہا). سفر ہی شوقیہ کیا جاتا تہا جب کہ پیدل جانے والا سکول کیا اس سے بہی آگے تک پہنچ جاتا تہا تب جا کر بس سکول کے سامنے پہنچتی تہی. ہم جس بس میں جایا کرتے تھے اس کا نمبر غالباً 2171 تہا اور ویگنیں دو تہیں جن میں سے ایک کا نمبر 1107 تہا . ہم بس میں نشست سنبھالنے کے لیے اس وقت بیٹھ جاتے جب کنڈیکٹر پانی وغیرہ چیک کر ہوتا ہاتھ میں ایک ایک کتاب یا کاپی (نوٹ بک کو کاپی کہا جاتا تھا) پکڑے بالوں کو وحید مراد کے سٹائل پر سنوارتے بڑے اکڑ کر بیٹھے رہتے کہ ہم سٹوڈنٹ ہیں. کنڈیکٹر سے باعث و تکرار کرنا ہم اپنا اتنا ہی اہم سمجھتے تھے جتنا ہوم ورک,اور خاص کر اس وقت جب وہ خواتین یا عمر رسیدہ افراد کے لیے ہم سے نشست چہوڑنے کے لیے کہے. ان دنوں میں بس کے ساتھ جو کنڈیکٹر تہا وہ ہمارے اپنے محلے (سیری) کا ہی تہا یہ سعودی عرب جانے کے چکر میں تقریباً تین چار سال کراچی لگا آیا تہا بلکہ کراچی جانے سے پہلے لاہور بہی رہ چکا تہا اس لیے کراچی رہ کر آنے کے باوجود بہی پنجابی سے ملتی جلتی پہاڑی بولتا ویسے بھی پکے رنگ کا مالک تھا اس لیے تقریباً آدہے سٹوڈنٹ اس کو پنجابیا سمجھتے تہے . کہلے پوہنچوں والی شلواروں کا رواج اس وقت زوروں پر تہا اور اس کنڈیکٹر نے جتنا کپڑا باقی جوڑے پر لگا رکہا تہا اتنا ہی پوہنچوں پر لگوا رکہا تہا کبہی گہر والے دہو کر باہر دریک کے اوپر ڈالتے تو یہ تمیز نہیں ہو سکتی تھی کہ آزاربند کدہر ڈالا جاتا ہے یعنی نیفہ اور پوہنچا ایک ہی سائز کے تہے. ہمیں دو دن اس بس میں جاتے ہوئے تہے پورا رستہ ہم اس کا نام تخلیق کرنے کی کوشش کرتے اس کے رنگ روپ بالوں کا سٹائل بات سنتے ہوئے آنکھیں یوں کہول کر سننا کے کانوں کا کام بہی آنکھوں سے لے رہا ہے . آخر ہمارے گروپ میں نام تخلیق کاری کی چہ میگوئیاں شروع ہو گئی اب ہم آستہ آستہ ایک دوسرے سے کہتے کارڈ کڈی رکھ دہشت ہشنا پیا ای . تو بس یہ نام دہشت نے بہی سن لیا اور اب واقعی وہ ہماری زیادہ تو توتکار پر دہشت دکہانے بہی لگا تہا. کبہی تو وہ ہمیں خواتین اور بوڑہے لوگوں کے لیے سیٹ چہوڑنے کے لیے یوں درس دیتا جیسے ہم بس میں نہیں بلکہ علماء کی مجلس میں آ گئے ہیں. عورتوں کے لیے مستورات کا لفظ ہم نے اس سے اور بس میں لکہے ایک جملے "مستورات کا احترام کریں" اور چوہدری طیفے مندر والے سے سن تہا اس سے پہلے ہمیں یہ لفظ اپنی کسی کتاب سے نہیں ملا تہا، دہشت خاص کر اس سٹوڈنٹ کو جس کے پاس طالب علمی کا شناختی نامہ نہیں اس کو یوں قریب سے ہو کر دیکہتا کہ اب اس طالب علم کے پاس بولنے کی گنجائش ہی نہ رہتی اور فوراً بہیگی بلی بن کر آخری آہنی راڈ پکڑ کر کہڑا ہو جاتا یا پھر چہت پر چلا جاتا . لڑکیاں بہی اب اس کی دہشت سے خوب فائدہ اٹھانے لگی تہی بس سوار ہوتے ہی سیٹ پر بیٹھے لڑکے کو ایک بار اٹہنے کا اشارہ کرتی اور دوسری بار بڑی بے رخی سے کہتی اٹہسیں یا دساں پہائی دہشت کی.

دہشت کی کنڈیکٹری کا تیسرا چوتہا دن تہا جب ہمیں دہشت کی دہشت اور ہیبت کا اقرار کرنا پڑہا ہم سیری سے جانے والے تقریباً سات آٹھ لڑکے تہے بس کا دروازہ کہلتے ہی ہم درمیانی دو دو والی سیٹوں پر بیٹھ گئے اب ایک لڑکا اپنا سٹوڈنٹ کارڈ بہول آیا تہا اس لیے وہ کوشش کر کے کہڑکی کی طرف بیٹھ گیا. گاڑی نالا بان کو کراس کر کے ابہی سیدہی سڑک پر چڑہی ہی تہی کہ کنڈیکٹر دہشت نے اپنی شیریں زبان سے کہا ساریاں سواریاں اپنا اپنا کرایہ دیسو جی اور طالب علم نال اپنا اپنا کارڈ وی دسسو جی. ہائے میریا اللہ آج دہشت کو کارڈ چیک کرنے کییا ضرورت پڑی فوراً کہڑکی کی طرف بیٹھے لڑکے کے منہ سے نکلا . ہم سب کو پتہ تہا کہ یہ کارڈ بہول آیا ہے اس لیے جوں جوں دہشت کرایہ لیتے لیتے ہماری طرف بڑھ رہا تھا توں توں ہم ایک نظر دہشت پر مار کر اس لڑکے کی طرف دیکھتے ساتھ بیٹھے ہوئے لڑکے نے کہنی مارتے ہوئے کہا موٹی کتاب ہتہے وچ رکھ . آخر دہشت ہمارے سامنے اس ڈنڈے (آہنی راڈ) کے ساتھ پیٹھ لگا کر کہڑا ہو گیا جو ہم سے ایک دو سیٹ ہی دور تہا اور سٹوڈنٹس کی طرف کن آنکھوں سے دیکہتے ہوئے کہا ہاں جی بابو جی کرایہ دیسو جی ہم نے کرایہ نکال کر دیا جو بلکل حساب سے رکہا ہوا تہا وہ کرایہ پکڑتا اور اپنے ہونٹوں کو یوں ایک دوسرے سے ملا کر ایک چسکی سی لیتا اور ساتھ ہی سی کی آواز یوں نکالتا جیسے ابہی تیز مرچ والی کوئی چیز کہا کر آیا ہو، آنکھیں طالب علم کے چہرے پر یوں رکہتا جیسے کنڈیکٹری کے ساتھ ساتھ چہرہ شناسی بہی کر رہا ہو. ملک چراغ جی کے گہر کے سامنے ایک گڑہا تہا جہاں بہت ظالم جہنپ لگتا ہوتا تہا وہاں جب جہنپ لگا تو سی کر کے ڈرائیور کو متوجہ کرتے ہوئے کہا استاد جی ہولا ہتھ رکہسو انہوں نے بہی ہنس کر وہی لہجہ اپناتے ہوئے کہا اوتہے پیر ناں کم اے ہتھ 00 نا نہی. ہم سے کرایہ لیتے ہوئے اس نے صرف کرایہ ہی پکڑا کارڈ کا نہیں پوچہا تہوڑی تسلی ہمیں ہو گئی کہ کارڈ والی خالی گل ہی سی (خالی بات ہی تہی) لیکن ہماری تسلی اس وقت لسی بنتی محسوس ہوئی جب اس نے اسی لڑکے سے کہا بابو جی کارڈ وی شو(یہ ہم نے اسی سے سیکہا تہا کہ دکہانے کو شو show کہتے ہیں اور ہم اس شو کو تب بہت ہی استعمال کرتے تہے جب اگلی نشست پر صنف نازک برجمان ہوتی ). کرسو ہوں ہوں کی آواز یوں دفعتاً ہمارے منہ سے نکلی کہ ایک بار سب نے گردن گما کر پہلے ہماری طرف اور پہر اس لڑکے کی طرف دیکہا جو دائیں بائیں کی تمام جیبوں میں اس لیے ہاتھ مار رہا تہا کہ شاید کوئی سواری دہشت کو گاڑی روکنے کا کہے اور یہ دہشت میرے سر سے ٹل جائے لیکن پتہ چلتا تہا کہ آج درگوٹی کراس پر اترنے والی سواری ہے ہی کوئی نہیں. پہر بہی گاڑی رکی ایک دو سواریاں جوں ہی اندر آئی دہشت نے حسب معمول کہا ہگے ہگے (آگے آگے) ہوسو جی ، چلو جی جان دیو جی کہتے ہوئے لڑکے سے کہا بابو جی مکاسو کارڈ نہی اے تے پورا کرایہ دیسو پورے کا نام سن کر ہم سب ایک ہی زبان بولنے لگے آپ کو پتہ نہیں سٹوڈنٹ ہے ایک نے موٹی کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا دیکہا یہ اتنی موٹی کتاب نظر نہیں آتی گاڑی مچہی مارکیٹ بن گئی کچھ طالبات بہی یہ منظر دیکھ رہیں تہیں جن کی موجودگی میں اپنی تکرار کم کرنا یا ہار تسلیم کرنا ہماری زندگی موت کا سوال تہا. اب دہشت اس لڑکے کو ہاتھ کی دو انگلیاں دکہاتے ہوئے کہہ رہا تہا بابو جی میں صرف تساں کی دو آپشن دیساں جیڑا مرضی اے قبول کری کینو ایک انگلی پر دوسرے ہاتھ کی انگلی لگاتے ہوئے کہنے لگا نمبر اک اپنا شٹوڈنٹ کارڈ دسو نہ تے پورا کرایہ دیسو دوسری انگلی کو دکہاتے ہوئے نہی تے میں تلے لا دیساں ( نہیں تو نیچے اتار دوں گا ). اب دہشت کے آپشن ہمیں توہین آمیز محسوس ہونے لگے بلکہ ہمارے کہڑکی کی طرف بیہٹے ساتہی کو تو کچھ زیادہ ہی توہین محسوس ہوئی تو وہ کہڑا ہو گیا اس کے کہڑے ہوتے ہی ایک دو اور ساتہی بھی کہڑے ہو کر اپنی کتابیں اپنی سیٹ پر رکہتے ہوئے کہنے لگے تے ٹھیک اے فیر توہی پورا کرایہ دینے آں . دہشت جو پہلے ہی ان کے ارادے بہانپ چکا تہا بس پہل ہی کی انتظار میں تھا کہ کون کرتا ہے وہی ساتھی جس کا کارڈ نہیں تہا آگے بڑہا اور دہشت کو گریبان سے پکڑنے لگا بس جوں ہی اس نے ہاتھ آگے کیا زرد پیلی آنکھوں سے گور کر دیکہا اور کہا تے فیر اے گل اے، یہ کہتے ہی اس نے پہلے والے کو دبوچ لیا دوسرے دو بہی جوں ہی آگے ہوئے پہلی ہی ٹکر میں ان کو الٹے پاؤں آتے دیکہا دہشت نے تینوں کی وہ درگت بنائی کہ باقی کے سٹوڈنٹس خود بخود ہی شانت ہو گے . کچھ خواتین اور بڑے بیچ میں پڑ گئے اور دہشت کو غصے پر کنڑول کا کہنے لگے سانس لیتے ہوئے ایک خاتون کی طرف دیکہتے ہوئے کہنے لگا بووئ(باجی) حالاں تے میں غصے وچ آیا ہی نہی آں . چہوٹے چہوٹے ٹیمکوں والا مفلر سر کے ساتھ باندھ کر فلمی اداکار اقبال حسن کی طرح مسکراتے ہوئے دوسرے لوگوں سے کرایہ وصول کرنے لگا . ڈرائیور جو راجپوت قبیلے سے تہے جب انہوں نے دیکہا تینوں لڑکوں کو لہو نکل رہا ہے اور پہر ہیں بہی خاص سیری کے تو انہوں نے مصلحانہ لہجہ اپناتے ہوئے کہا یرا صابر ناں تہواڑا صابر اے پر صبر توہی ذرا وی نہی، اک دو روپے نی خاطر مونڈیاں نے نک دند پہنی شوڑے نی. ان کی بات سن کر کچھ لوگوں نے اور خاص کر ان لوگوں نے بہی گہوم کر دوبارہ دیکہا جن کی موجودگی میں ہمیں دوسرے کی بات زہر لگتی تھی.

گاڑی صابر باجگر کے گہر کے سامنے سے گزر کر اترائی میں پڑ چکی تہی اور ہم ندامت کے مارے بلکل ہی جہک چکے تھے اور بس ساتھ والے سے سر گوشی میں بات کر دیتے تہے جس کے ناک پر ٹکر لگنے سے خون نکلا تہا صاف نہ کرنے کے باعث وہی جم کر بڑی عجیب سی پینٹنگ ظاہر کر رہا تہا دوسرے کی آنکھ شاید مکا لگنے سے کچھ سرخ اور کچھ کالی ہو چکی تہی اور تیسرے مددگار کا اوپر کا ہونٹ یو سوج گیا تہا جیسے کبہی کبہی توے پر پتلی سی روٹی کو ہوا بہر جاتی ہے . لیکن یہ تہا کہ سب اپنی اپنی جگہ یوں بیٹھے تھے جیسے یہ نشستیں سیری سے ہی خالی آ رہی ہیں. ہم گردنیں نیچے کیے اگلے پروگرام کو تشکیل دے رہے تھے. بس گاڑی میں اب کوئی موضوع تہا تو صرف لڑائی کا ہی تہا کہ فلاں دن بہی ایک لڑائی ہوئی تہی اب وہ بات کہہ ہی رہے تہے اتنے میں دوسرے صاحب بول پڑے جی وہ لڑائی میں نے خود دیکہی ہے لیکن اس میں تو کالجیٹوں نے کنڈیکٹر اور ڈرائیور دونوں کو مار مار کر بے ہوش کر دیا تھا اتنے میں ایک خاتون سواری بولی لیکن اساں جیڑی تکی اے اسنے وچ کلینڈرے (کنڈیکٹر) کالجیٹاں نی چنگی بر( یعنی اٹہے ہوئے بال) بہالی شوڑی اے . خاتون کے الفاظ نشتر بن کر چبہے لیکن زیادہ غصہ اس پر آیا جس نے یہ بات چہیڑی تہی. اپنی قوت گویائی کو سمٹتے ہوئے ہم میں سے ایک لڑکا تہوڑا سیدہا ہو کر بیٹھا باہر کی طرف دیکھا تو کہوئیرٹہ شفاخانہ حیوانات والا موڑ بس مڑ رہی تھی اس نے لبوں کو زبان سے تر کرتے ہوئے کہا کم تو ہم بہی نہ کرتے صرف ہم ایک ان پڑھ کنڈیکٹر سے لڑ کر اپنی تعلیم کو جاہلیت میں بدلنا نہیں چاہتے یہ آگے تہانہ آ گیا ہے ہم تہانے جائیں گے آگے جانے قانون اور اس کا کام کس نے شاباش دیتے ہوئے کہا واہ یہ اچہی بات کہی ہے ایک پڑہے لکہے اور ان پڑھ میں اتنا فرق تو ہونا چاہیے لیکن وہ تعریف ریت کی دیوار لگی جب ایک گرل سٹوڈنٹ نے ماتہے پر بل ڈالتے ہوئے کہا اور کری وی کہہ سکنے سن . آہ ہا محترمہ کہ یہ بے سرا سا فقرہ آج بہی ہماری پیشانی پر عرق ندمت بہا دیتا ہے، ان کے اس فقرے کے کارن ہم تہانے کے سامنے اترنے کے بجائے بسم اللہ ہوٹل والے سٹاپ پر ہی اتر گے کہ کچھ اور سننے سہنے کا ہم میں اب یارا نہ تہا.

تہانے کی اترائی ہم اتر رہے تھے بس قریشی میڈیکل اسٹور سے آگے جا چکی تھی ہم نے بس والی خاموشی کو بڑے جتن کر کے توڑا کہ کچھ اور نہیں تہانے والوں کو تو پتہ چلے کہ سکولیے آ رہے ہیں. واقعی ہمارا شور کچھ سود مند ثابت ہوا کہ دو تین کانسٹیبلوں نے صدر دروازے سے جہانک کر دیکہا ہمارے پاس پہنچنے پر انہوں نے زخمیوں کو دیکہتے ہوئے پوچھا کیا ہوا ہے، ہم نے کیا ہوا کا جواب دینے کے بجائے پوچھا تھانیدار صاحب دفتر میں ہیں ہمارے مخاطب نے پہر پوچہا ہوا کیا ہے بات تو بتاو وہ شاید ہیڈ کانسٹیبل تہے اس لیے ہم سے پوچھ رہے تھے لیکن ایک بدتمیز سا کانسٹیبل ہمارے بولنے سے پہلے ہی کہنے لگا سر کسے کلینڈرے بر بہالی ہوسی. ہم نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا لیکن ہمیشہ کی طرح کچھ کہہ نہ سکے. خیر ہیڈ کانسٹیبل ہمیں اندر لے کر گے اور کہا تھانیدار صاحب آنے ہی والے ہیں اتنی دیر میں آپ لوگ ایک درخواست لکہو جس میں سارا معاملہ درج ہو . ابہی ہم اپنی گرائمر کے تحت درخواست لکھ ہی رہے تہے کہ تھانیدار صاحب بہی آگے ہیڈ کانسٹیبل کے سلوٹ کا ڈہیلا سے جواب دیا جیسے ڈرائیور لوگ ایک دوسرے کو سلوٹ کرتے ہیں اور پوچہا یہ کون ہیں اور کیا ہوا ہے کچھ ہم نے تو کچھ ہیڈ کانسٹیبل نے تفصیل بتائی تو پوچہنے لگے اسے کنڈیکٹر کا نام کیا ہے ہم سب کے منہ سے یک زبان نکلا دہشت انہوں نے استفہام فرماتے ہوئے کہا کیا اس کا نام دہشت ہے ہم نے کہا جی ہاں ہیڈ کانسٹیبل کہنے لگا سر نام کچھ اور ہو گا اب اس نے ان پر دہشت بٹہا دی ہے تو تب ان کو ہر سو دہشت ہی دکھائی دیتی ہے ہم نے دیتی کو دیتا میں بدلتے ہوئے کہا سر وہ مرد ہے تھانیدار صاحب کہنے لگے ہاں ہاں یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں وہ تو کام سے ہی لگتا ہے (اس فقرے کی ہمیں بہت بعد سمجھ آئی کہ انہوں نے کیا کہا تھا ). کہنے لگے ادہر نام بہی لکہو اور دو کانسٹیبل کو کہا اڈے میں جاو اور اس دہشت کو لے آو جس نے لڑکوں کا یہ حشر کیا ہے اور اب اس کی ساری دہشت ہم نکالتے ہیں. کانسٹیبلوں کی واپسی تک ہمیں دہشت کا اصلی نام یاد نہیں آیا حالانکہ ایک بار استاد (ڈرائیور) ہوراں نام لے کر کہا بہی تہا کہ یرا صابر ناں تے تہواڑا صابر اے پر صبر ذرا وی نہی اے، اسی اثنا میں کانسٹیبل دہشت کو لے کر آ گے پہلے معائنہ تو ہیڈ کانسٹیبل نے کیا پہر تھانیدار صاحب سے مخاطب ہو کہنے لگے سر دہشت آ گیا ہے تھانیدار صاحب نے سر اٹھا کر دیکہا تو خلاف معمول ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی لیکن پہر فوراً ہی سنبہل کر پوچہنے لگے کہہ ناں اے تہواڑا دہشت نے سر جکہائے ہی آنکھیں یوں اوپر کی کہ آدہی کالی دہاری پیوٹوں کے اندر چلی گئی اور باقی آدہی پیلی اور کالی سامنے رہ گئی سیاہ کالے ہونٹوں پر سفیدی سی چڑہی ہوئی تھی جس کو زبان سے تہوڑی تری بخشی اور جواب دیا جی جی مہاڑا ناں صابر اے ، فیر توہی دہشت کیاں آخنے ہس ، سر پتہ نہی، جواب دیتے ہوئے دہشت بہی مسکرا گیا.

اب دہشت کو دہشت کہنا بہی کوئی اتنا نازیبا نہ تہا بلکہ اس کی وجہ تسمیہ آپ یوں جان لیں کے قد بت کے لحاظ سے وہ درمیانی قد کا مالک تھا رنگ قدرتی طور پر کالا تہا اور ایسا کالا جسے کسی ملک کے آب و ہوا بدل نہ سکے بال جوانی سے ہی کچھ سفید تہے جن کو وہ حنا لگا کر سرخ کر دیتا تہا کثرت سگریٹ نوشی سے آنکھیں جہاں سے سفید ہوتی ہیں وہاں سے گاڑہی زرد تہیں ہونٹ کچھ پہلے ہی کالے تہے لیکن چائے اور سگریٹوں نے رہتی کسر بہی نکال دی تہی لیکن اتفاق کی بات کہ دانتوں کی ہڈی بہت ہی چمکدار تہی بس تھوڑاسا مسواک بہی کر لینے سے دانت چمک جاتے تھے زبان یوں تو سفیدی مائل تہی لیکن آخروٹ کا داتن ہمہ وقت منہ میں رکہنے سے سرخ رہتی تھی. شیو کے بعد آفٹرشیو کی جگہ سرسوں کا تیل لگانا اس کی عادت تھی یا مجبوری مجبوری اس لیے کہ اگر تیل نہ لگاتا تو سفید دہبے دہبے جو سردیوں میں نہانے سے اکثر پڑ جاتے ہیں وہ اسے گرمیوں میں بھی پڑے رہتے تھے جن کو ختم کرنے کے لیے تیل مجبوری بن گیا تہا لیکن تیل جہاں دہبے چہپا دیتا وہ چمک ایسی چہوڑتا کے اس دیکھ کر خود بخود ہی ہنسی آ جاتی پہلے پہل گلابی یا بوسکی کلر کی قمیض اور وائیٹ شلوار پہنتا تھا لیکن شادی کے بعد بس سفید رنگ کو مستقل بنا لیا گہنے بال اور وہ بہی آدہی مانگ کے ساتھ پیچھے کی طرف کنگہی کیے ہوئے تیل اور بنا تیل کے ایک ہی طرح کے نظر آتے آب اس کی اس میچنگ سے جو تاثرات ظاہر ہوتے تھے ان سے بس دہشت آتی تہی اوپر سے ہونٹوں کو دو تین بار ایک دوسرے سے یوں مسلنا کہ نیچے والے ہونٹ کی اندر والی سرخی نظر آنے لگتی مخاطب پر آنکھوں کو فوکس کر کے یوں ہی چہوٹا بڑا کرنا جیسے فوٹو گرافر فوٹو لینے سے پہلے ایک دو قدم آگے اور ایک دو قدم پیچھے چلتا ہے گلے کے بٹن سردی گرمی میں کہلے رہتے کالے سیاہ سینے کا درشن ہر کسی کو بن مانگے مل جاتا بس یہی کچھ وہ عوامل تہے جن کی بنا پر محمد صابر سے دہشت بن گیا .

تھانیدار صاحب نے اس جھگڑے کو بس معمول کا جھگڑا کہہ کر صلع کراتے ہوئے کہا یرا دہشت اے روز تہاواڑے نال ہشنے جانے ہس تے آخر بندہ پیشاہنی کینا اے. ہم کو بہی آئندہ اچھا معمار قوم بننے کا ایک روایتی سا درس دیا جو زخمی تہے ان سے دہشت کو ہاتھ ملانے کا کہا ہمارے طالب علم ہونے سے تھانیدار صاحب کا لیکچر آسان ہوتا گیا جہاں کبہی لفظ کم پڑہتے وہاں ہماری کتابوں کی طرف اشارہ کر کے کہنا شروع کر دیتے اے خاں تساں وچ تے اک کنڈیکٹر نی بول چال وچ فرق ہونا چاہی نا ..... بس یوں یوں کچھ یوں کہہ کر ہمیں اتنا بڑا بنا دیا کہ اب اپنا بڑا پن ظاہر کرنے کے لیے ہمیں پین کلر بہی اپنے پیسوں کی لینی پڑی.

بعد میں ہمارا دہشت سے دو تین ہفتے ہی آمنا سامنا ہوا جس دن ہم نے گاڑی کے ساتھ سلو گلو دیکہا تو اس دن ہم سب نے ایک دوسرے کی طرف استفہامیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا آج دہشت ہور ...... اتنی دیر میں سلو بول پڑا جی او سعودیہ چلے گے ہیں سلو کے جواب پر ہم نے کیا شکر کرنا تہا کہ طالبات کی نشستوں سے ایک طنزیہ انداز میں آواز آئی شکر اے اڑیا ہن بے چارے سٹوڈنٹ کہلی تے ساہ تے کینسن .
اس لڑائی کے بعد ہم نے کبہی نہیں سنا صابر (دہشت) کی کسی سے لڑائی ہوئی ہو ہمارا نہ صرف محلے دار بلکہ پڑوسی رہا اچھی زبان کا استعمال ہر چہوٹے بڑے کے لیے یکساں رہا کبہی محلے یا بازار میں بنا کسی کام کہ نہیں گیا زیادہ عرصہ سعودیہ رہا وہی بیمار ہوا گہر آیا علاج کروایا ڈاکٹروں نے حلق کے ساتھ ایک سیٹی نما آلہ لگا دیا جس کو دبا کر بات کرنی پڑتی . علاج کے دوران ہی سوچ آئی کہ تمام جمع پونجی تو اب علاج کی نظر ہو جائے گی . اس لیے ہسپتال سے آتے ہی دو بیٹیوں کی شادی کر ڈالی کہ شاید میرے بعد میری بیوہ یہ بوجھ نہ برداش کر سکے . بچیوں کی شادی کے بعد ایسا محسوس ہوتا کہ وہ خود کو بہت ہلکا محسوس کر رہا ہو . صرف نماز جمعہ کے لیے ہی مسجد آتا لیکن نہایت صاف ستھرے لباس میں سر پر سفید پرنہ علماء کے طرز پر رکہتا گلے کی تکلیف کے باعث بہت کم بات کرتا بس سب نمازیوں کو یوں دیکہتا جیسے آخر بار دیکھ کر سب کے چہرے ازبر کر رہا ہے .

کیا عجیب اس کی دہشت تہی کہ عیادت کو جانے والا بہی کہتا دہشت جی کہہ حال اے. یہ دہشت اس کی اتنی زد عام ہوئی کہ ان کی زوجہ اور بچیاں بھی ان کا نام دہشت ہی سمجنہے لگی ایک بار ان کی اہلیہ سے پوچہا یہ دوائیاں کس لیے تو کہنے لگی دہشت ہوراں نیاں . ہڑوس پڑوس محلہ براداری سبہی بس اسی نام سے جاننے لگے یہاں تک کہ صابر نام کی کس کو یاد ہی نہیں رہی ایک بار ان کی والدہ محترمہ ایک بچی کو اٹہائے مسجد کی دیوار کے پاس سے گزر رہی تھیں پوچہا بےجی اے کڑی کسنی اے کہنے لگیں دہشت نی . آخری آیام میں تکلیف عروج پر پہنچ گئی بہرا بہرا چہرا یوں مرجہا گیا کہ ہونٹوں کے اندر سے چٹے سفید دیکہائی دینے والے دانت ہونٹوں کے اوپر دکہائی دینے لگے تب بہی ہر کوئی دہشت ہی کہتا رہا یہ دہشت جو چار دن کی کنڈیکٹری کے دوران ملی تھی پہر ختم نہ ہو پائی .

حالیہ رمضان المبارک میں میری ملاقات ہر روز بعد نماز عصر مسجد سے ملحقہ قبرستان میں ہوتی رہی لیکن بات بہت کم ہوئی وہ وقت گزاری کے لیے ایک بکری جو تقریباً آدھی بھینس کے برابر تہی اس کو چراتا اور میں پدر گرامی کی تربت پر حاضری کی غرض سے جاتا دونوں ایک دوسرے کو دیکہتے کبہی وہ سلامانہ انداز میں گردن یا ہاتھ ہلا دیتا یا میں پہل کر دیتا. بس ایک ہی دن اس نے بکری کے چوری ہو جانے کی مختصر سی کہانی سنائی لیکن اس کا بات کرنے کے لیے بار بار گلے میں لگے آلے کو دبانا بڑا تکلیف دہ لگ رہا تھا اس لیے میں نے اسے مذید نہیں کریدا بس آئندہ خیال رکہنے کا کہہ کر میں گہر چلا گیا.
نصیب کا لکہا سمیٹنے میں پردیس آ گیا سال کے اس آخری مہینے کے دوسرے عشرے میں رات کے آخری پہر میں فیس بک پر وقت پاس کر رہا تھا کہ ندیم ملک نے صبح ساڑھے تین بجے ایک مختصر سی تحریر پوسٹ کی جس کا عنوان تہا سیری والے بہائی دہشت وفات پا گے ہیں.

نہایت ملنسار جس میں عجز و انکساری کوٹ کوٹ کر بھری تہی ہر کسی سے خندہ پیشانی سے ملنے والا یوں دہشت کے لقب سے مشہور رہا کہ قبر تک دہشت ہی رہا ممکن ہے کہ کتبہ لگانے والا محمد صابر لکہوا کر قوسین میں لکہوا دے _______ دہشت
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
29 Dec, 2016 Total Views: 429 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Gulzaib Anjum

Read More Articles by Gulzaib Anjum: 52 Articles with 15025 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
وہی آپ کا مخصوص انداز -- اور میرا وہی کہنا کہ مکمل کئے بنا چھوڑنے کو دل نہین چاہا --- کچھ مقامات پر سمجھنے میں دشواری آئی -- اگر بریکٹ میں اردو ترجمہ بھی لکھ دیتے تو اچھا تھا -
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Aug, 05 2017
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB