ایران کی دوغلی پالیسی یا پراپیگنڈا ؟

(Qadir Khan, Lahore)

سوئٹزرلینڈ میں قریباََ 3لاکھ دس ہزار مسلمان آباد ہیں جو کہ 160مساجد یا سینیٹر نمازوں کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن باقاعدہ مسجد کے طور پر سارے ملک میں صرف 3مساجد ہیں۔کچھ عرصہ پہلے سوئٹزرلینڈ میں ایک ریفرنڈم کرایا تھا جس میں حصہ لینے والی اکثریت نے ملک میں میناروں پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ 2007میں اس معاملے کا آغاز ہوا جب مختلف مسلمان تنظیموں نے سوئٹزر لینڈ میں مختلف شہروں میں میناروں کی تعمیر کی اجازت مانگی نیز سارے یورپ کے مسلمانوں کیلئے ’برن‘ شہر میں ایک عالیشان سینٹر بنانے کا منصوبہ پیش کیا ۔سوئس عوام کے سامنے یہ منصوبے آئے تو انھوں نے ملکی قانون کے مطابق ایک لاکھ افراد کی دستخطی مہم کرکے ریفرنڈم کرایا اور میناروں پر قانون سازی کرکے پابندی عائد کرادی۔اسی طرح جرمنی کے شہر ’ارفورٹ‘ میں پہلی مسجد کی تعمیر پر شدت پسندوں نے ردعمل ظاہر کیا ۔اسرائیلی پارلیمنٹ ’ کنیسٹ ‘ میں ایک نیا مسودہ قانون لایا گیا جس میں 1948کی جنگ میں قبضے لئے گئے علاقوں کی تمام مساجد میں اذان پر پابندی کا نفاذ عمل میں لانا ہے۔ابھی یورپ میں مساجد اور اذان پر غیر مسلم ممالک کی جانب سے احتجاج اور پابندی کی خبروں کو پڑھ رہا تھا کہ ایک مسلم ملک کہلانے والی حکومت کی جانب سے حیران کن خبر سامنے آئی کہ ایرانی حکومت نے اہل سنت و الجماعت کی مشہد شہر میں قائم اکلوتی مسجد بند کردی ہے ۔ایرانی پولیس نے مشہد شہر میں 13سال پہلے بنائی گئی جامع مسجد سلمان فارسی پر چھاپہ مارااور مسجد کی تالا بندی کرکے مقامی شہریوں کو نماز باجماعت سے محروم کردیا۔ایرانی سنی عالم دین کا کہنا تھا کہ حکومت ملک میں مساجد کی تعمیر پر نہ صرف پابندیاں عائد کئے ہوئے ہے بلکہ اہل سنت مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو نماز کیلئے کوئی جگہ مختص کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ علامہ کنانی کا کہنا تھا کہ مشہد میں بیس سال قبل ایرانی حکومت نے وہاں کی سب سے بڑی جامع مسجد شہید کردی تھی جس کے بعد مسلمانوں کو وہاں نئی مسجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ یاد رہے کہ مشہد شہر کے اطراف میں اہل سنت کے50ہزار افراد آباد ہیں۔جنھوں نے نماز کیلئے50چھوٹے چھوٹے ہال مختص کر رکھے ہیں انہیں الگ سے مسجد بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ایران کے مشہور صحافی اورمصنف بھمن نیرومند کے مطابق ایرانی آئین تو سنیوں کو برابر کی آزادی فراہم کرتا ہے اور ایرانی وزارت خارجہ بھی یہی کہتی ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ، ’ عملی طور پر ایران میں سنی اقلیت کیساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے ‘۔اعداد و شمار کے مطابق ایران میں سنی عقیدے والوں کی مساجد کی تعداد 10 ہزار بنتی ہے جبکہ شیعہ عقیدے والوں کی مساجد تقریباََ 70 ہزار ہے ۔انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا اپنی 2015کی سالانہ رپورٹ میں ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ’ دارلحکومت تہران میں کسی بھی سنی مسجد کی تعمیر پر عملاََپابندی ہے جو کہ مذہبی آزادیوں کے برخلاف ہے‘۔فرانسیسی ٹیلی وژن فرانس24نے حال ہی میں ایک رپورٹ نشر کی ہے جس میں بتایا گیا کہ’ سنیوں کو مساجد کے بجائے کمروں میں نماز کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے‘۔ایران میں سنی مسلک کے سرکردہ رہنما اور زہدان شہر کی جامع مکی کے پیش امام الشیخ عبدالحمید الزھی نے بڑے شہروں میں سنی مسلمانوں پر اپنے گھروں میں بھی نماز جمعہ ادا کرنے کرنے پر بھی پابندی پر افسوس کا اظہار کیا تھا، انہوں نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ’ سنی مسلمانوں کو اپنے دینی مدرسے اور ادارے تعمیر کرنے سے روکنا حکومت کے شایان شان نہیں‘۔جبکہ ایرانی ذرائع نے ان تمام اطلاعات کی تردید کی ہے کہ ایرانی آئین کہتا ہے کہ ’ اگر کسی علاقے میں اہل تشیع کی اکثریت ہے تو وہاں اہلسنت پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ شیعہ امام کے پیچھے نماز پڑھیں اور اگر کسی علاقے میں اہلسنت کی اکثریت ہے تو وہاں اہل تشیع پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ اہلسنت امام کے پیچھے نماز ادا کریں ۔ایرانی ذرائع کا کہنا ہے ایران میں مساجد کی کل تعداد70ہزار ہے۔ان میں سے10ہزار مساجد اہلسنت و الجماعت کے پاس ہیں جس میں اہلسنت ائمہ امامت کرتے ہیں۔یعنی ایرانی ذرائع کے مطابق ہر500سو اہلسنت کیلئے اوسطاََ ایک مسجد موجود ہے ، جبکہ ہر110 اہل تشیع کیلئے اوسطاََ ایک مسجد ہے۔ایرانی آئین کہتا ہے کہ کوئی مسجد شیعہ اور کوئی مسجد سنی نہیں ہوتی بلکہ تمام مساجد فقط اﷲ کا گھر ہیں ۔ایرانی آئین میں سرکاری مذہب شیعہ ہے لیکن سنیوں کے اربعہ مذاہب کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔کالم میں دونوں موقف سامنے رکھ دیئے ہیں تاکہ آپ کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو ۔ دراصل مسلم دشمن قوتیں اسلام میں تفرقوں کی بنیاد پر نسل در نسل نفرت کی پرور ش کرتی ہیں ۔ مغرب کا’ا سلام فوبیا‘ تو سمجھ آتا ہے ۔لیکن اسلام کے نام لیواؤں کے درمیان اتنا فاصلہ کیوں ہے کہ عالمی مغربی میڈیا کو پروپیگنڈا کا موقع مل جاتا ہے ۔ بلا شبہ مساجد اﷲ کا گھر ہیں لیکن بد قسمتی سے اﷲ کے گھر کو مسالک ، مذاہب کے نام پر اس طرح تقسیم کردیا ہے کہ مسلمان کہلانے والے’ اپنی اپنی مساجد‘ میں نماز ادا کرتے ہیں ۔ ہم مغرب میں مساجد کی روک تھام پر احتجاج تو کرتے ہیں لیکن اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے کہ ہمارے اپنے مذہبی عقائد کیا ہیں ، ہم نے خود کو بریلیوں ، دیوبندی ، اہل حدیث ، پنچ پیری ، وہابی ، سلفی ،شیعہ ، سات امامی ، بارہ امامی ، آغا خانی ، بوہری سمیت نہ جانے کتنے حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ہم نے ایک دوسرے پر کفر کے فتوی لگانے میں اور فرقوں کے نام پر قتل و غارت کو جنت کا حصول کا ذریعہ سمجھا ہوا ہے ۔ایران کو بھی یہی سوچنا ہوگا کہ اگر مشہد کی واحد جامع مسجد کو واقعتاََ بند کیا جاتا ہے اور ذرائع ابلاغ میں اس کا چرچا ، جیسے ایران پروپیگنڈا قرار دیتا ہے ،ہوتا ہے ۔تو عالمی میڈیا کے نمائندوں ، خاص طور پر اُس میڈیا کو بالخصوص دعوت دے کہ آئیں آپ خود دیکھیں کہ آپ نے جو رپورٹ جاری کی ہے وہ حقائق کے منافی ہے ۔ تہران میں اگر ایسا واقعہ ہے تو بین الاقوامی میڈیا کو سرکاری طور پر مدعو کرکے انھیں آزادنہ رپورٹنگ کی اجازت دیں کہ تہران میں سنی مسلک سمیت کسی بھی مذہب پر کوئی قدغن نہیں ہے۔لیکن جب انسانی حقوق کی عالمی تنظیم، یورپ ، سینٹرل ایشیاا ور مشرقی وسطی کا میڈیا ایران سرکاری موقف کے برخلاف رپورٹنگ کرکے حقائق سامنے لاتا ہے تو ایران اسے مسلم امہ کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کوشش و سازش قرار دیتا ہے ۔ایران شائد بھول گیا ہے کہ اب یہ1978کی دہائی نہیں ہے بلکہ21 ویں صدی کا دور ہے ۔اب پوری دنیا ایک ہتھیلی میں سمٹ گئی ہے۔یہاں حقائق کو زیادہ دیر تک مخفی نہیں رکھا جاسکتا ۔اس سے پہلے کوئی حقیقت آشکارہ کرے ، آپ خود ہی اس سے قبل ، جیسے آپ’ سازش‘ قرار دے رہے ہیں ، اس کا سدباب کردیں ۔لیکن عراق اور شام میں ایران کا کیا کردار ہے ، یمن میں سعودی مخالفت میں کتنا آگے بڑھ چکا ہے ۔ پاکستان میں ایران کی مداخلت اور بھائی چارے کی جو فضا متاثر ہوئی ہے اسے کیا نام دیں گے کہ جب ایران کا آئین کہتا ہے کہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے تو پھر ایران کے آئین میں لکھی دوسری شقوں کو خوبصورت الفاظ قرار دیکر زبان میں کچھ اور دل میں کچھ اور کہنا ہوگا۔اسلام کسی انسان یا کسی مسلک کی میراث نہیں ہے کہ جیسے بزور طاقت کسی پر بھی نافذ کردے گا ۔ اسلام تو امن و سلامتی ، پیار اور بھائی چارے کا دین ہے جس میں ایثار و قربانی اور حقوق انسانی کی پابندی لازم قرار دی گئی ہے۔دوسرے مذاہب کا احترام پہلی ترجیح ہے۔اس لئے جو فرقہ وارنہ نفرتیں ہیں وہ اسلام کی نہیں انسان کی پیدا کردہ ہیں۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
08 Jun, 2016 Total Views: 247 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 447 Articles with 94548 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Ittefaq se hum sunni hen or meray waldain 2001 me iran bhi gaey kion k Ahl e BAIT ki muhubbat se Dil o Daman bheega hua hay. jo kuch unhon ne mujhay bataya wo bayan kar deti hon.

Meray waldain ne bataya k yahan jo kuch Iran k baray me kaha or bataya jata hay us may se taqreeban 80%, 90% jhot hay. Iran me Sunni masajid bhi hen or wahan jamat k sath namaz ki adaaegi bhi hoti hay. Haan itna zaror hay k wahan kisi dosray mazhab par tanqeedi Taqreer karnay ki mumaniat hay chahay wo shia he kion na ho. Meri walda batati hen k may ne dekha k Iran me SHIA Masjid me Sunni bhi bari befikri se Namaz ada kartay hen or Shia bhi Sunni Masjid me Namaz ada kartay hen kisi ko koi dar ya khof nahi hota. Sunni bhi Ziarton par jatay hen bina kisi khof ya dar k. Jab k Pakistan me aaj Shia kisi Sunni Masjid me Namaz parhta nazar nahi aata kion k khof itna hay or Kufr k fatway itnay lag chukay hen Qatal itnay ho chukay hen. Islami Jamhori Pakistan ki ye haalat hay or Islami Jamhori Iran ki ye haalat hay k Shia Government honay k bawajod bhi sunni sukon or itmenaan se khush o khurram zindagi guzar raha hay.

Ab jab se SAUDIA ne apnay yahan Shion par pabandian lagai hen, Masjidon par taalay lagaey hen, Shion par zindagi tang kar di hay, Shia masjidon par Saudia me Bomb Blasts huey hen or Shion ko Saudia se Nikala ja raha hay tu yaqeenan Iran me kuch tu tabdeeli aaey gi.

Guzarish sirf itni si hay k jab bhi kuch likhen tu pehlay achi tarah samajh len or jaan lia Karen.
By: Shamsa, Karachi on Sep, 08 2016
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB