اسلام اور خانقاہی نظام,20

(imran shahzad, mandi bahauddin)

گر کوئی شخص مزاروں'خانقاہوں کا سفر کرتا ہے تو وہ ہمارے بیان کردہ واقعات کے ایک ایک حرف کو سچ پائے گا۔
"مسلمانوں کے مذہبی مسالک"
(قسط نمبر 20)
گناہوں سے توبہ کا طریق کار:
قرآن مجید میں ہے:
وَلَوْ اَنَّـهُـمْ اِذ ظَّلَمُوٓا اَنْفُسَهُـمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّـٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَـهُـمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّـٰهَ تَوَّابًا رَّحِيْمًا
"ایسا کیوں نہیں ہوا کہ جب انہوں نے اپنی جان پر ظلم کیا تو وہ آپ کے پاس آتے اور اللہ سے مغفرت کی دعا کرتے۔ پھر رسول بھی ان کے لیے مغفرت کی دعا کر دیتے تو وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان پاتے۔ (النساء4:64)
مفتی صاحب کا استدلال یہ ہے کہ توبہ کا طریقہ یہی ہے کہ استغفار کیا جائے اور رسول ﷺ سے مغفرت کی دعا کروائی جائے۔ اب اگر آپ حاضر و ناظر اور ہمارے حالات سے واقف نہ ہو تو آپ کیسے یہ دعا فرمائیں گے اور ہماری توبہ کیسے قبول ہو گی؟
اگر اس سے مراد آپ کی قبر پر حاضر ہو کر مغفرت کی دعا کی درخواست کرنا لیا جائے تو یہ تو ہر مسلمان کے لیے ممکن ہی نہیں ہے۔ سلفی حضرات کا کہنا یہ ہے کہ اس آیت کا سیاق و سباق گواہی دیتا ہے کہ یہاں ایک مخصوص معاملہ زیر بحث ہے اور وہ ہے بعض منافقین کا طرز عمل۔ اس آیت سے پچھلی آیات میں منافقین اور ان کی قلبی بیماری کا ذکر ہے۔ متعدد احادیث سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے کہ بعض منافقین نے رسول اللہ ﷺ کی بجائے اپنے مقدمات کو کعب بن اشرف اور دیگر کفار کے پاس لے جانا شروع کر دیا تھا۔ جس پر انہیں تنبیہ کی گئی ہے۔ اس سے حاضر و ناظر کا ثبوت قطعی نہیں نکلتا ہے۔
آیت کریمہ کا سیاق و سباق یہ ہے:
فَكَـيْفَ اِذَآ اَصَابَتْـهُـمْ مُّصِيْبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْـهِـمْ ثُـمَّ جَآءُوْكَ يَحْلِفُوْنَ بِاللّـٰهِ اِنْ اَرَدْنَـآ اِلَّآ اِحْسَانًا وَّتَوْفِيْقًا 62
اُولٰٓئِكَ الَّـذِيْنَ يَعْلَمُ اللّـٰهُ مَا فِىْ قُلُوْبِـهِـمْۖ فَاَعْـرِضْ عَنْـهُـمْ وَعِظْهُـمْ وَقُلْ لَّـهُـمْ فِىٓ اَنْفُسِهِـمْ قَوْلًا بَلِيْغًا 63
وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللّـٰهِ ۚ وَلَوْ اَنَّـهُـمْ اِذ ظَّلَمُوٓا اَنْفُسَهُـمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّـٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَـهُـمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّـٰهَ تَوَّابًا رَّحِيْمًا64
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ حَتّـٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَـهُـمْ ثُـمَّ لَا يَجِدُوْا فِىٓ اَنْفُسِهِـمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا 65
وَلَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْـهِـمْ اَنِ اقْتُلُـوٓا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَـعَلُوْهُ اِلَّا قَلِيْلٌ مِّنْـهُـمْ ۖ وَلَوْ اَنَّـهُـمْ فَـعَلُوْا مَا يُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَيْـرًا لَّـهُـمْ وَاَشَدَّ تَـثْبِيْتًا 66
وَاِذًا لَّاٰتَيْنَاهُـمْ مِّنْ لَّـدُنَّـآ اَجْرًا عَظِيْمًا 67
پھر کیسے (معذرت خواہ) ہوتے ہیں جب ان کے اپنے ہاتھوں سے لائی ہوئی مصیبت ان پر آتی ہے پھر آپ کے پاس آ کر اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمیں تو سوائے بھلائی اور باہمی موافقت کے اور کوئی غرض نہ تھی۔
یہ وہ لوگ ہیں اللہ جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے، پس آپ انہیں نظر انداز کریں اور انہیں نصیحت کریں اور ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر جائے۔
اور ہم نے کبھی کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسی واسطے کہ اللہ کے حکم سے اس کی تابعداری کی جائے، اور جب انہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے پھر اللہ سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کی معافی کی درخواست کرتا تو یقیناً‌ یہ اللہ کو بخشنے والا رحم کرنے والا پاتے۔
سو تیرے رب کی قسم ہے یہ کبھی مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ اپنے اختلافات میں آپ کو منصف نہ مان لیں پھر آپ کے فیصلہ پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور خوشی سے قبول کریں۔
اور اگر ہم ان پر حکم کرتے کہ اپنی جانوں کو ہلاک کر دو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو ان میں سے بہت ہی کم آدمی اس پر عمل کرتے، اور اگر یہ لوگ وہ کریں جو ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو یہ ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتا اور (دین میں) زیادہ ثابت رکھنے والا ہوتا۔
اور اس وقت البتہ ہم ان کو اپنے ہاں سے بڑا ثواب دیتے۔
سلفی حضرات کا کہنا یہ ہے کہ آیت کریمہ کے سیاق و سباق سے واضح ہے کہ یہاں زیر بحث عہد رسالت کے منافقین کا معاملہ ہے، نہ کہ قیامت تک کے مسلمانوں کا۔
سنی بریلوی عالم علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی تفسیر "بتیان القرآن" میں اس آیت کے تحت بعض علمائے دیوبند کی عبارتیں نقل کی ہیں جس کے مطابق اس آیت کا حکم اب بھی باقی ہے اور رسول اللہ ﷺ کے روضہ انور پر حاضر ہو کر آپ سے مغفرت کی دعا کی درخواست کی جاسکتی ہے۔ عام طور پر سنی بریلوی اور سنی دیوبندی حضرات اسی کے قائل ہیں۔
نبی ﷺ کی اولیت
قرآن مجید میں ہے:
اَلنَّبِىُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِـمْ ۖ
"نبی اہل ایمان سے ان کی جان سے زیادہ قریب ہیں۔"(الاحزاب:6)
مفتی نعیمی صاحب اس آیت میں قربت سے مراد جسمانی قربت لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نبی ﷺ ہر مسلمان سے اس کی جان سے بھی زیادہ قریب ہیں، جس سے آپ کا حاضر و ناظر ہونا ثابت ہوتا ہے۔
سلفی(اہلحدیث) حضرات کے نزدیک یہاں قربت سے مراد جسمانی قربت نہیں بلکہ وابستگی اور حق کی قربت ہے۔ نبی کریم ﷺ اہل ایمان کے لیے ان کی جان سے زیادہ حق رکھتے ہیں اور انہیں اپنی جان سے زیادہ آپ سے وابستہ ہونا چاہیے۔
قبر میں رسول اللہ ﷺ کی آمد:
مفتی نعیمی صاحب نے اپنے نقطہ نظر کے حق میں یہ حدیث پیش کی ہے:
حدثنا عیاش: حدثنا عبد الا علی: حدثنا سید قال لی خلیفۃ: حدثنا ابن زریع: حدثنا سعید، عن قتادۃ، عن انس رضی اللہ عنہ، عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم قال: العبد اذا وضع فی قبرہ وتولی وذھب اصحابہ، حتی انہ لیسمع قرع تعالھم، اتاہ ملکان فاقعداہم فیقولان لہ: ماکنت تقول فی ھذا الرجل محمد صلی اللہ علیہ و سلم؟ فیقول: اشھد انہ عبد اللہ ورسولہ، فیقال: انظر الی مقعدک فی النار، ابدلک اللہ بہ مقعدا من الجنۃ۔ قال النبی صلی اللہ علیہ و سلم: (فیراھما جمیعا، واما الکافر، او المنافق: فیقول: لا ادری کنت اقول ما یقول الناس فیقال: لا دریت ولا تلیت ثم یضرب بمطرقۃ من حدید ضربۃ اذنیہ، فیصیح صیحۃ یسمعھا من یلیہ الا الثقلین۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جب بندے کو اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔ دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھاتے ہیں، پھر اس سے کہتے ہیں: تم اس شخص محمد ﷺ کے بارے میں کیا جانتے ہو؟ وہ کہتا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔اسے کہا جاتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: وہ ان دونوں کو دیکھتا ہے۔ رہا کافر اور منافق تو وہ سوال کے جواب میں کہتا ہے: مجھے معلوم نہیں میں تو وہی کہتا تھا جو دوسرے لوگ کہتے تھے اس سے کہا جاتا ہے کہ نہ تم نے جاننے کی کوشش کی اور نا جاننے والوں کی پیروی کی۔ پھر اسے لوہے کے گرز سے کانوں کے درمیان مارا جاتا ہے تو وہ ایسے چیختا ہے کہ اس کی آواز کو جنات اور انسانوں کے علاوہ سب سنتے ہیں (بخاری کتاب الجنائز حدیث 1273)
مفتی صاحب شارحین کے حوالے سے کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں سوال کرتے وقت آپ کی صورت مبارکہ میت کو دکھائی جاتی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ قبروں میں حاضر و ناظر ہیں۔

فریق مخالف(سلفی)کا کہنا یہ ہے کہ اس سے آپ کا حاضر و ناظر ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ اول تو وہ احادیث ہی محل نظر ہیں جن میں آپ کی صورت مبارکہ کا دکھانا بیان ہوا ہے۔ اوپر بیان کردہ بخاری کی حدیث میں بھی ایسا کچھ بیان نہیں ہوا۔ اگر انہیں صحیح مان بھی لیا جائے تو اس کی متعدد صورتیں ممکن ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کی صورت مبارکہ کو اللہ تعالی کی کسی قدرت کے تحت دکھا دیا جائے۔ ضروری نہیں کہ آپ بنفس نفیس خود ہر مردے کی قبر میں تشریف لے جائیں۔اور نہ ہی ایسی کوئی حدیث ملتی ہے کہ جس میں آپﷺنے فرمایا ہو کہ میں بنفس نفیس ہر قبر میں تشریف لے جاتا ہوں-
جاری ہے...
مجموعہ هذا میں شامل ہونے کیلئے
0096176390670
مستورات کیلئے علیحدہ مجموعہ موجود ہے
تعان فاطمہ اسلامک سنٹر
مصنف:حافظ مبشر نذیر صاحب'نگران:آن لائن سٹڈی پروگرام
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
27 May, 2016 Total Views: 148 Print Article Print
NEXT 
About the Author: imran shahzad

Read More Articles by imran shahzad: 42 Articles with 7257 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB