وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ (پردہ اور بناؤسنگھار)

(syed imaad ul deen, samundri)


وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى وَاَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيْنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور قدیم جاہلیت کی طرح اپنے بنائو سنگھارکی نمائش نہ کرنا‘ اور نماز پڑھتی رہو اور زکوۃ دیتی رہو اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرتی رہو‘ اے رسول کے گھر والو ! اللہ صرف یہ ارادہ فرماتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی نجاست کو دور رکھے اور تم کو خوب ستھرا اور پاکیزہ رکھے اور تمہارے گھروں میں جو اللہ کی آیتوں اور حکمت کی باتوں کی تلاوت کی جاتی ہے‘ ان کو یاد کرتی رہو‘ بے شک اللہ ہر باریکی کو جاننے والا ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے (الاحزابٖ: ٣٤۔ ٣٣)

اس آیت میں ایک لفظ ہے وقرن، قرار سے بنا ہے‘اس کا معنی ہے: کہ اپنے گھروں میں سکونت پذیر رہو اور بغیر شرعی ضرورت کے گھروں سے باہر نہ نکلو، اور کسی مسلمان عورت کے لیے شرعی ضرورت کے بغیر گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے۔ عورت کا دائرۂ عمل امور سیاست اور جہاں بانی نہیں ، نیز معاشی جھمیلے بھی ان کے دائرۂ عمل سے خارج ہیں، بلکہ گھروں میں چہاردیواری کے اندر رہ کر امور خانہ داری انجام دینا عورتوں کا دائرۂعمل ہے

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ عورت سراپا چھپانے کی چیز (واجب الستر) ہے‘ جب عورت گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کو تکتا رہتا ہے۔ (سنن الترمذی رقمالحدیث : ١١٧٣‘ صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ١٦٨٥‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥٥٩٨‘ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٠١١٥‘ الکامل لابن عدی ج ٣ ص ١٢٥٩ )

حضرت ابو موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آنکھ زانیہ ہے اور جب عورت معطرہو کر کسی مجلس سے گزرتی ہے تو وہ زانیہ ہوتی ہے۔
(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٧٨٦‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤١٧٣‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٥١٤١‘ مسند احمد ج ٤ ص ٣٩٤‘ مسند البز اررقم الحدیث : ١٥٥١‘ صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ١٦٨١‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٤٢٤‘ المستدرک ج ٢ ص ٣٩٦‘ سنن کبری ج ٣ ص ٢٤٦ )

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عورتوں کے اس بنائو سنگھار کو دیکھ لیتے جو اب عورتوں نے ایجاد کرلیا ہے تو ان کو (مساجد میں نماز پڑھنے سے) اس طرح منع فرمادیتے جس طرح بنو اسرائیل کی عورتوں کو مساجد میں نماز پڑھنےسے منع کردیا گیا تھا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٤٥‘ صحیح البخاری رقم الحدیث : ٨٦٩‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥٦٩ )

حضرت ام حمید (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمارے شوہر ہم کو آپ کے ساتھ نماز پڑھنے سے منع کرتے ہیں‘ او ہم آپ کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتی ہیں‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارا گھروں میں نماز پڑھنا بیرونی کمروں میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور تمہارا بیرونی کمروں میں نماز پڑھنا حویلیوں میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور تمہارا حویلیوں میں نماز پڑھنا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔
(المعجم الکبیر ج ٢٥ ص ١٤٨‘ صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ١٦٨٩‘ السنن الکبری للبیھقی ج ٣ ص ١٣٣۔ ١٣٢)

حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورتوں کی سب بہتر نماز وہ ہے جو ان کے گھروں کے اندرونی حصہ میں ہو۔
(مسند احمد ج ٦ ص ٢٩٧‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٧٢٠٥‘ صحیح ابن خریمہ رقم الحدیث : ١٦٨٣‘ المستدرک ج ١ ص ٢٠٩)
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
17 Apr, 2016 Total Views: 218 Print Article Print
NEXT 
About the Author: syed imaad ul deen

Read More Articles by syed imaad ul deen: 139 Articles with 65974 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB