این جی اوز فلاحی یا ۔۔۔ادارے

(Naghma Habib, Peshawar)

خیر اور فلاح اسلام کے ابدی اصول ہیں۔ نماز کو بھی خیر و فلاح قرار دیا یعنی اپنی ذات اور معاشرے کی خیر و فلاح۔ زکٰوۃ کو صاحب حیثیت مسلمانوں پر فرض قرار دیا گیا تاکہ وہ اپنے مال میں غریب کا حصہ اسکا حق سمجھے نہ کہ رعایت۔ صدقہ و خیرات کو بہترین درجہ دیا کیونکہ اسلام معاشرے کے ہر فرد کو دوسرے فرد سے جوڑتا ہے۔ اور ہر ایک کی مدد کا حکم دیتا ہے اور یہ مدد اس طرح کہ لینے والا شرمندہ نہ ہو کہ دائیں ہاتھ کی خبر بائیں ہاتھ کو نہ ہو۔ معاشرتی بھلائی کے کاموں کو بھی نمود و نمائش نہیں بلکہ بھلائی اور خیر کے نکتہ نظر سے ہونا چاہیے لیکن آجکل خیر، خیرات، بھلائی اور معاشرتی تعمیر سب کچھ کمرشلائز کر دیا گیا ہے۔ فلاحی کام کسی ادارے یا تنظیم کے تحت کرنا فلاح کو زیادہ منظم بنا دیتا ہے لیکن آجکل دوسرے میدانوں کی طرح یہاں بھی نمود ونمائش نے جگہ لے لی ہے بلکہ اس کام کو دوسرے کی مدد کی بجائے اپنی مالی حالت مزید سے مزید نکھارنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ این جی اوز کے نام پر ایک طوفان بدتمیزی برپا ہے ترقی یافتہ ملکوں نے ترقی پذیر اور غریب ممالک پر کنٹرول کا ایک نیا طریقہ اس صورت میں نکالا ہے اور اپنے این جی اوز کی شاخیں ان ممالک میں کھول کر ان کے متعلق بلکہ ان کے خلاف رپورٹیں شائع کر کے ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان بھی ان دنوں این جی اوز کی لپیٹ میں ہے اور حکومتی رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ سے زائد این جی اوز یہاں قائم ہیں۔ دراصل پاکستان میں اولین این جی اوز کی ابتدا اسوقت ہوئی جب اپنے قیام کے بعد اسے لاکھوں مہاجرین کو سنبھالنا پڑا بہت سے خیراتی ادارے وجود میں آئے زیادہ تر بیگمات نے یہ کام کیا۔ ١٩٨٠کی دہائی میں رفاہ عامہ کے لیے کچھ اور ادارے اور این جی اوز بنائے گئے جن میں کچھ ملکی اور کچھ غیر ملکی تھے اور ١٩٨٠ کی دہائی کچھ اور غیر ملکی این جی اوز افغان مہاجرین کی آڑ لیکر آئے اور کچھ غیر جماعتی بنیادوں پر منتخب نمائندوں نے فنڈز کے حصول کے لیے بنائے اسی طرح ١٩٩٠ کی دہائی میں فنڈز کے لیے سندھ اور پنجاب میں بے تحاشا این جی اوز بنائے گئے۔

ملکی این جی اوز کی تو پھر کوئی منطق پیش کی جا سکتی ہے لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ انکا خلوص بھی شک و شبہ سے بالا تر نہیں۔ دس، پندرہ یا بیس افراد پر مشتمل این جی او فلاح و بہبود کا کام کتنا کر سکتے ہیں اور فنڈ کتنا حاصل کرتے ہیں۔ کیا کبھی کسی حکومت نے ان کا آڈٹ کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے۔ اور کیا کسی چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی موجود ہے یا بغیر کسی قانون یا قانون موجود ہوتے ہوئے بھی بلا ضرورت اور بلا تحقیق این جی اوز کو رجسٹر کیا جا رہا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ٤٥٠٠٠ این جی اوز رجسٹرڈ ہیں لیکن اصل تعداد اب بھی معلوم نہیں حالانکہ یہ وہ زمانہ نہیں جب گنتی اور شمار بہت مشکل کام ہو ہمارے انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار این جی اوز بنانا ہی انسانیت کی معراج سمجھتے ہیں اور پھر کسی فرد کے عمل کو پوری قوم پر منطبق کر کے اسے بدنام کرتے ہیں کشمیر سنگھ کی رہائی پر نام کماتے لیکن پورے کشمیر کے جل جانے پر خاموش رہتے ہیں۔ وہ اس خاموشی اور اس واویلے کی کتنی قیمت وصول کرتے ہیں عوام تو ظاہر ہے اس کا جواب نہیں جانتی کیا حکومت بھی بے خبر ہے؟

اب ذرا آئیے غیر ملکی این جی اوز کی بات کرتے ہیں جو خورو جھاڑیوں کی طرح ملک بھر میں اگی ہوئی ہیں کچھ قابل فہم اور کچھ ناقابل فہم ناموں سے گلی کوچوں میں موجود ہیں۔ کیا ایسا ہے کہ ان دور دراز کے ملکوں کے رہنے والے متعصب گوروں کو ہم سے انتہائی ہمدردی ہے اور وہ ہماری خدمت کرنے کے لیے ہمارے یہاں آئے ہیں۔ یقیناً ایسا ہرگز نہیں ہے ورنہ یہ این جی اوز ہمارے ملک کے خلاف لا یعنی قسم کے الزامات نہ لگاتے اصل میں یہ آئے ہی اس کام کے لیے ہیں ورنہ وہ اپنے ملکوں میں بھی یہ خدمت کر سکتے ہیں کیونکہ مسائل وہاں بھی ہیں چاہے وہ ہم سے مختلف ہوں لیکن اپنے مسائل اجاگر کرنے میں ظاہر ہیں خامیاں بھی نظر آئیں گی اور فنڈز بھی اس طرح نہیں مل سکتے جس طرح ترقی پذیر ملکوں کی خدمت کے نام پر ہتھیائے جاتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان ملکوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل کو اچھال کر اپنی موجودگی کا جواز بھی پیدا کیا جاتا ہے اور پھر ان مسائل کے حل کے نام پر بڑے بڑے فنڈز حاصل کر لیے جاتے ہیں۔ پوش علاقوں میں انتہائی زیادہ کرائے، اپنے کارندوں اور ملازمین کو بڑی بڑی تنخواہیں آخر یہ سب کیسے ممکن ہے ظاہر ہے اس سب کچھ سے زیادہ وہ اپنے لیے رکھ لیتے ہیں اور بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے لیے کوشش کے نام پر ملک کی بدنامی اور بہت کچھ بھی۔

سوال یہ ہے کہ آخر ہماری حکومت یہ سب کچھ کرنے کی اجازت کیسے دے دیتی ہے۔ ایک این جی او کی ہی مثال لیجیئےEOPM یعنی یورپین آرگنائزیشن آف پاکستانی مائناریٹیز کے نام سے کام کرنے والی این جی او نے پاکستان کو اقلیتوں کے لیے سب سے خطرناک ملک قرار دیا اور ساتھ ہی یہ کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کی تعداد ٥ فی صد ہے لیکن حکومت جان بوجھ کر انہیں کم بتاتی ہیں اس این جی او کی گمراہ کن رپورٹ میں بھی کہا گیا کہ عیسائی، ہندو، قادیانی اور دوسری اقلیتوں کی عورتوں کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے یعنی صرف پاکستان کی بدنامی کی کوشش ورنہ پاکستان کا آج کا آزاد میڈیا سب سے پہلے خبر پہنچانے کے شوق میں ہی ایسی خبریں نشر کر دے۔ پھر توہین رسالت کے قانون کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اور اس پر اعتراض کرتے ہوئے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے کسی محمد یوسف کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا ہے یعنی مذہبی معاملات میں مداخلت۔ کیا ہماری حکومت اس اور اس جیسی دوسری این جی اوز سے جواب طلبی نہ کر کے مجرم نہیں بن رہی۔

ہمارے حساس ادارے بھی یوں لگتا ہے کہ اس فرض سے پہلوتہی کر رہے ہیں کیا پاکستان اور پاکستانیوں کے مسائل پہلے کم ہیں جو انہیں مزید بدنام کیا جارہا ہے دراصل مغرب نے اسلام کا بالعموم اور پاکستان کا بالخصوص محاصرہ کیا ہوا ہے لیکن قصور ہمارا بھی ہے جب گھر والے گھر میں مداخلت کی اجازت دیں تو دشمن تو ہر وقت تیار رہتا ہے ان کے جاسوس ادارے تو ہمہ وقت اپنے کام میں مصروف ہیں لیکن چوکنا تو ہمیں رہنا ہوگا جسطرح افواج پاکستان کی مدد سے گھوسٹ سکولوں کا پتہ چلایا گیا تھا کیا ایسے ہی اصل فلاحی اداروں، فنڈز کے حصول کے لیے قائم شدہ جعلی این جی اوز اور بدامنی اور بدنامی پھیلانے والے جاسوس این جی اوز جو کھلم کھلا اور درپردہ پاکستان دشمنی کر رہے ہیں کا پتہ نہیں چلایا جا سکتا تاکہ مجبوراً نوکریوں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے نوجوان ان کے جھانسے میں نہ آسکیں بلکہ ملک مخالف پروپیگنڈا کرنے والے این جی اوز کو نہ صرف بین کیا جائے بلکہ اندرونی معاملات میں مداخلت پر انکے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔ میڈیا سے میری گزارش ہے کہ جسطرح وہ سرکاری اداروں میں کرپشن کو عوام کے سامنے لاتا ہے اسی طرح این جی اوز کا کردار اور انکے فنڈز کا حساب کتاب بھی عوام کو بتائے اور یہ بھی کہ پچاس ساٹھ لوگوں کی مدد کرنے کے لیے تقریب منعقد کر کے اسکا بل لاکھوں کے حساب سے کیسے لے لیا جاتا ہے حکومت اسطرف ضرور توجہ دے ورنہ ایسا نہ ہو کہ یہ ٹڈی دل پوری فصل کی تباہی کا باعث بن جائے۔
Email
Rate it:
Share Comments Post Comments
03 Jun, 2010 Total Views: 3025 Print Article Print
NEXT 
About the Author: Naghma Habib

Read More Articles by Naghma Habib: 413 Articles with 206188 views »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Reviews & Comments
یہ سوچنا کہ غیر ملکی این جی اوز کی نیندیں ہماری وجہ سے اڑی ہوئی ہیں اور وہ ہماری خدمت کے لیے ہی اس دنیا میں جی رہے ہیں ایک دھوکہ ہے انہی این جی اوز میں خدمتگاروں کے روپ میں ہمارے دشمن ہمارے گھر میں بیٹھے اپنی حکومت کے لئے خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور ہم اُن کے ممنون ہو رہے ہیں یہی لوگ بڑی آسانی سے ہمارے لوگوں کو خریدتے ہیں اور انہیں ہمارے خلاف ہی استعمال کر لیتے ہیں اور اِن لوگوں کی غربت امریکہ کے لیے ایسا کرنے میں آسانی مہیا کر دیتی ہے
By: Naghma Habib, Peshawar on Jun, 19 2011
Reply Reply
0 Like
پا کستان میں فساد کی جڑ یہی غیر ملکی این جی اوز ہی ہے ۔ ہر شہر ہر گاؤں اور ہر محلے میں ان لوگوں نے دفاتر کھولے ہوئے ہیں ۔ کیا ان کے اپنے اپنے ممالک میں غریب لوگ نہیں ہیں ۔ ان میں سے کافی سارے را , سی آئی اے اور موساد کے ایجنٹ ہیں اسی لیے امریکی کہہ رہیں کہ انہوں نے پاکستان میں اپنا جاسوسی نیٹ ورک قائم کر دیا ہے اور اب پاکستانی اداروں کی مدد کی ضرورت نہیں ہے
By: Abdul Saboor, Peshawar on May, 08 2011
Reply Reply
0 Like
Different NGOs are registered under at least three different laws in Pakistan which is the main problem in auditing and monitoring. There is a need to bring NGOs under a single law.
By: arshed rafiq, lahore on Dec, 24 2010
Reply Reply
1 Like
Most foreign NGOs are really more of a menace than blessing. If we can organise our society's philanthropists, we may not need these NGOs here at all.
By: Humayun, Islamabad on Oct, 23 2010
Reply Reply
0 Like
غیر ملکی این جی اوز ہمارے ملک کی دشمن اور ملکی این جی اوز صرف کھانے پینے کا چکر اور حرام کاروبار ہے۔ خدا را اپنے صدقات اور زکواۃ وغیرہ براہ راست غریبوں کو دیجیے۔
By: Dr. Shafiq, Peshawar on Oct, 21 2010
Reply Reply
0 Like
این جی اوز کے بارے میں وزیراعظم کا بیان بھی اس مضمون کی طرح حقیقت پر مبنی ہے لیکن کیا ہمارے ملک کا جمہوری وزیر اعظم اتنا کمزور ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ان این جی اوز کے خلاف کچھ بھی نہیں کر سکتا جو لوگ فارن فنڈڈ این جی اوز کے گُن گا رہے ہیں وہ بھی انہی این جی اوز سے کسی نہ کسی شکل میں فوائد حاصل کر رہے ہیں یہ فارن فنڈڈ این جی اوز ہمارے لیے نہیں بلکہ اپنے غیر ملکی آقائوں کے لیے کام کر رہے ہیں اور ہمارے ملک میں معاشی ، سماجی اور ثقافتی بگاڑ کا باعث بن سکتے ہیں
By: Habib Ullah Khan, Peshawar on Aug, 29 2010
Reply Reply
0 Like
good article...i liked it very much
By: Ahmeduddin , karachi on Aug, 29 2010
Reply Reply
0 Like
Foreign Funded NGOs are not worried for us, they have their own aim and objectives. Why should they spend their money on us? this is the point to think about. They are paying handsome salarier to their workers and probably think t hat they will be able to purchase their loyalities. Government of Pakistan must have a close watch on their activities and subject all NGOs to audit like other institutions. "A Very Good and Thought Provoking Article"
By: Shaheer Ullah Khan, Islamabad on Aug, 16 2010
Reply Reply
0 Like
آپ نے ٹھیک لکھا ہے یہ بیرونی پیسوں سے چلنے والی این جی اوز ہماری وجہ سے نہ پریشان ہیں اور نہ ہی ہمارے غم میں پتلے ہو رہے ہیں۔ ان کا ایجنڈا ان لوگوں کی ہدایات پر عمل کرنا ہے جو ان کو فنڈز دیتے ہیں۔ یہ امیر ممالک نے غریب اور ترقی پذیر ممالک کو کنٹرول کرنے اور ان کے اندرونی معاملات میں غیر ضروری دخل اندازی کا نیا طریقہ بنایا ہے۔
By: Abdullah Khan, Islamabad on Jul, 07 2010
Reply Reply
0 Like
مجھے آپ کے خیالات سے مکمل اتفاق ہے۔ حکومتی اداروں کو چاہیے کہ کسی بھی این ۔ جی ۔او کو رجسٹرڈ کرنے سے پہلے اس کے مقاصد اور دائرہ کار پر نظر رکھیں۔ اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ادارے کو بند کر دین۔
By: muhammad javaid raja, gujarkhan distt.rawalpindi on Jun, 08 2010
Reply Reply
0 Like
جناب صرف آڈٹ نہیں انکی سرگرمیوں پر بھی سخت نظر رکھنے کی ضرورت ہے ورنہ ایسی ہی بہت سی جھوٹی داستانیں اٹھا کر ملک میں غیر ملکی مداخلت کے جواز بناتی رہیں گی۔
انکا مقصد اپنے بیرونی آقاؤں کے ایجنڈے کو پورا کرنا ہوتا ہے وقت تقاضہ کر رہا ہے کہ غیر ملکی دوست نماں زہریلے ممالک سے جان چھڑا کر اپنی آئیندہ نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنائیں
By: Mehmood Khan, Karachi on Jun, 04 2010
Reply Reply
0 Like
نغمہ حبیب صاحبہ السلام علیکم آپ نے بہت حساس موضوع پر قلم اٹھایا ہے اور حقیقت یہی ہے کہ گنتی کے چند اداروں کو چھوڑ کر این جی اوز کی اکثریت غیر ملکی امداد پر چلتی ہیں اور ان اداروں کی سرپرستی کرنے والے ممالک یا ادارے اس امداد کے عوض اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے این جی اوز کو استعمال کرتے ہیں۔ زیادہ پرانی بات نہیں ہے کہ ثمر من اللہ صآحبہ جو کہ ایک معروف این جی او کے کرتا دھرتاؤں میں شامل ہیں دو سال قبل انہوں نے ایک جعلی ویڈیو کے ذریعے ملک میں ایک انتشار برپا کیا اور اسی ویڈیو کے نتیجےمیں لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، ہزاروں اپنی جان سے گئے اور ملک و اسلام کا نام الگ بدنام ہوا، ملک کی سب سے بڑی رفاہی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے کردار پر بھی انگلیاں اٹھتی رہی ہیں۔ جبکہ صوبہ سندھ میں تھر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں بھارتی امداد سے کئی این جی اوز کام کر رہی ہیں اور وہ نوجوان لڑکیوں کو اپنے جام میں پھنسا کر اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ہی این جی اوز کے حسابات کا آڈٹ ہو اور یہ دیکھا جائے کہ ان کو امداد کہاں سے ملتی ہے
By: Saleem Ullah Shaikh, Karachi on Jun, 04 2010
Reply Reply
0 Like
Post your Comments Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
MORE ON ARTICLES
MORE ON HAMARIWEB