Hamaeiweb.com
 
Urdu keyboard
کیا فرماتے ہیں علماء”آئین“ بیچ اس مسئلے کے؟
(Mudassar Faizi, Lahore)

گزشتہ روز ہمارے ملک کے ایک بیرون ملک مقیم ”بہت بڑے لیڈر“ الطاف حسین نے ملک کے آئینی ماہرین کو ایک چیلنج کیا ہے کہ وہ موصوف سے آئین کے آرٹیکل 6 پر مناظرہ کرلیں۔ اگر وہ ہار گئے تو وہ آئینی ماہرین کے مؤقف کو مان لیں گے اور اگر بحث کے بعد آئینی ماہرین ہار گئے تو وہ آرٹیکل 6 پر عوام کو گمراہ کرنا چھوڑ دیں اور صحیح بات عوام کو بتانا شروع کردیں۔ الطاف حسین صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ وہ مناظرے کے لئے پاکستان آئیں گے یا آئینی ماہرین کو وہاں جانا پڑے گا، انہوں نے اپنے ٹیلیفونک خطاب میں یہ بھی بتانا مناسب نہیں سمجھا کہ وہ اکیلے ہی مناظرہ کریں گے یا اپنی معاونت کے لئے کسی اور کو بھی مقرر کریں گے نیز ایسی بھی کوئی بات سامنے نہیں آئی کہ مقابلہ کسی ایک آئینی ماہر سے ہوگا یا مخالف سمت سے بھی ماہرین ہوسکتے ہیں؟ اگر ایم کیو ایم یا موجودہ متحدہ قومی موومنٹ کا سابقہ ریکارڈ سامنے رکھا جائے تو بہت عرصہ پہلے ایک مناظرے کا سنا ہوا حال سامنے آنے لگتا ہے۔

ہوا یوں کہ ایک بہت بڑے عالم دین تھے جن کو کسی نے مناظرے کا چیلنج کردیا، بات ہوئی اور وقت اور مقام طے کرلیا گیا۔ مقررہ وقت پر وہ عالم دین اور ان کے مخالف پہنچ گئے۔ عالم دین بہت ساری کتابیں بھی ہمراہ لائے تھے تاکہ حوالے کے طور پر پیش کیا جائے۔ جب انہوں نے فریق مخالف سے استفسار کیا کہ کیا وہ بھی اپنے دلائل کے حق میں کوئی کتاب وغیرہ لے کر آئے ہیں تو جواب ندارد، چنانچہ دوبارہ اگلے دن کا وقت مقرر ہوگیا۔ اگلے دن عالم دین دوبارہ اپنی کتابوں کے ساتھ پہنچ گئے اور فریق مخالف بھی آگیا۔ انہوں نے کتابوں کا پوچھا تو اس بار جواب ہاں میں تھا۔ مناظرہ شروع ہوا تو عالم دین کو پہلے بات کرنے کا موقع دیا گیا۔ انہوں نے اپنے دلائل پیش کئے اور حوالے کے طور پر کتابیں بھی۔ جب فریق مخالف کی باری آئی تو انہوں نے دلائل دیے لیکن جب ان سے کسی کتاب کے حوالے کی بات کی گئی تو انہوں نے کپڑے میں لپیٹی ہوئی کوئی چیز جس کو کتاب ہی سمجھا گیا تھا عالم دین کے سینے پر دے مارا۔ اسی طرح عالم دین بار بار حوالہ مانگتا رہا اور فریق مخالف کپڑے میں لپٹی چیزیں ان کی طرف پھینکتا رہا کہ ”یہ لو حوالہ“، اصل میں اس نے کپڑے میں اینٹوں کو لپیٹ رکھا تھا۔ جب عالم دین نے 15/20 کپڑے میں لپٹی اینٹیں بطور ”حوالہ“ اپنے سینے پر کھائیں اور مزید کی تاب نہ رہی تو وہ سٹیج سے نیچے اتر آیا اور فریق مخالف نے شور مچا دیا کہ وہ جیت گیا ہے اور عالم دین ہار گیا ہے۔ مناظرے کا نتیجہ یہ نکلا کہ مجمع میں ہر طرف ”حوالے“ اڑتے نظر آئے اور عوام کے شور و غل میں مناظرہ بغیر کسی فیصلہ کے ختم کرنا پڑا!

اگر کوئی ماہر قانون و آئین جناب الطاف حسین کا چیلنج قبول کرنا چاہے تو اسے کپڑے میں لپٹی ہوئی اینٹوں کا ضرور خیال رکھنا چاہئے بلکہ اب تو اینٹوں کی کوئی ضرورت ہی نہیں اب تو حجم میں اینٹوں سے بہت چھوٹی چیزیں میسر ہیں جن پر کپڑا چڑھانے کی بھی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔ ماہرین آئین تو ویسے بھی ان ”چھوٹی چھوٹی“ چیزوں سے دور ہی رہتے ہیں اور اپنے دلائل کو ہی سب کچھ سمجھ لیتے ہیں جبکہ فریق مخالف اگر ہر قسم کی اشیاء سے ”لیس“ہو تو یقیناً ان سے کوئی بھی ماہر آئین ”پنگا“ لینے کی جرات رندانہ کا مظاہرہ نہیں کرسکتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کوئی ایسا شخص جو ملک سے باہر بیٹھ کر سیاست کررہا ہو اور ایک آمر کی وکالت کررہا ہو وہ کیسے کسی ماہر آئین سے مناظرہ کرے گا؟ کیا آئین کا آرٹیکل6 واضح نہیں ہے کہ جس پر کسی قسم کے مناظرے کی ضرورت محسوس ہو؟ کیا آئین اور قانون کو تھوڑا بہت سمجھنے والا شخص بھی آرٹیکل 6 کی روح کو اتنا مسخ کرسکتا ہے جتنا آج کل پاکستان میں کیا جارہا ہے؟ جب پوری قوم کا متفقہ مطالبہ ہے کہ آمر کا ٹرائل کیا جائے تو کیا اسے بچانے کی کوششیں کرنے والے قوم کی آنکھوں سے اوجھل ہیں اور کیا ابھی بھی پارلیمنٹ میں کسی متفقہ قرار داد کی ضرورت ہے؟ اگر کوئی شخص اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر اپنے آپ سے یہ سوال پوچھے تو جواب یقیناً نفی میں ہوگا۔ رہ گیا سوال کہ اس سے پہلے والے آمروں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا جائے اور ان آمروں کا ساتھ دینے والوں کو بھی آرٹیکل 6 میں لایا جائے تو میں یہ بات ان کے گوش گزار کروں گا کہ اس سے پہلے جتنے آمر آئے انہوں نے اپنے غیر آئینی اقدامات کو پارلیمنٹ سے بھی تحفظ دلایا اور اس وقت کی عدلیہ سے بھی۔ لیکن جو اقدامات 3 نومبر 2007 کو ایک آمر نے کئے تھے ان کو نہ تو پارلیمنٹ تحفظ دے سکی ہے نہ ہی عدلیہ! اور ایسا کیوں ہوا؟ صرف اور صرف اس لئے کہ اب اس ملک کے عوام ساری چالاکیوں اور چالاکوں کو سمجھ چکے ہیں۔ اب وہ دوبارہ اسی سوراخ سے ڈسے جانے کیلئے ہرگز تیار نہیں۔ جیسا کہ میں پہلے بھی اپنے کالم میں ذکر کرچکا ہوں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قوم کو اس مسئلہ پر بھی سڑکوں پر نکلنا ہوگا، موجودہ آمر کو سزا دلوانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ قوم کو پارلیمنٹ اور عدلیہ کو یہ باور کرانا ہوگا کہ اب بہت ہوچکا، اگر مستقبل میں کسی آمر کی چیرہ دستیوں سے اس قوم اور ملک کو بچانا ہے تو ہمیں اب فیصلہ کر لینا چاہئے کہ وہ آمر جس نے اس ملک کو ایک بیوہ کو روپ دینے کی کوشش کی، یتیم کا مال سمجھ کر لوٹا کھسوٹا اور غیروں کی کہنے پر یہاں کے بے کس اور لاچار عوام کو 9 سال تک ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا، آئین پامال کیا اسے کسی صورت معافی نہیں ملنی چاہئے۔ اگر زرداری اینڈ کمپنی مشرف کو معافی دینا چاہتے ہیں تو صرف اپنی طرف سے دے سکتے ہیں قوم کی طرف سے نہیں۔ لال مسجد کی شہید ہونیوالی بیٹیاں کیا کسی کی کچھ نہیں لگتیں، عافیہ صدیقی سے کسی کا رشتہ نہیں، گمشدہ افراد کے لئے کوئی تڑپ اور سسک نہیں رہا، اکبر بگٹی کا اس قوم پر کوئی حق نہیں؟ زرداری، بلاول اور گیلانی اگر معاف کر بھی دیں تو انہوں نے بہت کچھ وصول کرلیا ہوا ہے، متاثرہ لوگ کیوں معاف کریں اور وہ بھی ایسے شخص کو جو معافی مانگنے پر تیار بھی نہیں اور اپنے ظلم پر شرمندہ بھی نہیں؟ الطاف حسین اور اسی طرح کے دوسرے لوگوں سے پوری قوم کا سوال ہے کہ ”کیا فرماتے ہیں علماء”آئین“ بیچ اس مسئلے کے؟
Rate it:
Total Views: 53
About the Author: Mudassar Faizi

Visit 206 Other Articles by Mudassar Faizi »

Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
Share Comments Share Comments
Email to a Friend
Print Article Print Article
Read Article in Image
Reviews & Comments Reviews & Comments
bhaee loago app Altaf hussain ki bat man bhi lein manazra pakistan mein ho ya london mein jeetna unho nay hi ha kayoun k jub kisi nay app ki bat manni hi nahi toa jeet ussi ki honi ha,wasay bhi mujay un pay tras aata ha pakistan ki 3rd bari party kay qaid hein lakin badnasibi dekhein k apnay mulak nahi aa saktay,ab toa PML nay open offer ki ha har kisam ki security ki ab toa aa jaein apnay awam mein reh kar sayasat karein
By: A.Razzaq, karachi on Aug, 29 2009
ReplyReply to this Comment
محترم فرقان بھائی! سلام مسنون!! بھیا آپ سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی ایسی باتیں کرتے ہیں جن کو سن کر ہم تو لاجواب ہوجاتے ہیں۔ بھائی صاحب مناظرے کا چیلنج وہ دے جسے اس بارے میں کوئی علم بھی ہو، صرف علامہ کہہ دینے سے کوئی عالم و فاضل تو نہیں بن جاتا نا،
By: Mudassar Faizi, Lahore on Aug, 25 2009
ReplyReply to this Comment
محترم سلیم اللہ شیخ صاحب! و علیکم السلام! بھائی آپ کی بات بالکل بجا ہے کہ مشرف کے ٹرائل کے مخالفین وہی لوگ ہیں جو اس قوم کو ہمیشہ کنفیوزڈ رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ اگر قوم کو صحیح بات کی سمجھ آگئی تو ان کی دکانیں بند ہوجائیں گی۔ بالکل ٹھیک فرمایا آپ نے کہ عدلیہ بحالی سے پہلے جو اس بات کو ناممکن قرار دیتے تھے بحالی کے بعد سب سے پہلے انہوں نے ہی کریڈٹ لینا شروع کردیا اور اپنی قربانیاں گنوانا شروع کردیں۔۔ جو لوگ١٢ مئی کو چیف جسٹس کو روکنے کے دعویدار تھے اور ٥٠ سے زائد معصوم لوگوں کے قتل میں جن پر الزام لگایا جاتا ہے وہ اب کہتے ہیں کہ ہم تو ان کو خوش آمدید کہنا چاہ رہے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا
By: Mudassar Faizi, Lahore on Aug, 25 2009
ReplyReply to this Comment
آزاد عدلیہ کے دم چھلے اور دعوے دار ادھر ادھر کی ہانکنے کے بجائے چیلنج قبول کریں اور جس طرح امن معاہدے کے خلاف صرف علامہ الطاف حسین کی جماعت یعنی متحدہ قومی موومنٹ نے مخالفت کی تھی اور پھر دنیا نے دیکھ لیا کہ ایم کیو ایم کے علاوہ جس جس نے بھی قرار داد کو منظور کروانے میں حصہ لیا اور جس جس نے پارلیمنٹ میں رکنیت نا ہونے کی وجہ سے باہر ہی سے امن معاہدے کی حمایت کی نام نہاد شریعت صوفی کی تو اللہ نے کس طرح ثابت کردیا صوفی اور اس کے حامیوں کی نام نہاد شریعت کا حال اور کس طرح منافقوں کی طرح پہلے امن معاہدے کرنے والے ہی سوات آپریشن کے حامی اور امن معاہدے کو ختم کرنے والے بنے۔ کون مر نا جائے آپ کی سادگی پر سیدھے سادھے آرٹیکل ٦ کے چیلنچ پر کسی کو آئے بائے شائے کرنے کے بجائے چیلنچ قبول کرنا چاہیے مگر یاد رہے الطاف حسین بیرون ملک سے ہی مناظرے میں شرکت کریں گے
By: M. Furqan Khan, Karachi on Aug, 24 2009
ReplyReply to this Comment
مدثر فیضی صاحب السلام علیکم : اگر غور کریں تو یہ بات نظر آئے گی کہ جو طبقہ چیف جسٹس کی بحالی کا آخری وقت تک مخالف تھا وہی طبقہ اس وقت سابق صدر کی حمایت میں سرگرم ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف جسٹس کی بحالی کی مہم کے وقت بھی یہ لوگ پروپگینڈا کرتے تھے کہ یہ “ نان ایشو “ ہے آج سابق صدر کی حمایت میں بھی یہی دلیل دی جارہی ہے کہ یہ “ نان ایشو “ ہے۔ یہ وہی طبقہ ہے جو دن رات جمہوریت کے جھوٹے راگ الاپ رہا ہے، جو دوسروں کو آمریت کی پیداوار کہتے ہیں لیکن ان کے اپنے عمل نے یہ بتادیا کہ کون آمریت کی پیداوار ہے۔ آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ جس طرح چیف جسٹس کی بحالی کے بعد پی پی پی اور متحدہ نے فوراً آگے بڑھ کر ان کو مبارک باد پیش کی تھی، مستقبل میں بھی یہی ہوگا کہ جب سابق صدر پر مقدمہ قائم ہوگا اور انشاء اللہ اس کو سزا ہوگی تو یہی دوغلے لوگ اس کا کریڈٹ لینے میں سب سے آگے ہونگے۔
By: Saleem Ullah Shaikh, Karachi on Aug, 24 2009
ReplyReply to this Comment
Post your Comments Select Language:    
Type your Comments / Review in the space below.
Recent Politics Articles

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)


Article Categories
Politics (8991) سیاست
Society and Culture (4683) معاشرہ اور ثقافت
Religion (4510) مذہب
Other/Miscellaneous (1286) متفرق
Literature & Humor (1067) ادب و مزاح
Education (764) تعلیم
Famous Personalities (661) مشہور شخصیات
Health (578) صحت
Science & Technology (559) سائنس / ٹیکنالوجی
True Stories (278) سچی کہانیاں
Sports (219) کھیل
Books Intro (202) تعارفِ کتب
Kids Corner (181) بچوں کی دنیا
Poetry (173) شعر و شاعری
Entertainment (155) انٹرٹینمنٹ
Career (109) کیریر
Novel (91) افسانہ
Travel & Tourism (91) سیر و سیاحت
Arts (32) ہنر
Samaa TV Live at Hamariweb.com
Election 2013 Results

Recently Commented Articles
Most Commented Articles (Last 30 Days)
P.M.L. N Ka New Fake Manshoor
More On Hamariweb
News Home
Latest News
Student News
Science & Technology
Sports
Entertainment
World News
Dictionary
English Urdu Dictionary
Arabic Urdu Dictionary
Spanish Urdu Dictionary
Hindi Urdu Dictionary
French Urdu Dictionary
German Urdu Dictionary
Cricket
Live Cricket
Cricket Highlights
Dream Team
Player Profiles
Sports News
Sports Games
Mobiles
Mobile Phones
Ringtones
Mobile Games
Mobile Softwares
SMS Messages
Web2SMS
Directories
Web Directory
Edu Directory
Important Phone No.
Postal Codes
Country Codes
City Codes
Islam
Online Audio Quran
Quran Recitation
Online Naats
Islamic Names
Islamic Articles
Islamic Wallpapers
Finance
Biz News
Stock Exchanges
Business Directory
Forex Rates
Gold Rates
Prize Bonds
Classifieds
Mobile Phones
For Sale
Vehicles
Real Estate
Matrimonial
Jobs
Articles
Politics
Society and Culture
Religion
Other/Miscellaneous
Literature & Humor
Education
Poetry
Love / Romantic
Sad
General
Life
Religious
Humorous
Other Sections
Urdu Search
My Report
Food & Recipes
Blogs
Forum
Academic Results

Career Counseling
Weather Updates
Free Softwares
Desktop Wallpapers
Greeting Cards
Urdu Editor
About us | Contact Us | Feedback | Advertising | Privacy Policy | Site Map | Jobs @ Hamariweb
Copyright © 2013 HamariWeb.com All Rights Reserved.


X
Post Article